بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
13
10 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ كَانَتْ سَادِسَةٌ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا بَقِيَ ثُلُثٌ مِنَ الشَّهْرِ أَرْسَلَ إِلَى بَنَاتِهِ وَنِسَائِهِ وَحَشَدَ النَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ ‏.‏ قَالَ دَاوُدُ قُلْتُ مَا الْفَلاَحُ قَالَ السُّحُورُ ‏.‏
It was narrated that Abu Dharr said:"We fasted Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) did not lead us in Qiyam until there were seven days left of the month, then he led us in Qiyam until one-third of the night had passed. Then, when there were six days left, he did not lead us in Qiyam. When there were five days left, he led us in praying Qiyam until half the night had passed. We said: 'O Messenger of Allah (SA), why don't you lead us in praying Qiyam for the rest of the night?' He said: 'If a man prays with the Imam until he leaves, that will be continued for him as if he spent the whole night in prayer.' Then, when there were four days left, he did not lead us in praying Qiyam. When there were three days left he sent for his daughters and women, and gathered the people, and he led us in praying Qiyam until we feared that we would miss Al-Falah. Then he did not lead us in praying Qiyam for the rest of the month." Dawud (one of the narrators) said: "I said: ' What is falah?' He said: 'Sahur
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے ، پھر چوتھی رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے نہیں کھڑے ہوئے، پھر جب رمضان کے مہینہ کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو کہلا بھیجا اور لوگوں کو بھی جمع کیا، اور ہمیں تراویح پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خوف ہوا کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، پھر اس کے بعد مہینہ کے باقی دنوں میں آپ نے ہمیں تراویح نہیں پڑھائی۔ داود بن ابی ہند کہتے ہیں: میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے ( ولید بن عبدالرحمٰن نے ) کہا: سحری کھانا۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ شُرَيْحًا الْحَضْرَمِيَّ، ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَاكَ رَجُلٌ لاَ يَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Az-Zuhri said:"As-Sa'ib bin Yazid told me that Shuraih Al-Hadrami was mentioned in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) said: "He does not sleep on the Qur'an
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شریح حضرمی کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ قرآن کو تکیہ نہیں بناتے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ آخِرَ الأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏.‏
It was reported that Jabir (ra) said "That last of the two matters from the Messenger ofAllah (ﷺ) was leaving off ablution from that which had been touched by fire
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں ( آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے ) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَيَّةَ قَالَ ‏:‏ أُصِيبَ رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الطَّائِفِ، فَحُمِلاَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَنَا حَيْثُ أُصِيبَا ‏.‏ وَكَانَ ابْنُ مُعَيَّةَ وُلِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that a man called 'Ubaidullah bin Mu'ayyah said:"Two Muslim men were killed on the day of At-Ta'if, and they were taken to the Messenger of Allah. He commanded that they be buried where they were killed." Ibn Mu'ayyah was born during the time of the Messenger of Allah
عبیداللہ بن معیہ نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن دو مسلمان مارے گئے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لائے گئے، تو آپ نے انہیں ( اسی جگہ ) دفنانے کا حکم دیا جہاں وہ مارے گئے تھے۔ اس حدیث کے راوی ابن معیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ قُشَيْرٍ عَنْ عَمِّهِ، حَدَّثَنَا ثُمَّ، أَلْفَيْنَاهُ فِي إِبِلٍ لَهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو قِلاَبَةَ حَدِّثْهُ فَقَالَ الشَّيْخُ حَدَّثَنِي عَمِّي أَنَّهُ ذَهَبَ فِي إِبِلٍ لَهُ فَانْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَأْكُلُ أَوْ قَالَ يَطْعَمُ فَقَالَ ‏"‏ ادْنُ فَكُلْ أَوْ قَالَ ‏"‏ ادْنُ فَاطْعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامَ وَعَنِ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ayyub, from a Shailh of Qushair, from his paternal uncle; then we met him concerning some camels of his, and Bu Qilabah said to him:"Tell it to us." The old man said: "My paternal uncle told me that he went to the Prophet, concerning some camels of his, while he was eating. He said: 'Come and eat.' I said: 'I am fasting.' He said: 'Allah, the mighty and sublime, has waived half of the prayer and fasting for the traveler, the pregnant woman and the sick
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ۱؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں ( شیخ قشیری کو ) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا: آپ ان سے ( ایوب سے ) حدیث بیان کیجئے تو ( قشیری ) شیخ نے کہا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے ( راوی کو شک ہے «یا ٔکل» کہا یا «یطعم» کہا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ اور کھانا کھاؤ“ ( راوی کو شک ہے «ادن فکل» کہا یا «ادن فاطعم» کہا ) تو میں نے کہا: «مںَ صائم» ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ أَنْ يَحِلَّ ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"We went out with the Messenger of Allah not thinking of anything but Hajj. When we drew close to Makkah, the Messenger of Allah ordered: 'Whoever has a Hadi with him should remain in Ihram, and whoever does not have a Hadi with him, he should exit Ihram
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، تو جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے ساتھ ہدی تھی انہیں اپنے احرام پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَامَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ حِينَ عَرَّسَ بِهَا ثُمَّ كَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ ‏.‏
It was narrated from Humaid that he heard Anas say:"The Messenger of Allah stayed with Safiyyah bint Huyayy bin Akhtab on the way (back from) Khaibar for three days when he married her, then she was among those who were commanded to observe Hijab
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے ساتھ خیبر کے راستے میں تین دن گزارے، پھر ان کا شمار ان عورتوں میں ہو گیا جن پر پردہ فرض ہو گیا یعنی صفیہ آپ کی ازواج مطہرات میں ہو گئیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَالثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah forbade Muhaqalah, Muzahanah, Mukhabarah, Mu'awamah, and selling with an exception unless it is defined but he gave concession allowing 'Araya
أَخْبَرَنَا ابْنُ السُّنِّيِّ، قِرَاءَةً قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ لَفْظًا قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، - وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - قَالَ سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَالاِسْتِحْدَادُ وَالْخِتَانُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said to me: 'Five things are from the Fitrah: Trimming the mustache, plucking the armpit hairs, clipping the nails, shaving the pubes and circumcision
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ الطِّلاَءِ الْمُنَصَّفِ، فَقَالَ لاَ تَشْرَبْهُ ‏.‏
Abu Raja' said:"I asked Al-Hasan about At-Tila' (thickened grape juice) that has been reduced to half. He said: 'Do not drink it