أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَيَزِيدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) often used to say when bowing and prostrating: 'Subhanaka Rabbana wa bi Hamdika, Allahumm aghfirli (Glorfy and praise be to You, our Lord. O Allah, forgive me)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» اے ہمارے رب تیری ذات پاک ہے، اور تیری حمد کے ساتھ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کثرت سے پڑھتے تھے۔
Narrated by from 'Aishah
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
Narrated from 'Aishah:A similar report was also narrated from 'Aishah, from the Prophet (ﷺ)
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَأَى حُلَّةً فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ " . ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلُهَا فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا " . فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that :'Umar bin al-Khattab saw a Hullah and said: "O Messenger of Allah (ﷺ), why don't you buy this and wear it on Fridays and when meeting the delegations when they come to you?" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "This is worn by one who has no share in the Hereafter." Then something similar was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and he gave a Hullah to 'Umar from it. 'Umar said: "O Messenger of Allah (ﷺ), have you given me this when you said what you said about the Hullah of 'Utarid?" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have not given it to you to wear it." So 'Umar gave it to an idolator brother of his in Makkah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( ریشم کا ) ایک جوڑا ( بکتے ) دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ اسے خرید لیتے، اور جمعہ کے دن، اور باہر کے وفود کے لیے جب وہ آپ سے ملنے آئیں پہنتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کچھ جوڑے آئے، آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے اسے پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے ایسا ایسا کہا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ جوڑا تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم خود پہنو ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلاَّهَا أَبُو بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَصَلاَّهَا عُمَرُ رَكْعَتَيْنِ وَصَلاَّهَا عُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلاَفَتِهِ .
Ubaidullah bin 'Abdullah bin Umar narrated that:His father said: "The Messenger of Allah (ﷺ) prayed two rak'ahs in Mina, and Abu Bakr prayed two rak'ahs, and Umar prayed two rak'ahs, and Uthman prayed (two rak'ahs) at the beginning of his Khilafah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے بھی وہاں دو ہی رکعت پڑھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي كُسُوفٍ فِي صُفَّةِ زَمْزَمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ .
It was narrated from Aishah that:The Messenger of Allah (ﷺ) prayed during an eclipse in a shaded area near Zamzam, bowing four times and prostrating four times
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فَاسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ .
It was narrated from 'Abbad bin Tamim from his paternal uncle that:The Prophet (ﷺ) went out and prayed for rain, then he prayed two rak'ahs in which he recited loudly
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ فَقُمْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا وَرَفَعَ وَرَفَعْنَا فَلَمَّا انْحَدَرَ لِلسُّجُودِ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالَّذِينَ يَلُونَهُ وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي حِينَ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ ثُمَّ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي حِينَ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْكِنَتِهِمْ ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِينَ كَانُوا يَلُونَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الآخَرُ فَقَامَ فِي مَقَامِهِمْ وَقَامَ هَؤُلاَءِ فِي مَقَامِ الآخَرِينَ قِيَامًا وَرَكَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكَعْنَا ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا فَلَمَّا انْحَدَرَ لِلسُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالَّذِينَ يَلُونَهُ سَجَدَ الآخَرُونَ ثُمَّ سَلَّمَ .
