بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
13
13 hadith
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلُ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ، وَذَكَرَ، آخَرَ ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا غَيْرُ، وَاحِدٍ، مِنْهُمُ الْمُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَىَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاَةِ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏
It was narrated from Warrad that:Mu'awiyah wrote to Al-Mughirah asking him to write him a hadith that he had heard from the Messenger of Allah (ﷺ). Al-Mughirah wrote to him (Saying): "I heard him say, when he finished the prayer: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things) three times
مغیرہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی حدیث لکھ بھیجو جسے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیر کر پلٹتے وقت «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے تین بار کہتے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ ذَكَرَ مَرْوَانُ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ بِيَدِهِ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَقُلْتُ لاَ وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلاً مِنْ حَرَسِهِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا عَمَّا حَدَّثَتْ مَرْوَانَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ ‏.‏
Urwah bin Az-Zubair said:"When he was the governor of Al-Madinah, Marwan mentioned that a man should perform Wudu' after touching his penis, if he touches it iwth his hand. I did not like that and I said: 'The one who touches it does not have to perform Wudu'.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) mention the things for which Wudu' should be performed, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Wudu' should be performed after touching the penis.' 'Urwah said: 'I continued to argue with Marwan until he called one of his guards and sent him to Busrah to ask her about what Marwan had narrated, and Busrah sent word saying something like that which Marwan had narrated to me from her
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان نے اپنی مدینہ کی امارت کے دوران ذکر کیا کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو کیا جائے گا، جب اس تک آدمی اپنا ہاتھ لے جائے، تو میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: جو عضو تناسل چھوئے اس پر وضو نہیں ہے، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور عضو تناسل چھونے سے ( بھی ) وضو کیا جائے گا ، عروہ کہتے ہیں: میں مروان سے برابر جھگڑتا رہا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ایک دربان کو بلایا اور اسے بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، چنانچہ اس نے مروان سے بیان کی ہوئی حدیث کے بارے میں بسرہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، تو بسرہ نے اسی طرح کی بات کہلا بھیجی جو مروان نے ان کے واسطے سے مجھ سے بیان کی تھی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالأُولَى مِنْ صَلاَةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ بَعْدَ أَنْ يَتَبَيَّنَ الْفَجْرُ ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"When the Muaddhin fell silent after the Adhan for the beginning of Fajr, he would pray two brief rak'ahs, then he would lie down on his right side
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے، اور فجر نمودار ہونے کے بعد فجر کی نماز سے پہلے ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا وَقَالَ كَبَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from Abu Laila:That Zaid bin Arqam offered the funeral prayer and said the Takbir five times, and said that the Messenger of Allah had said the Takbir like this
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو ( اس میں ) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir that the Messenger of Allah said:"Whoever fasts one day in the cause of Allah, the mighty and sublime, Allah will separate him the distance of one hundred years from the fire
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت کی دوری پر کر دے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمَسَائِلَ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ كَدَحَ وَجْهَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلاَّ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ شَيْئًا لاَ يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Samurah bin Jundab said:"The Messenger of Allah said: "Every time a man begs, it will turn into lacerations on his face (on the Day of Resurrection). So whoever wants his face to be lacerated (let him ask), and whoever does not want that (let him not ask): except in the case of a man who asks a Sultan, or he asks when he can find no alternative
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش ( زخم کی ہلکی لکیر ) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر ( مانگ کر ) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ - قَالَ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَوَجَّهَهَا إِلَى الْبَيْتِ وَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حَلاَلاً ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"I twisted the garlands of the Budn of the Messenger of Allah with my own hands, then he garlanded it and marked it, and directed it toward the House and sent it. But he stayed with his family, and nothing became forbidden for him that was allowed
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار میں نے اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ نے اسے ان کے گلوں میں لٹکایا، اور ان کا اشعار کیا، اور بیت اللہ کی طرف ان کا رخ کر کے روانہ فرمایا، اور خود آپ مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that the Prophet said, concerning a man who had intercourse with his wife's slave woman:"If she let him do that, I will flog him with one hundred stripes , and if she did not let him, I will stone him (to death)
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے ( آدمی کو ) سو کوڑے ماروں گا ۱؎، اور اگر اس ( کی بیوی ) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً - قَالَتْ - فَوَضَعَ لِي عَشْرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ خَمْسَةُ شَعِيرٍ وَخَمْسَةُ تَمْرٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ فُلاَنٍ وَكَانَ زَوْجُهَا طَلَّقَهَا طَلاَقًا بَائِنًا ‏.‏
It was narrated that Abu Bakr bin Hafs said:Abu Salamah and I entered upon Fatimah bint Qais, who said: "My husband divorced me and he did not give me any accommodation or maintenance." She said: "He left with me ten measures (Aqfizah) (of food) with a cousin of his: Five of barley and five of dates. I went to the Messenger of Allah and told him about that. He said: 'He has spoken the truth.' And he told me to observe my 'Iddah in the house of so-and-so." And her husband had divorced her irrevocably
ابوبکر بن حفص کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ دونوں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور میرے نفقہ و سکنیٰ کا انتظام نہ کیا، اور اپنے چچیرے بھائی کے یہاں میرے لیے دس قفیز رکھ دیئے: پانچ قفیز جو کے اور پانچ قفیز کھجور کے ۱؎، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو یہ ساری باتیں بتائیں تو آپ نے فرمایا: ”اس نے صحیح کہا ہے اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں فلاں کے گھر میں رہ کر اپنی عدت پوری کروں، ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائن دی تھی“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Bakrah that:The Prophet [SAW] said: "Do not revert to misguidance after I am gone, striking the necks of one another (killing one another)
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ ثُمَّ أَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hakim bin Hizam said:"I asked the Prophet "O Messenger of Allah, a man may come to me and ask me to sell him something that I do not have. Can I sell it to him then go and buy it from the market?' He said: 'Do not sell what you do not have
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَخَتَّمُ بِيَمِينِهِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Ja'far that:The Prophet [SAW] used to wear his ring on his right hand
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ عَطِشَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَوْلَ الْكَعْبَةِ فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ فَقَالَ ‏"‏ عَلَىَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ ‏"‏ ‏.‏ فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقَالَ رَجُلٌ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ لأَنَّ يَحْيَى بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لاَ يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَكَثْرَةِ خَطَئِهِ ‏.‏
It was narrated that Abu Mas'ud said:"The Prophet [SAW] became thirsty around the Ka'bah so he called for a drink. Some Nabidh was brought in a water skin and he smelled it and frowned. He said: 'Bring me a bucket of Zamzam (water).' He poured it over it and drank some. A man said: 'Is it unlawful, O Messenger of Allah?' He said: 'No