بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
13
12 hadith
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَلَّتَانِ لاَ يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُ عَشْرًا فَهِيَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ ‏"‏ وَإِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ أَوْ مَضْجَعِهِ سَبَّحَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَحَمِدَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ فَهِيَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ لاَ نُحْصِيهِمَا فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلاَتِهِ فَيَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنِيمُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abdullah in 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are two qualities which no Muslim person attains but he will enter Paradise, and they are easy, but those who do them are few.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The five daily prayers: After each prayer one of you glorifies Allah (SWT) ten times and praises Him ten times and magnifies him ten times, which makes one hundred and fifty on the tongue and one thousand five hundred in the balance.' And I saw the Messenger of Allah (ﷺ) counting them on his hands. 'And when one of you retires to his bed he says the tasbih thirty-three times and the tahmid thirty-three times and the takbir thirty-four times, that is one hundred on the tongue and one thousand in the balance.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: "So which of you does two thousand five hundred bad deeds in a day and a night?" It was said: "O Messenger of Allah (ﷺ), how can a person not persist in doing that?" He said: "The Shaitan comes to one of you when he is praying and says: 'Remember such and such, remember such and such," or he comes to him when he is in bed and makes him fall asleep
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسی خصلتیں ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار کر لے تو وہ جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، پانچ نمازیں تم میں سے جو کوئی ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان اللہ» دس بار «الحمد لله» اور دس بار «اللہ أكبر» کہے گا، تو وہ زبان سے کہنے کے لحاظ سے ڈیڑھ سو کلمے ہوئے، مگر میزان میں ان کا شمار ڈیڑھ ہزار کلموں کے برابر ہو گا، ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنے ہاتھوں ( انگلیوں ) پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے ) ، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے، اور تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہے، تو وہ زبان پر سو کلمات ہوں گے، مگر میزان ( ترازو ) میں ایک ہزار شمار ہوں گے، تو تم میں سے کون دن و رات میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم یہ دونوں تسبیحیں کیوں کر نہیں گن سکتے؟۱؎ تو آپ نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے، اور وہ نماز میں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو اور اسی طرح اس کے سونے کے وقت اس کے پاس آتا ہے، اور اسے ( یہ کلمات کہے بغیر ہی ) سلا دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَنُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ فَقَدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ ‏ "‏ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that 'Aishah said:"I noticed the Prophet (ﷺ) was not there one night, so I started looking for him with my hand. My hand touched his feet and they were held upright, and he was prostrating and saying: 'I seek refuge in Your pleasure from Your anger, in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised yourself
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری شمار کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكَعُ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالصَّلاَةِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that Hafsah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two brief rak'ahs between the call (the Adhan) and the prayer
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان اور نماز کے درمیان ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَجَهَرَ حَتَّى أَسْمَعَنَا فَلَمَّا فَرَغَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سُنَّةٌ وَحَقٌّ ‏.‏
It was narrated that Talhah bin 'Abdullah bin 'Awf said:"I offered the funeral prayer behind Ibn 'Abbas. He recited Fatihat Al-Kitab and a Surah, which he recited loudly, such that we could hear him. When he finished I took him by the hand and asked him. He said: '(It is) Sunnah and the truth
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے جنازہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھی، اور جہر کیا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں سنا دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا: ( یہ کیا؟ ) تو انہوں نے کہا: ( یہی ) سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے، اور ( یہی ) حق ہے۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ جَابِرًا، نَحْوَهُ ‏.‏
Muhammad bin 'Abdur-Rahman said:"Someone who heard it from Jabir told me something similar
یحییٰ کہتے ہیں مجھے محمد بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے جس شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اسی طرح بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا فَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏ فَقَالَ خُذْ مَا أَعْطَيْتُكَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ قَوْلِكَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn As-Sa'idi Al-Maliki said:"Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, appointed me in charge of the Sadaqah. When I finished collecting it and handed it over to him, he ordered that I be given some payment. I said to him: 'I only did for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and my reward will be with Allah, the Mighty and Sublime.' He said: 'Take what I have given you: I did the same take during the time of the Messenger of Allah, and I said what you have said, but the Messenger of Allah said to me: "If you are given something without asking for it, then keep (some) and give (some) in charity
عبداللہ بن ساعدی مالکی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اس سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا، تو انہوں نے اس کام کی مجھے اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے یہ کام صرف اللہ عزوجل کے لیے کیا ہے، اور میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے، تو انہوں نے کہا: ـ میں تمہیں جو دیتا ہوں وہ لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کام کیا تھا، اور میں نے بھی آپ سے ویسے ہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو ( اسے ) کھاؤ، اور ( اس میں سے ) صدقہ کرو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَمًا ثُمَّ لاَ يُحْرِمُ ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"I sued to twist the garlands of the sacrificial sheep of the Messenger of Allah. Then he did not enter a state of Ihram
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا، بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، لاَ يَرَى بِالْمُتْعَةِ بَأْسًا فَقَالَ إِنَّكَ تَائِهٌ إِنَّهُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهَا وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ ‏.‏
It was narrated from Al-Hasan and 'Abdullah, the sons of Muhammad, from their father, that 'Ali heard that a man did not see anything wrong with Mut'ah (temporary marriage). He said:"You are confused, the Messenger of Allah forbade it, and the meat of domestic donkeys on the day of Khaibar
علی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کو اطلاع ملی کہ ایک شخص ۱؎ ہے جو متعہ میں کچھ حرج اور قباحت نہیں سمجھتا۔ علی رضی اللہ عنہ نے ( اس سے ) کہا تم گمراہ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَأَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالُوا إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ عُمَرُ رضى الله عنه لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى فَإِذَا طَهُرَتْ فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا فَإِنَّهُ الطَّلاَقُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ تَعَالَى ‏{‏ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ‏}‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife when she was menstruating. 'Umar, may Allah be pleased with him, mentioned that to the Prophet and he said:"Tell him to take her back until she menstruates again, then when she becomes pure, if he wants he may divorce her and if he wants he may keep her. This is the divorce that Allah has enjoined. Allah, the Mighty and Sublime, says: 'The divorce is twice, after that, either you retain her on reasonable terms or release her with kindness
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں حکم دو کہ اسے لوٹا لے پھر جب دوسرا حیض آ کر پاک ہو جائے تو چاہے تو اسے طلاق دیدے اور چاہے تو اسے روکے رکھے، یہی وہ طلاق ہے جو اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فطلقوهن لعدتهن» ”انہیں طلاق دو ان کی عدت ( کے دنوں کے آغاز ) میں“ ( الطلاق: ۱ ) “۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَجِدُوا إِلاَّ سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ قَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَوْفَيْتَنِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man had lent a camel of a certain age to the Prophet and he came to get it back. He said: "Give it to him" But they could only find a camel that was older than it. He said: "Give it to him." He said: "You have repaid me well," The Messenger of Allah said; "The best of you is the one who is best in repaying
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْخُوَارَزْمِيُّ، بِبَغْدَادَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ وَلاَ تَنْقُشُوا عَلَى خَوَاتِيمِكُمْ عَرَبِيًّا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Do not be so close to the Mushrikin that you can benefit from the light of their fires, and do not engrave Arabic (words) on your rings
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلاَنٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلاَءِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه الْحَدَّ تَامًّا ‏.‏
It was narrated from As-Sa'ib that :'Umar bin Al-Khattab went out t them and said: "I noticed the smell of drink on so-and-so, and he said that he had drunk At-Tila' (thickened juice of grapes). I am asking about what he drank. If it was an intoxicant I will flog him." So 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, flogged him, carrying out the Hadd punishment in full