أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ قِيلَ لَهُ بِأَىِّ شَىْءٍ أَمَرَكُمْ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَمَرَنَا أَنْ نُسَبِّحَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَنَحْمَدَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ . قَالَ سَبِّحُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاحْمَدُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَكَبِّرُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَهَلِّلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " افْعَلُوا كَمَا قَالَ الأَنْصَارِيُّ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that :A man saw in a dream that it was said to him: "What does your Prophet (ﷺ) command you to do?" He said: "He commanded us to say Tasbih thirty-three times following the prayer, and to say the tahmid thirty-three times, and to say the takbir thirty-four times, and that makes one-hundred." He said: Say the tasbih twenty-five times and say the tahmid twenty-five times and say the takbir twenty-five times and say the tahlil twenty-five times, and that will make one hundred." The following morning he told the Prophet (ﷺ) about that and the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do what the Ansari said
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دیکھا جیسے سونے والا خواب دیکھتا ہے، اس سے خواب میں پوچھا گیا: تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہیں، تو یہ کل سو ہیں، تو اس نے کہا: تم پچیس بار «سبحان اللہ» پچیس بار «الحمد لله» پچیس بار «اللہ أكبر» اور پچیس بار «لا إله إلا اللہ»کہو، یہ بھی سو ہیں، چنانچہ جب صبح ہوئی تو اس آدمی نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسے ہی کر لو جیسے انصاری نے کہا ۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ - قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَارِظٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Perform Wudu' from that which has been touched by fire
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"Hafsah told me that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two rak'ahs beore Subh
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مجھے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الدِّمَشْقِيِّ الْفِهْرِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الدِّمَشْقِيِّ، بِنَحْوِ ذَلِكَ .
It was narrated by Ad-Dahhak bin Qais Ad-Dimashqi:A similar report was narrated from Ad-Dahhak bin Qais Ad-Dimashqi
ضحاک بن قیس دمشقی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " .
It was narrated from Jabir bin Abdullah that:the Messenger of Allah saw a man who was being shaded on a journey. He said: "It is not righteousness to fast when traveling
محمد بن عبدالرحمٰن نے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت کی، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ سفر میں اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلاَفَتِهِ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ، تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالاً فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا قَالَ فَقُلْتُ بَلَى . قَالَ فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ فَقُلْتُ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالاً فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " .
Abdullah bin As-Sa'di narrated that he came to 'Umar bin Al-Khattab during his Caliphate and 'Umar said to him:"I heard that you do some jobs for the people but when payment is given to you, you do not like it." I said: "Yes (that is so)." He said: "Why do you do that? I said: "I have horses and slaves and well off, and I wanted my work to be an act of charity toward the Muslims." 'Umar said to him: "Do not do that. I used to want the same thing as you. The Messenger of Allah used to give me payment and I would say, 'Give it to someone who is more in need of it than I am' until, on one occasion, the Prophet gave me payment and I said: 'Give it to someone who is more in said: "Take it and keep it or give it in charity. Wealth when you are not hoping for it and not asking for it, take it, and whatever does not, then do not wish for it
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے والی ہوتے ہو تو جب تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں ( ایسا تو ہے ) انہوں نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، کیونکہ میں بھی وہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطایا ( بخشش ) دیتے تھے، تو میں عرض کرتا تھا: آپ اسے دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا، میں نے کہا: آپ اسے اس شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو، نہیں تو صدقہ کر دو۔ ( سنو! ) اس مال میں سے جو بھی تمہیں بغیر کسی لالچ کے اور بغیر مانگے ملے اس کو لے لو، اور جو نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑو“۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْىَ مِنْ جَانِبِ السَّنَامِ الأَيْمَنِ ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ ثُمَّ قَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ .
It was narrated from Ibn Abbas:That when the Messenger of Allah came to Dhul-Huaifah he marked the Hadi on the right side of its hump, then removed the blood from it, then he garlanded it with two shoes and mounted his she-camel. When it stood up with him in Al-Baida, he began the Talbiyah for Hajj and he entered Ihram at noon
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کے داہنی کوہان کی جانب اشعار کیا، پھر اس کا خون صاف کیا، پھر اس کے گلے میں دو جوتے ڈالے، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو جب وہ بیداء میں آپ لے کر پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے حج کا احرام باندھا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمُتْعَةِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ مَا تُعْطِينِي فَقُلْتُ رِدَائِي . وَقَالَ صَاحِبِي رِدَائِي . وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَىَّ أَعْجَبْتُهَا ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي . فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ اللاَّتِي يَتَمَتَّعُ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا " .
It was narrated from Ar-Rabi' bin Sabrah Al-Juhani that his father said:"The Messenger of Allah gave permission for Mut'ah, so I and another man went to a woman from Bani 'Amir and offered ourselves to her (for Mut'ah). She said: 'What will you give me?' I said: 'My Rida' (upper garment).' My companion also said: 'My Rida'.' My companion's Rida' was finer than mine, but I was younger than him. When she looked at my companion's Rida' she liked it, but when she looked at me, she liked me. Then she said: 'You and your Rida' are sufficient for me.' I stayed with her for three (days), then the Messenger of Allah said: 'Whoever has any of these women whom he married temporarily should let them go
سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص ( دونوں ) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، ( لیکن ) میں اس سے زیادہ جوان ( تگڑا ) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی ( اس کی طرف لپکتی ) اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے بہت پسند آتا تھا۔ پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ تو میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے چھوڑ دے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يُسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ . وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى هَذَا .
Ibn Tawus narrated from his father that he heard 'Abdullah bin 'Umar being asked about a man who divorced his wife when she was menstruating. He said:"Do you know 'Abdullah bin 'Umar?" He said: "Yes." He said: "He divorced his wife when she was menstruating, and 'Umar went to the Prophet and told him about that. He ordered him to take her back until she became pure," and I did not hear him adding anything to that
طاؤس کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے اس وقت سنا جب ان سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھنے والے سے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا: ( انہیں کا واقعہ ہے ) کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بیوی حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے یہاں تک کہ ( حیض آئے اور پھر ) حیض سے پاک ہو جائے“ ( اب چاہے تو طلاق نہ دے اپنی زوجیت میں قائم رکھے ) طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس سے مزید کچھ کہتے ہوئے نہیں سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْهِجْرَةِ وَلاَ يَشْعُرُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِعْنِيهِ " . فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ
It was narrated that Jabir Sair:"A slave came and gave his pledge to the Messenger of Allah to emigrate, and the Prophet did not realize that he was a slave. Then his master came looking for him. The Prophet said; 'Sell him to me.' So he bought him for two black slaves, then he did not accept until he had asked; 'Is he a slave?
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي " . وَنَهَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ وَهَذِهِ وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى . قَالَ وَقَالَ عَاصِمٌ أَحَدُهُمَا .
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah [SAW] said to me: 'Say: O Allah, guide me and make me steadfast,' and he forbade me to put a ring on this one and this one" - and Bishr (one of the narrators) pointed to his forefinger and middle finger. And 'Asim said: "One of the two of them
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رضى الله عنهما مَا حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ حَفِظْتُ مِنْهُ " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لاَ يَرِيبُكَ " .
It was narrated that Abu Al-Hawra' As-Sa'di said:"I said to Al-Hasan bin 'Ali, may Allah be pleased with him: 'What did you memorize from the Messenger of Allah [SAW]?' He said: I memorized from him: 'Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt