أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ - عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَبَّحَ فِي دُبُرِ صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ وَهَلَّلَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever says the tasbih one hundred times following the morning prayer, and the tahlil one hundred times, he will be forgiven his sins even if they are like the foam of the sea
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کی نماز کے بعد سو بار «سبحان اللہ» اور سو بار «لا إله إلا اللہ» کہے گا، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:'Perform Wudu' from that which has been touched by fire
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الأَذَانِ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ .
It was narrated from 'Abdullah bin Umar that Hafsah, the Mother of the Believers, told him:that when the Muaddhin fell silent following the call to Subh prayer and dawn had broken, he would pray two brief rak'ahs before getting up to pray
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن صبح کی نماز کی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا، اور صبح نمودار ہو جاتی، تو نماز کھڑی ہونے سے پہلے ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ أَبُو الْخَطَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكَّارٍ الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ كَبَّرَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ - وَهُوَ ابْنُ سَلِيطٍ - عَنْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَخْبَرَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ إِلاَّ شُفِّعُوا فِيهِ " . فَسَأَلْتُ أَبَا الْمَلِيحِ عَنِ الأُمَّةِ فَقَالَ أَرْبَعُونَ .
Abu Bakkar Al-Hakam bin Farrukh said:"Abu Al-Malih led us in offering the funeral prayer and we thought that he had said the Takbir, but he turned to us and said: 'Make you rows straight and intercede properly.' Abu Al-Malih said: Abdullah - meaning Ibn Salit-narrated to me that one of the Mothers of the believes, Maimunah the wife of the Prophet, said: The Prophet told me: There is no deceased person for whom a group of people offers the funeral prayer, but their intercession for him will be accepted.' I asked Abu Al-Malih about the (number of that) group and he said: 'Forty
ابوبکار حکم بن فروخ کہتے ہیں ہمیں ابوملیح نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ہم نے سمجھا کہ وہ تکبیر ( تکبیر اولیٰ ) کہہ چکے ( پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہا: تم اپنی صفیں درست کرو تاکہ تمہاری سفارش کارگر ہو۔ ابوملیح کہتے ہیں: مجھ سے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا، انہوں نے امہات المؤمنین میں سے ایک سے روایت کی، اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، وہ کہتی ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی، آپ نے فرمایا: ”جس میت کی بھی لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھتی ہے تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کر لی جاتی ہے“، تو میں نے ابوملیح سے جماعت ( کی تعداد ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: چالیس افراد پر مشتمل گروہ امت ( جماعت ) ہے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَغَدَّى بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ " الْغَدَاءَ " . مُرْسَلٌ .
It was narrated that Abu Salamah said:"When the Messenger of Allah was eating breakfast in Marr Az-Zahran, and Abu Bakr and 'Umar were with him, he said: '(Come and eat) breakfast." (Daif) He narrated it in Mursal form
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“ یہ روایت مرسل ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَسَمِعْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " . قَالَ نَعَمْ .
Shu'bah said:"I said to Abu Iyas Mu'awiyah bin Qurrah: 'Did you hear Ans bin Malik say: The Messenger of Allah said: The son of the daughter of a people is one of them? He said: 'Yes
شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا آپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں ( میں نے سنا ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لاَ يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ .
It was narrated that Aishah said:"I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah. Then he would not avoid anything that the Muhrim avoids
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ فَقِيلَ لَهُ بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينِ . قَالَ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ وَبَارَكَ لَكُمْ " .
It was narrated that Al-Hasan said:"Aqil bin Abi Talib married a woman from Banu Jusham, and it was said to him: 'May you live in harmony and have many sons.' He said: 'Say what the Messenger of Allah said: Barak Allahu fikum, wa baraka lakum. (May Allah bless you and bestow blessings upon you)
حسن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب نے بنو جثم کی ایک عورت سے شادی کی تو انہیں «بالرفاء والبنين» میل ملاپ سے رہنے اور صاحب اولاد ہونے کی دعا دی گئی۔ تو انہوں نے کہا: جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس موقع پر ) کہا ہے اسی طرح تم بھی کہو، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) «بارك اللہ فيكم وبارك لكم» ”اللہ تعالیٰ تمہاری ہر چیز میں برکت دے اور تمہیں برکت والا کرے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that:the Prophet forbade selling the offspring of the offspring of a pregnant animal (Habal Al-Habalah)
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ فَطَرَحَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا " .
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Messenger of Allah [SAW] put on a ring of gold and put its stone (Fass) toward his palm. Then the people started to wear rings, and the Messenger of Allah [SAW] discarded it and said: "I will never wear it again
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ بِعْهُ عَصِيرًا مِمَّنْ يَتَّخِذُهُ طِلاَءً وَلاَ يَتَّخِذُهُ خَمْرًا .
It was narrated that Ibn Sirin said:"Sell it as juice to one who will make At-Tila' (thickened grape juice) with it, and not Khamr (wine) with it