أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) heard the recitation of Abu Musa and said: 'This man has been given a Mizmar among the Mazamir of the family of Dawud, peace be upon him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: یقیناً انہیں آل داود کے لحن ( سُر ) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي غَلاَّبٍ، - وَهُوَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ - عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمْ صَلَّوْا مَعَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
It was narrated from Hittan bin Abdullah that:They prayed with Abu Musa and he said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When you are sitting then let the first words that any of you says be: At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat, as-salamu 'alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu 'alaina wa 'ala 'ibad illahis-salihin, ashahdu an la illaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu (Allah compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah (SWT) and his blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah (SWT). I bear witness that none has the right to be worshipped except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger
حطان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان لوگوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب امام قاعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی زبان پہ پہلی دعا یہ ہو: «التحيات لله الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ .
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the salam to his right so that the whiteness of his cheek could be seen, and to his left so that the whiteness of his cheek could be seen
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور آپ بائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلاَسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقَالَ عَاصِمٌ يَا أَبَا أَيُّوبَ فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ . فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ " . أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ قَالَ نَعَمْ .
It was narrated from 'Asim bin Sufyan Ath-Thaqafi that they went out for the battle of As-Salasil, but they missed the fighting, so they kept watch, then they went back to Mu'awiyah, and Abu Ayyub and 'Uqbah bin 'Amir were with him. 'Asim said:"O Abu Ayyub, we missed the general mobilization, but we have been told that whoever prays in the four Masjids will be forgiven his sins." He said: "O son of my brother! I will tell you of something easier than that. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) says: 'Whoever performs Wudu' as commanded and prays as commanded, will be forgiven for his previous actions.' Is it not so, O 'Uqbah?" He said: "Yes
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہو گیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے: ابوایوب! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ۲؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے؟، تو انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو ، عقبہ! ایسے ہی ہے نا؟ انہوں نے کہا: ہاں ( ایسے ہی ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } خَالَفَهُمَا شَبَابَةُ فَرَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ .
Muhammad bin Al-Muthanna informed us, he said "Muhammad said:Shu'bah narrated to us, he said: I heard Qatadah narrating from Zurarah, from Abdur-Rahman bin Abza, that The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تھے۔ شبابہ نے ان دونوں کی یعنی محمد کی اور ابوداؤد کی مخالفت کی ہے ۱؎ انہوں نے اسے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے زرارہ بن اوفی سے، اور زرارہ نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومِسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَسَأَلَ " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ " . قَالُوا نَعَمْ عَلَيْهِ دِينَارَانِ . قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . قَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَىَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ " .
It was narrated that Jabir said:"The Prophet would not pray for a man who owed a debt. A deceased person was brought to him and he said: 'Does he owe any debt?' They said: 'Yes, he owes two Dinars.' He said: 'Pray for your companion.' Abu Qatadah said: 'I will pay them, O Messenger of Alllah, So he prayed for him. Then, when Allah made His Messenger rich though conquest, he said: ' I am closer to each believer than his own self. Whoever leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leaves behind wealth, it is for his heirs
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چنانچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، اس پر دو دینار ( کا قرض ) ہے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا: ”میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الآدَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ فَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلاَ يَجْهَلْ يَوْمَئِذٍ وَإِنِ امْرُؤٌ جَهِلَ عَلَيْهِ فَلاَ يَشْتِمْهُ وَلاَ يَسُبَّهُ وَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
It was narrated that 'Aishah said that the Prophet said:"Fasting is a shield against the Fire. Whoever starts the day of fasting, let him not act in an ignorant manner during that day. If anyone treats him in an ignorant maner, let him not insult him or curse him, rather let him say: "I am fasting.' By the One in whole hand is the soul of Muhammad, the smell that comes from the mouth of a fasting person is better before Allah than the fragrance of musk
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ڈھال ہے، جو شخص روزہ دار ہو کر صبح کرے تو وہ اس دن جہالت و نادانی کی کوئی بات نہ کرے، اور اگر کوئی شخص اس کے ساتھ جہالت و نادانی کی بات کرنے لگے تو اسے گالی نہ دے، برا بھلا نہ کہے۔ اس کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ اس سے کہے، ( بھائی ) میں روزے سے ہوں، ( میں تم سے لڑائی جھگڑا نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ فِيهَا فَقَالَ " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لِثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ بَيْنَ قَوْمٍ فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ " .
It was narrated that Qubaisah bin Mukhariq said:"I undertook a financial responsibility. [1] Then I came to the Prophet and asked him (for help) concerning that. He said: 'Asking (for money) is not permissible except for three: A man who undertakes a financial responsibility between people; he may ask for help with that until the matter is settled, then he should refrain (from asking)
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”مانگنا صرف تین لوگوں کے لیے جائز ہے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے قوم کے کسی شخص کے قرض کی ضمانت لے لی ہو ( پھر وہ ادا نہ کر سکے ) ، تو وہ دوسرے سے مانگے یہاں تک کہ اسے ادا کر دے، پھر رک جائے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحَجٍّ مُفْرَدٍ وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا قَالَ " الْحِلُّ كُلُّهُ " . فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلاَّ أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ " مَا شَأْنُكِ " . فَقَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أُحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الآنَ . فَقَالَ " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ " . فَفَعَلَتْ . وَوَقَفَتِ الْمَوِاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا " . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ . قَالَ " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " . وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"We came in Ihram with the Messenger of Allah for Hajj alone (Mufrad), and 'Aishah came in Ihram for 'Umrah. Then, whe we were in Sarif her menses started. When we came, we circumambulated the Ka'bah and (performed Sa'i) between As-safa and Al-Marwah. Then, the Messenger of Allah commanded those of us who did not have a Hadi to exit Ihram. We said: 'Exit Ihram to what degree?' He said" 'Completely.' So we had intercourse with out, wives put on perfume, and wore only four nights away from 'Arafat. The, we entered Ihram on the day of At-Tarwiyah. The Messenger of Allah entered upon 'Aishah and found here weeping. He said: 'What is the matter with you?' She said: 'I have got my menses and the people exited Ihram, but I did not exit Ihram or did I circumambulate the House, and the people are going for Hajj now.' He said: 'This is something that Allah ahs decreed for the daughters of Adam. Perform Ghusl, then begin the Talbiyah for Hajj.' So she did that and did all the rituals. Then, when she became pure, she circumambulated the House and (Performed Sa'i) between As-Safa and Al-Marwah. Then, he said: 'You have exited Ihram from your Hajj and your 'Umrah at the same time." She said: 'O Messenger of Allah, I feel upset because I only circumambulated the House during my Hajj.' He said: 'Take here, O 'Abdullah, to perform 'Umrah from At-Tan'im.' And that was on the night of Al-Hasbah (the twelfth night of Dhul-Hijjah)
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا تلبیہ پکارتی ہوئی آئیں۔ یہاں تک کہ جب ہم سرف ۱؎ پہنچے، تو وہ حائضہ ہو گئیں۔ اور اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ جب ہم ( مکہ ) پہنچ گئے اور ہم نے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔ تو ہم نے پوچھا: کیا چیزیں ہم پر حلال ہوئیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ساری چیزیں حلال ہو گئی“ ( یہ سن کر ) ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا، خوشبو لگائی، اور اپنے ( سلے ) کپڑے پہنے، اس وقت ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی رہ گئیں تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھ ذی الحجہ ) کو حج کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ آپ نے پوچھا: ”کیا بات ہے“؟ انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ مجھے حیض آ گیا ہے، اور لوگ حلال ہو گئے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور ( ابھی تک ) میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا ہے ۲؎ اور لوگ اب حج کو جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں ( عورتوں ) کے لیے مقدر فرما دیا ہے، تم غسل کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا“، اور وقوف کی جگ ہوں ( یعنی منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم حج و عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں نے حج سے پہلے عمرے کا طواف نہیں کیا ہے؟ ( پھر عمرہ کیسے ہوا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) سے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! تم انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ“، یہ واقعہ محصب میں ٹھہرنے والی رات کا ہے ۳؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الإِسْلاَمَ أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ فَخَطَبَهَا فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَإِنْ أَسْلَمْتَ نَكَحْتُكَ . فَأَسْلَمَ فَكَانَ صَدَاقَ مَا بَيْنَهُمَا .
It was narrated that Anas said:"Abu Talhah married Umm Sulaim and the dowry between them was Islam. Umm Sulaim became Muslim before Abu Talhah, and he proposed to her but she said: 'I have become Muslim; if you become Muslim I will marry you.' So he became Muslim, and that was the dowry between them
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، تو ان کے درمیان مہر ( ابوطلحہ کا ) اسلام قبول کر لینا طے پایا تھا، ام سلیم ابوطلحہ سے پہلے ایمان لائیں، ابوطلحہ نے انہیں شادی کا پیغام دیا، تو انہوں نے کہا: میں اسلام لے آئی ہوں ( میں غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتی ) ، آپ اگر اسلام قبول کر لیں تو میں آپ سے شادی کر سکتی ہوں، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، اور یہی اسلام ان دونوں کے درمیان مہر قرار پایا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الأَحَادِيثِ الثَّلاَثَةِ، قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
It was narrated from Humaid bin Nafi' that Zainab bint Abi Salamah told him these three Hadiths. Zainab said:"I entered upon Umm Habibah, the wife of the Prophet, when her father Abu Sufyan bin Harb died. Umm Habibah called for some perfume and put some on a young girl, then she put some on her cheeks. Then she said: 'By Allah, I do not have any need for perfume but I heard the Messenger of Allah say: It is not permissible for any woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, (for whom the mourning period is) four months and ten days
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " . قُلْتُ لأَبِي وَائِلٍ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ .
It was narrated from Sufyan bin Zubaid, from Abu Wa'il, from 'Abdullah:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Defaming a Muslim is evildoing and fighting him is Kufr.'" I said to Abu Wa'il: "Did you hear it from 'Abdullah?" He said: "Yes
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَفْوَانَ، قَالَ بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَأَرْجَحَ لِي .
It was narrated that Simak bin Harb said:"I heard Abu Safwan say: 'I bought a pair of trousers from the Messenger of Allah before the Hijrah, and he weighed it for me and allowed me
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ " وَفِي الأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"When the Messenger of Allah conquered Makkah, he said in his Khutbah: "(The Diyah) for fingers is ten each
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَى عَنْ مَيَاثِرِ الأُرْجُوَانِ، وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ، .
It was narrated from 'Abidah, from 'Ali, he said:"He forbade red Al-Mayathir, wearing Al-Qassi, and gold rings
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ، يَذْكُرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ . ابْنُ شُبْرُمَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ .
It was narrated from Ibn Shubrumah who mentioned it from 'Abdullah bin Shaddad bin Al-Had, from Ibn 'Abbas, who said:"Khamr was forbidden in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink