بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
49 hadith
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ ‏.‏
It was narrated that Ali said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me from wearing Al-Qassi, and clothes dyed from safflower, and from wearing gold rings, and from reciting Qura'n while bowing
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ریشمی کپڑے، اور کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے، اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلاَ يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ يُلْتَمَعَ بَصَرُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Ubaidullah bin Abdullah that:A man from among the companions of the Prophet (ﷺ) told him that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'If any one of you in praying, let him not lift his gaze to the sky, or his eyesight will be taken away
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظروں کو آسمان کی طرف نہ اٹھائے، ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُمْ ذَكَرُوا غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يَسْكُنُونَ الْعَالِيَةَ فَيَحْضُرُونَ الْجُمُعَةَ وَبِهِمْ وَسَخٌ فَإِذَا أَصَابَهُمُ الرَّوْحُ سَطَعَتْ أَرْوَاحُهُمْ فَيَتَأَذَّى بِهَا النَّاسُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَوَلاَ يَغْتَسِلُونَ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah bin Al-'Ala narrated that:He heard Al-Qasim bin Muhammad bin Abi Bakr (say) that they mentioned Ghusl on Fridays in the presence of 'Aishah and she said: "Some people used to live in Al-'Aliyah and they would come to Jumu'ah with dirt on them (because of their work). When a breeze came it would carry their smell to the people which annoyed them. Mention of that was made to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: "Why don't you perform Ghusl?
قاسم بن محمد ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمعہ کے دن کے غسل کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: لوگ «عالیہ» میں رہتے تھے، تو وہ وہاں سے جمعہ میں آتے تھے، اور ان کا حال یہ ہوتا کہ وہ میلے کچیلے ہوتے، جب ہوا ان پر سے ہوتے ہوئے گزرتی تو ان کی بو پھیلتی، تو لوگوں کو تکلیف ہوتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ لوگ غسل کر کے نہیں آ سکتے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، ح وَأَنْبَأَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنه - قَالَ صَلَّيْتُ بِمِنًى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah (ﷺ) said:"I prayed two rak'ahs in Mina with the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُو دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏‏"‏‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏ ثُمَّ قَالَ ‏‏"‏‏ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
It was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father, that 'Aishah said:'The sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and the Messenger of Allah (ﷺ) led the people in prayer. He stood for a long time, then he bowed for a long time, then he stood for a long time, but it was shorter than the first standing, then he bowed for a long time but it was shorter than the first bowing. Then he stood up, then he prostrated, then he did the same in the second rak'ah, and when he finished the eclipse had ended. Then he addressed the people; he praised and glorified Allah (SWT), then he said: The sun and the moon are two of the signs of Allah (SWT). They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that then call upon Allah (SWT), the Mighty and Sublime, and magnify Him, and give charity. Then he said: 'O Ummah of Muhammad! There is no one more jealous than Allah (SWT), the Mighty and Sublime, when his male or female slave commits zina. O Ummah of Muhammad! By Allah, if you knew what I know, you would laugh little and weep much
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، اور سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا، پھر آپ فارغ ہوئے اس حال میں کہ سورج صاف ہو چکا تھا، تو آپ نے لوگوں کو خطاب کیا، پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے جینے سے، تو جب تم اسے دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اور اس کی بڑائی بیان کرو، اور صدقہ کرو ، پھر آپ نے فرمایا: اے امت محمد! اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اس بات پر غیرت کرنے والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زنا کرے، اے امت محمد! قسم اللہ کی، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي الْحَدِيثِ وَقَرَأَ فِيهِمَا ‏.‏
It was narrated that Ibn Shihab said:"Abbad bin Tamim told me that he heard his paternal uncle, who was one of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) say: "The Messenger of Allah (ﷺ) went out one day to pray for rain. He turned his back toward the people, praying to Allah (SWT), and he turned to face the Qiblah. He turned his rida' around, then he prayed two rak'ahs." (One of the narrators) Ibn Abi Dhi'b said in the hadith: "And he recited in them both
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی غرض سے نکلے، تو آپ نے لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کی، اور اپنی چادر الٹی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن ابی ذئب کہتے ہیں: حدیث میں یہ بھی ہے: «وقرأ فيهما» اور ان دونوں میں قرأت کی ۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَازِلاً بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ مُحَاصِرَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ لِهَؤُلاَءِ صَلاَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْكَارِهِمْ أَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ ثُمَّ مِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ نِصْفَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِطَائِفَةٍ مِنْهُمْ وَطَائِفَةٌ مُقْبِلُونَ عَلَى عَدُوِّهِمْ قَدْ أَخَذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ يَتَأَخَّرَ هَؤُلاَءِ وَيَتَقَدَّمَ أُولَئِكَ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ رَكْعَةً تَكُونُ لَهُمْ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً رَكْعَةً وَلِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَانِ ‏.‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was camping between Dajnan and 'Usfan, besieging the idolaters. The idolaters said: 'These people have a prayer that is dearer to them than their sons and daughters. Plan it, then strike them with a single heavy blow.' Jibril, peace be upon him, came and told the Messenger of Allah (ﷺ) to divide his companions into two groups, then lead one group in prayer while the others faced the enemy, on guard and with weapons at the ready. So he led them in praying one rak'ah, then they moved back and the others moved forward, and he led them in praying on rak'ah, so that each one of them had prayed one rak'ah with the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) had prayed two rak'ahs
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضجنان اور عسفان کے درمیان اترے آپ مشرکین کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، مشرکین نے ( آپس میں ) کہا: ان لوگوں کی ایک ایسی نماز ہے جو انہیں اپنی اولاد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے، تو ایسا کرو تم سب تیار رہو ( جب یہ نماز پڑھنے لگیں ) تو یکبارگی ان پر پل پڑو، تو جبرائیل علیہ السلام ( آپ کے پاس ) آئے، اور انہوں نے آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کو دو حصوں میں بانٹ دیں، ان میں سے ایک گروہ کو آپ نماز پڑھائیں، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل اپنے بچاؤ کی چیز اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے، آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، پھر یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں، اور وہ لوگ آگے آ جائیں جو دشمن کے مقابل ہوں، تو پھر آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، تو لوگوں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو گی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوں گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعِيدَ قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْصَرِفَ فَلْيَنْصَرِفْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيُقِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin As-SA'ib that:The Prophet (ﷺ) offered the 'Eid prayer and said: 'Whoever would like to leave, let him leave, and whoever would like to stay for the Khutbah, let him stay
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر فرمایا: جو ( واپس ) لوٹنا چاہے لوٹ جائے، اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہے ٹھہرے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْخَلاَءِ وَكَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ ‏.‏
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abi Qurad said:"I went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to an isolated area, and when he wanted to relieve himself he moved far away
عبدالرحمٰن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا، اور آپ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور جاتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، - هُوَ ابْنُ عَوْفٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلاَةُ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Humaid bin 'Abdur-Rahman- that is Ibn 'Awf, that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best fasting after the month of Ramadan is the month of Allah, Al-Muharram, and the best prayer is prayer at night
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں ۱؎، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ( تہجد ) ہے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْهُ مَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيَقُولُونَ اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ ‏.‏ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الأَرْضِ ‏.‏ فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدَمُ عَلَيْهِ فَيَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلاَنٌ مَاذَا فَعَلَ فُلاَنٌ فَيَقُولُونَ دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا فَإِذَا قَالَ أَمَا أَتَاكُمْ قَالُوا ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلاَئِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطًا $$عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏ فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ الأَرْضِ فَيَقُولُونَ مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"When the believer is dying, the angels of mercy come to him with white silk and sya: 'Come out content and with the pleasure of Allah upon you to the mercy of Allah, fragrance and a Lord Who is not angry; So it comes out like the best fragrance of musk. They pass him from one to another until they bring him to the gate of heaven, where they say: '; How good is this fragrance that has come to you from the Earth! Then the souls of the believers come to him and they rejoice more over him than any one of you rejoices when his absent loved one comes to him. They ask him: 'What happened to so-and-so, what happened to so-and-so?' They say: 'Let him be, for he was in the hardship of the world. When he says, 'Did he not come here?' They say: 'He was taken to the pit (of Hell).' Come out discontent, subject of Divine wrath, to the punishment of Allah, the Mighty and Sublime; So it comes out like the foulest stench of a corpse. They bring him to the gates of the Earth, where they say: 'How foul is this stench!' Then they bring him to the souls of the disbelievers
