أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَسْبَاطٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُعَقِّبَاتٌ لاَ يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيَحْمَدُهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ " .
It was narrated that Ka'b bin 'Ujrah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are statements of remembrance following the prayer of which the one who says them will never be deprive of the reward: Glorifying Allah (SWT) thirty-three times following each prayer, and praising Him thirty-three times, and magnifying Him thirty-four times
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے الفاظ ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہا جاتا ہے ان کا کہنے والا ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا، یعنی جو ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلاَ يَتَوَضَّأُ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ وَإِنَ كَانَ مُرْسَلاً وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ حَدِيثُ حَبِيبٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ هَذَا وَحَدِيثُ حَبِيبٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ تُصَلِّي وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ لاَ شَىْءَ .
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (ﷺ) used to kiss one of his wives then pray without performing Wudu'. Abu 'Abdur-Rahman said:"There is nothing for this chapter which is better than this hadith, even though it is Mursal. And Al-A'mash reported this Hadith from Habib bin Abi Thabit, from 'Urwah, from 'Aishah. Yahya Al-Qattan said: "This is the Hadith of Habib from 'Urwah, from 'Aishah. And the Hadith of Habib from 'Urwah, from 'Aishah: "She prays even if blood drips on the mat" is nothing
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج مطہرات کا بوسہ لیتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس باب میں اس سے اچھی کوئی حدیث نہیں ہے اگرچہ یہ مرسل ہے، اور اس حدیث کو اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے عروہ سے، اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، یحییٰ القطان کہتے ہیں: حبیب کی یہ روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے اور حبیب کی «تصلى وإن قطر الدم على الحصير» مستحاضہ نماز پڑھے گرچہ چٹائی پر خون ٹپکے والی روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے دونوں کچھ نہیں ہیں ۲؎، ( یعنی دونوں ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں ) ۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ هُوَ وَنَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ .
It was narrated from Abu Salamah and Nafi', from Ibn Umar, from Hafsah that:The Prophet (ﷺ) used to pray two brief rak'ahs between the call (The adhan) and the Iqamah, the two rak'ahs of Fajr
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اذان اور اقامت کے درمیان ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ تَقْرَأُ قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ .
It was narrated that Talhah bin 'Abdullah said:"I offered the funeral prayer behind Ibn 'Abbas and I heard him reciting Fatihat Al-Kitab. When he finished I took him by the hand and asked him. 'Did you recite?' He said: 'Yes, it is the truth and the Sunnah
طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک جنازے کی نماز پڑھی، تو میں نے انہیں سورۃ فاتحہ پڑھتے سنا، تو جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور پوچھا: آپ ( نماز جنازہ میں ) قرآن پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، ( یہی ) حق اور سنت ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنهما عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاقْبَلُوهَا " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah said:"It is not righteousness to fast when traveling. Take to the concession which Allah, the mighty and sublime, has granted you, accept it
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے، اللہ عزوجل کی دی گئی رخصت ( اجازت ) کو لازم پکڑو اور اسے قبول کرو“۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّعْدِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه مِنَ الشَّامِ فَقَالَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَعْمَلُ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ فَتُعْطَى عَلَيْهِ عُمَالَةً فَلاَ تَقْبَلُهَا قَالَ أَجَلْ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه إِنِّي أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعْطِينِي الْمَالَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي وَإِنَّهُ أَعْطَانِي مَرَّةً مَالاً فَقُلْتُ لَهُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنِّي . فَقَالَ " مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذَا الْمَالِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلاَ إِشْرَافٍ فَخُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " .
Abdullah bin As-Sa'di narrated that he came to 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, from Ash-Sham, and he said:"I heard that you have been doing some work for the Muslims, and you are given payment for that, but you do not accept it. "I said: "Yes (that is so); I have horses and slaves and am well-off, and I wanted my work to be an act of charity toward the Muslims." 'Umar, may Allah be pleased with him, said: "I wanted the same thing as you. The Prophet used to give me money, and I would say: 'Give it to someone who is more in need of it than I am. Once he gave me money and I said: 'Give it to someone who us more in need of it that I am, and he said: 'Whatever Allah, the Mighty and Sublime, gives you of this wealth without you asking for it or hoping or it, take it and keep it, or give it in charity, and whatever. He does not give you then do not hope for it or wish for it
عبداللہ بن السعدی القرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ شام سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام پر عامل بنائے جاتے ہو، اور اس پر جو تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو اسے تم قبول نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: ہاں یہ صحیح ہے، میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں ( اللہ کا شکر ہے کوئی کمی نہیں ہے ) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم چاہتے ہو وہی میں نے بھی چاہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال دیتے تو میں عرض کرتا: اسے آپ اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، ایک بار آپ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اس مال میں سے جو تمہیں بغیر مانگے اور بغیر لالچ کئے دے، اسے لے لو، چاہو تم ( اسے اپنے مال میں شامل کر کے ) مالدار بن جاؤ، اور چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ اور جو نہ دے اسے لینے کے پیچھے مت پڑو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَمًا ثُمَّ لاَ يُحْرِمُ .
