أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَلَّمَ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِيَّاهُ أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " .
Abu Az-Zubair said:"I heard Abdullah bin Az-Zubair speaking from the Minbar, saying: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) said the taslim, he would say: "La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir, la hawla wala quwwata illa billahil-'azim; la ilaha ill-Allahu wa la nabbed illa iyyah, ahlan-ni'mati wal-fadli wath-thana'il-has an; la ilaha ill-Allah, mukhlisina lahud-dina wa law karihal-kafirun (There is none worthy of worship except Allah (SWT) alone, with no partner or associate. His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things; there is no power and no strength except with Allah (SWT) the Almighty. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we worship none but Him, the source of blessing and kindness and the One Who is deserving of all good praise. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we are sincere in faith and devotion to Him even though the disbelievers detest it
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ - وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ، - وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ - قَالَ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّىْءَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ " لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا " .
Sa'eed - meaning Ibn Al-Musayyab - and 'Abbad bin Tamim narrated that his uncle - 'Abdullah bin Zaid - said:"A man who felt something during Salah complained to the Prophet (ﷺ). He said: 'Do not stop praying unless you notice a smell or hear a sound
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ آدمی ( بسا اوقات ) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک بو نہ پا لے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے ۱؎۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الصَّوَابُ عِنْدَنَا وَحَدِيثُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ خَطَأٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
It was narrated from Ibrahim bin Muhammad that:He heard his father narrating that he heard Aishah say: "The Messenger of Allah (ﷺ) would not omit four rak'ahs before Zuhr and two rak'ahs before Fajr
ابراہیم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں، اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ ابو عبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ہمارے نزدیک صحیح یہی ہے، اور عثمان بن عمر کی ( پچھلی ) روایت غلط ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَزْعُمُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا فَجَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الإِمَامَ وَالنِّسَاءَ يَلِينَ الْقِبْلَةَ فَصَفَّهُنَّ صَفًّا وَاحِدًا وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ وُضِعَا جَمِيعًا وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ وَفِي النَّاسِ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ وَأَبُو قَتَادَةَ فَوُضِعَ الْغُلاَمُ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ فَقَالَ رَجُلٌ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي قَتَادَةَ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا هِيَ السُّنَّةُ .
Ibn Juraij said:"I heard Naji, claim that Ibn 'Umar offered the funeral prayer for nine together. He put the men closer to the Imam and the women closer to the Qiblah, and he placed them (the women) in one row. And the body of Umm Kulthum bint 'Ali the wife of 'Umar bin Al-Khattab, and a son of hers called Zaid were placed together. The Imam that day was Saeed bin Al-As and among the people were Ibn 'Umar, Abu Hurairah, Abu Saeed and Abu Qatadah. The boy was placed closer to the Imam. A man said something objecting to that, so I looked at Ibn 'Abbas, Abu Hurairah, Abu Saeed and Abu Qatadah and said: 'What is this?' They said: 'It is the Sunnah
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نو جنازوں کی ایک ساتھ نماز پڑھی، تو مرد امام سے قریب رکھے گئے، اور عورتیں قبلہ سے قریب، ان سب عورتوں کی ایک صف بنائی، اور علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی ام کلثوم، اور ان کے بیٹے زید دونوں کا جنازہ ایک ساتھ رکھا گیا، امام اس دن سعید بن العاص تھے، اور لوگوں میں ابن عمر، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہم ( بھی موجود ) تھے، بچہ امام سے قریب رکھا گیا، تو ایک شخص نے کہا: مجھے یہ چیز ناگوار لگی، تو میں نے ابن عباس، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابوقتادہ ( رضی اللہ عنہم ) کی طرف ( حیرت سے ) دیکھا، اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے۔
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
Abu Saeed Al-Khudi said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever fasts one day in the cause of Allah, Allah will separate his face from the Fire by (a distance of) seventy autumns
