بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
13
10 hadith
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلاَ تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلاَ بِالسُّجُودِ وَلاَ بِالْقِيَامِ وَلاَ بِالاِنْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا مَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer one day, then he turned to face us and said: 'I am now your imam, so do not hasten to bow or prostrate or stand or leave before I do. I can see you in front of me and behind me.' Then he said: 'By the One in Whose Hand is my soul, if you had seen what I have seen, you would laugh little and weep much.' We said: 'What have you seen, O Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'Paradise and Hell
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں تمہارا امام ہوں، تو تم مجھ سے رکوع و سجود اور قیام میں جلدی نہ کرو، اور نہ ہی سلام میں، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں، اور پیچھے سے بھی ، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ چیزیں دیکھتے جو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنستے کم، اور روتے زیادہ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ إِذَا سَمِعَ الأَذَانَ وَيُخَفِّفُهُمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Prophet (ﷺ) used to pray two rak'ahs of Fajr when he heard the Adhan and he made them brief
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اذان سنتے تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے، اور انہیں ہلکی پڑھتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
It was reported that Ibn 'Abbas said "I witnessed (that) the Messenger of Allah (ﷺ) ate bread and meat, then stood for prayer and did not perform ablution
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِقَتْلَى أُحُدٍ ‏:‏ ‏ "‏ زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ إِلاَّ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى، لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Tha'labah said:"The Messenger of Allah said, concerning those who had been slain at Uhud: 'Wrap them up on their clothes that are stained with blood, for there is no wound that is sustained for the sake of Allah, but it will come bleeding on the Day of Resurrection: its color will be the color of blood, but its fragrance will be the fragrance of musk
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: ”انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو کیونکہ جو بھی زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو گا وہ قیامت کے روز بہتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون کا رنگ ہو گا، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہو گی“۔
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ التَّلِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلاَةِ وَالصَّوْمَ وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas that the Prophet said:"Allah has waived meaning half of the prayer and fasting for the traveler, and from pregnant women and the sick. "(Hanas)
انس (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی“ ( روزے کی چھوٹ دی ہے ) ۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانُ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"We went out with the Messenger of Allah not thinking of anything but Hajj. When we came to Makkah we circumambulated the house, then the Messenger of Allah told those who have not brought a Hadi to exit Ihram. So those who have not brought a Hadi exited Ihram. His wives had not brought a HIad so They exited Ihram too." Aishah said: "My menses came so I did not circumambulate the Hous. On the night of Al-Hasbab (the twelfth night of Dhul-Hajjah) I said" "O Messenger of Allah, the people are going back having done Umrah and Hajj, But I am going back having done only Hajj. He said: 'Did you not perform Tawaf when we came to Makkah?' I said: 'No.' He said: 'Then go with your brother to At-Tanim and enter Ihram for Umrah then we will meet you and such and such a place
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہو گئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہو گئیں، تو مجھے حیض آ گیا ( جس کی وجہ سے ) میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی، جب محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ حج و عمرہ دونوں کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے ان راتوں میں جن میں ہم مکہ آئے تھے طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ، وہاں عمرے کا تلبیہ پکارو، ( اور طواف وغیرہ کر کے ) واپس آ کر فلاں فلاں جگہ ہم سے ملو“۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا الْغَدَاةَ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ - قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ - فَقَالُوا مُحَمَّدٌ - قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَالْخَمِيسُ - وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجَمَعَ السَّبْىَ فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ادْعُوهُ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا - قَالَ - حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا إِلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ عَرُوسًا قَالَ ‏"‏ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَىْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَبَسَطَ نِطَعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ فَحَاسُوا حَيْسَةً فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from Anas:"The Messenger of Allah invaded Khaibar and we prayed Al-Ghadah (Fajr) there (early in the morning) when it was still dark. Then the Prophet rode and Abu Talha rode, and I was riding behind Abu Talha. The Prophet of Allah passed through the lane of Khaibar quickly, and my knee was touching the thigh of the Messenger of Allah, and I could see the whiteness of the thigh of the Prophet. When he entered the town he said: 'Allahu Akbar, Khaibar is destroyed! Whenever we approach a (hostile) nation to fight, evil will be the morning for those who have been warned.' He said this three times. The people came out for their work." (One of the narrators) 'Abdul-'Aziz said: "They said: 'Muhammad (has come)!'" 