بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
13
12 hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرَيْبًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَيْهَا وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ تَدْعُو ثُمَّ مَرَّ بِهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أُعَلِّمُكِ - يَعْنِي - كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Juwayriyah bint Al-Harith said that:The Prophet (ﷺ) passed by her while she was in the masjid, supplicating, then he passed by her again when it was almost midday. He said to her: "Are you still here?" She said: "Yes." He said: "Shall I not teach you some words which you can say? Subhan Allah adada khalqihi, subhan Allah adada khalqihi, subhan Allah adada khalqihi; subhan Allah rida nafsihi, subhan Allah rida nafsihi, subhan Allah rida nafsihi; Subhan Allah zinata 'arshihi, Subhan Allah zinata 'arshihi, Subhan Allah zinata 'arshihi; Subhan Allah midada Kalamatihi, Subhan Allah midada Kalamatihi, Subhan Allah midada Kalamatihi (Glory be to Allah the number of His creation, glory be to Allah the number of His creation, glory be to Allah the number of His creation; glory be to Allah as much as pleases Him, glory be to Allah as much as pleases Him, glory be to Allah as much as pleases Him; glory be to Allah the weight of His throne, glory be to Allah the weight of His throne, glory be to Allah the weight of His throne; glory be to Allah the number of His words, glory be to Allah the number of His words, glory be to Allah the number of His words)
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور وہ مسجد میں دعا مانگ رہی تھیں، پھر آپ ان کے پاس سے دوپہر کے قریب گزرے ( تو دیکھا وہ اسی جگہ دعا میں مشغول ہیں ) تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اب تک اسی حال میں ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتاؤں کہ جنہیں تم کہا کرو؟ وہ یہ ہیں: «سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته» اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر ۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأْتُ مِنْهَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Ibrahim bin Qariz said:"I saw Abu Hurairah performing Wudu' on the roof of the Masjid ans he said: 'I ate some tough cheese, so I performed Wudu' because of that. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) commanding us to do Wudu' from that which has been touched by fire
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے ہیں، اسی وجہ سے میں نے وضو کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کا حکم دیتے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْفُرَاتِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا نُودِيَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that Hafsah told him:"When he was called to Subh prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) would do two prostrations before Subh prayer
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب فجر کی اذان کہہ دی جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے دو سجدے کرتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَلاَّمِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، رَضِيعِ عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً يَشْفَعُونَ إِلاَّ شُفِّعُوا فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَلاَّمٌ فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ فَقَالَ حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that the Prophet said:"There is no deceased person for whom a group of Muslims whose number reaches one hundred, offers the funeral prayer, interceding for him; but their intercession for him will be accepted." (One of the narrators) Sallam said: "I narrated it to Shu'aib bin Al-Habhab and he said: 'Anas bin Malik narrated it to me from the Prophet
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے ( جن کی تعداد ) سو تک پہنچتی ہو، ( اور ) وہ ( اللہ کے پاس ) شفاعت ( سفارش ) کریں تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کی جائے گی“۔ سلام کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو شعیب بن حبحاب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنَ الْمَاءِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا فَقَالَ ‏ "‏ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah went out to Makkah in the year of the Conquest in Ramadan. He fasted until he reached Kura Al-Ghamim, and the people fast, so he called for a vessel of water after 'Asr and drank it while the people were looking on. Then some of the people broke their fast and some continued to fast. He heard that some people were still fasting and he said: 'Those are the disobedient ones
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے نکلے، تو آپ نے روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو گیا ہے، تو آپ نے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا، پھر پانی پیا، اور لوگ دیکھ رہے تھے، تو ( آپ کو دیکھ کر ) بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا، اور بعض رکھے رہ گئے، آپ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ: ”یہی لوگ نافرمان ہیں“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، رضى الله عنه يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالاً فَقُلْتُ لَهُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah bin Umar said:"I heard 'Umar, may Allah be pleased with him, say: The Prophet used to give me payment and I would say: Give it to someone who is more, in need of it than I am, until one day he gave me some money and I said to him: Give it to someone who is more in need of it than I am. He said: Take it and keep it or give it in charity. Whatever comes to you of this wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”تم لے لو، اور اس کے مالک بن جاؤ، اور اسے صدقہ کر دو، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کر لو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا كَانُوا حَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ بَعَثَ بِالْهَدْىِ فَمَنْ شَاءَ أَحْرَمَ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ‏.‏
It was narrated from Jabir:That when they were present with the Messenger of Allah in Al-Madinah, he sent the Hadi, and whoever wanted to enter Ihram did so, and whoever did not want to, did not
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی بھیجی تو سب لوگ مدینہ میں موجود تھے تو جس نے چاہا احرام باندھا اور جس نے چاہا نہیں باندھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Muhammad bin Hatib said:"The Messenger of Allah said: 'What differentiates between the lawful and the unlawful is the Duff, and the voice (singing) for the wedding
محمد بن حاطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے اور اس کا اعلان کیا جائے ۱؎“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - وَقَالَ عَمْرٌو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - كَانَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا ‏.‏ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ‏.‏
It was narrated from 'Umar that the Prophet -'Amr (one of the narrators) said:"The Messenger of Allah- had divorced Hafsah, then he took her back." And Allah knows best
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اور عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع فرمایا تھا۔ واللہ اعلم، ( اللہ بہتر جانتا ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ السَّلَفُ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Propher said:"Paying in advance for the offspring of the offspring of a pregnant animal (Habal al-Habalah) is Riba
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ ‏.‏
It was narrated from Anas that:When entering the Khala', the Messenger of Allah [SAW] would take off his ring
أَخْبَرَنَا الْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ، - هُوَ بَاوَرْدِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَبِيعَ الزَّبِيبَ، لِمَنْ يَتَّخِذُهُ نَبِيذًا ‏.‏
It was narrated from Ibn Tawus, from his father, that:He disliked to sell raisins to one who would use them to make Nabidh