أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَكَعَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " . وَفِي سُجُودِهِ " سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى " .
It was narrated that Hudhaifah said:"I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ), and he bowed and said when bowing: 'Subhana Rabbial-azim (Glory be to my Lord Almighty).' And when prostrating: 'Subhana Rabbial-'Ala (Glory be to my Lord Most High)
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا تو اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ " اخْتِلاَسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الصَّلاَةِ " .
It was narrated that 'Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, said:"I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about looking here and there during prayer. He said: 'That is something that the Shaitan snatches from one's prayer
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ چھینا جھپٹی ہے جسے شیطان اس سے نماز میں کرتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَهَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ وَدَنَا مِنَ الإِمَامِ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا " .
It was narrated from Aws bin Aws that:The Prophet (ﷺ) said: "Whoever washes (Ghassala) and performs Ghusl, comes early to the Masjid and sits near the Imam, and does not engage in idle talk, he will have for every step he takes (the reward of) a year's worth of good deeds, fasting it and praying Qiyam during it
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غسل کرائے ۱؎ غسل کرے، سویرے سویرے ( مسجد ) جائے، شروع خطبہ سے موجود رہے، اور امام سے قریب بیٹھے، اور کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ - رضى الله عنه - رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I prayed two rak'ahs with the Messenger of Allah (ﷺ) in Mina, and two rak'ahs with Abu Bakr, may Allah (SWT) be pleased with him, and two rak'ahs with Umar, may Allah (ﷺ) be pleased with him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، - هُوَ الأَنْصَارِيُّ - قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي فَقَالَتْ أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ . فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ فَقَالَ عَائِذًا بِاللَّهِ فَرَكِبَ مَرْكَبًا - يَعْنِي - وَانْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ نِسْوَةٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلاَّهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الأَوَّلِ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ " إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
Amrah said:"I heard Aishah say: 'A Jewish woman came to me begging, and said: May Allah grant you protection from the torment of the grave.' When the Messenger of Allah (ﷺ) came, I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), will people be tormented in their graves?' He sought refuge with Allah (SWT) and climbed onto his mount. The sun became eclipsed while I was between the apartments with some women. The Messenger of Allah (ﷺ) came from his mount and came to his prayer place, and led the people in prayer.He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raised his head and stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raised his head and stood for a long time, then he prostrated for a long time. Then he stood for a shorter time than in the first (rak'ah), then he bowed for a shorter time than the first, then he raised his head and stood for a shorter time than the first, then he bowed for a shorter time than the first, then he raised his head and stood for a shorter time than the first, so he bowed four times and prostrated four times, and the eclipse ended. He said: "You will be tried in your graves like the trial of the Dajjal.' Aishah said: 'I heard him after that seeking refuge with Allah from the torment of the grave
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت مجھ سے کچھ پوچھنے آئی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا لوگ قبروں میں بھی عذاب دیئے جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ ، پھر آپ ( کہیں جانے کے لیے ) سواری پر سوار ہوئے کہ ادھر سورج گرہن لگ گیا، اور میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان بیٹھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر آئے، اور اپنے مصلیٰ کی طرف بڑھے، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ ( سجدہ سے کھڑے ہوئے ) اور آپ نے قیام کیا، مگر اپنے پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر اپنا سر اٹھایا تو قیام کیا اپنے پہلے قیام سے کم، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، اور سورج صاف ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے اسی طرح جس طرح دجال کے فتنے سے آزمائے جاؤ گے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے میں نے برابر آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ الاِسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلاً مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ .
It was narrated from Hisham bin Ishaq bin Abdullah bin Kinanah that:His father said: "One of the governors sent me to Ibn Abbas to ask him about the prayer for rain. He said: 'What kept him from asking me? The Messenger of Allah (ﷺ) went out humbly, (dressed) in a state of humility, submissiveness and beseeching, and he prayed two rak'ahs as in the Eid prayer, but he did not deliver a Khutbah like this Khutbah of yours
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وَجْهِ الْعَدُوِّ وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَلَّمَ فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ .
Jabir bin Abdullah said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and the Iqamah for prayer was said. The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and one group stood behind him while another group faced the enemy. He led those who were behind him in prayer, bowing once and prostrating twice. Then they went and took the place of those who had been facing the enemy, and that group came and the Messenger of Allah (ﷺ) led them in prayer, bowing once and prostrating twice. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said the taslim and those who were behind him said the taslim, as did the other group
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم ( ایک غزوہ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ( نماز کا وقت ہوا ) تو نماز کھڑی کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہوا، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ چلے گئے، اور ان لوگوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے بالمقابل تھے، اور وہ گروہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ کے پیچھے والوں نے بھی سلام پھیرا، اور ان لوگوں نے بھی۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِي كَاهِلٍ الأَحْمَسِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِ النَّاقَةِ .
It was narrated that Abu Khalil Al-Ahmasi said:"I saw the Prophet (ﷺ) delivering the Khutbah atop a she-camel and an Ethiopian was holding on to the camel's reins
ابو کاہل احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے اور ایک حبشی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيًّا، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَهُمْ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لاَ يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلاَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالَّذِي أَعْطَاهُ وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَانْهَزَمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ " .
It was narrated from Zaid bin Zabyan who attributed it to Abu Dharr that:The Prophet (ﷺ) said: "There are three whom Allah (SWT) loves: A man who comes to some people and asks (to be given something) for the sake of Allah and not for the sake of their relationship, but they do not give him, so a man stayed behind and gave it to him in secret, and no one knew of his giving except Allah (SWT) and the one to whom he gave it. People who travel all night until sleep becomes dearer to them than anything equated with it, so they lay down their heads (and slept), then a man among them got up and started praying to Me and beseeching Me, reciting My Verses. And a man who was on a campaign and met the enemy and they fled, but he went forward (pursuing them) until he was killed or victory was granted
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آیا، اور اس نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا، آپ سی قرابت کا واسطہ دے کر نہیں مانگا، تو انہوں نے اسے نہیں دیا، پھر انہی میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے سے آیا، اور چھپا کر چپکے سے اسے دیا، اور اس کے اس صدقہ دینے کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور اس شخص کے جس کو اس نے دیا ہے کوئی نہیں جانتا، اور دوسرا آدمی وہ ہے جس کے ساتھ کے لوگ رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب نیند انہیں بھلی معلوم ہونے لگی تو وہ اترے اور سو رہے، لیکن وہ خود کھڑا ہو کر اللہ کے سامنے عاجزی کرتا رہا، اور اس کی آیتیں تلاوت کرتا رہا، اور تیسرا وہ شخص ہے جو ایک لشکر میں تھا، دشمن سے ان کی مڈبھیڑ ہوئی، تو وہ ہار گئے ( جس کی وجہ سے بھاگنے لگے ) لیکن وہ سینہ سپر رہا یہاں تک کہ وہ مارا جائے، یا اللہ اسے فتح دے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَدَعَانِي وَكُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ .
It was narrated that Hudhaifah said:"I was walking with the Messenger of Allah (ﷺ) and he came to some people's garbage dump and urinated while standing up. I turned to go away, but he called me back (to conceal him), and I was just behind him. Then when he had finished, he performed Wudu' and wiped over his Khuffs
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ لوگوں کے ایک کوڑے خانہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎، میں آپ سے دور ہٹ گیا، تو آپ نے مجھے بلایا ۲؎، ( تو جا کر ) میں آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس ( کھڑا ) ہو گیا یہاں تک کہ آپ ( پیشاب سے ) فارغ ہو گئے، پھر آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔
أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: Allah, the Most High, said: If My slave loves to meet Me, I love to meet him, and if he hates to meet Me, I hate to meet him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے تو میں ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہوں، اور جب وہ مجھ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو میں ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ عُدْنَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ فَتَذَاكَرْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ فَقَالَ مَا تَذْكُرُونَ قُلْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ . قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ .
It was narrated that 'Arfajah said; 'We visited 'Utbah bin Farqad (when he was ill) and we talked about the month of Ramadan. He said; 'What are you talking about?' We said:'The month of Ramadan. He said: "I heard the Messenger of Allah say: In it the gates of Paradise are opened and the gates of the Fire are closed, and the devils are chained up, and a caller calls out every night: O doer of good, proceed; O doer of evil, desist
عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم نے عتبہ بن فرقد کی عیادت کی تو ہم نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگ کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ماہ رمضان کا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے: اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار! خیر کے کام میں لگ جا ۱؎، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار! برائی سے باز آ جا“ ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۳؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاَثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ .
It was narrated that Mu'adh said:That when the Messenger of Allah sent him to Yemen, he commanded him to take from every thirty, cattle a male or female Tabi'(two-year-old), and from every forty, a Musinnah (three-year-old), and from every person who had reached the age of puberty a Dinar or is equivalent in Ma'afir. (Da 'if)
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے بیل میں ایک سال کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے میں دو سال کی بچھیا۔ اور ہر بالغ سے ( جزیہ میں ) ایک دینار یا ایک دینار کی قیمت کی یمنی چادر۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ .
It was narrated from Ibn 'Abbas:(Another chain) with a similar report narrated from Ibn 'Abbas. (sahih)
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ { لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ } جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى قَالَ فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ { غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ } .
It was narrated that Al-Bara' said:"When the following was revealed: 'Not equal are those of the believers who sit (at home),' [1] Ibn Umm Maktum, who was blind, came and said: 'O Messenger of Allah, what about me? I am blind.' He said: 'He did not leave before the following was revealed: Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).'" [2] [1] An-Nisa' 4:95. [2] An-Nisa' 4:
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اتری تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو اندھے تھے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے متعلق کیا حکم ہے؟ ( میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا ) اور آنکھوں سے مجبور ہوں، ( جہاد بھی نہیں کر سکتا ) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت: «غير أولي الضرر» نازل ہوئی ( یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں ) ۔
Narrated by Aishah
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ .
Narrated 'Aishah:It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah forbade celibacy
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الثَّلاَثَ، كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تُرَدُّ إِلَى الْوَاحِدَةِ قَالَ نَعَمْ .
It was narrated from Ibn Tawus, from his father, that Abu As-Sahba' came to Ibn 'Abbas and said:"O Ibn 'Abbas! Did you not know that the threefold divorce during the time of the Messenger of Allah and Abu Bakr, and during the early part of 'Umar's Caliphate, used to be counted as one divorce?" He said: "Yes
طاؤس سے روایت ہے کہ ابو الصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: اے ابن عباس! کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے شروع عہد خلافت میں تین طلاقیں ( ایک ساتھ ) ایک مانی جاتی تھیں، انہوں نے کہا: جی ہاں ( معلوم ہے، ایسا ہوتا تھا ) ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمِيعًا .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"Men and women used to perform Wudu' together during the time of the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں دونوں ایک ساتھ وضو کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلاَّمٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَمُرُّ بِي فَيَقُولُ يَا خَالِدُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي . فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ فَقَالَ يَا خَالِدُ تَعَالَ أُخْبِرْكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ وَارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَلَيْسَ اللَّهْوُ إِلاَّ فِي ثَلاَثَةٍ تَأْدِيبِ الرَّجُلِ فَرَسَهُ وَمُلاَعَبَتِهِ امْرَأَتَهُ وَرَمْيِهِ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْىَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا " . أَوْ قَالَ " كَفَرَ بِهَا " .
It was narrated that Khalid bin Yazid Al-Juhani said:"Uqbah bin 'Amir used to pass by me and say: 'O Khalid, let us go out and shoot arrows.' One day I came late and he said: 'O Khalid, come and I will tell you what the Messenger of Allah said.' So I went to him and he said: 'The Messenger of Allah said: Allah will admit three people to Paradise because of one arrow: The one who makes it seeking good thereby, the one who shoots it and the one who hands it to him. So shoot and ride, and if you shoot that is dearer to me than if you ride. And play is only in three things: A man training his horse, and playing with his wife, and shooting with his bow and arrow. Whoever gives up shooting after learning it because he is no longer interested in it, that is a blessing for which he is ungrateful -or that he has rejected
خالد بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہمارے قریب سے گزرا کرتے تھے، کہتے تھے: اے خالد! ہمارے ساتھ آؤ، چل کر تیر اندازی کرتے ہیں، پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں سستی سے ان کے ساتھ نکلنے میں دیر کر دی تو انہوں نے آواز لگائی: خالد! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی ایک بات بتاتا ہوں، چنانچہ میں ان کے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: ( ایک ) بھلائی حاصل کرنے کے ارادہ سے تیر بنانے والا، ( دوسرا ) تیر چلانے والا، ( تیسرا ) تیر پکڑنے والا، اٹھا اٹھا کر دینے والا، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) تیر اندازی کرو، گھوڑ سواری کرو اور تمہاری تیر اندازی مجھے تمہاری گھوڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے۔ ( مباح و مندوب ) لہو و لذت یابی، تفریح و مزہ تو صرف تین چیزوں میں ہے: ( ایک ) اپنے گھوڑے کو میدان میں کار آمد بنانے کے لیے سدھانے میں، ( دوسرے ) اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، کھیل کود میں اور ( تیسرے ) اپنی کمان و تیر سے تیر اندازی کرنے میں اور جو شخص تیر اندازی جاننے ( و سیکھنے ) کے بعد اس سے نفرت و بیزاری کے باعث اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کی ( جو اسے حاصل تھی ) ناشکری ( و ناقدری ) کی۔ راوی کو شبہ ہو گیا ہے کہ آپ نے اس موقع پر «کفرہا» کہا یا «کفر بہا» کہا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " رَحِمَ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ أَوْ يَرْحَمُ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ ". وَلَمْ يَكُنْ لَهُ إِلاَّ ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ النِّصْفَ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ " الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ ".
It was narrated from 'Amir bin Sa'd that his father said:"The Prophet used to visit him when he was in Makkah, and he did not want to die in the land from which he had emigrated. The Prophet said: 'May Allah have mercy on Sa'd bin 'Afra.' He had only one daughter, and he said: 'O Messenger of Allah, shall I bequeath all my wealth?' He said: 'No.' I said: 'Half?' He said: 'No.' I said: 'One-third?' He said: 'One-third, and one-third is a lot. For you to leave your heirs independent of means is better than if you were to leave them poor, holding out their hands to people
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( وہ مکہ میں بیمار پڑے تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لاتے تھے، وہ اس سر زمین میں جہاں سے وہ ہجرت کر کے جا چکے تھے مرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی: ”سعد بن عفراء پر اللہ کی رحمت نازل ہو“، ( سعد کی صرف ایک بیٹی تھی ) ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی ( اللہ کی راہ میں دینے کی ) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی، اللہ کی راہ میں وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: تو ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تم اگر اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج اور پریشان حال بنا کر اس دنیا سے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي " .
It was narrated that 'Aishah said:Fatimah bint Abi Hubaish said to the Messenger of Allah (ﷺ): "O Messenger of Allah (ﷺ), I do not become pure. Should I stop praying?" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "That is a vein and is not menstruation. When your period comes, stop praying, and when the same amount of time as your regular period has passed, then wash the blood from yourself and pray
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب اس کے بقدرگزر جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَنْظَلَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ أَخْبَرَنَا بَعْضُ، مَنْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَثَلُ الَّذِي يَهَبُ فَيَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَيَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ " .
It was narrated from Hanzalah that he heard Tawus say:"Some of those who met the Prophet told us that he said: 'The likeness of the one who gives (something), then takes back his gift, is that of a dog which eats, then vomits, then eats its vomit
طاؤس کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا ۱؎ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو ہبہ کرتا ہے پھر اسے واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے۔ کتا کھاتا ہے پھر قے کرتا ہے پھر دوبارہ اسی قے کو کھا لیتا ہے“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرٌ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ امْسِكُوا عَلَيْكُمْ - يَعْنِي أَمْوَالَكُمْ - لاَ تُعْمِرُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَإِنَّهُ لِمَنْ أُعْمِرَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
Al-Hajjaj bin As-Sawwaf narrated from Abu Az-Zubair, who said:"Jabir said: 'The Messenger of Allah said: "O Ansar! Hold on to your wealth, and do not give it on the basis of 'Umra. For whoever gives something on the basis of 'Umra, it belongs to the one to whom he gave it on that basis, for the rest of his life and after he dies
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! اپنے مال اپنے پاس روکے رکھو اور اسے عمریٰ میں نہ دو کیونکہ اگر کسی نے کوئی چیز عمریٰ میں دی ( تو وہ چیز اسے پھر واپس نہ ملے گی ) وہ اس کی ہو جائے گی جسے اس نے عمریٰ میں دی، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَرَدِّ السَّلاَمِ .
Al-Bara' bin 'Azib said:"The Messenger of Allah commanded us to do seven things: He commanded us to attend funerals, visit the sick, to reply (say: Yarhamuk Allah [may Allah have mercy on you]) to one who sneezes, to accept invitations, to support the oppressed, to fulfill oaths (when adjured by another) and to return greetings of Salaam
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا: آپ نے ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، قسم پوری کرنے اور سلام کا جواب دینے کا حکم دیا ۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا - يَعْنِي - أَتَتْ بِطَعَامٍ فِي صَحْفَةٍ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَجَاءَتْ عَائِشَةُ مُتَّزِرَةً بِكِسَاءٍ وَمَعَهَا فِهْرٌ فَفَلَقَتْ بِهِ الصَّحْفَةَ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ فِلْقَتَىِ الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ " كُلُوا غَارَتْ أُمُّكُمْ " . مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَحْفَةَ عَائِشَةَ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَأَعْطَى صَحْفَةَ أُمِّ سَلَمَةَ عَائِشَةَ .
It was narrated from Umm Salamah that she brought some food in a dish of hers to the Messenger of Allah and his Companions, then 'Aishah came, wrapped up in a garment, with a stone pestle and broke the dish. The Prophet gathered the broken pieces of the dish and said:"Eat; your mother got jealous," twice. Then the Messenger of Allah took the dish of 'Aishah and sent it to Umm Salamah and he gave the dish of Umm Salamah to 'Aishah
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک پیالے میں کھانا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آئیں۔ اتنے میں عائشہ رضی اللہ عنہا ایک چادر پہنے ہوئے آئیں، ان کے پاس ایک پتھر تھا، جس سے انہوں نے وہ پیالا مار کر دو ٹکرے کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے کے دونوں ٹکڑے جوڑنے لگے اور کہہ رہے تھے: تم لوگ کھاؤ، تمہاری ماں کو غیرت آ گئی، آپ نے دو بار کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا پیالا لیا اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دیا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا پیالا عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ثُمَّ تَحْرُمُ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا " .
It was narrated from An-Nu'man bin Salim that:'Amr bin Aws told him that his father Aws said: "The Messenger of Allah [SAW] said: 'I have been commanded to fight the people until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah), then their blood and their wealth become forbidden to me, except for a right that is due
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُنَازِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الإِنَاءَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ .
It was narrated that 'Aishah said:"I remember competing over the vessel [1] with the Messenger of Allah (ﷺ), when he and I were performing Ghusl from it." [1] See the following narration and no
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتن کے سلسلے میں کھینچا تانی کر رہی ہوں، میں اور آپ دونوں اسی سے غسل کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لأَنَّهُمْ هَجَرُوا الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ مِنَ الأَنْصَارِ مُهَاجِرُونَ لأَنَّ الْمَدِينَةَ كَانَتْ دَارَ شِرْكٍ فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ .
It was narrated that Jabir bin Zaid said:"Ibn 'Abbas said: 'The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr and 'Umar were among the Muhajirin (emigrants), because they forsook (hajaru) the idolators, and some of the Ansar were Muhajirun because Al-Madinah was a land of shirk, and they came to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Night of Al-'Aqabah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى شَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ " أَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا " .
Ibn 'Abbas said:"The Prophet passed by a dead sheep and said: 'Why don't you make use of its skin'?
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنَّ الْكِلاَبَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah said:"Were it not that dogs form one of the communities (or nations - of creatures), I would have commanded that they be killed. But kill those that are all black. Any people who keep a dog, except for dogs used for farming, hunting or herding livestock, one Qirat will be deducted from their reward each day
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، - وَهُوَ ابْنُ أَعْيَنَ - وَأَبُو جَعْفَرٍ - يَعْنِي النُّفَيْلِيَّ - قَالاَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّةً إِلاَّ أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah said: 'Do not slaughter anything but a Musinnah, unless that is difficult, in which case you can slaughter a Jadh'ah sheep
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا أَوْ يَكُونَ خِيَارًا " .
It was narrated from Yahaya, from 'Ubaidullah who said:"Nafi narrated to me from Ibn 'Umar, tht the Messenger of Allah said: 'the two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated, or they have chosen." (Sahih)
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ، - هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ - قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ قَبِيصَةَ، قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَجَلَسْتُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ . قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ بِصَلاَتِهِ فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ " . قَالَ هَمَّامٌ لاَ أَدْرِي هَذَا مِنْ كَلاَمِ قَتَادَةَ أَوْ مِنَ الرِّوَايَةِ " فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَىْءٌ قَالَ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلُ بِهِ مَا نَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ " . خَالَفَهُ أَبُو الْعَوَّامِ .
It was narrated that Huraith bin Qabisah said:"I arrived in Al-Madinah and said: 'O Allah, make it easy for me to find a righteous companion.' Then I sat with Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, and said: 'I prayed to Allah to help me find a righteous companion.' So tell me a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ), so that Allah might benefit me from it. He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "The first thing for which a person will be brought to account will be his Salah. If it is sound then he will have succeeded, be salvaged, but if it is not then he will have lost and be doomed." - (One of the narrators) Hammam said: "I do not know whether this was the words of Qatadah or part of the report." - "If anything is lacking from his obligatory prayers, He will say: 'Look and see whether My slave has any voluntary prayers to make up for what is deficient from his obligatory prayers.' Then all of his deeds will be dealt with in like manner
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، وہ کہتے ہیں: میں نے دعا کی، اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشیں عنایت فرما، تو مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہم نشینی ملی، وہ کہتے ہیں: تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی تھی کہ مجھے ایک نیک ہم نشیں عنایت فرما تو ( مجھے آپ ملے ہیں ) آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کیجئیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، ہو سکتا ہے اللہ اس کے ذریعہ مجھے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ( قیامت کے دن ) بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہو گی، اگر یہ درست ہوئی تو یقیناً وہ کامیاب و کامراں رہے گا، اور اگر خراب رہی تو بلاشبہ ناکام و نامراد رہے گا ، راوی ہمام کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم یہ قتادہ کی بات ہے یا روایت کا حصہ ہے، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی رہی تو اللہ فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ ( اگر ہو تو ) ۱؎ فرض میں جو کمی ہے اس کے ذریعہ پوری کر دی جائے، پھر اس کا باقی عمل بھی اسی طرح ہو گا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جِيءَ بِالْقَاتِلِ الَّذِي قَتَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ بِهِ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ قَالَ " أَتَقْتُلُ " . قَالَ نَعَمْ قَالَ " اذْهَبْ " . فَلَمَّا ذَهَبَ دَعَاهُ قَالَ " أَتَعْفُو " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَتَقْتُلُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " اذْهَبْ " . فَلَمَّا ذَهَبَ قَالَ " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " . فَعَفَا عَنْهُ فَأَرْسَلَهُ - قَالَ - فَرَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ .
It was narrated from 'Alqamah binWa'il Al-Hadrami that his farther said:A man who had killed someone was brought to the Messenger of Allah, and he was brought by the heir of the victim. The Messenger of Allah said to him. 'Will you forgive him? He said: No.' He said: 'Will you kill him? He said: 'Yes.' He said: 'Go away.' Then when he went away, he called him back and said: will you forgive him?' He said: 'No.' He said: 'Will you accept the Diyah? He said: 'No.' He said: 'will you kill him? He said: 'Yes.' He said: 'Go away.' Then when he had gone he said: If you forgive him, he will carry your sin and the sin of your companion (the victim)." So he forgave him and let him go." He said: "And I saw him dragging his string
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ امْرَأَةً، مَخْزُومِيَّةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ فَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَطْعِ يَدِهَا .
It was narrated from Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, that a Makhzumi woman used to borrow things then deny that she had borrowed them, so the Prophet (ﷺ) ordered that her hand be cut off
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا " . قَرَأَ عَلَيْهِمُ الآيَةَ " فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " .
It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said:"We were with the Prophet [SAW] in a gathering and he said: 'Give me your pledge that you will not associate anything with Allah, you will not steal and you will not have unlawful sexual relations'- and then he recited the Verse to them. 'Whoever among you fulfills this pledge, his reward will be with Allah, and whoever commits any of those actions and Allah, the Mighty and Sublime, conceals him, it is up to Allah: If He wills, He will punish him, and if He wills, He will forgive him
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدٍ، قَالاَ التَّرَجُّلُ غِبٌّ .
It was narrated that Al-Hasan and Muhammad said:"Combing one's hair (should be done) every other day
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ - وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ - فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ قُلْنَا لاَ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ . قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ . قَالَ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ جَلَسَ يَرْقُبُ صَلاَةَ الْعَصْرِ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَىِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً " .
Al-'Ala' narrated to us that he entered upon Anas bin Malik in his house in Al-Basrah, when he had finished Zuhr, and his house was beside the Masjid. "When we entered upon him, he said:'Have you prayed 'Asr?' We said: 'No, we have just finished Zuhr.' He said: 'Pray 'Asr.' So we got up and prayed, and when we finished he said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "That is the prayer of the hypocrite: he sits and delays 'Asr prayer until (the sun) is between the horns of the Shaitan, then he gets up and pecks four (Rak'ahs) in which he only remembers Allah a little
علاء کہتے ہیں کہ وہ جس وقت ظہر پڑھ کر پلٹے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے، اور ان کا گھر مسجد کے بغل میں تھا، تو جب ہم لوگ ان کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، ہم لوگ ابھی ظہر پڑھ کر پلٹے ہیں، تو انہوں نے کہا: تو عصر پڑھ لو، ہم لوگ کھڑے ہوئے اور ہم نے عصر پڑھی، جب ہم پڑھ چکے تو انس رضی اللہ عنہ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا عصر کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہو جائے، ( غروب کے قریب ہو جائے ) تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور اس میں اللہ کا ذکر معمولی سا کرے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ ".
It was narrated from Ibn 'Abbas that:A man came to the Prophet [SAW] and said: "My father is an old man, can I perform Hajj on his behalf?" He said: "Yes. Don't you think that if he owed a debt and you paid it off, that would suffice him?
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ يُعَلِّمُنَا خَمْسًا كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهِنَّ وَيَقُولُهُنَّ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
It was narrated that 'Abudl-Malik bin 'Umair said:"I heard Mus'ab bin Sa'd (narrate) about his father: 'He used to tech us five things, which he said that the Messenger of Allah [SAW] used to recite in his supplication: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-bukhli, wa a'udhu bika minal-jubni, wa a'udhu bika an uradda ila ardhalil-'umuri, wa a'udhu bika min fitnatid-dunya, wa a'udhu bika min 'adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge in You from miserliness, and I seek refuge in You from cowardice, and I seek refuge in You from reaching the age of senility, and I seek refuge in You from the trials of this world, and I seek refuge in You from the torment of the grave)
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَعَنِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ هَجَرَ " أَنْ لاَ تَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا ".
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade Ad-Dubba', Al-Hantam, Al-Muzaffat, and An-Naqir, and that Al-Busr be mixed with dried dates, and that raisins be mixed with dried dates, and he wrote to the people of Hajar saying: 'Do not mix raisins and dried dates together
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ بِلاَلٌ فَأَذَّنَ فَجَعَلَ يَقُولُ فِي أَذَانِهِ هَكَذَا يَنْحَرِفُ يَمِينًا وَشِمَالاً .
It was narrated from 'Awn bin Abi Juhaifah that his father said:"I came to the Prophet (S.A.W) and Bilal came out and called the Adhan and he started doing like this in his Adhan, turning to his right and left
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے نکل کر اذان دی، تو وہ اپنی اذان میں اس طرح کرنے لگے یعنی ( «حى على» … کے وقت ) دائیں اور بائیں مڑ رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، - هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حِينَ يَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تُكْتَبُ حَسَنَةً وَرِجْلٌ تَمْحُو سَيِّئَةً " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"When a man goes out of his house to his Masjid, one foot records a good deed and the other erases a bad deed
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ .
It was narrated that Aisha said:"The Messenger of Allah(ﷺ)used to pray at night while I was lying down sleeping between him and the Qibla on his bed. When he wanted to pray witr he would wake me up and I would pray witr
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے بیچ آپ کے بستر پر چوڑان میں سوئی رہتی تھی، تو جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے جگاتے، تو میں ( بھی ) وتر پڑھتی۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ يَعُودُونَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " .
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah(ﷺ) fell from a horse onto his right side.They came to visit him and the time for prayer came. When the prayer was over he said:"The Imam is appointed to be followed. When he bows, then bow, when he stands up, then stand up, when he prostrates, then prostrate, and when he says Sami' Alldhu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), then say, Rabbanri lakal-hamd (Our Lord, to You be the praise)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آئے، اور نماز کا وقت آپ پہنچا، جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَيْسَرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَخْطَأَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَعْجَبَ إِلَىَّ .
It was narrated from Abdullah that:He saw a man praying with his feet together. He said: "He is not following the Sunnah. If he were to shift his weight from one to the other I would like that better
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت سے چوک گیا، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا۔