أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ - ثُمَّ قَالَ - أَلاَ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Prophet (ﷺ) drew back the curtain when the people were in rows behind Abu Bakr, may Allah be pleased with him, and said: 'O people, there is nothing left of the features of Prophethood except a good dream that a Muslim sees or is seen by others for him.' Then he said: 'Verily, I have been forbidden from reciting the Qur'an when bowing or prostrating. As for bowing, glorify the Lord therein, and as for prostration, strive hard in supplication for it is more deserving of a response
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے ، پھر فرمایا: سنو! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ، يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلاً عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلاَتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ انْصَرَفَ عَنْهُ " .
It was narrated that Az-Zuhri said:"I heard Abu Al-Ahwas saying to us in a gathering with Ibn Al-Musayyab when Ibn Al-Musayyab was sitting there, that he had heard Abu Dharr say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah (SWT) continues to look upon His slave while he is praying, so long as he does not turn away. If he turns his face away, He turns away from him
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برابر اللہ بندے پر اس کی نماز میں متوجہ رہتا ہے اس وقت تک جب تک کہ وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، اور جب وہ رخ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے پھر جاتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ كِتَابًا وَلَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَةَ إِلاَّ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
It was narrated that Samurah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever performs wudu' on Friday, that is all well and good, but whoever performs Ghusl, the Ghusl is better
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور یہ خوب ہے ۱؎ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو ان کی کتاب سے روایت کیا ہے، کیونکہ حسن نے سمرہ سے سوائے عقیقہ والی حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں سنی ہے ۲؎ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Yazid said:"Uthman prayer four (rak'ahs) in Mina until news of that reached 'Abdullah who said: 'I prayed two rak'ahs with the Messenger of Allah (ﷺ)
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت پڑھی یہاں تک کہ اس کی خبر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ہی رکعت پڑھی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا فَقَالَتْ أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَيُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَائِذًا بِاللَّهِ . قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ ضَحْوَةً فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ إِلاَّ أَنَّ رُكُوعَهُ وَقِيَامَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الأُولَى ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ " إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ كُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
It was narrated from Yahya bin Sa'eed that :'Amrah told him that Aishah told her that a Jewish woman came to her and said: "May Allah protect you from the torment of the grave." Aishah said: "O Messenger of Allah, will people be tormented in the graves?" The Messenger of Allah (ﷺ) sought refuge with Allah. 'Aishah said: "The Prophet (ﷺ) went out, and the sun became eclipsed. We went out to another room and the women gathered with us. The Messenger of Allah (ﷺ) came to us and that was at the time of forenoon. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he raises his head and stood for a shorter time than the first one; then he bowed for a shorter time than the first one. Then he prostrated, then he stood up for the second (rak'ah) and did the same again, except that his bowing an prostrating were shorter than in the first rak'ah. Then he prostrated, and the eclipse had ended. When he had finished, he sat on the minbar and one of the things he said was: 'The people will be tried in their graves like the trial of the Dajjal.' Aishah siad: 'After that, we used to hear him seeking refuge with Allah (SWT) from the torment of the grave
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا، تو ہم حجرہ میں چلے گئے، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر آپ نے رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، تو جب آپ فارغ ہوئے، تو منبر پر بیٹھے، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں، اس میں ایک بات یہ بھی تھی: کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ .
It was narrated from Abdullah bin Zaid that:The Prophet (ﷺ) went out to pray for rain, and he prayed two rak'ahs facing the Qiblah. (Sahih)
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قبلہ کی طرف منہ کیا۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى بِهِمْ صَلاَةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ صَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلاَءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا مَقَامَ هَؤُلاَءِ وَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:The Messenger of Allah (ﷺ) led them in offering the fear prayer. One row stood in front of him and another row stood behind him. He led those who were behind in prayer, bowing once and prostrating twice, then they moved forward until they took the place of their companions, and the others came and took their place, and the Messenger of Allah (ﷺ) led them in prayer, bowing once and prostrating twice, then he said the taslim, so the Prophet (ﷺ) had prayed two rak'ahs and they had prayed one
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے آگے کھڑی ہوئی، اور ایک صف آپ کے پیچھے، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر یہ لوگ آگے چلے گئے یہاں تک کہ جا کر اپنے ساتھیوں کی جگہ میں کھڑے ہو گئے، اور وہ لوگ آ کر ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ( بھی ) ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی ایک ایک۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ .
It was narrated that Abu Rimthah said:"I saw the Prophet (ﷺ) delivering the Khutbah, wearing two green Burds
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے اور آپ پر ہرے رنگ کی دو چادریں تھیں۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ قِيَامُ اللَّيْلِ وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ الْمُحَرَّمُ " . أَرْسَلَهُ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ .
It was narrated from Abu Bishr Ja'far bin Abi Wahshiyyah that:He heard Humaid bin 'Abdur-Rahman say: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best prayer after the obligatory (fard) prayers is prayer at night and the best fasting after the month of Ramadan is Al-Muharram.'" Shu'bah bin Al-Hajjaj narrated it in Mursal form
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ( تہجد ) ہے، اور رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے روزے ہیں ۔ شعبہ بن حجاج نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ قَالَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ - وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ - فَقَالَ " ائْتِنِي بِوَضُوءٍ " . فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ . قَالَ الشَّيْخُ إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَارِئُ .
It was narrated from Al-Mughirah bin Shu'bah that when the Prophet (ﷺ) would go away (to relieve himself) he would go far away. He went to relieve himself when he was on one of his journeys, and said:"Bring me (water for) Wudu'." So I brought him (water for) Wudu', and he performed Wudu' and wiped over his Khuffs. The Shaikh [1] said: "Isma'il (one of the narrators) is Ibn Ja'far bin Abi Kathir Al-Qari. [1] Meaning the author, and it appears that Ibn As-Sunni who heard the text, said this
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو دور جاتے، مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ایک سفر میں قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( تو واپس آ کر ) آپ نے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ ، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا، تو آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ امام نسائی کہتے ہیں اسمائیل سے مراد: ابن جعفر بن ابی کثیر القاری ہیں۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي زُبَيْدٍ، - وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . قَالَ شُرَيْحٌ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا . قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . وَلَكِنْ لَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَتْ قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ إِذَا طَمَحَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ .
It was narrated that Abu Hurairah said; "The Messenger of Allah said:Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him." (One of the narrators) Shuraih said: 'I went to Aishan and said: O mother of the believers! I heard Abu Hurairah narrate from the Messenger of Allah a Hadith which, if that is the case, we are all doomed. She said: 'What is that?' He said: 'The Messenger of Allah said: Whoever loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him. But there is no one among us who does not hate death.' She said: 'The Messenger of Allah did say that, but it is not what you think. When the eyes begin to stare, the death rattle sounds in the chest and the flesh shiver, at that point, whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۔ شریح کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے کہا: ام المؤمنین! میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ذکر کرتے سنا ہے، اگر ایسا ہے تو ہم ہلاک ہو گئے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا لیکن ہم میں سے کوئی ( بھی ) ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو۔ تو انہوں نے کہا: بیشک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نگاہ پتھرا جائے، سینہ میں دم گھٹنے لگے، اور رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اس وقت جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'There has come to you Ramadan, a blessed month, which Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined you to fast. In it the gates of heavens are opened and the gates of Hell are closed, and every devil is chained up. In it Allah has a night which is better than a thousand months; whoever is deprived of its goodness is indeed deprived
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا مبارک مہینہ تمہارے پاس آ چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کر دیئے ہیں، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور سرکش شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کے خیر سے محروم رہا تو وہ بس محروم ہی رہا“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدٍ - قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَالأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ قَالَ مُعَاذٌ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ثَنِيَّةً وَمِنْ كُلِّ ثَلاَثِينَ تَبِيعًا وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ .
Muadh said:"The Messenger of Allah sent me to Yemen, and he commanded me to take from every forty cows, a cow in its third year, and from every thirty, a Tabi '(two-year-old), and from every person who had reached the age of puberty a Dinar or is equivalent in Maafir." (Daif)
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا، تو مجھے حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں دو برس کی ایک گائے، اور ہر تیس میں ایک سال کا ایک بچھوا لوں۔ اور ہر بالغ سے ( بطور جزیہ ) ایک دینار لوں، یا ایک دینار کے مساوی قیمت کی یمنی چادر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ جَمْعٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّحْلِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ " .
It was narrated from Ibn 'abbas that:a woman from Khath'am asked the Prophet on the morning of the Day of Sacrifice: "O Messenger of Allah! The command of Allah to His slaves to perform Hajj has come, while my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle. Can I perform Hajj on his behalf?" He said: "Yes
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے مزدلفہ ( یعنی دسویں ذی الحجہ ) کی صبح کی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! حج کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو فریضہ عائد کیا ہے اس نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( کر لو ) “۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ " . فَكَتَبَ { لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ } وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَهُ فَقَالَ هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ { غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ } .
It was narrated from Al-Bara' that the Prophet (ﷺ) said:"bring me a shoulder blade of a camel, or a tablet, and write: Not equal are those of the believers who sit (at home)." [1] 'Amr bin Umm Maktum was behind him and he said: "Is there a concession for me?" Then the following was revealed: "Except those who are disabled (by injury or are blind or lame)." [2] [1] An-Nisa' 4:95. [2] An-Nisa' 4:
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا: کیا فرمایا؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن ) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے: شانے کی ہڈی، تختی ( کچھ ) لاؤ۔ ( جب وہ آ گئی تو اس پر لکھا یا ) چنانچہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ) لکھا: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے۔ ( وہ اندھے تھے۔ اسی مناسبت سے ) انہوں نے کہا: کیا میرے لیے رخصت ہے؟ ( میں معذور ہوں، جہاد نہیں کر پاؤں گا ) تب یہ آیت «غير أولي الضرر» ”ضرر، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور، معذور کو چھوڑ کر“۔
Narrated by Sa'd bin Abi Waqqas
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عُثْمَانَ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاَخْتَصَيْنَا .
Narrated Sa'd bin Abi Waqqas:It was narrated that Sa'd bin Abi Waqqas said: "The Messenger of Allah forbade 'Uthman to be celibate. If he had given him permission we would have castrated ourselves
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا، اور اگر آپ انہیں اس کی اجازت دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، - وَهُوَ الأَوْزَاعِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيَّ، طَلَّقَهَا ثَلاَثًا فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَ فَاطِمَةَ ثَلاَثًا فَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ فَقَالَ " لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ وَلاَ سُكْنَى " .
Fatimah bint Qais narrated that Abu 'Amr bin Hafs Al-Makhzumi divorced her thrice. Khalid bin Al-Walid went with a group of (the tribe of) Makhzum to the Messenger of Allah and said:"O Messenger of Allah! Abu 'Amr bin Hafs has divorced Fatimah thrice, is she entitled to provision?" He said: "She is not entitled to provision nor shelter
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دیں، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ابوعمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو کیا اسے ( عدت کے دوران ) نفقہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ سکنی“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُهُ وَأَنَا حَائِضٌ وَكُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الإِنَاءِ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ .
It was narrated that 'Aishah, may Allah be pleased with her, said:"While I was menstruating, I would nibble meat from a bone and the Messenger of Allah (ﷺ) would put his mouth where mine has been. And while I was menstruating, I would drink from a vessel and he would put his mouth where mine had been
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے دانتوں سے ہڈی سے گوشت نوچتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی تھی، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ " .
It was narrated from 'Urwah bin Abi Al-Ja'd that the Prophet said:"Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war
عروہ بن ابی الجعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر باندھ دیا گیا ہے ( اور خیر سے مراد کیا ہے؟ ) ثواب اور مال غنیمت“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ فِي دَارِهِ اجْتَمَعَ النَّاسُ حَوْلَ دَارِهِ - قَالَ - فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
It was narrated that 'Abdur-Rahman Al-Sulami said:"When 'Uthman was besieged in his house, the people gathered around his house and he looked out over them" and he quoted the same Hadith
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ کا ان کے گھر میں محاصرہ کر دیا گیا اور لوگ ان کے گھر کے چاروں طرف اکٹھا ہو گئے تو انہوں نے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھا، اور عبدالرحمٰن نے ( اوپر گزری ہوئی ) پوری حدیث بیان کی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، - وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَالشَّطْرَ قَالَ " لاَ ". قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ " الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ فِي أَيْدِيهِمْ ".