It was narrated that Jabir said:"We witnessed the fear prayer with the Messenger of Allah (ﷺ). We stood behind him in two rows, and the enemy was between us and the Qiblah. The Messenger of Allah (ﷺ) said the takbir. He bowed and we bowed, and he stood up again and we stood up. When he went down in prostration, the Messenger of Allah (ﷺ) and those who were closest to him prostrated, and the second row remained standing until the Messenger of Allah (ﷺ) and the row closest to him stood up. Then the second row prostrated when the Messenger of Allah (ﷺ) had stood up, where they were. Then the row that had been closest to the Prophet (ﷺ) moved back and the second row moved forward, each standing in the place where the other had been. The Prophet (ﷺ) bowed and we bowed, then he stood up and we stood up, and when he went down in prostration, those who were closest to him prostrated and the others remained standing. When the Messenger of Allah (ﷺ) and those who were closest to him sat up, the others prostrated, then he said the taslim
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز میں موجود تھے، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، اور ہم نے دو صفیں کیں، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی، اور ہم نے بھی کہی، آپ نے رکوع کیا ہم نے بھی رکوع کیا، آپ ( رکوع سے ) اٹھے اور ہم بھی اٹھے، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو آپ کے قریب ( یعنی پہلی صف میں ) تھے سجدہ کیا، اور دوسری صف اس وقت تک کھڑی رہی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف نے سر اٹھایا، پھر دوسری صف نے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، اپنی جگہوں پر سجدہ کیا، پھر جو صف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تھی پیچھے ہٹ گئی، اور پیچھے والی صف آگے آ گئی، اور آ کر ان کی جگہوں میں کھڑی ہو گئی، اور یہ لوگ پچھلے والوں کی جگہوں میں جا کر کھڑے ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا اور ہم نے بھی اٹھایا، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو ان لوگوں نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھے، اور دوسرے کھڑے رہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو آپ سے قریب تھے ( سجدے سے سر ) اٹھایا تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً ثُمَّ يَقُومُ .
It was narrated that Simak said:"I asked Jabir: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) deliver the Khutbah standing?' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to deliver the Khutbah standing, then he would sit for a while, then stand up again
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ کچھ دیر بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ بِشْرٍ، - هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ الدَّائِمُ . قُلْتُ فَأَىُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ قَالَتْ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ .
It was narrated that Masruq said:"I said to 'Aishah: 'Which deed was most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'That which was done persistently.' I said: 'At what part of the night did he pray Qiyam?' She said: 'When he heard the rooster
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ تو انہوں نے کہا: جس عمل پر مداومت ہو، میں نے پوچھا: رات میں آپ کب اٹھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب مرغ کی بانگ سنتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
It was narrated from 'Ubadah that the Prophet said:"Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him
عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے، اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) entered Al-Khala' (the toilet) and said: 'Allahumma inni a'uthu bika min al-khubuthi wal-khaba'ith (O Allah, I seek refuge with You from male and female devils)."[1] [1] See Ma'alam As-Sunan by Al-Khattabi. And Al-Khala' is the area one relieves oneself in. It refers to outside or other than that, it should not be understood to mean toilet only
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ کی جگہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللہم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں ( کے شر ) سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي فَحَدَّثَ الرَّجُلُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِي رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ " .
It was narrated that 'Arfajah said:" I was in a house with 'Utbah bin Farqad, and I wanted to narrate a Hadith, but there was a man from among the Companions of the Prophet there, and I felt it was more appropriate fro him to narrate the Hadith than I. The man narrated that the Prophet said. Concerning of the Prophet there, and I felt it was more appropriate for him to narrate the Hadith than I. the man narrated that the Prophet said, concerning Ramadan: 'In it the gates of Heavens are opened and the gates of the Fire are shut, and every devil is fettered. A caller calls out every night: O seeker of good, proceed; O seeker of evil, desist
عرفجہ کہتے ہیں میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ( صاحب وہاں ) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے، چنانچہ ( انہوں ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے: اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار! نیکی میں لگا رہ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار! باز آ جا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ أَنْ لاَ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ شَيْئًا حَتَّى تَبْلُغَ ثَلاَثِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ ثَلاَثِينَ فَفِيهَا عِجْلٌ تَابِعٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ .
It was narrated that Muadh to Yemen:The Messenger of Allah commanded me not to take any cattle until the number had reached thirty. If the number reached thirty, then a Jadh'ah calf in its second year, either male or female, was due on them, until the number reached forty. If the number reached forty. If the number reached forty, then a Musinnah was due on them." (Daif)
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مجھے یمن بھیجا تو حکم دیا کہ میں گائے، بیل سے جب تک وہ تیس کی تعداد کو نہ پہنچ جائیں کچھ نہ لوں، اور جب تیس ہو جائیں تو ان میں گائے کا ایک سال کا بچہ چاہے نر ہو یا مادہ یہاں تک کہ وہ چالیس کو پہنچ جائیں، اور جب چالیس ہو جائیں تو ان میں دو سال کی ایک بچھیا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لاَ يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلاَ الْعُمْرَةَ وَالظَّعْنَ . قَالَ " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ " .
It was nattated from Abu RAzin Al-'Uqayli that he said:"O Messenger of Allah! My father is an old man who cannot perform Hajj or 'Umrah, nor can he travel." He said "Perform Hajj and 'Umrah on behalf of your father
ابورزین عقیلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، نہ وہ حج و عمرہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اور نہ ہی سواری پر چڑھ سکتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کر لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ " أَحَىٌّ وَالِدَاكَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him for permission to go for Jihad. He said: 'Are your parents alive?' He said: 'Yes.' He said: 'Then strive for their sake
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو“ ۱؎۔
Narrated by Samurah bin Jundab
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . أَنَّهُ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَتَادَةُ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ مِنْ أَشْعَثَ وَحَدِيثُ أَشْعَثَ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
Narrated Samurah bin Jundab:It was narrated from Samurah bin Jundab that the Prophet forbade celibacy. Abu Abdur-Rahman said: Qatadah is more reliable and better preserves narrations than Ash'ath but the hadith of Ash'ath (here) appears to be the correct one. Allah, Most High, knows best
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے ۱؎ واللہ أعلم۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah was asked about a man who divorced his wife, and she married another man who had a closed meeting with her then divorced her, before having intercourse with her. Is it permissible for her to remarry the first husband? The Messenger of Allah said: 'No, not until the second one tastes her sweetness and she tastes his sweetness
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنی عورت کو طلاق دی۔ اس عورت نے دوسری شادی کر لی، وہ دوسرا شخص ( تنہائی میں ) اس کے پاس گیا اور اسے جماع کیے بغیر طلاق دے دی۔ تو کیا اب یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ اس وقت تک پہلے کے لیے حلال نہ ہو گی جب تک کہ اس کا دوسرا شوہر اس کے شہد کا اور وہ عورت اس دوسرے شوہر کے شہد کا ذائقہ و مزہ نہ چکھ لے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ، - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ - عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ .
It was narrated from Al-Hakam bin 'Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade a man from performing Wudu' with the leftovers of a woman's (water for) Wudu
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيِّ إِلاَّ يُؤْذَنُ لَهُ عِنْدَ كُلِّ سَحَرٍ بِدَعْوَتَيْنِ اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ وَجَعَلْتَنِي لَهُ فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ أَوْ مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ " .
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said: 'There is no Arabian horse but it is allowed to offer two supplications every Sahar (end of the night): O Allah, You have caused me to be owned by whoever You wanted among the sons of Adam, and you have made me belong to him. Make me the dearest of his family and wealth to him, or among the dearest of his family and wealth to him
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عربی گھوڑے کو ( یہاں مخاطب عرب تھے ) ( اس لیے آپ نے عربی گھوڑا کہا، لیکن مقصود راہ جہاد میں کام آنے والے گھوڑے ہیں، اس لیے ہر اس عمدہ گھوڑے کو خواہ کسی بھی ملک کا ہو جو جہاد کی نیت سے رکھا جائے اس دعا کی اجازت ہونی چاہیئے ) ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ( وہ کہتا ہے ) اے اللہ! اولاد آدم میں سے جس کی بھی سپردگی میں مجھے دے اور جس کو بھی مجھے عطا کرے مجھے اس کے گھر والوں اور اس کے مالوں میں سب سے زیادہ محبوب و عزیز بنا دے یا مجھے اس کے محبوب گھر والوں اور پسندیدہ مالوں میں سے کر دے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ، آلِ سَعْدٍ قَالَ مَرِضَ سَعْدٌ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ " لاَ ". وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
One from the family of Sa'd narrated:"Sa'd fell sick and the Messenger of Allah entered upon him and he said: 'O Messenger of Allah, shall I bequeath all my money?' He said: 'No.'" And he quoted the same Hadith
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی ( اللہ کی راہ میں دینے ) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ هِشَامًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَطْهُرُ أَفَأَتْرُكُ الصَّلاَةَ قَالَ " لاَ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ " . قَالَ خَالِدٌ وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ " وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي " .
It was narrated from 'Aishah that the daughter of Abu Hubaish said:"O Messenger of Allah, I do not become pure, so should I stop praying? He said: "no, that is a vein." - (One of the narrators) Khalid said, in what I read from him - "and it is not menstruation, so when your period comes, stop praying, and when it goes, wash the blood from yourself and pray
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ تو رگ ( کا خون ) ہے، ( خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے ) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " امْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلاَ تُعْمِرُوهَا فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ " .
Hisham narrated from Abu Az-Zubair, from Jabir, that the Messenger of Allah said:"Hold on to your wealth and do not give it on the basis of 'Umra. For whoever is given something on the basis of 'Umra for the rest of his life, it belongs to him for the rest of his life and after his death
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا مال اپنے پاس روک کر رکھو اور اس کا عمریٰ نہ کرو، کیونکہ جسے کوئی چیز اس کی زندگی بھر کے لیے عمریٰ میں دی گئی تو وہ چیز اس کی زندگی بھر کے لیے ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد کے لیے بھی“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا عَلَى الأَرْضِ يَمِينٌ أَحْلِفُ عَلَيْهَا فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُهُ " .
It was narrated from Abu Musa that the Prophet said:"There is nothing on Earth that I swear an oath upon, and I see that something else is better, but I do that which is better
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی قسم نہیں جو میں کھاؤں پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھوں مگر میں وہی کروں گا ( جو بہتر ہو گا ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فُلَيْتٍ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دِجَاجَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ كَفَّارَتِهِ فَقَالَ " إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ " .
It was narrated that 'Aishah said:"I never saw any woman who made food like Safiyyah. She sent a dish to the Prophet in which was some food, and I could not keep myself from breaking it. I asked the Prophet what the expiation was for that, and he said: 'A dish like that dish, and food like that food
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے جیسی کھانا بنانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکی اور میں نے برتن توڑ دیا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے کفارے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”برتن کے جیسا برتن اور کھانے کے جیسا کھانا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَخْطُبُ - وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلاَّ الرَّجُلُ يَقْتُلُ الْمُؤْمِنَ مُتَعَمِّدًا أَوِ الرَّجُلُ يَمُوتُ كَافِرًا " .
It was narrated that Abu Idris said:"I heard Mu'awiyah delivering the Khutbah, and he narrated a few Hadiths from the Messenger of Allah [SAW]." He said: "I heard him delivering a Khutbah and he said: 'I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Every sin may be forgiven by Allah except a man who kills a believer deliberately, or a man who dies as a disbeliever
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ أُبَادِرُهُ وَيُبَادِرُنِي حَتَّى يَقُولَ " دَعِي لِي " . وَأَقُولَ أَنَا دَعْ لِي . قَالَ سُوَيْدٌ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ فَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي .
It was narrated that 'Aishah said:"I used to perform Ghusl - the Messenger of Allah (ﷺ) and I - from one vessel. He would compete with me and I would with him (to take the water) until he would say: 'Leave me some,' and I would say, 'Leave me some
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن سے غسل کرتے تھے، میں چاہتی کہ آپ سے پہلے میں نہا لوں اور آپ چاہتے کہ مجھ سے پہلے آپ نہا لیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تم میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی: آپ میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ، أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لاَ مِثْلَ لَهَا " .
It was narrated from Kathir bin Murrah that Abu Fatimah told him that he said:"O Messenger of Allah, tell me of an action that I may do and persist in it." The Messenger of Allah said to him: "You should emigrate, for there is nothing like it
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَوْدَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا فَمَازِلْنَا نَنْبِذُ فِيهَا حَتَّى صَارَتْ شَنًّا .
It was narrated that Sawdah, the wife of the Prophet, said:"A sheep of ours died, and we tanned its skin, and continued to make Nabidh in it until it wore out
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمَلاَئِكَةُ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ وَلاَ جُنُبٌ " .
It was narrated from 'Ali bin Abi Talib that the Prophet said:"The angels do not enter a house in which there is a picture, a dog or a person who is Junub
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يُقَسِّمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " .
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amair that:the Messenger of Allah gave him some sheep to distribute among his Companions. A small goat was left over and he mentioned that to the Messenger of Allah. He said: "Sacrifice it yourself
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ الْوَضَّاحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا إِلاَّ أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَإِنْ كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
it was narrated from Ismail, from Nafi, that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah said: 'The two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated, unless they have both chosen to conclude they transaction. If they have both chosen to conclude the transaction, then the transaction is binding." (Sahih)
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادِ بْنِ مَيْمُونٍ - قَالَ كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلاَتُهُ فَإِنْ وُجِدَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَىْءٌ قَالَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ يُكَمِّلُ لَهُ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ سَائِرُ الأَعْمَالِ تَجْرِي عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"The first thing for which a person will be brought to account on the Day of Resurrection will be his Salah. If it is found to be complete then it will be recorded as complete, and if anything is lacking He will say: 'Look and see if you can find any voluntary prayers with which to complete what he neglected of his obligatory prayers.' Then the rest of his deeds will be reckoned in like manner
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندہ سے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہو گی، اگر وہ پوری ملی تو پوری لکھ دی جائے گی، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو تم اس کے پاس کوئی نفل پا رہے ہو کہ جس کے ذریعہ جو فرائض اس نے ضائع کئے ہیں اسے پورا کیا جا سکے، پھر باقی تمام اعمال بھی اسی کے مطابق جاری ہوں گے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عَمْرٍو الْعَائِذِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جِيءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَتَقْتُلُهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ بِهِ " . فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَتَقْتُلُهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ بِهِ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " . فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ .
It was narrated that Wa'il said:"I saw the Messenger of Allah when the heir of a victim brought the killer, leading him by a string. The Messenger of Allah said to the heir of the victim: Will you forgive him?' He said: 'No., He said: 'Will you accept Diyah?' He said: 'No.' He said: 'Will you kill him?' He said: 'Yes.' He said" 'Take him away (to kill him).' When he took him and turned away, he turned to those who were with him, and called him back, and said to him: 'Will you forgive him?' He said: No.' He said: 'Will you accept Diyah?' He said: No.' He said: 'Will you kill him?' He said: 'Yes.' He said: 'Take him away.' Then the Messenger of Allah said: 'If you forgive him, he will carry your sin and the sin of your companion (the victim).' So he forgave him and left him, and I was him dragging his string
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ مَتَاعًا عَلَى أَلْسِنَةِ جَارَاتِهَا وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَطْعِ يَدِهَا .
It was narrated that Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them said:"There was a Makhzumi woman who used to borrow things, saying that her neighbors needed the, then she would deny that she had borrowed the, so the Messenger of Allah ordered that her hand be cut off
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا وَصَلَّوْا صَلاَتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ " .
It was narrated from Anas bin Malik that:The Messenger of Allah [SAW] said: "I have been commanded to fight the people until they bear witness that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. If they bear witness that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, they turn to face the same Qiblah as us, they eat our slaughtered animals, and they pray as we pray; then their blood and their wealth are forbidden to us, except for a right that is due, and they have the same rights and duties as the Muslims
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامِلاً بِمِصْرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَإِذَا هُوَ شَعِثُ الرَّأْسِ مُشْعَانٌّ قَالَ مَا لِي أَرَاكَ مُشْعَانًّا وَأَنْتَ أَمِيرٌ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَانَا عَنِ الإِرْفَاهِ . قُلْنَا وَمَا الإِرْفَاهُ قَالَ التَّرَجُّلُ كُلَّ يَوْمٍ .