It was narrated that Aishah said:"I used to twist the garlands of sacrificial sheep of the Messenger of Allah. Then he did not enter a state of Ihram
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ .
It was narrated from 'Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin 'Ali, from their father, from 'Ali bin Abi Talib, that the Messenger of Allah on the Day of Khaibar forbade temporary marriage to women, and (he also forbade) the meat of tame donkeys
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے روک دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَيَقُولُ أَمَّا إِنْ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا وَأَمَّا إِنْ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ .
When Ibn 'Umar was asked about a man who divorced his wife when she was menstruating, he would say:"If it is the first or second divorce, the Messenger of Allah would tell him to take her back and keep her until she has menstruated again and purified herself, then divorce her before having intercourse with her. But if it was three simultaneous divorces, then you have disobeyed Allah with regard to the way in which divorce should be conducted and your wife has become irrevocably divorced
نافع کہتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی ایسے شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو تو وہ کہتے: اگر اس نے ایک طلاق دی ہے یا دو طلاقیں دی ہیں ( تو ایسی صورت میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجوع کر لینے کا حکم دیا ہے پھر اسے دوسرے حیض آنے تک روکے رکھے پھر جب وہ ( دوسرے حیض سے ) پاک ہو جائے تو اسے جماع کرنے سے پہلے ہی طلاق دیدے اور اگر اس نے تین طلاقیں ( ایک بار حالت حیض ہی میں ) دے دی ہیں تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملہ میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے ۱؎ لیکن تین طلاق کی وجہ سے اس کی عورت بائنہ ہو جائے گی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ هَانِئٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، يَقُولُ بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ " أَجَلْ لاَ أَقْضِيكَهَا إِلاَّ نَجِيبَةً " . فَقَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ يَتَقَاضَاهُ سِنَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطُوهُ سِنًّا " . فَأَعْطَوْهُ يَوْمَئِذٍ جَمَلاً فَقَالَ هَذَا خَيْرٌ مِنْ سِنِّي . فَقَالَ " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً " .
Irbad bin Saryah said:"I lent a young camel to the Messenger of Allah, and I came to ask him to repay me. He said: 'Yes, I will only repay you with a superior she-camel.' so he repaid me and repaid me well. Then a Bedouin came to him to ask to repay him a camel of a certain age, and the Messenger of Allah said: 'Give him a camel of certain age.' On that day they gave him a mature camel and he said: 'This is better than my camel.' He (The Prophet) Said:' The best of you is the one who is best in repaying
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَلِيُّ سَلِ اللَّهَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ " . وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ وَهَذِهِ . وَأَشَارَ يَعْنِي بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
It was narrated that Abu Burdah said:'Ali said: "The Messenger of Allah [SAW] said to me: 'O 'Ali, ask Allah for guidance and steadfastness,' and he forbade me from placing a ring on this one and this one' - and he pointed to his forefinger and middle finger
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ جَيْشَانَ - وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ - قَدِمَ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمُسْكِرٌ هُوَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَهِدَ لِمَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ قَالَ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " .
It was narrated from Jabir that:A man from (the tribe of) Jaishan, who are from Yemen, came and asked the Messenger of Allah [SAW] about a drink that they drank in his homeland that was made of corn and called Al-Mizr (beer). The Prophet [SAW] said to him: "Is it an intoxicant?" He said: "Yes." The Messenger of Allah [SAW] said: "Every intoxicant is unlawful. Allah, the Mighty and Sublime, has promised the one who drinks intoxicants that He will give him to drink from the mud of Khibal." They said: "O Messenger of Allah, what is the mud of Khibal?" He said: "The sweat of the people of Hell," or he said: "The juice of the people of Hell