It was narrated that Sa'd said:"The Prophet came to visit me when I was in Makkah. I said: 'O Messenger of Allah, shall I bequeath all my money?' He said: 'No.' I said: 'One-half?' He said: 'No.' I said: 'One-third?' He said: '(Bequeath) one-third, and one-third is a lot. If you leave your heirs independent of means, that is better than if you leave them poor and holding out their hands to people
سعد بن ابی وقاس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے اور میں ان دنوں مکے میں تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک تہائی دے دو، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں تنگدست چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور لوگوں سے جو ان کے ہاتھ میں ہے مانگتے پھریں“۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلاَةِ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي " .
It was narrated that 'Aishah said:"Fatimah bint Abi Hubaish said to the Messenger of Allah (ﷺ): 'O Messenger of Allah (ﷺ), I do not become pure. Should I stop praying?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'That is a vein and is not menstruation. When your period comes, stop praying, and when it has passed, then wash the blood from yourself and pray
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ يَهَبُ هِبَةً ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ " . قَالَ طَاوُسٌ كُنْتُ أَسْمَعُ الصِّبْيَانَ يَقُولُونَ يَا عَائِدًا فِي قَيْئِهِ وَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَرَبَ ذَلِكَ مَثَلاً حَتَّى بَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ " مَثَلُ الَّذِي يَهَبُ الْهِبَةَ ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا " . وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا " كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ قَيْئَهُ " .
It was narrated from Ibn Juraij, from Al-Hasan bin Muslim, from Tawus that the Messenger of Allah said:"It is not permissible for anyone to give a gift then take it back, except a father." Tawus said: "I used to hear the boys say: 'O you who goes back to his vomit!' But I did not realize that the Messenger of Allah had said this as a parable, until we heard that he used to say: 'The likeness of the one who gives a gift then takes it back, is that of the dog which eats its vomit
تابعی طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے پھر اسے واپس لے لے سوائے باپ کے“۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں بچوں کو کہتے ہوئے سنتا تھا «يا عائدا في قيئه» ! اے اپنی قے کے چاٹنے والے، اور نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال دی ہے یہاں تک کہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اس شخص کی مثال جو ہبہ دے کر واپس لے لیتا ہے“، اور راوی نے کچھ ایسی بات ذکر کی جس کے معنی یہ تھے کہ اس کی مثال کتے کی ہے جو اپنے قے کو کھا لیتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
Ibn Juraij said:"Abu Az-Zubair informed me that he heard Jabir saying: 'The Messenger of Allah said: "Whoever is given something on the basis of 'Umra it belongs to him for the rest of his life and after he dies
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی کو کوئی چیز عمریٰ میں دی گئی تو وہ اسی کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ لِي أَصْحَابِي بِئْسَ مَا قُلْتَ قُلْتَ هُجْرًا . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ وَانْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلاَثًا وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ لاَ تَعُدْ " .
Mus'ab bin Sa'd narrated that his father said:"I swore by Al-Lat and Al-'Uzza and my companions said to me: 'What a bad thing you have said! You have said something horrible.' So I went to the Messenger of Allah and told him about that. He said: 'Say: La ilaha illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir (There is none worthy of worship except Allah with no partner or associate; His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things). Spit to your left three times, seek refuge with Allah from the Shaitan, and do not say that again
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تین بار بائیں طرف تھوک لو اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور پھر کبھی ایسا نہ کرنا ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ " غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا " . فَأَكَلُوا فَأَمْسَكَ حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا .
Anas said:"The Prophet was with one of the Mothers of the Believers when another one sent a wooden bowl in which was some food. She struck the hand of the Prophet and the bowl fell and broke. The Prophet picked up the two pieces and put them together, then he started to gather up the food and said: 'Your mother got jealous; eat.' So they ate. He waited until she brought the wooden bowl that was in her house, then he gave the sound bowl to the messenger and left the broken bowl in the house of the one who had broken it
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک پیالہ کھانا بھیجا، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم لوگ کھانا کھاؤ۔ لوگوں نے کھایا، پھر قاصد کو آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ جن کے گھر میں آپ تھے اپنا پیالہ لائیں تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا ۱؎ اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَوْسًا، يَقُولُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَكُنْتُ مَعَهُ فِي قُبَّةٍ فَنَامَ مَنْ كَانَ فِي الْقُبَّةِ غَيْرِي وَغَيْرُهُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَقَالَ " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " . فَقَالَ " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ يَشْهَدُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ذَرْهُ " . ثُمَّ قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا " . قَالَ مُحَمَّدٌ فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ أَظُنُّهَا مَعَهَا وَلاَ أَدْرِي .
It was narrated that An-Nu'man bin Salim said:"I heard Aws say: 'I came to the Messenger of Allah [SAW] among the delegation of Thaqif and I was with him in a tent. Everyone in the tent had gone to sleep except him and I. A man came and whispered to him, and he said: Go and kill him. Then he said: Does he not bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah? He said: He does bear witness to that. The Messenger of Allah [SAW] said: Leave him alone. Then he said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah. If they say it, then their blood and their wealth become forbidden to me, except for a right that is due. (One of the narrators) Muhammad said: I said to Shu'bah: 'Doesn't the Hadith contain: Does he not testify to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that I am the Messenger of Allah?' He said: 'I think it is both, but I do not know
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ .
Abdur-Rahman bin Al-Qasim said:"I heard Al-Qasim narrating that 'Aishah said: 'I used to perform Ghusl - the Messenger of Allah (ﷺ) and I - from a single vessel for Janabah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ " أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَهِجْرَةُ الْبَادِي فَأَمَّا الْبَادِي فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"A man said: 'O Messenger of Allah! Which emigration (Hijrah) is best?' He said: 'To leave what your Lord, the Mighty and Sublime, dislikes.' He said: 'There are two kinds of emigration, the emigration of the town dweller and the emigration of the Bedouin. As for the Bedouin, when he is called (to fight in Jihad) he must respond, and he must obey when he is commanded, and as for the town dweller, he is the one who is more severely tested and more greatly rewarded
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيِّتَةٍ فَقَالَ " أَلاَّ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمْ فَانْتَفَعْتُمْ " .
Ibn 'Abbas said:"The Prophet passed by a sheep belonging to Maimunah that had died and said: 'Why don't you take its skin and tan it and make use of it'?
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ .
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Messenger of Allah commanded that all dogs be killed except dogs used for hunting or herding livestock
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جُرَىِّ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ نَعَمْ إِلاَّ عَضَبَ النِّصْفِ وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ .
Ali said:"Messenger of Allah forbade us from sacrificing an animal with a broken horn." I (the narrator) mentioned that to Sa'eed bin Al_Musayyab and he said: "Yes, m unless half or more of the horn is missing
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ " .
It was narrated from Malik, from Nafi from'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah said:"The two parties to a transaction both have the choice so long as they both chosen to conclude the transaction." (Sahih)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ إِلاَّ تَرْكُ الصَّلاَةِ " .
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is nothing between a person and disbelief except abandoning Salah
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر کے درمیان سوائے نماز چھوڑ دینے کے کوئی اور حد فاصل نہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُفِعَ الْقَاتِلُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ الْقَاتِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ " . فَخَلَّى سَبِيلَهُ . قَالَ وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man was killed during the time of the Messenger of Allah, and the Killer was brought to the Prophet. He handed him over to the heir of the victim, but the killer said: 'O Messenger of Allah, by Allah I did not means to kill him.' The Messenger of Allah said to the next of kin: 'If he is telling the truth and you kill him, you will go to the Fire.' So he let him go. He had been tied with a string and he went out dragging his string, so he became known as Dhul-Nis'ah (the one with the string)
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَعَافَوُا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ " .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib from his father, from' Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah said:"Pardon matters among yourselves that may deserve a Hadd punishment, for whatever is brought to my attention, the Hadd punishment b becomes binding." (Daif)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، - يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ - عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لَهُ أَلاَ تَغْزُو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَصِيَامِ رَمَضَانَ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that:A man said to him: "Why don't you go out and fight?" He said: "I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'Islam is built on five (pillars): Testimony that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, giving Zakah, Hajj, and fasting Ramadan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلاَّ غِبًّا .
