بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
11
15 hadith
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِصَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يُعِدْ ‏.‏
It was narrated from 'Alqamah, that Abdullah said:"Shall I not tell you about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ)? He stood and raised his hands the first time and then he did not do that again
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور پہلی بار اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر انہوں نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَلَّمَ ثُمَّ تَكَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah that:The Prophet (ﷺ) said the salam, then he spoke, then he performed two prostrations of forgetfulness
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ نے گفتگو کی، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ قَالَ ‏"‏ بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ أَلاَ يَعْرِفُ خَيْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) went out to the graveyeard and said:"Peace be upon you, abode of believing people. If Allah wills, we shall join you soon. Would that I had seen our brothers." They said: "O Messenger of Allah, are we not your brother?" He said: "You are my Companions. My brothers are those who have not come yet. And I will reach the Hawd before you." They said: "O Messenger of Allah, how will you know those of your Ummah who come after you?" He said: "Don't you think that if a man has a horse with a white blaze and white feet among horses that are solid black, he will recognize his horse?" They said: "Of course." He said: "They will come on the Day of Resurrection with glittering white faces and glittering white hands and feet because of Wudu', and I will reach the Hawd before them
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» مومن قوم کی بستی والو! تم پر سلامتی ہو، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے صحابہ ( ساتھی ) ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی ( دنیا میں ) نہیں آئے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ قیامت کے دن ( میدان حشر میں ) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَىْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلاَّ فِي الاِسْتِسْقَاءِ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِثَابِتٍ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ ‏.‏ قُلْتُ سَمِعْتَهُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Prophet (ﷺ) would not raise his hands in any of his supplications except when praying for rain (Al-Istisqa')." (One of the narrators) Shu'bah said: "I said to Thabit: 'Did you hear it from Anas?' He said: 'Subhan Allah!' I said: 'Did you hear it?' He said: 'Subhan Allah
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ثابت سے پوچھا: آپ نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ، میں نے کہا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ ‏.‏
It was narrated from 'Abdul-Wahid bin Hamzah that 'Abbad bin 'Abdullah bin Az-Zubair told him that 'Aishah said:"the Messenger of Allah did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida anywhere but inside the Masjid
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء ۱؎ کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، لَقِيَ عُثْمَانَ بِعَرَفَاتٍ فَخَلاَ بِهِ فَحَدَّثَهُ وَأَنَّ، عُثْمَانَ قَالَ لاِبْنِ مَسْعُودٍ هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Alqamah that:Ibn Masud met 'Uthman at 'Arafat and spoke to him in private. Uthman said to Ibn Masud: "Are you interested in a girl so that I marry her to you?" 'Abdullah called 'Alqamah and he told him that the Prophet said: 'Whoever among you can afford to get married, let him do so. Whoever cannot afford it, let him fast, for fasting will be a restraint (Wija) for him
علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود ( رضی اللہ عنہ ) ، عثمان ( رضی اللہ عنہ ) سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بھی بلا لیا ( آ جاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آ گئے ) تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے «وجاء» ہے“ ( یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah said: ' A man will keep on asking until on the Day of Resurrection he will come without even a shared of skin on his face
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی برابر مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر کوئی لوتھڑا گوشت نہ ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنْكِرُ الاِشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلاً وَيُهْدِي وَيَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ‏.‏
It was narrated that Salim said:"Ibn 'Umar used to denounce stipulating conditions in Hajj, and said: 'Is not the Sunnah of the Messenger of Allah sufficient for you? If one of you is prevented from performing (finishing) Hajj let him circumambulate the House and (perform Sai) between As-Safa and al-Marwah, then exit Ihram completely until he performs Hajj the following year. And let him offer a Hadi or fast if he con not find a Hadi
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا پسند نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا گیا ہو تو ( اگر ممکن ہو تو ) کعبے کا طواف، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے، یہاں تک کہ آنے والے سال میں حج کرے اور ہدی دے، اور اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزہ رکھے۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ‏}‏ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ فَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ ‏}‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى فِي الْكِتَابِ الآيَةُ الأُولَى الَّتِي فِيهَا ‏{‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ‏}‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الآيَةِ الأُخْرَى ‏{‏ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ ‏}‏ رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فى مَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ ‏.‏
Urwah bin Az-Zubair narrated that he asked 'Aishah about the saying of Allah, the Mighty and Sublime:"And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls then marry (other) women of your choice." She said: "O son of my sister, this refers to a female orphan who is in the care of her guardian, and her wealth is joined to his, and he is attracted to her wealth and her beauty. So her guardian wants to marry her without being fair with regard to her dowry, and without giving her what someone else would give her. So they were forbidden to marry them unless they were fair to them and gave them the highest possible dowry that is customarily given, and they were commanded to marry other women of their choice." 'Urwah said: "'Aishah said: 'Then later on, Allah, the Mighty and Sublime, revealed concerning them: 'They ask your legal instruction concerning women, say: Allah instructs you about them, and about what is recited unto you in the Book concerning the orphan girls whom you give not the prescribed portions and yet whom you desire to marry.' 'Aishah said: 'What Allah, Most High, mentioned here that is recited in the Book is the first Verse in which it says: And if you fear that you shall not be able to deal justly with orphan girls then marry (other) women of your choice.' 'Aishah said: 'What is referred to in the other Verse -and yet whom you desire to marry- is the desire of one of you not to marry orphan girl who is under his care if she is lacking in wealth and beauty. So they were forbidden to marry those orphan women to whose wealth they were attracted unless they were fair, because of their desire not to marry (those who were lacking in wealth and beauty)
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے ( ام المؤمنین ) عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» ”اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے، تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو ( النساء: ۳ ) کے بارے میں سوال کیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ ساجھی ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو، اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کیے نکاح کرنا چاہتا ہو یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو، چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا۔ اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم بچیوں کے متعلق مسئلہ پوچھا تو اللہ نے آیت «ويستفتونك في النساء قل اللہ يفتيكم فيهن» سے لے کر «وترغبون أن تنكحوهن» ”آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے، اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے، اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو ( النساء: ۱۲۷ ) تک نازل فرمائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے «وما يتلى عليك في الكتاب» جو فرمایا ہے اس سے پہلی آیت: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» مراد ہے۔ اور دوسری آیت میں فرمایا: «وترغبون أن تنكحوهن» تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو یتیم لڑکی تمہاری نگہداشت و پرورش میں ہوتی ہے اور کم مال والی اور کم خوبصورتی والی ہوتی ہے اسے تو تم نہیں چاہتے تو اس کی بنا پر تمہیں ان یتیم لڑکیوں سے بھی شادی کرنے سے روک دیا گیا ہے جن کا مال پانے کی خاطر تم ان سے شادی کرنے کی خواہش رکھتے ہو۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا، تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَهَا فَتَكْتَحِلُ الْجِلاَءَ فَأَرْسَلَتْ مَوْلاَةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجِلاَءِ فَقَالَتْ لاَ تَكْتَحِلُ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْهُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبِرًا فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلاَ تَجْعَلِيهِ إِلاَّ بِاللَّيْلِ وَلاَ تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلاَ بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ ‏"‏ ‏.‏
Umm Hakim bint Asid narrated from her mother that her husband died and she had a problem in her eye, so she applied kohl to clear her eyes. She sent a freed slave woman of hers to Umm Salamah to ask her about using kohl to clear her eyes. She said:"Do not use kohl unless it cannot be avoided. The Messenger of Allah entered upon me when Abu Salamah died and I had put some aloe juice on my eyes. He said: 'What is this, O Umm Salamah?' I said: 'It is aloe juice, O Messenger of Allah, there is no perfume in it.' He said: 'It makes the face look bright, so only use it at night, and do not comb your hair with perfume or henna, for it is a dye.' I said: 'With what can I comb it, O Messenger of Allah?' He said: 'With lote leaves -cover your head with them
ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، چنانچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا ( یعنی اثمد کا ) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے ( سوگ میں ہونے کے بعد ) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پیش آ جائے جس کو لگائے بغیر چارہ نہیں ( تو لگا سکتی ہے ) ۔ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس موقع پر میں اپنی آنکھ پر ایلوا لگائے ہوئے تھی۔ آپ نے پوچھا: ام سلمہ! یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صرف ایلوا ہے! اس میں کسی طرح کی خوشبو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ” ( خوشبو تو نہیں ہے لیکن ) یہ چہرے کو جوان ( اور تروتازہ کر دیتا ) ہے۔ اسے نہ لگاؤ اور اگر لگانا ہی ( بہت ضروری ) ہو تو رات میں لگاؤ اور خوشبودار چیز اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو“۔ کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا چیز لگا کر سر دھوؤں اور کنگھی کروں! آپ نے فرمایا: ”بیری کے پتے کا لیپ لگا کر اپنے سر کو ڈھانپ رکھو“ ( اور دھو کر کنگھی کرو ) ۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيًّا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَشَارَ الْمُسْلِمُ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِالسِّلاَحِ فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَهُ خَرَّا جَمِيعًا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Bakrah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'If a Muslim points a weapon at his fellow Muslim, then they are on the brink of Hell, and if he kills him, then they will both fall into it
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى الطَّعَامُ ‏.‏
It was narrated that Tawus said:"I heard Ibn 'Abbas say: 'As for that which the Messenger of Allah forbade, (it is) selling before taking possession of food
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ جَاءَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ بِكِتَابٍ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ فَتَلاَ مِنْهَا آيَاتٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً وَفِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ وَفِي الأَسْنَانِ خَمْسٌ خَمْسٌ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrate that Az-Zuhri said:"Abu Bakr bin Hazm brought me a letter on a piece of leather (which was ) from the Messenger of Allah: 'This is a statement from Allah and His Messenger: 'O you who believe! Fulfill (your obligations. And he quoted some Verses from it. Then he said: 'For a soul, one hundred camels; for an eye, fifty camels; for a hand, fifty; for a foot, fifty; for a blow to the head that reaches the brain, one-third of the Diyah: for a hand, fifty; for a stab wound that penetrates deeply, one-third of the Diyah; for a blow that breaks a bone, fifteen camels; for fingers, ten each; for teeth, five each; for a wound that exposes the bone, five. (Daif)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَبْصَرَ فِي يَدِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَقْرَعُهُ بِقَضِيبٍ مَعَهُ فَلَمَّا غَفَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَلْقَاهُ قَالَ ‏ "‏ مَا أُرَانَا إِلاَّ قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ ‏"‏ ‏.‏ خَالَفَهُ يُونُسُ رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ مُرْسَلاً ‏.‏
It was narrated from Abu Tha'labah Al-Khushani that :The Prophet [SAW] saw a gold ring on his hand, and he started to smack him with a stick that he had in his hand. When the Prophet [SAW] looked away, he threw it away. He said: "I think that he hurt you or we made you lose money
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا نَشْرَبُهُ مِنَ الزَّبِيبِ وَالْعِنَبِ وَغَيْرِهِ وَقَدْ أُشْكِلَ عَلَىَّ ‏.‏ فَذَكَرَ لَهُ ضُرُوبًا مِنَ الأَشْرِبَةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْهُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَىَّ اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ ‏.‏
It was narrated from 'Uyainah bin 'Abdur-Rahman that his father said:"A man said to Ibn 'Abbas: 'I am a man from Khurasan, and our land is a cold land. We have a drink that is made from raisins and grapes and other things, and I am confused about it.' He mentioned different kinds of drinks to him and mentioned many, until I thought that he had not understood him. Ibn 'Abbas said to him: 'You have told me too many. Avoid whatever intoxicates, whether it is made of dates, raisins or anything else