أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ . ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهَلِّلُ بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ .
It was narrated that Abu Az-Zubair said:"Abdullah bin Az-Zubair used to recite the tahlil following every prayer, saying: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir, la hawla wala quwwata illa billahil-'azim; la ilaha ill-Allahu wa la nabbed illa iyyah, ahlan-ni'mati wal-fadli wath-thana'il-has an; la ilaha ill-Allah, mukhlisina lahud-dina wa law karihal-kafirun (There is none worthy of worship except Allah (SWT) alone, with no partner or associate. His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things; there is no power and no strength except with Allah (SWT) the Almighty. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we worship none but Him, the source of blessing and kindness and the One Who is deserving of all good praise. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we are sincere in faith and devotion to Him even though the disbelievers detest it. ) Then Ibn Az-Zubair said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite the tahlil in this manner following every prayer
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نماز کے بعد تہلیل کرتے اور کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا إله إلا اللہ ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، جو تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے سب پر، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، نعمت، فضل اور بہترین ثنا اسی کے لیے ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہم کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد انہیں کلمات کے ذریعہ تہلیل کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلاَ يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When any one of you wakes from sleep, let him not put his hand into the vessel until he has washed it three times, because he does not know where his hand spent the night
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر تین مرتبہ پانی نہ ڈال لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
It was narrated from Aishah that :The Prophet (ﷺ) said: "The two rak'ahs (before) Fajr are better than this world and everything in it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کی دونوں رکعتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ح وَأَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلاَنٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ فِي وَسَطِهَا .
It was narrated from Samurah bin Jundab:That the Messenger of Allah offered the funeral prayer for a mother who had died in childbirth, and he stood in line with her middle
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کی ماں کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں، تو آپ ان کے بیچ میں یعنی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، - نَيْسَابُورِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْعَدَنِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ بَاعَدَ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
It was narrated that Abu Saeed Al-khudi said:"The Messenger of Allah: 'There is no worshipper who fasts a day in the cause of Allah, but Allah, the most high, will separate (a distance of) seventy autumns between his face and the fire in return for that day
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں کسی دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اسے جہنم کی آگ سے ستر سال دوری پر کر دے گا“۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي، بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَقَالَتْ لِي أَهْلِي اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلْهُ . فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلاً يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ " . فَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَىَّ أَنْ لاَ أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عِدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا " . قَالَ الأَسَدِيُّ فَقُلْتُ لَلَقْحَةٌ لَنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ - وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا - فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ فَقَسَّمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
It was narrated from 'Ata'bin Yasar that a man from Banu Asad said:"My wife and I stopped at Baqi Al-Gharqad, and my wife said to me: 'Go to the Messenger of Allah and ask him to give us something to eat. ' So I went to the Messenger of Allah and found a man with him asking him (for something), and the Messenger of Allah was saying: 'I do not have anything to give to you.' The man turned away angrily, saying: 'You only give to those you want. 'The Messenger of Allah said: 'He is angry with me because I did not have anything to give him. Whoever asks of you and he has an Uqiyah or its equivalent, then he has been too demanding in asking."' Al-Asadi said: I said: 'Our milch-camel is worth more than an Uqiyah, 'and an Uqiyah is forty Dirhams. "So I went back and did not ask him for anything. Then the Messenger of Allah got some barley and raisins after that, and he gave us a share of them, until Allah, the Mighty and Sublime, made us independent of means
قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں بقیع الغرقد میں اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز مانگ کر لائیے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا جو آپ سے مانگ رہا تھا، اور آپ اس سے فرما رہے تھے: ”میرے پاس ( اس وقت ) تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ وہ شخص آپ کے پاس سے پیٹھ پھیر کر غصے کی حالت میں یہ کہتا ہوا چلا: قسم ہے میری زندگی کی! آپ تو اسی کو دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( خواہ مخواہ ) مجھ پر اس بات پر غصہ ہو رہا ہے کہ میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، ( ہوتا تو اسے دیتا ویسے تم لوگ جان لو کہ ) تم میں سے جس کے پاس چالیس درہم ہو یا چالیس درہم کی قیمت کے برابر کا مال ہو، اور اس نے مانگا تو اس نے چمٹ کر مانگا“، اسدی ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ( دل میں ) کہا: ہماری دو دھاری اونٹنی ایک اوقیہ سے تو بہتر ہی ہے، اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے لوٹ آیا۔ پھر آپ کے پاس جَو اور کشمش آئے، تو آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ہم کو مالدار کر دیا۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَسَنٍ - عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ أَنَا فَتَلْتُ، تِلْكَ الْقَلاَئِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا فَيَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلاَلُ مِنْ أَهْلِهِ وَمَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ .
It was narrated from Al-Qasim that the Mother of the Believers said:"I twisted those garlands from wool that we had, then the following morning he did what any non-Muhrim does with his wife, what any man does with his wife
ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں ( قلادوں ) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَهُ .
(Another chain) with a similar narration
علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، - بَصْرِيٌّ - عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَذَكَرَ، آخَرِينَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَاصَمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ .
It was narrated that Ash-Sha'bi said:"I came to Fatimah bint Qais and asked her about the ruling of the Messenger of Allah concerning her. She said that her husband divorced her irrevocably, and she referred her dispute with him, concerning accommodation and maintenance, to the Messenger of Allah. She said: 'He did not give me (the right to) accommodation and maintenance, and he told me to observe my 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum
شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ان کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پوچھا؟ انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق بتہ ( تین طلاق قطعی ) دی تو میں ان سے نفقہ و سکنیٰ حاصل کرنے کا اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو آپ نے مجھے نفقہ و سکنیٰ پانے کا حقدار نہ ٹھہرایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اب ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزاروں۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ وَلاَ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ وَلاَ بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ " .
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Do not revert to disbelievers after I am gone, striking the necks of one another (killing one another). No man is to be punished for the sins of his father, or the sins of his brother
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ مَشَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ . قَالَ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لأَهْلِهِ .
It was narrated from Anas bin Malik that he brought some barley bread and rancid oil to the Messenger of Allah. He said:"He put his armor in pledge for that with a Jew in Al-Madinah, and he took some barley from him for his family
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَبَائِرُ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ " .
It was narrated that 'Ubaidullah bin abi Bakr said:"I heard Ana's say: 'The Messenger of Allah said: 'the major sins are; associating others with Allah (shirk), disobeying one's parents, killing a soul (murder) and speaking falsely
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ فَقَالُوا إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلاَّ مَخْتُومًا . فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ وَنُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah [SAW] wanted to write to the Romans, but they (the Companions) said: 'They do not read any letter unless it has a seal.' So he took a ring of silver, and it is as if I can see its whiteness on his hand, and on it were engraved (the words): "Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ شَبِيبًا، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ - يَقُولُ حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حَرَّمَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
It was narrated from Salim bin 'Abdullah, from his father, that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Allah has forbidden Khamr, and every intoxicant is unlawful