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کی موت آتی ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں، اور ( اس کی روح سے ) کہتے ہیں: نکل، تو اللہ سے راضی ہے، اور اللہ تجھ سے راضی ہے، اللہ کی رحمت اور رزق کی طرف اور ( اپنے ) رب کی طرف جو ناراض نہیں ہے، تو وہ پاکیزہ خوشبودار مشک کی مانند نکل پڑتی، ہے یہاں تک کہ ( فرشتے ) اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، ( جب ) آسمان کے دروازے پر اسے لے کر آتے ہیں تو ( دربان ) کہتے ہیں: کیا خوب ہے یہ خوشبو جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے، ( پھر ) وہ اسے مومن کی روحوں کے پاس لے کر آتے ہیں، تو انہیں ایسی خوشی ہوتی ہے جو گمشدہ شخص کے لوٹ کر آ جانے سے بڑھ کر ہوتی ہے، وہ روحیں اس سے ان لوگوں کا حال پوچھتی ہیں جنہیں وہ دنیا میں چھوڑ گئے تھے: فلاں کیسے ہے، اور فلاں کیسے ہے؟ وہ کہتی ہیں: انہیں چھوڑو، یہ دنیا کے غم میں مبتلا تھے، تو جب وہ ( نووارد روح ) کہتی ہے: کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ ( وہ تو مر گیا تھا ) تو وہ کہتی ہیں: اسے اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا، اور جب کافر قریب المرگ ہوتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ کا ٹکڑا لے کر آتے ہیں، ( اور ) کہتے ہیں: اللہ کے عذاب کی طرف نکل، تو اللہ سے ناراض ہے، اور اللہ تجھ سے ناراض ہے، تو وہ نکل پڑتی ہے جیسے سڑے مردار کی بدبو نکلتی ہے یہاں تک کہ اسے زمین کے دروازے پر لاتے ہیں ( پھر ) کہتے ہیں: کتنی خراب بدبو ہے یہاں تک کہ اسے کافروں کی روحوں میں لے جا کر ( چھوڑ دیتے ہیں ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، - خُرَاسَانِيٌّ - قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated Az-Zuhri, from Abu Hurairah that the Prophet said:"When Ramadan begins, the gates of mercy are opened and the gates of Hall are closed, and the devils are chained up
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ وَمِنَ الْبَقَرِ مِنْ ثَلاَثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Muadh:That the Messenger of Allah sent him to Yemen, and he commanded him to take a Dinar, or its equivalent in Maafr,[1] from each person who had reached the age of puberty. And with regard to cattle, from every thirty a male or female Tabi '(two-year-old). And from every forty a Musinnah (three-year-old). (Daif)
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا اور حکم دیا کہ ہر بالغ شخص سے ایک دینار ( جزیہ ) لیں یا اتنی قیمت کی یمنی چادریں، اور ہر تیس گائے بیل میں ایک برس کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے اور بیل میں دو برس کی ایک گائے۔
أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِيهَا مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ قَالَ ‏ "‏ حُجِّي عَنْ أَبِيكِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that:a woman asked the Prophet about her therwho had died and he did not perform Hajj. He said: "Perform Hajj on behalf of your father
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کے بارے میں جو مر گئے تھے اور حج نہیں کیا تھا پوچھا: آپ نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ رَأَيْتُ مَرْوَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْلَى عَلَيْهِ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَىَّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ ‏.‏ وَكَانَ رَجُلاً أَعْمَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ‏}‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn Shihab said:"Sahl bin Sa'd said: 'I saw Marwan sitting in the Masjid so I went and sat beside him, and he told us that Zaid bin Thabit had told him, that the Messenger of Allah (ﷺ) dictated to him the words: [Not equal are those of the believers who sit (at home) and those who strive hard and fight in the cause of Allah]. Then Ibn umm Maktum came to him while he was dictating it to me (Zaid) and said: 'O Messenger of Allah! If I were able to go for Jihad I would go out for Jihad.' But he was a blind man. Then Allah revealed to His Messenger (ﷺ) - while his thigh was agaisnt my thigh, and (it became so heavy that) I thought my thigh would break, then it was lifted from him, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed: 'Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).'" [1] [1] An-Nisa' 4:
زید بن ثابت رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بول کر لکھایا «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ( النساء: ۹۵ ) کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں جہاد کی استطاعت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا اور وہ ایک اندھے شخص تھے۔ تو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت کا یہ حصہ «غير أولي الضرر» نازل فرمایا، ( اس آیت کے اترتے وقت ) آپ کی ران میری ران پر چڑھی ہوئی تھی اور ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کے سبب ) ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری ران چور چور ہو جائے گی، پھر وحی موقوف ہو گئی ( تو وحی کا دباؤ و بوجھ بھی ختم ہو گیا ) ۔
Narrated by Alqamah
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلاَ أُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً فَلَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْكَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Alqamah:It was narrated that 'Alqamah said: "I was walking with 'Abdullah in Mina and he was met by 'Uthman who stood with him and spoke with him. He said: 'O Abu Abdur-Rahman! Shall I not marry you to a young girl? Perhaps she will remind you of when you were younger?' 'Abdullah said: 'As you say that (it reminds me that) the Messenger of Allah said to us: O young men, whoever among you can afford it, let him get married
علقمہ کہتے ہیں کہ میں منی میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے عثمان رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہو گئی تو وہ ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا میں آپ کی شادی ایک نوجوان لڑکی سے نہ کرا دوں؟ توقع ہے وہ آپ کو آپ کے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دے گی، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھ سے یہ بات آج کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ہم سے بہت پہلے اس طرح کہہ چکے ہیں: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ ادا کرنے کی طاقت رکھے تو اس کو نکاح کر لینا چاہیئے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، دَخَلَ عَلَيْهَا ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Kabshah bint Ka'ab bin Malik that Abu Qatadah entered upon her, then she narrated the following:"I poured some water for him for Wudu', and a cat came and drank from it, so he tilted the vessel for it to drink." Kabshah said: "He saw me looking at him and said: 'Are you surprised, O daughter of my brother?' I said: 'Yes.' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'They are not impure, rather they are among the males and females (animals) who go around among you
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ( پھر راوی نے ایک کلمے کا ذکر کیا جس کا مفہوم ہے ) کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی ( لوٹے میں ) ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی، اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں ( تعجب سے ) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْمُطَلَّقَةُ ثَلاَثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Fatimah bint Qais that the Prophet said:"The thrice-divorced woman is not entitled to provision and shelter
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طلاق پائی ہوئی عورت کو نہ سکنی ملے گا اور نہ نفقہ“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Urwah said that he heard the Messenger of Allah say:"Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑے کی پیشانی سے قیامت تک کے لیے خیر وابستہ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت بھی“۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُثْمَانَ، أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ حِينَ حَصَرُوهُ فَقَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ يَوْمَ الْجَبَلِ حِينَ اهْتَزَّ فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ ‏"‏ اسْكُنْ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدَانِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ يَقُولُ ‏"‏ هَذِهِ يَدُ اللَّهِ وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ‏"‏ ‏.‏ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ‏"‏ ‏.‏ فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ يَزِيدُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَيْتُهُ مِنْ مَالِي فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلاً شَهِدَ رُومَةَ تُبَاعُ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي فَأَبَحْتُهَا لاِبْنِ السَّبِيلِ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ‏.‏
It was narrated from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman that 'Uthman looked out over them when they besieged him and said:"By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah, on the day when the mountain shook with him, and he kicked it with his foot and said: 'Be still, for there is no one upon you but a Prophet or a Siddiq or two martyrs,' and I was with him." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who witnessed the Messenger of Allah, on the day of Bai'at Al-Ridwan, say: 'This is the Hand of Allah and this is the hand of 'Uthman.'" Some men responded and affirmed that. He said: "By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah say, on the day of the army of Al-'Usrah (i.e. Tabuk): 'Who will spend and it will be accepted?' And I equipped half of the army from my own wealth." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who heard the Messenger of Allah say: 'Who will add to this Masjid in return for a house in Paradise,' and I bought it with my own wealth." Some men responded and affirmed that. Then he said: "By Allah, I adjure a man who witness Rumah being sold, and I bought it from my own wealth and allowed wayfarers to use it." Some men responded and affirmed that
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ جب لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو عثمان نے مکان کے اوپر سے نیچے کی طرف جھانکتے ہوئے لوگوں سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس نے پہاڑ کے ہلنے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ جب پہاڑ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھوکر لگا کر کہا تھا: ”ٹھہرا رہ ( سکون سے رہ ) تیرے اوپر ایک نبی، صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں“، ( کوئی اور نہیں ) اس وقت میں آپ کے ساتھ تھا ( یہ سن کر ) بہت سے لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی، انہوں نے ( پھر ) کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ) فرمایا تھا: ”یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ ہاتھ عثمان کا“ ۱؎، تو بہت سے لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر انہوں نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جس نے جیش عسرہ ( تنگ حالی سے دوچار لشکر ) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”کون ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ایسا خرچ جس کی ( بارگاہ الٰہی میں ) قبولیت یقینی ہے“۔ اس وقت میں نے اپنے ذاتی مال کو خرچ کر کے آدھے لشکر کی ضروریات کو پورا کر کے میدان جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا تو بےشمار لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے ( پھر ) کہا: میں اس شخص سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”کون ہے جو جنت میں ایک گھر کے عوض اس مسجد ( نبوی ) میں توسیع کرتا ہے“۔ میں نے ( یہ سن کر مسجد سے ملی ہوئی زمین ) اپنے پیسوں سے خرید کر مسجد کو کشادہ کر دیا، تو لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے پھر کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جو بئررومہ کی فروختگی کے وقت موجود تھا میں نے اسے اپنا مال دے کر خریدا تھا اور میں نے اسے مسافروں کے لیے عام کر دیا تھا ( جو بھی گزرنے والا اس کا پانی پینا چاہے پیے ) لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالاً كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلاَّ ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَالشَّطْرَ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ ‏"‏ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ‏"‏‏.‏
It was narrated from 'Amir bin Sa'd that his father said:"I became ill with a sickness from which I later recovered. The Messenger of Allah came to visit me, and I said: 'O Messenger of Allah, I have a great deal of wealth and I have no heir except my daughter. Shall I give two-thirds of my wealth in charity?' He said: 'No.' I said: 'Half?' He said: 'No.' I said: 'One-third?' He said: '(Give) one-third, and one-third is a lot. It is better to leave your heirs independent of means, than to leave them poor and holding out their hands to people
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا ایسا بیمار کہ مرنے کے قریب آ لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے اور ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے جواب دیا: ”نہیں“۔ میں نے کہا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ میں نے کہا: تو ایک تہائی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ایک تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے“ تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتُحِيضَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحِيضَةُ فَدَعِي الصَّلاَةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي فَإِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ لَهُ فَالْغُسْلُ قَالَ ‏"‏ وَذَلِكَ لاَ يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ‏"‏ وَتَوَضَّئِي ‏"‏ ‏.‏ غَيْرُ حَمَّادٍ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Fatimah bint Abi Hubaish suffered from Istihadah and she asked the Prophet (ﷺ): 'O Messenger of Allah, I suffer from Istihadah and I do not become pure; should I stop praying?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'That is a vein and is not menstruation. When your period comes, stop praying, and when it goes wash the traces of blood from yourself and do Wudu'. That is a vein and is not menstruation.'" It was said to him (one of the narrators): "What about Ghusl?" He said: "No one is in doubt about that
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہوئیں، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لو اور وضو کرو اور نماز پڑھو، یہ تو بس رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے، ( راوی سے ) پوچھا گیا غسل کرے؟ تو اس نے کہا: اس میں کسی کو شک نہیں ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، اور اس میں «وتوضئي» کا ذکر حماد کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے، «واللہ تعالیٰ اعلم»۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَخْطُبُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمُ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
An-Nu'man bin Bashir delivered a Khutbah and said:"The Messenger of Allah said: 'Treat your children fairly, treat your children fairly
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” ( لوگو! ) اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان انصاف کرو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، قَالَ حَدَّثَنَا بِهِ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعُ فِيهَا كَالْكَلْبِ يَأْكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِي قَيْئِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from Tawus, from Ibn 'Umar and Ibn 'Abbas, that they said:"The Messenger of Allah said: 'It is not permissible for anyone to give a gift then take it back, except a father with regard to what he gives to his son. The likeness of the one who gives a gift then takes it back, is that of the dog which eats then when it is full it vomits, then it goes back to its vomit
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی عطیہ ( تحفہ ) دے پھر اسے واپس لے لے۔ سوائے باپ کے، جو وہ اپنی اولاد کو دے، اور اس شخص کی مثال جو کسی کو عطیہ دیتا ہے پھر اسے واپس لے لیتا ہے اس کتے کی ہے جو کھاتا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ قے کر دیتا ہے پھر اسی کو چاٹ لیتا ہے“۔
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرُّقْبَى وَقَالَ ‏ "‏ مَنْ أُرْقِبَ رُقْبَى فَهُوَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Yazid bin Ziyad bin Abi Al-Ja'd narrated from Habib bin Abi Thabit, who said:"I heard Ibn 'Umar say: 'The Messenger of Allah forbade Ruqba and said: "Whoever is given something on the basis of Ruqba, it belongs to him
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقبیٰ کرنے سے منع کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے: ”جس شخص کو رقبیٰ میں کوئی چیز دی گئی وہ چیز ( ہمیشہ کے لیے ) اسی کی ہو جائے گی“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نَذْكُرُ بَعْضَ الأَمْرِ وَأَنَا حَدِيثُ، عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ فَحَلَفْتُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ لِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِئْسَ مَا قُلْتَ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ فَإِنَّا لاَ نَرَاكَ إِلاَّ قَدْ كَفَرْتَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي ‏ "‏ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَاتْفُلْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَلاَ تَعُدْ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"We were talking about something, and I had only recently left Jahiliyyah behind, so I swore by Al-Lat and Al-'Uzza. The Companions of the Messenger of Allah said to me: 'What a bad thing you have said! Go to the Messenger of Allah and tell him, for we think that you have committed Kufr.' So I went to him and told him, and he said to me: 'Say: La ilaha illallah wahdahu la sharika lah (There is none worthy of worship except Allah alone, without partner) three times, and seek refuge with Allah from the Shaitan three times, and spit dryly to your left three times, and do not say that again
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تین بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» کہو اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار اپنے بائیں طرف تھوک دو اور پھر دوبارہ کبھی ایسا نہ کہنا ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ ‏"‏ ‏.‏ مِثْلَهُ سَوَاءٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الصَّوَابُ وَالَّذِي قَبْلَهُ خَطَأٌ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah said: 'O 'Aishah, this is Jibril and he is sending greetings of Salam to you.'" The same
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ اور آگے ویسے ہی ہے جیسے اوپر گزرا“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ روایت ٹھیک ہے، پہلی والی غلط ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَوْسًا، يَقُولُ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ فِي قُبَّةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
It was narrated that An-Nu'man bin Salim said:"I heard Aws say: 'The Messenger of Allah [SAW] came to us when we were in a tent.'" And he quoted the same Hadith
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، ح وَأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْتَسِلُ وَأَنَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا ‏‏.‏‏ وَقَالَ سُوَيْدٌ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا ‏‏.‏‏
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Ghusl, he and I from a single vessel, both of us scooping water from it
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم اس سے لپ ( بھربھر کر ) لیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ جَاءَ الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ إِلَى عُمَرَ يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ الْعَبَّاسُ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ افْصِلْ بَيْنَهُمَا ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لاَ أَفْصِلُ بَيْنَهُمَا قَدْ عَلِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ الزُّهْرِيُّ وَلِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَ مِنْهَا قُوتَ أَهْلِهِ وَجَعَلَ سَائِرَهُ سَبِيلَهُ سَبِيلَ الْمَالِ ثُمَّ وَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ ثُمَّ وُلِّيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَصَنَعْتُ فِيهَا الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ ثُمَّ أَتَيَانِي فَسَأَلاَنِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا وَأَخَذْتُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمَا ثُمَّ أَتَيَانِي يَقُولُ هَذَا اقْسِمْ لِي بِنَصِيبِي مِنِ ابْنِ أَخِي ‏.‏ وُيَقُولُ هَذَا اقْسِمْ لِي بِنَصِيبِي مِنِ امْرَأَتِي ‏.‏ وَإِنْ شَاءَا أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا وَإِنْ أَبَيَا كُفِيَا ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ ‏{‏ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَىْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ‏}‏ هَذَا لِهَؤُلاَءِ ‏{‏ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏}‏ هَذِهِ لِهَؤُلاَءِ ‏{‏ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ ‏}‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً قُرًى عَرَبِيَّةً فَدَكُ كَذَا وَكَذَا ‏{‏ مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ‏}‏ وَ ‏{‏ لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ‏}‏ ‏{‏ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ ‏}‏ ‏{‏ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ ‏}‏ فَاسْتَوْعَبَتْ هَذِهِ الآيَةُ النَّاسَ فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ لَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ - أَوْ قَالَ حَظٌّ - إِلاَّ بَعْضَ مَنْ تَمْلِكُونَ مِنْ أَرِقَّائِكُمْ وَلَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَقُّهُ أَوْ قَالَ حَظُّهُ ‏.‏
It was narrated that Malik bin Aws bin Al-Hadathan said:"Al-Abbas and Ali came to 'Umar with a dispute. Al-Abbas said: 'Pass judgment between him and I.' the people said: 'Pass judgment between them.' 'Umar said: 'I will not pass judgment between them. They know that the Messenger of Allah said: We are not inherited from, what we leave behind is charity. He said: And (in this narration of it) Az-Zuhri said: 'It (the Khumus) was under the control of the Messenger of Allah , and he took provision for himself and for his family from it, and disposed to the rest of it as he disposed of other wealth (belonging to the Muslims). Then Abu Bakr took control of it, then I took control of it after Abu Bakr, and I did with it what he sued to do. Then these two came to me and asked me to give it to them so that they could dispose of it as the Messenger of Allah disposed of it, and as Abu Bakr disposed of it, and as I disposed of it. So I gave it to them and I took promises from them that they would take proper care of it. Then they came to me and this one said. Give me my share from my brothers son: and this one said: Give me my share from my wife. If they want me to give it to them on the condition that they would dispose of it in the same manner as the Messenger of Allah did, and as Abu Bakr did, and as I did, I would give it to them, but if they refuse, then they do not have to worry about it.' Then he said: 'And know that whatever of spoils of war that you may gain, verily, one-fifth of it is assigned to Allah, and to the Messenger, and to the near relatives (of the Messenger (Muhammad), (and also) the orphans, Al-Masakin (the poor) and the wayfarer' (Al-Anfal 8:41) this if for them. 