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْتُهُ وَقَعَدْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي وَقَالَ " مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ " . فَقُلْتُ نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abu Sa'eed Al-Khudri that his father said:"My mother sent me to the Messenger of Allah, and I came to him and sat down. He turned to me and said: 'Whoever wants to be independent of means, Allah, the Mighty and Sublime, will make him independent. Whoever wants to refrain from asking, Allah, the Mighty and Sublime, will help him to refrain. Whoever wants to be content with his lot, Allah, the Mighty and Sublime, Allah, the Mighty and Sublime, will suffice him. Whoever asks when he has something worth one Uqiyah, then he is being too demanding. 'I said: 'My she-camel Al-Yaqutah is worth more than and Uqiyah,' so I came back and did not ask him for anything
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میری ماں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( کچھ مانگنے کے لیے ) بھیجا، میں آیا، اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف منہ کیا، اور فرمایا: ”جو بے نیازی چاہے گا اللہ عزوجل اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا، اور جو تھوڑے پر قناعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہو گا۔ اور جو شخص مانگے اور اس کے پاس ایک اوقیہ ( یعنی چالیس درہم ) کے برابر مال ہو تو گویا اس نے چمٹ کر مانگا“، تو میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے واپس چلا آیا۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلاَئِدَ الْغَنَمِ لِهَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ يَمْكُثُ حَلاَلاً .
It was narrated that Aishah said:"I remember twisting the garlands for the sheep, the Hadi of the Messenger of Allah, then he stayed as a non-Muhrim
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار ( قلادے ) بٹا کرتی تھی پھر آپ حلال ( غیر محرم ) ہی رہتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا قَالَ لَهَا الصَّدَاقُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ . فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ فَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ .
It was narrated that 'Abdullah said, concerning a man who married a woman, then died before consummating the marriage with her, and without naming a dowry:"She should have the dowry, and she has to observe the 'Iddah, and she may inherit." Ma'qil bin Sinan said: "I heard the Prophet pass the same judgment concerning Birwa' bint Washiq
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے ایک عورت سے شادی کی پھر مر گیا نہ اس سے خلوت کی تھی اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا تھا۔ تو اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا: اس عورت کا مہر ( مہر مثل ) ہو گا۔ اسے عدت گزارنی ہو گی اور اسے میراث ملے گی۔ ( یہ سن کر ) معقل بن سنان نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بروع بنت واشق کے معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ کرتے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلاَثًا وَأَخَافُ أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَىَّ . فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ .
Hisham narrated from his father that Fatimah said:"I said: 'O Messenger of Allah! My husband has divorced me three times and I am afraid that my house be broken into.' So he told her to move
فاطمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کوئی ( مجھے تنہا پا کر ) اچانک میرے پاس گھس نہ آئے ( اس لیے آپ مجھے کہیں اور منتقل ہو جانے کی اجازت دے دیجئیے ) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے اپنی رہائش کی جگہ تبدیل کر لی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ لاَ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجِنَايَةِ أَبِيهِ وَلاَ جِنَايَةِ أَخِيهِ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Do not revert to disbelievers after I am gone, striking the necks of one another (killing one another). No man is to be punished for the sins of his father, or for the sins of his brother
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah bought some food from a Jew with payment to be made later, and he put his shield in pledge for that
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَجِيءُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا يَقُولُ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي " . ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا وَمَا نَسَخَهَا .
It was narrated from Salim bin abi Ja'd that:Ibn 'Abbas was asked about someone who killed a believer deliberately then he repented, believed and did righteous deeds, and followed true guidance. Ibn 'Abbas said: "There is no way he could repent! I heard your Prophet say; He (the victim) will come hanging onto his killer with his jugular veins flowing with blood and saying: "Ask him why he killed me." Then he said: "by Allah, Allah revealed it and never abrogated anything of it
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ فِضَّةٍ فَصُّهُ مِنْهُ .
It was narrated that Anas said:"The ring of the Prophet [SAW] was made of silver and its stone (Fass) was made of silver too
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"Every intoxicant is Khamr and every intoxicant is unlawful