It was narrated that 'Abdullah bin Shaqiq said:"One of the Companions of the Prophet [SAW] was a governor in Egypt, and one of his companions came to him and found him with unkempt, wild hair. He said: 'How come I see you with wild hair when you are a governor?' He said: 'The Prophet of Allah [SAW] forbade us from Al-Irfah,' and we said: 'What is Al-Irfah?' He said: 'To comb your hair every day
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " . أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The one who misses 'Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth." It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one who misses 'Asr prayer, it is as if he has been robbed of his family and his wealth
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، هُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ أَكْثَرُوا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ وَلَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا هُنَالِكَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ عَلَيْنَا أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ فَمَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْكُمْ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلْيَقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صلى الله عليه وسلم فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلاَ قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صلى الله عليه وسلم فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلاَ قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صلى الله عليه وسلم وَلاَ قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ فَلْيَجْتَهِدْ رَأْيَهُ وَلاَ يَقُولُ إِنِّي أَخَافُ وَإِنِّي أَخَافُ فَإِنَّ الْحَلاَلَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لاَ يَرِيبُكَ. قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ جَيِّدٌ جَيِّدٌ.
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Yazid said:"The people asked 'Abdullah too many questions one day, and 'Abdullah said: 'There was a time when we did not pass so many judgments, but now that time is over. Now Allah, the Mighty and Sublime, has decreed that we reach a time when, as you see, (we are asked to pass many judgments). Whoever among you is asked to pass a judgment after this day, let him pass judgment according to what is in the Book of Allah. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, let him pass judgment according to the way His Prophet [SAW] passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah and concerning which His Prophet did not pass judgment, then let him pass judgment according to the way the righteous passed judgment. If he is faced with a matter that is not mentioned in the Book of Allah, and concerning which His Prophet and the righteous did not pass judgment, then let him strive to work it out, and let him not say 'I am afraid, I am afraid.' For that which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, and between them are matters which are not as clear. Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَسُوءِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ .
It was narrated that Ibn Mas'ud said:"The Prophet [SAW] used to seek refuge (with Allah) from five things: From miserliness, cowardice, reaching the age of second childhood, the tribulation of the heart and the torment of the grave
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الْبُسْرُ وَحْدَهُ حَرَامٌ وَمَعَ التَّمْرِ حَرَامٌ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"Al-Busr on their own are unlawful and with dried dates they are unlawful
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيُّ الْمَازِنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ لَهُ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ فَإِنَّهُ لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَىْءٌ إِلاَّ شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin 'Abdur-Rahman bin Abi Sa'sa'ah Al-Ansari Al-Mazini narrated that his father told him that Abu Sa'eed Al-Khudri said to him:"I see that you love sheep and the desert. When you are with your sheep or in the desert and you call the Adhan for prayer, then raise your voice, for no human, Jinn or anything else hears the voice of the Mu'adhdhin as far as it reaches, but it will bear witness for him on the Day of Resurrection." Abu Sa'eed said: "I heard it from the Messenger of Allah (S.A.W)
عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن صعصعہ انصاری مازنی روایت کرتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحراء کو محبوب رکھتے ہو، تو جب تم اپنی بکریوں میں یا اپنے جنگل میں رہو اور نماز کے لیے اذان دو تو اپنی آواز بلند کرو کیونکہ مؤذن کی آواز جو بھی جن و انس یا کوئی اور چیز ۱؎ سنے گی تو وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ يَمْنَعْهَا " .
It was narrated from Salim that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the wife of any one of you asks for permission to go to the Masjid, do not stop her
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت چاہے تو وہ اسے نہ روکے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ وَلاَ تَجْلِسُوا عَلَيْهَا " .
It was narrated that Abu Marthad al Ghanawi said:"The Messenger of Allah(ﷺ)said: 'Do not pray toward graves and do not sit on them
ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تم قبروں کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ " تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلاَ يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
It was narrated from Abu Sa'eed that the Messenger of Allah (ﷺ) saw that his companions tended to stand in the rear, so he said:"Come forward and follow me, and let those who are behind you follow your lead. If people continue to lag behind, Allah, the Mighty and Sublime, will put them back
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں پیچھے رہنے کا عمل دیکھا تو آپ نے فرمایا: تم لوگ آگے آؤ اور میری اقتداء کرو، اور جو تمہارے بعد ہیں وہ تمہاری اقتداء کریں، یاد رکھو کچھ لوگ برابر ( اگلی صفوں سے ) پیچھے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں ( اپنی رحمت سے یا اپنی جنت سے ) پیچھے کر دیتا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ لَهُ سَكْتَةٌ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pause briefly when he had started to pray
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے ۱؎۔