أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
It was narrated from Aishah that:When the Messenger of Allah (ﷺ) did not pray at night because he was prevented from doing so by sleep- meaning, sleep overwhelmed him- or by pain, he would pray twelve rak'ahs during the day
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز نہیں پڑھ پاتے خواہ نیند نے آپ کو اس سے روکا ہو یا کسی تکلیف نے تو دن کو آپ بارہ رکعتیں پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When (a man) sits between the four parts of his wife's body and exerts himself, then Ghusl becomes obligatory
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد، اس ( عورت ) کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَذْرَمِيُّ، عَنْ حَكَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا " .
It was narrated from Sa'eed bin Jubair that Ibn 'Abbas said:The Messenger of Allah said: "The niche is for us and the ditch is for others." (Daif)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہم ( مسلمانوں ) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَأْكُلُ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ " هَلُمَّ " . قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ " أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ " . قُلْتُ وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ قَالَ " الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَةِ " .
It was narrated from Hani bin 'Abdullah bin Shikhkhir that his father said:"I was traveling and I came to the Prophet when he was eating and I was fasting. He said: 'Come and eat.' I said: 'I am fasting.' He said: 'Do you know what Allah has waived for the traveler?' he said: 'Do you know what Allah has waived for the traveler?' I said: 'What has Allah waived for the traveler?' He said: 'Fasting and half of the prayer
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا: آؤ ( کھانا کھا لو ) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، میں نے کہا: کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے اور آدھی نماز کی“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَارِثِ بْنَ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ لَيْسَتْ لَكُمْ وَلَسْتُمْ مِنْهَا فِي شَىْءٍ إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً لَنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Abu Dharr said concerning Tamattu' in Hajj:it is not for you, and you have nothing to do with it; it was only for us, the Companions of Muhammad
ابوذر رضی الله عنہ حج کے متعہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے، اور نہ تمہارا اس سے کوئی واسطہ ہے، یہ رخصت صرف ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، - وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ - قَالَ - وَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا - قَالَ - فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلاَمَ وَتَقُولُ لَكَ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ . قَالَ " ضَعْهُ - ثُمَّ قَالَ - اذْهَبْ فَادْعُ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَمَنْ لَقِيتَ " . وَسَمَّى رِجَالاً فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُهُ قُلْتُ لأَنَسٍ عِدَّةُ كَمْ كَانُوا قَالَ يَعْنِي زُهَاءَ ثَلاَثِمِائَةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ فَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ قَالَ لِي " يَا أَنَسُ ارْفَعْ " . فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ رَفَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ وَضَعْتُ .
It was narrated from Al-Ja'd bin Abi 'Uthman, that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah got married and consummated the marriage with his wife." He said: "My mother Umm Sulaim made some Hais, and I brought it to the Messenger of Allah and said: 'My mother sends you greetings of Salam, and says to you: 'This is a little from us.'' He said: 'Put it down.' Then he said: 'Go and call so-and-so, and so-and-so, and whoever you meet,' and he named some men. So I called those whom he named and those whom I met." I said to Anas: "How many were they?" He said: "About three hundred. Then the Messenger of Allah said: 'Let them sit around the dish of food in groups of ten, one after the other, and let each person eat from what is closest to him.' They ate until they were full, then one group went out and another group came in. He said to me: 'O Anas, clear it away.' So I cleared it away, and I do not know whether there was more when I cleared it away, or when I put it down
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس بنایا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا: میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ، آپ نے ان کے نام لیے اور ( راستے میں ) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو“۔ راوی جعد کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ لوگ کتنے رہے ہوں گے؟ کہا: تقریباً تین سو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کا حلقہ ( دائرہ ) بنا کر کھاؤ، اور ہر شخص اپنے قریب ( یعنی سامنے ) سے کھائے“، تو ان لوگوں نے ( ایسے ہی کر کے ) کھایا اور سب آسودہ ہو گئے، ( دس آدمیوں کی ) ایک جماعت کھا کر نکلی تو ( دس آدمیوں کی ) دوسری جماعت آئی ( اور اس نے کھایا اور وہ آسودہ ہوئی، اس طرح لوگ آتے گئے اور پیٹ بھر کر کھاتے اور نکلتے گئے، جب سب کھا چکے تو ) مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! اٹھا لو ( وہ کھانا جو لائے تھے ) تو میں نے اٹھا لیا۔ مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ جب میں نے لا کر رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب اٹھایا تب ( زیادہ تھا ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ عَلَى نَاضِحٍ لَنَا سَوْءٍ فَقُلْتُ لاَ يَزَالُ لَنَا نَاضِحُ سَوْءٍ يَا لَهْفَاهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " تَبِيعُنِيهِ يَا جَابِرُ " . قُلْتُ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَقَدْ أَعَرْتُكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " . فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ هَيَّأْتُهُ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ فَقَالَ " يَا بِلاَلُ أَعْطِهِ ثَمَنَهُ " . فَلَمَّا أَدْبَرْتُ دَعَانِي فَخِفْتُ أَنْ يَرُدَّهُ فَقَالَ " هُوَ لَكَ " .
It was narrated tat Jabir Said:"The Messenger of Allah caught up with me when I was riding a bad camel of ours, and I said: 'We have a bad camel, mare's the pit! The Prophet said: Will you sell it to me, O Jabir?' I Said, 'No, It is yours, O Messenger of Allah.; He said: 'O Allah forgive him; O Allah, have mercy on him. I will buy it for such and such, and I will lend it to you to ride until (we reach) al-Madinah.' When Reached al-Madinah, I prepared it, and brought it to him, and he said: O Bilal, give him its price,' When I turned to leave, he called me back, and I was afraid that he would give it back at he said: 'It is yours
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْقَزَعِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that :The Prophet [SAW] forbade Al-Qaza' (shaving part of the head and leaving part)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قِرَاءَةً أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ وَاللَّهِ مَا تُحِلُّ النَّارُ شَيْئًا وَلاَ تُحَرِّمُهُ . قَالَ ثُمَّ فَسَّرَ لِي قَوْلَهُ لاَ تُحِلُّ شَيْئًا لِقَوْلِهِمْ فِي الطِّلاَءِ وَلاَ تُحَرِّمُهُ .
Ata' said:"I heard Ibn 'Abbas say: 'By Allah, fire does not make anything permissible or forbidden.'" He said: "Then he explained what he meant by 'it does not make permissible' as referring to what they said about At-Tila' (thickened grape juice), and he explained what he said about 'it does not make forbidden' as referring to performing Wudu' after eating something that has been touched by fire