It was narrated from Al-Hasan that:The Prophet [SAW] forbade coming one's hair except every other day
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْمَدَنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ صَلَّيْنَا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَنَا أَصَلَّيْتُمْ قُلْنَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ . قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ . فَقَالُوا لَهُ عَجَّلْتَ . فَقَالَ إِنَّمَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ .
It was narrated that Abu Salamah said:"We prayed at the time of 'Umar bin 'Abdul-'Aziz, then we went to Anas bin Malik and found him praying. when he finished he said to us: 'Have you prayed?' We said: 'We prayed Zuhr.' He said: 'I prayed 'Asr.' They said: 'You have prayed early.' He said: 'Rather I prayed as I saw my companions pray
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں نماز پڑھی، پھر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں ( بھی ) نماز پڑھتے ہوئے پایا، جب وہ نماز پڑھ کر پلٹے تو انہوں نے ہم سے پوچھا: تم نماز پڑھ چکے ہو؟ ہم نے کہا: ( ہاں ) ہم نے ظہر پڑھ لی ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو عصر پڑھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے جلدی پڑھ لی، انہوں نے کہا: میں اسی طرح پڑھتا ہوں جیسے میں نے اپنے اصحاب کو پڑھتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُهُ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لاَ يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَإِنْ حَمَلْتُهُ لَمْ يَسْتَمْسِكْ أَفَأَحُجَّ عَنْهُ قَالَ " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سُلَيْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ.
It was narrated from Sulaiman bin Yasar, who narrated from Al-Fadl bin 'Abbas, who said:"A man came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, my father is an old man and cannot perform Hajj. If I put him on a mount he cannot sit firm. Can I perform Hajj on his behalf?' He said: 'Perform Hajj on behalf of your father
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بِلاَلُ بْنُ يَحْيَى، أَنَّ شُتَيْرَ بْنَ شَكَلٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ " قُلْ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي وَشَرِّ بَصَرِي وَشَرِّ لِسَانِي وَشَرِّ قَلْبِي وَشَرِّ مَنِيِّي " . قَالَ حَتَّى حَفِظْتُهَا قَالَ سَعْدٌ وَالْمَنِيُّ مَاؤُهُ .
It was narrated that Shakal bin Humaid said:"I came to the Prophet [SAW] and said: 'O Prophet of Allah, teach me words by means of which I may seek refuge with Allah.' He took me by the hand and said: 'Say: A'udhu bika min sharri sam'i, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge with You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا.
It was narrated from Jabir that:The Messenger of Allah [SAW] forbade soaking raisins and dried dates together, and he forbade soaking Al-Busr and dried dates together
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ سَائِلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ وَقْتِ الصُّبْحِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلاَلاً فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ الْفَجْرَ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ " هَذَا وَقْتُ الصَّلاَةِ " .
It was narrated from Anas that someone asked the Messenger of Allah (S.A.W) about the time of Subh. The Messenger of Allah (S.A.W) commanded Bilal to call the Adhan when dawn broke. Then the next day he delayed Fajr until it was very light, then he told him to call the Adhan and he prayed. Then he said:"This is the time for the prayer
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فجر کی اذان کا وقت پوچھا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہونے کے بعد اذان دی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو انہوں نے فجر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ خوب اجالا ہو گیا، پھر آپ نے انہیں ( اقامت کا ) حکم دیا، تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ نے نماز پڑھائی پھر فرمایا: یہ ہے فجر کا وقت ۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا تِيكَ الصُّوَرَ أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated from 'Aishah that Umm Habibah and Umm Salamah mentioned a church that they had seen in Ethiopia, in which there were images. The Messenger of Allah (ﷺ) said:"Those people, if there was a righteous man among them, when he died they built a place of worship over his grave and made those images. They will be the most evil of creation before Allah on the Day of Resurrection
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم دونوں نے ایک کنیسہ ( گرجا گھر ) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے ۔
Narrated by Kathir bin Kathir
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِحِذَائِهِ فِي حَاشِيَةِ الْمَقَامِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطُّوَّافِ أَحَدٌ .
