أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا، حَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ الَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى إِنَّا لَنَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِهِ قَالَ " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَاىَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ . قَالَ وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلاَتِهِ .
It was narrated from 'Ata bin Abi Marwan, from his father, that:Ka'b swore to him: "By Allah (SWT) Who parted the sea for Musa, we find in the Tawrah that when Dawud, the Prophet of Allah, finished his prayer, he would say: 'Allahumma Aslih li dinya-lladhi ja'altahu li ismatan wa aslih li dunyaya-llati ja'alta fiha ma'ashi, Allahumma inni a-udhu biridaka min sakhatik wa a-udhu bi'afwika min naqmatika wa a-udhu bika mink, la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd (O Allah, set straight my religious commitment that You have made a protection for me, and set straight my worldly affairs which You have made a means of my livelihood. O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and I seek refuge in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. None can withhold what you have given and none can give what you have withheld, and no wealth or fortune can avail the man of wealth and fortune before You.)'" He said: "And Ka'b told me that Suhaib told him that Muhammad (ﷺ) used to say (these words) when he had finished praying
ابومروان روایت کرتے ہیں کہ کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی: «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے، اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کو جو تو دیدے، اور نہ ہی ہے کوئی دینے والا اسے جسے تو روک لے، اور نہ مالدار کو اس کی مالداری بچا پائے گی۔ ابومروان کہتے ہیں: اور کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر کہا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي مُعْتَرِضَةً بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَىَّ ثُمَّ يَسْجُدُ .
It was narrated that 'Aishah said:"I remember lying in front of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) was praying. When he wanted to prostrate he would nudge my foot and I would draw it up (out of the way) until he had finished prostrating
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم لوگوں نے دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی اور آپ نماز پڑھتے ہوتے، جب آپ سجدہ کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکے لگاتے، تو میں اسے سمیٹ لیتی، پھر آپ سجدہ کرتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
It was narrated from Hafsah that:The Prophet (ﷺ) used to pray the two rak'ahs of Fajr, two brief rak'ahs
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الآخَرُ بَعْدَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا قُلْتُمْ " . قَالُوا دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَأَيْنَ صَلاَتُهُ بَعْدَ صَلاَتِهِ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ فَلَمَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " . قَالَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَعْجَبَنِي لأَنَّهُ أَسْنَدَ لِي .
It was narrated from 'Amr bin Maimun from "Abdullah bin Rubayy'ah As-Sulami, who was also one of the Companions of Allah's Messenger from 'Ubaid bin Khalid As-Sulami, that:the Messenger of Allah established the bond of brotherhood between two men. One of them was killed and the other died after him. We offered the funeral prayer for him, and the Prophet said: "What did you say?" They said: "O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him; O Allah, join him with his companion." The Prophet said: "Where is his Salah in comparison to his companion's Salah? Where are his deeds in comparison to his companion's deeds? Indeed the difference between heaven and Earth." (One of narrators) 'Amr bin Maimun Said: "I was happy with that because he raised it for me
عبید بن خالد سلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک قتل کر دیا گیا، اور دوسرا ( بھی ) اس کے بعد مر گیا، ہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم لوگوں نے کیا دعا کی؟“، تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اس کے لیے یہ دعا کی: «اللہم اغفر له اللہم ارحمه اللہم ألحقه بصاحبه» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما، اے اللہ! اسے اپنے ساتھی سے ملا دے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی صلاۃ اس کی صلاۃ کے بعد کہاں جائے گی؟ اور اس کا عمل اس کے عمل کے بعد کہاں جائے گا؟ ان دونوں کے درمیان وہی دوری ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے“۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں: مجھے خوشی ہوئی کیونکہ عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ نے ( اس حدیث کو ) میرے لیے مسند کر دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ فَسَأَلَ فَقَالُوا رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:the Messenger of Allah saw some people gathered around a man, so he asked (what was happening) and they said: "It is a man who is exhausted because of fasting." The Messenger of Allah said: "It is not righteousness to fast when traveling
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ( کیا بات ہے؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں؟ ) تو لوگوں نے کہا: ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کر دیا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ النَّفْسِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
It was narrated that Hakim bin Hizam said:"I asked the Messenger of Allah and he gave me, then I asked him and he gave me, then I asked him and he gave me. Then he said: 'O Kahim! This wealth is attractive and sweet. Whoever takes it without being greedy, it will be blessed for him, and whoever takes it with avarice, it will not be blessed for him. He is like one who eats and is not satisfied. And the upper hand is better than the lower hand
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”حکیم! یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے۔ جو اسے طبیعت کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو نفس کی حرص و لالچ کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہو لیکن آسودہ نہ ہوتا ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُهْدِي الْغَنَمَ .
It was narrated from Aishah:That the Messenger of Allah used to send sheep as a Hadi
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کو بطور ہدی ( مکہ ) بھیجتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، قَالَ قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي رَجُلٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا " .
It was narrated that Salamah bin Al-Muhabbaq said:"The Prophet passed judgment concerning a man who had intercourse with his wife's slave woman: 'If he forced her, then she is free, and he has to give her mistress a similar slave as a replacement; if she obeyed him in that, then she belongs to him, and he has to give her mistress a similar slave as a replacement
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا ( اس طرح ) فرمایا: اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی اور اگر ( مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس ( مرد ) کی ہو جائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ { مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا } وَقَالَ { وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ } الآيَةَ وَقَالَ { يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ } فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ وَقَالَ { وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ } إِلَى قَوْلِهِ { إِنْ أَرَادُوا إِصْلاَحًا } وَذَلِكَ بِأَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا فَنَسَخَ ذَلِكَ وَقَالَ { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ } .
It was narrated from Ibn 'Abbas, regarding Allah's saying:"Whatever a Verse do We abrogate or cause to be forgotten, We bring a better one or similar to it." and "And when We change a Verse in place of another -and Allah knows best what He sends down" (Al-Nahl 16:101) and "Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book." The first thing that was abrogated in the Qur'an was the Qiblah. And He said: "And divorced women shall wait (as regards their marriage) for three menstrual periods, and it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs, if they believe in Allah and the Last Day." "And their husbands have better right to take them back in that period, if they wish for reconciliation." -that is because when a man divorced his wife, he had more right to take her back, even if he had divorced her three times. Then (Allah) abrogated that and said: "The divorce is twice, after that, either you retain her on reasonable terms or release her with kindness
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما قرآن پاک کی آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» یعنی ”ہم جو کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس کی جگہ اس سے بہتر یا اسی جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں“ ( البقرہ: ۱۰۶ ) اور دوسری آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» یعنی ”جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں تو تو گڑھ لاتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سمجھتے ہی نہیں ہیں“ ( النحل: ۱۰۱ ) ، اور تیسری آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) ہے“ ( الرعد: ۳۹ ) ۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: پہلی چیز جو قرآن سے منسوخ ہوئی ہے وہ قبلہ ہے۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق اللہ في أرحامهن» سے لے کر «إن أرادوا إصلاحا» تک یعنی ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض کے آ جانے کا انتظار کریں گی اور ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ ان کی بچہ دانیوں میں اللہ نے جو تخلیق کر دی ہو اسے چھپائیں اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں، البتہ ان کے خاوند اگر اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو وہ انہیں لوٹا لینے کا پورا حق رکھتے ہیں“ ( البقرہ: ۲۲۸ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں ( پہلے معاملہ یوں تھا ) کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو اسے لوٹا لینے کا بھی پورا پورا حق رکھتا تھا خواہ اس نے اسے تین طلاقیں ہی کیوں نہ دی ہوں، ابن عباس کہتے ہیں: یہ چیز منسوخ ہو گئی کلام پاک کی اس آیت «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان» ”یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی کے ساتھ روک لینا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۹ ) سے ( یعنی وہ صرف دو طلاق تک رجوع کر سکتا ہے اس سے زائد طلاق دینے پر رجوع کرنا جائز نہیں ) ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ فَنَهَاهُمْ وَقَالَ " مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " .
It was narrated that Abu Al-Minhal said:"I heard Ibn 'Abbas say: 'When the Prophet came (to al-Madinah), they used to pay in advance for dates, two or three years in advance. He forbade them that and said: 'whoever pays in advance for dates, let him pay for a known amount or a known weight, to be delivered at a known time
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ اتَّخَذَ حَلْقَةً مِنْ فِضَّةٍ فَقَالَ " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُوغَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ وَلاَ تَنْقُشُوا عَلَى نَقْشِهِ " .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah [SAW] came out wearing a silver ring. He said: 'Whoever wants to make a ring like this, let him do so, but do not put the same inscription
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ بِشَرَابٍ فَدَعَا بِهِ فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ فَدَعَا بِهِ فَكَسَرَهُ بِالْمَاءِ فَقَالَ هَكَذَا فَافْعَلُوا .
It was narrated from Yahya bin Sa'eed who heard Sa'eed bin Al-Musayyab say:"Thaqif welcomed 'Umar with a drink. He called for it, but when he brought it close to his mouth, he did not like it. He called for water to weaken it, and said: 'Do like this