'As-Sadaqat (here it means Zakah) are only for the Fuqara (poor), and Al-Masakin (the poor) and those employed to collect (the funds); and to attract the hearts of those who have been inclined (toward Islam); and to free the captives; and for those in debt; and for Allah's cause (I.e. for Mujahidun - those fighting in a holy battle)' - this is for them. 'And what Allah gave as booty (Fay') to His Messenger (Muhammad) from them - for this you made no expeditin with either cavalry or camels.' Az-Zuhri said: This applies exclusively to the Messenger of Allah and refers to an 'Arab village called Fadak, and so on. What Allah gave as booty (Fay') to His Messenger (Muhammad) from the people of the townships - it is for Allah, His Messenger (Muhammad), the kindred (of Messenger Muhammad), the orphans, Al-Masakin (the poor), and the wayfarer (And there is also a share in this booty) for the poor emigrants, who were expelled from their homes and their property And (it is also for) those who, before them, had homes (in Al-Madinah) and had adopted the Faith And those who came after them. These is no one left among the Muslims but he has some rights to this wealth, except for some of the slaved whom you own. If I live, if Allah wills, I will give every Muslim his right." Or he said: "His share
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed that:a Bedouin asked the Messenger of Allah about emigration (Hijrah). He said: "Woe to you, emigration is very important. Do you have any camels?" He said: "Yes. He said: "Do you pay Sadaqah on them?" He said: "Yes." He said: "Do righteous deeds no matter how far away you are from the Muslims, for Allah, the Mighty and sublime, will never cause any of your deeds tobe lost
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ الرَّقِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، مُنْذُ حِينٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ شَاةً، مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَّ دَفَعْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas:"Maimunah told me that a sheep died, and the Prophet said: 'Why don't you tan its skin and make use of it'?
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَافِعًا صَوْتَهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ فَكَانَتِ الْكِلاَبُ تُقْتَلُ إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ‏.‏
Salim bin 'Abdullah narrated that his father said:"I heard the Messenger of Allah raise his voice with the command to kill dogs. All dogs were to be killed except dogs used for hunting or herding livestock
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ سَلَمَةَ، - وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ - أَخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَ ‏.‏
Ali said:" The Messenger of Allah commanded us to examine the eyes and ears (of animals for sacrifice)
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ - عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا فَإِنْ بَيَّنَا وَصَدَقَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hakim bin Hizam said:The Messenger of Allah said: "The two parties to a transaction have the choice so long as they have not separated. If they are honest and open, their transaction will be blessed, but if they tell lies and conceal anything the blessing of their transaction will be lost
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاَةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The covenant that stands between us and them is the Salah; whoever abandons it, he has committed disbelief
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو ( فرق کرنے والا ) عہد ہے، وہ نماز ہے، تو جو اسے چھوڑ دے گا، کافر ہو جائے گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ دِينَهُ الْمُفَارِقُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah that the Messenger of Allah said:"It is not permissible to shed the blood of a Muslim except in one of three cases: A soul for a soul, a adulterer who has been married, and one who separates leaving his religion
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَعَافَوُا الْحُدُودَ قَبْلَ أَنْ تَأْتُونِي بِهِ فَمَا أَتَانِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated form 'Amr bin Shu'ainb, from his father, from his grandfather, that the Prophet said:"Pardon matters that may deserve a Hadd punishment before you bring it to my attention, for whatever is brought to my attention, the Hadd punishment becomes binding." (Saif)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ ‏ "‏ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that:A man asked the Messenger of Allah [SAW]: "What quality of Islam is best?" He said: "To feed (the poor) and to say the Salam to whomever one knows and whomever one does not know
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّرَجُّلِ إِلاَّ غِبًّا ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade combing one's hair, except every other day
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ قُلْتُ يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرَ وَهَذِهِ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي ‏.‏
It was narrated that Abu Bakr bin 'Uthman bin Sahl bin Hunaif said:"I heard Abu Umamah bin Sahl say: 'We prayed Zuhr with 'Umar bin 'Abdul-'Aziz, then we went out and entered upon Anas bin Malik, and we found him praying 'Asr.'" I said: "O uncle, what is this prayer that you prayed?" He said: "'Asr; this is the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) that we used to pray with him
