أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنْ، عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، كِلاَهُمَا سَمِعَهُ مِنْ، وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبِرْنِي بِشَىْءٍ، سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
Warrad, the scribe of Al-Mughirah bin Shu'bah, said:Muawiyah wrote to Al-Mughirah bin Shu'bah saying: "Tell me of something that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ)." He said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) finished praying, he would say: La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir. Allahumma la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd. (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things. O Allah, one can withhold what You have given and none can give what You have withheld, and no wealth or fortune can benefit anyone for from You comes all wealth and fortune
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتی ۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا نَعَسَ الرَّجُلُ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَلْيَنْصَرِفْ لَعَلَّهُ يَدْعُو عَلَى نَفْسِهِ وَهُوَ لاَ يَدْرِي " .
It was narrated that Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If a man feels drowsy when he is praying, let him stop, lest he supplicate against himself without realizing
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز میں ہو تو وہ جلدی سے نماز ختم کر لے، ایسا نہ ہو کہ وہ ( اونگھ میں ) اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو اور جان ہی نہ سکے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا نُودِيَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ إِلَى الصَّلاَةِ .
It was narrated from Hafsah that:When the call for Subh prayer was given, the Messenger of Allah (ﷺ) would pray two brief rak'ahs before going to the prayer
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب صبح کی نماز کی اذان دی جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے کہ نماز کھڑی ہو ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ وَخَرَجَ بِهِمْ فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
It was narrated from Abu Hurairah:That the Messenger of Allah announced the death of An-Najashi to the people, and he led thme out and arranged them in rows, and said the Takbir four times
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر دی، اور آپ ان کے ساتھ نکلے تو ان کی صف بندی کی، ( اور ) چار تکبیریں کہیں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ حَرَّ جَهَنَّمَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet said:"Whoever fasts a day in the cause of Allah, Allah will separate his face from the heat of Hell (a distance of) seventy autumns
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے اس سے جہنم کی گرمی کو ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلاَ لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'It is not permissible to give charity to a rich man (or one who is independent of means) or to one who is strong and healthy
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
It was narrated from Hafsah, the wife of the Prophet, that she said: "O Messenger of Allah, why is it that the people have exited Ihram for Umrah but you have not exited your Ihram for Umrah? He said: "I have matted my hair and garlanded my Hadi, so I will not exit Ihram until I have offered the sacrifice
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا: بات ہے لوگ عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کی تلبید، اور اپنی ہدی کو قلادۃ پہنا دیا ہے، تو جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہوں گا“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَتَاهُ قَوْمٌ فَقَالُوا إِنَّ رَجُلاً مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَجْمَعْهَا إِلَيْهِ حَتَّى مَاتَ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا سُئِلْتُ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَشَدَّ عَلَىَّ مِنْ هَذِهِ فَأْتُوا غَيْرِي . فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ وَأَنْتَ مِنْ جِلَّةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْبَلَدِ وَلاَ نَجِدُ غَيْرَكَ . قَالَ سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بُرَآءُ أُرَى أَنْ أَجْعَلَ لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . قَالَ وَذَلِكَ بِسَمْعِ أُنَاسٍ مِنْ أَشْجَعَ فَقَامُوا فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ . قَالَ فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ فَرْحَةً يَوْمَئِذٍ إِلاَّ بِإِسْلاَمِهِ .
It was narrated from 'Abdullah that some people came to him and said:"A man among us married a woman, but he did not name a dowry for her, and he did not have intercourse with her before he died." 'Abdullah said: 'Since I left the Messenger of Allah I have never been asked a more difficult question than this. Go to someone else.' They kept coming to him for a month, then at the end of that they said: 'Who shall we ask if we do not ask you? You are one of the most prominent Companions of Muhammad in this land and we cannot find anyone else.' He said: 'I will say what I think, and if it is correct then it is from Allah alone, with no partner, and if it is wrong then it is from me and from the Shaitan, and Allah and His Messenger have nothing to do with it. I think she should be given a dowry like that of her peers and no less, with no injustice, and she may inherit from him, and she has to observe the 'Iddah, four months and ten days.'" He said: "And that was heard by some people from Ashja', who stood up and said: 'We bear witness that you have passed the same judgment as the Messenger of Allah did concerning a woman from among us who was called Birwa' bint Washiq.'" He said: "Abdullah was never seen looking so happy as he did on that day, except with having accepted Islam
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی، نہ اس کا مہر مقرر کیا، نہ اس سے خلوت کی اور مر گیا ( اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ ) ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑا ہے ( یعنی آپ کے انتقال کے بعد ) اس سے زیادہ ٹیڑھا اور مشکل سوال مجھ سے نہیں کیا گیا ہے۔ تو تم لوگ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ ( اور اس سے فتویٰ پوچھ لو ) ، لیکن وہ لوگ اس مسئلہ کے سلسلے میں مہینہ بھر ان کا پیچھا کرتے رہے بالآخر انہوں نے ان سے کہا: اگر آپ سے نہ پوچھیں تو پھر کس سے پوچھیں! آپ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے اور جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، آپ کے سوا ہم کسی اور کو نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا: ( جب ایسی بات ہے ) تو میں اپنی عقل و رائے سے اس بارے میں بتاتا ہوں، اگر میری بات درست ہو تو سمجھو یہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہو تو سمجھو کہ وہ میری اور شیطان کی جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں، میں اس کے لیے مہر مثل کا فتویٰ دیتا ہوں نہ کم اور نہ زیادہ، اسے میراث ملے گی اور وہ چار مہینہ دس دن کی عدت گزارے گی۔ یہ مسئلہ اشجع قبیلہ کے چند لوگوں نے سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ویسا ہی فیصلہ کیا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری قوم کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا تھا۔ ( یہ سن کر ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( اپنا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو جانے کے باعث ) اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے وقت کی خوشی کے سوا اس سے زیادہ خوش کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، - هُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَاعْتَدِّي فِيهِ " . فَحَصَبَهُ الأَسْوَدُ وَقَالَ وَيْلَكَ لِمَ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا . قَالَ عُمَرُ إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِلاَّ لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ { لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلاَ يَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ } .
It was narrated that Fatimah bint Qais said:"My husband divorced me and I wanted to move, so I went to the Messenger of Allah and he said: 'Move to the house of your paternal cousin 'Amr bin Umm Maktum, and observe your 'Iddah there.'" Al-Aswad hit him (Ash-Sha'bi) with a pebble and said: "Woe be to you! Why do you issue such a Fatwa? 'Umar said: 'If you bring two witnesses who will testify that they heard that from the Messenger of Allah (we will believe you), otherwise, we will not leave the Book of Allah for the word of a woman.' 'And turn them not out of their (husband's) homes nor shall they (themselves) leave, except in case they are guilty of some open Fahishah
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو میں نے ( شوہر کے گھر سے ) منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اجازت طلب کرنے کی غرض سے ) آئی، آپ نے ( اجازت عطا فرمائی ) فرمایا: ”اپنے چچا زاد بھائی عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت کے دن گزارو“۔ ( یہ سن کر ) اسود نے ان کی طرف ( انہیں متوجہ کرنے کے لیے ) کنکری پھینکی اور کہا: تمہارے لیے خرابی ہے ایسا فتویٰ کیوں دیتی ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم دو ایسے گواہ پیش کر دو جو اس بات کی گواہی دیں کہ جو تم کہہ رہی ہو اسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو ہم تمہاری بات قبول کر لیں گے۔ اور اگر دو گواہ نہیں پیش کر سکتیں تو ہم کسی عورت کے کہنے سے کلام پاک کی آیت: «لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» ”نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں“۔ ( الطلاق: ۱ ) پر عمل کرنا ترک نہیں کر سکتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ أُلْفِيَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ لاَ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ وَلاَ بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ " . هَذَا الصَّوَابُ .
It was narrated that Masruq said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'I do not want to see you after I am gone reverting to disbelievers, striking the necks of one another (killing one another). No man is punished for the crime of his father, or the crime of his brother.'" This is correct
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلاَ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَلاَ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
It was narrated from'Amr bin Shu'aib, from his father that his grandfather, Said:that the Messenger of Allah said: "It is not permissible to lend on the condition of a sale, or to have two conditions in one transaction, or to sell what you do not have." (Sahih)
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا فِرَاسٌ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Prophet said:"The major sins are: associating others with Allah, disobeying parents, killing a souls (murder) and swearing a false oath knowingly
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ حَتَّى مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِنَا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah [SAW] delayed 'Isha' prayer one night, until half the night had passed, then he came out and led us in prayer. And it is as if I can see the whiteness of his silver ring on his hand
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيَّ - قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَؤُلاَءِ أَهْلُ الثَّبْتِ وَالْعَدَالَةِ مَشْهُورُونَ بِصِحَّةِ النَّقْلِ وَعَبْدِ الْمَلِكِ لاَ يَقُومُ مَقَامَ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَوْ عَاضَدَهُ مِنْ أَشْكَالِهِ جَمَاعَةٌ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Every intoxicant is unlawful and every intoxicant is Khamr