'Abdul-'Aziz said: "Some of our companions said: 'With his army.'" "We conquered Khaibar and gathered the captives. Dihyah came and said: 'O Prophet of Allah, give me a slave girl from among the captives.' He said: 'Go and take a slave girl.' He took Safiyyah bint Huyayy. Then a man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah, you gave Dihyah Safiyyah bint Huyayy, and she is the chief mistress of Quraizah and An-Nadir, and she is fit for no one but you.' He said: 'Call him to bring her.' When the Prophet saw her, he said: 'Take any other slave girl from among the captives.'" He said: "The Prophet of Allah set her free and married her." (One of the narrators) Thabit said to him: "O Abu Hamzah, what dowry did he give her?" He (Anas) said: "Herself; he set her free and married her." He said: "While on the road, Umm Sulaim fitted her out and presented her to him in the night, and the following morning he was a bridegroom. He said: 'Whoever has anything, let him bring it.' He spread out a leather cloth and men came with cottage cheese, dates, and ghee, and they made Hais, and that was the Walimah (wedding feast) of the Messenger of Allah
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے ارادے سے نکلے، ہم نے نماز فجر خیبر کے قریب اندھیرے ہی میں پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے تنگ راستے سے گزرنے لگے تو میرا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھونے اور ٹکرانے لگا، ( اور یہ واقعہ میری نظروں میں اس طرح تازہ ہے گویا کہ ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی ( و چمک ) دیکھ رہا ہوں، جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو تین بار کہا: «اللہ أكبر خربت خيبر إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين» ”اللہ بہت بڑا ہے، خیبر کی بربادی آئی، جب ہم کسی قوم کی آبادی ( و حدود ) میں داخل ہو جاتے ہیں تو اس پر ڈرائی گئی قوم کی بدبختی کی صبح نمودار ہو جاتی ہے ۱؎۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( جب ہم خیبر میں داخل ہوئے ) لوگ اپنے کاموں پر جانے کے لیے نکل رہے تھے۔ ( عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں: ) لوگ کہنے لگے: محمد ( آ گئے ) ہیں ( اور بعض کی روایت میں «الخمیس» ۲؎ کا لفظ آیا ہے ) یعنی لشکر آ گیا ہے۔ ( بہرحال ) ہم نے خیبر طاقت کے زور پر فتح کر لیا، قیدی اکٹھا کئے گئے، دحیہ کلبی نے آ کر کہا: اللہ کے نبی! ایک قیدی لونڈی مجھے دے دیجئیے؟ آپ نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو، تو انہوں نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا۔ ( ان کے لے لینے کے بعد ) ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے دحیہ کو صفیہ بنت حیی کو دے دیا، وہ بنو قریظہ اور بنو نضیر گھرانے کی سیدہ ( شہزادی ) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے ( دحیہ کو ) بلاؤ، اسے ( صفیہ کو ) لے کر آئیں“، جب وہ انہیں لے کر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نظر دیکھا تو فرمایا: ”تم انہیں چھوڑ کر کوئی دوسری باندی لے لو“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے شادی کر لی، ثابت نے ان سے ( یعنی انس سے ) پوچھا: اے ابوحمزہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کتنا مہر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے انہیں آزاد کر دیا اور ان سے شادی کر لی ( یہی آزادی ان کا مہر تھا ) ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ راستے ہی میں تھے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے صفیہ کو آراستہ و پیراستہ کر کے رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا دیا۔ آپ نے صبح ایک دولہے کی حیثیت سے کی اور فرمایا: ”جس کے پاس جو کچھ ( کھانے کی چیز ) ہو وہ لے آئے“، چمڑا ( دستر خوان ) بچھا یا گیا۔ کوئی پنیر لایا، کوئی کھجور اور کوئی گھی لایا اور لوگوں نے سب کو ملا کر ایک کر دیا ( اور سب نے مل کر کھایا ) یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا إِلاَّ أَنْ تُعْلَمَ ‏.‏
It was narrated from Jabir that:the Prophet forbade Muhaqalah, Muzahanah, Mukhabarah and selling with an exception unless it is defined
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي ثَوْبٍ دُونٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَكَ مَالٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ مِنْ كُلِّ الْمَالِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مِنْ أَىِّ الْمَالِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ مِنَ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالاً فَلْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Al-Ahwas, from his father, :That he came to the Prophet [SAW] wearing shabby clothes. The Prophet [SAW] said to him: "Do you have any wealth?" He said: "Yes, all kinds of wealth." He said: "What kinds of wealth?" He said: "Allah has given me camels, cattle, sheep, horses and slaves." He said: "If Allah has given you wealth, then let the effect of Allah's blessing and generosity be seen on you
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَعْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ إِذَا طُبِخَ الطِّلاَءُ عَلَى الثُّلُثِ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏
It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said:"When At-Tila' (thickened grape juice) has been cooked and reduced to one-third, then there is nothing wrong with it