Narrated Kathir bin Kathir:It was narrated from Kathir bin Kathir, from his father, that his grandfather said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) circumambulate the House seven times, then he prayed two Rak'ahs at the edge of the Maqam, and there was nothing between him and the people who were performing Tawaf
مطلب بن ابی وداعۃ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے خانہ کعبہ کا سات چکر لگایا، پھر مقام ابراہیم کے حاشیہ میں اپنے جوتوں کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی ( سترہ ) نہ تھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ قَالَ لِبِلاَلٍ " يَا بِلاَلُ إِذَا حَضَرَ الْعَصْرُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَلَمَّا حَضَرَتْ أَذَّنَ بِلاَلٌ ثُمَّ أَقَامَ فَقَالَ لأَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه تَقَدَّمْ . فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فِي الصَّلاَةِ ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَشُقُّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ لَمْ يَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَى أَبُو بَكْرٍ التَّصْفِيحَ لاَ يُمْسَكُ عَنْهُ الْتَفَتَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ امْضِهْ ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبَيْهِ فَتَأَخَّرَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لاَ تَكُونَ مَضَيْتَ " . فَقَالَ لَمْ يَكُنْ لاِبْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ لِلنَّاسِ " إِذَا نَابَكُمْ شَىْءٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّحِ النِّسَاءُ " .
Sahl bin Sa'd said:"There was some fighting among Banu 'Amr bin 'Awf, and news of that reached the Prophet (ﷺ). He prayed Zuhr, then he went to them to reconcile between them. Then he said to Bilal: 'O Bilal, if the time for Asr comes and I have not come back, then tell Abu Bakr to lead the people in prayer.' When the time (for Asr) came, Bilal called the Adhan, then the Iqamah, then he said to Abu Bakr: 'Go forward. So Abu Bakr went forward and started to pray. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and started passing through the rows of people until he stood behind Abu Bakr, and the people clapped. Abu Bakr was such that whenever he started praying, he would never glance sideways, but when he noticed that the clapping persisted he turned around. The Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him to carry on praying. Abu Bakr praised Allah the Mighty and Sublime for the Messenger of Allah (ﷺ) having told him to continue. Then Abu Bakr moved backward on his heels, and when the Messenger of Allah (ﷺ) saw that, he came forward and led the people in prayer. When he completed the prayer he said: 'O Abu Bakr, when I gestured to you, what kept you from continuing (to lead the people)?' He said: 'It does not befit the son of Abu Quhafah to lead the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer.' And he (the Prophet) said to the people: 'If you notice something (during the prayer), men should say Subhan Allah and women should clap
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں آپس میں لڑائی ہوئی، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر ان کے پاس آئے تاکہ ان میں صلح کرا دیں، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال! جب عصر کا وقت آ جائے اور میں نہ آ سکوں تو ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، چنانچہ جب عصر کا وقت آیا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آگے بڑھیے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اور نماز پڑھانے لگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور لوگوں کو چیرتے ہوئے آگے آئے ۱؎ یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ جب وہ نماز شروع کر دیتے تو کسی اور طرف متوجہ نہیں ہوتے، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ برابر تالی بج رہی ہے تو وہ متوجہ ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم نماز جاری رکھو ، تو اس بات پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، پھر وہ اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چل کر پیچھے آ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ نے آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر جب اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے فرمایا: ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا تو تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ تو انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جب تمہیں نماز کے اندر کوئی بات پیش آ جائے، تو مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورتیں تالی بجائیں ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، رَأَى رَجُلاً يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ خَالَفَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَفْضَلَ .
It was narrated from Abu Ubaidah that:Abdullah saw a man who was praying with his feet together. He said: "He is going against the Sunnah; if he shifted his weight from one to the other that would be better
ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملا کر نماز پڑھ رہا ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سنت کی مخالفت کی ہے، اگر یہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو بہتر ہوتا ۱؎۔