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر پڑھی پھر ہم نکلے، یہاں تک کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ہم نے انہیں عصر پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے پوچھا: میرے چچا! آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر کی، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جسے ہم لوگ پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ إِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ ‏"‏‏.‏
It was narrated from Al-Fadl bin 'Abbas, that:He was riding behind the Messenger of Allah [SAW], when a man came and said: "O Messenger of Allah, my mother is an old woman; if I put her on a mount she cannot sit firmly, and if I tie her, I fear that I may kill her." He said: "Do you think that if your mother owed a debt you would pay it off for her?" He said: "Yes." He said: "Then perform Hajj on behalf of your mother
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمُرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ‏.‏
It was narrated from 'Umar that:The Prophet [SAW] used to seek refuge with Allah from cowardice, miserliness, the tribulation of the heart and the torment of the grave
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِسْطَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ وَلاَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ ‏"‏‏.‏
It was narrated from Jabir, that :The Messenger of Allah [SAW] said: "Do not mix raisins and dried dates, nor Al-Busr and dried dates
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ وَلِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي فِي الصُّبْحِ ‏.‏
It was narrated from Ibn Mas'ud that the Prophet (S.A.W) said:"Bilal calls the Adhan during the night to wake those who are sleeping and so that those who are praying Qiyam can return.[1] Not to say it is like this." The break of dawn is not like this. [2] [1] Meaning to finish. Ash-Shawkani said: "To return to sleeping or return to sitting from praying" Nail Al-Awtar. [2] Indicating with an up and down motion. The true dawn is from right to left
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات رہتی ہے تبھی اذان دے دیتے ہیں تاکہ سونے والوں کو جگا دیں، اور تہجد پڑھنے والوں کو ( سحری کھانے کے لیے ) گھر لوٹا دیں، اور وہ اس طرح نہیں کرتے یعنی صبح ہونے پر اذان نہیں دیتے ہیں بلکہ پہلے ہی دیتے ہیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَيُونُسَ، قَالاَ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَابْنَ، عَبَّاسٍ قَالاَ لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ قَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ ‏ "‏ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ‏"‏ ‏.‏
Ubaidullah bin 'Abdullah reported that 'Aishah and Ibn 'Abbas said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) was on his deathbed, he had a Khamisah over his face. When his temperature rose, he would uncover his face. When his temperature rose, he would uncover his face. While he was like that he said: 'May Allah curse the Jews and Christians, for they took the graves of their Prophets as places of worship
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آیا تو آپ اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈالتے، اور جب دم گھٹنے لگتا تو چادر اپنے چہرہ سے ہٹا دیتے، اور اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔
Narrated by Abu Saeed
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَدَعْ أَحَدًا أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Abu Saeed:It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah(ﷺ) said: " If anyone of you is praying, he should not let anyone pass in front of him, and if he insists (on passing) then let him fight him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے نہ دے، اگر وہ نہ مانے تو اسے سختی سے دفع کرے ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَالْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلاَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ ‏ "‏ مَكَانَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطِفُ رَأْسُهُ فَاغْتَسَلَ وَنَحْنُ صُفُوفٌ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Iqamah for prayer was said and the people stood in rows, and the Messenger of Allah (ﷺ) came out. Then when he stood in the place where he prayed, he remembered that he had not performed Ghusl. He said to the people: 'Stay where you are.' Then he went back to his house, then he came out with his head dripping with water. He performed Ghusl while we were standing in our rows
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی، تو لوگوں نے اپنی صفیں درست کیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے نکل کر نماز پڑھنے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوئے، پھر آپ کو یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے ۱؎ تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: تم اپنی جگہوں پر رہو ، پھر آپ واپس اپنے گھر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَصْرِي فَقَالَ لِي هَكَذَا ضَرْبَةً بِيَدِهِ فَلَمَّا صَلَّيْتُ قُلْتُ لِرَجُلٍ مَنْ هَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ‏.‏ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي قَالَ إِنَّ هَذَا الصَّلْبُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَانَا عَنْهُ ‏.‏
It was narrated that Ziyad bin Subaih said:"I prayed beside Ibn Umar and put my hand on my waist, and he did this to me-knocked it with his hand. When I had finished praying I said to a man: 'Who is this?' He said: "Abdullah bin Umar.' I said: 'O Abu Abdur-Rahman, why are you angry with me?' He said: 'This is the posture of crucifixion, and the Mesenger of Allah (ﷺ) forbade us to do this
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ ( کمر ) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے ( پوچھا ) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے۔