أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ " لَقَدْ أُوتِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) heard the recitation of Abu Musa and said: He has been given a Mizmar among the Mazamir of the family of Dawud, peace be upon him
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا: انہیں آل داود کے لحن ( سُر ) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ السَّرْخَسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ الأَشْعَرِيَّ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلاَتَنَا فَقَالَ " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ { وَلاَ الضَّالِّينَ } فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " . قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " . قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
It was narrated from Hittan bin 'Abdullah that Al-Ash'ari said:"The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and taught us our Sunnahs and our prayer. He said: 'Make your rows straight, then let one of you lead the others. When he says the takbir, then say the takbir; when he says: "Wa lad-dallin" then say "Amin" and Allah (SWT) will answer you. When the Imam says the takbir and bows, then say the takbir and bow, for the Imam bows before you and stands up before you.' The Prophet of Allah (ﷺ) said: 'This makes up for that. When he says: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him), say: "Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, to You be praise)," Allah (SWT) will hear you, for indeed Allah, the Mighty and Sublime, has said on the tongue of His Prophet (ﷺ): "Allah hears the one who praises Him." Then when the Imam says the takbir and prostrates, say the takbir and prostrate, for the Imam prostrates before you and rises before you.' The Prophet of Allah (ﷺ) said: 'This makes up for that. Then when you are sitting, let the first thing that any one of you says be: At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat, as-salamu 'alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu 'alaina wa 'ala 'ibad illahis-salihin, ashahdu an la illaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu (Allah compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah (SWT) and his blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah (SWT). I bear witness that none has the right to be worshipped except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا، تو اس میں آپ نے ہمیں ہمارا طریقہ سکھایا، اور ہم سے ہماری صلاۃ کی تشریح فرمائی، اور فرمایا: اپنی صفیں درست کرو، پھر تم میں کا کوئی امامت کرے، تو جب وہ «اللہ اکبر» کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور وہ «ولا الضالين» کہے تو تم «آمین» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری یہ دعا قبول کرے گا، اور جب امام «اللہ اکبر» کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے اپنا سر اٹھائے گا، ادھر کی تاخیر ادھر پوری ہو جائے گی، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم«ربنا لك الحمد» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا، اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، پھر جب امام «اللہ اکبر» کہے، اور سجدہ کرے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدے سے سر اٹھائے گا، ادھر کی تاخیر ادھر پوری ہو جائے گی ۱؎ اور جب امام قاعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی زبان پہ پہلی دعا یہ ہو: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله»۔
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، عَنِ ابْنِ دَاوُدَ، - يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيَّ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدِّهِ عَنْ يَمِينِهِ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . وَعَنْ يَسَارِهِ " السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " .
It was narrated from 'Abdullah that:The Prophet (ﷺ) said: "It is as if I can see the whiteness of his cheek, saying to his right: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) and to his left: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah)." (Sahih)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، اور اپنی بائیں طرف«السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، گویا میں آپ کے گال کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Shall I not tell you of that by means of which Allah erases sins and raises (people) in status? Doing Wudu' properly [1] even when it is inconvenient, taking a lot of steps to the Masjid, and waiting for one Salah after another. That is the Ribat for you, that is the Ribat for you, that is the Ribat for you." [1] Isbagh Al-Wudu
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے: ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } فَإِذَا فَرَغَ قَالَ " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " . ثَلاَثًا وَيَمُدُّ فِي الثَّالِثَةِ .
Ishawq bin Mansur informed us, he said:"Abu Dawud narrated to us, he said: Shu'ba narrated to us, from Qatadah, from Abdur-Rahman bin Abza, that The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of your Lord, the Most High;" and "Say: O you disbelievers!;' and 'Say: He is Allah, (the) One.' And when he said the taslim, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, elongating his words the third time
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری مرتبہ کھینچ کر کہتے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، - يَعْنِي ابْنَ الأَكْوَعِ - قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا . قَالَ " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " هَلْ تَرَكَ مِنْ شَىْءٍ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَىَّ دَيْنُهُ . فَصَلَّى عَلَيْهِ .
Salamah - meaning, bin Al-Akwa' - said:"A Janazah was brought to the Prophet and they said: " O Prophet of Allah, pray for him.' He said: "Did he leave any debt behind?' They said: "Yes.' He said 'Did he leave anything?' They said: No. He said; 'Pray fro your companion.' A man among the Ansar who was called Abu Qatadah said: 'Pray for him and I will pay off his debt.' So he prayed for him
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا: آپ اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اس کا قرض میرے ذمہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا " .
Abu 'Ubaidah said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Fasting is a shield, so long as you do not damage it
ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے ( جھوٹ و غیبت وغیرہ کے ذریعہ ) پھاڑ نہ دے“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ بِتُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلاَبٍ وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا تُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا . قَالَ " إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لأَتَأَلَّفَهُمْ " . فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ " فَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِي " . ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"When he was in Yemen, Ali sent a piece of gold that was still mixed with sediment to the Messenger of Allah, and the Messenger of Allah distributed it among four people: Al-Aqra' bin Habis Al-Hanzali, 'Uyaynah bin Badr Al-Fazari, 'Alqamah bin 'Ulathah Al- 'Amiri, who was from Banu Kilab and Zaid Al-Ta'I who was from Banu Nabhan. The Quraish" - he said one time: became angry and said: 'You give to the chiefs of Najdand that, so as to soften their hearts toward Islam.' Then a man with a thick beard, prominent cheeks, and a shaven head came and said: 'Fear Allah. O Muhammad! He said: 'Who would obey Allah if I disobeyed Him? (Is it fair that) He has entrusted me with all the people of the Earth but you do not trust me?' Then the man went away, and a man from among the people, whom they (the narrators) think was Khalid bin Al-Walid, asked for permission to kill him. The Messenger of Allah said: 'Among the offspring of this man will be some people who will recite the Qur'an but it will not go any further than their throats. They will kill the Muslims but leave the idol worshippers alone, and they will passes through Islam as an arrow passes through the body of the target. If I live to see them. I will kill them all, as the people of 'Ad were killed
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی ملا ہوا غیر صاف شدہ سونے کا ایک ڈلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فرازی، اور علقمہ بن علاثہ جو عامری تھے پھر وہ بنی کلاب کے ایک فرد بن گئے، اور زید جو طائی تھے پھر بنی نبہان میں سے ہو گئے، کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ( یہ دیکھ کر ) قریش کے لوگ غصہ ہو گئے۔ راوی نے دوسری بار کہا: قریش کے سرکردہ لوگ غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے کہ آپ نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی تالیف قلب کروں ( یعنی انہیں رجھا سکوں ) “، اتنے میں گھنی داڑھی والا، ابھرے گالوں والا دھنسی آنکھوں والا، ابھری پیشانی والا، منڈے سر والا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: محمد اللہ سے ڈرو، آپ نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو پھر اللہ عزوجل کی تابعداری کون کرے گا؟ وہ مجھے سارے زمین والوں میں اپنا امین ( معتمد ) سمجھتا ہے، اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے“، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی ( لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۱؎، اہل اسلام کو قتل کریں گے، اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ یہ لوگ اسلام سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم کو چھیدتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے انہیں پایا، تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه قَالَ نَفَسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ كَيْفَ تَفْعَلُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبِهَا وَتُهِلَّ .
It was narrated that Jabir said:"Asma' bint 'Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr and she sent word to the Messenger of Allah asking him what she should do. He told here to perform Ghusl and wrap her private parts in a cloth, and to begin the talbiyah
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لأَهَبَ نَفْسِي لَكَ . فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا . قَالَ " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ " . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا . فَقَالَ " انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي - قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ - فَلَهَا نِصْفُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ " . فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " . قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا . عَدَّدَهَا . فَقَالَ " هَلْ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
It was narrated from Sahl bin Sa'd that a woman came to the Messenger of Allah and said:"O Messenger of Allah, I have come to offer myself to you (in marriage)." The Messenger of Allah looked her up and down then lowered his head. When the woman saw that he was not saying anything about her, she sat down. A man among his Companions stood up and said: "O Messenger of Allah, if you do not want to marry her, then marry me to her." He said: "Do you have anything?" He said: "No, by Allah, I do not have anything." He said: "Look, even if it is only an iron ring." He went, then he came back and said: "No, by Allah, O Messenger of Allah, not even an iron ring, but this is my Izar (lower garment)" - Sahl said: "He did not have a Rida' (upper garment)" - "she can have half of it." The Messenger of Allah said: "What could she do with your Izar? If you wear it, she will not have any of it, and if she wears it, you will not have any of it." The man sat down for a long time, then he got up, and the Messenger of Allah saw him leaving, so he ordered that he be called back. When he came, he said: "What do you know of the Qur'an?" He said: "I know Surah such-and-such, and Surah such-and-such," and listed them. He said: "Can you recite them by heart?" He said: "Yes." He said: "Then I marry you to her on the basis of what you know of the Qur'an
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آئی ہوں کہ اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دوں، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور نیچے سے اوپر تک دھیان سے دیکھا۔ پھر آپ نے اپنا سر جھکا لیا ( غور فرمانے لگے کہ کیا کریں ) ، عورت نے جب دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق ( بروقت ) کچھ نہیں فیصلہ فرمایا تو وہ ( انتظار میں ) بیٹھ گئی، اتنے میں آپ کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اپنے لیے اس عورت کی ضرورت نہیں پاتے تو آپ اس عورت سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ( بطور مہر دینے کے لیے ) کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا نہیں، قسم اللہ کی! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”دیکھو ( تلاش کرو ) لوہے کی انگوٹھی ۱؎ ہی مل جائے تو لے کر آؤ“، تو وہ آدمی ( تلاش میں ) نکلا، پھر لوٹ کر آیا اور کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! کوئی چیز نہیں ملی حتیٰ کہ لوہے کہ انگوٹھی بھی نہیں ملی، میرے پاس بس میرا یہی تہبند ہے، میں آدھی تہبند اس کو دے سکتا ہوں، سہل ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: اس کے پاس چادر نہیں تھی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے تہبند سے کیا کر سکتے ہو؟ تم پہنو گے تو وہ نہیں پہن سکتی اور وہ پہنے گی تو تم نہیں پہن سکتے“، وہ آدمی بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا، پھر ( مایوس ہو کر ) اٹھ کر چلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا تو اسے حکم دے کر بلا لیا، جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں فلاں سورت، اس نے گن کر بتایا۔ آپ نے کہا: ”کیا تم اسے زبانی ( روانی سے ) پڑھ سکتے ہو“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ” ( جاؤ ) جو تمہیں قرآن یاد ہے اسے یاد کرا دو اس کے عوض میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا“ ( یعنی میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فُرَيْعَةُ بِنْتُ مَالِكٍ، أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَتْ تُوُفِّيَ زَوْجِي بِالْقَدُّومِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ دَارَنَا شَاسِعَةٌ فَأَذِنَ لَهَا ثُمَّ دَعَاهَا فَقَالَ " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " .
Furai'ah bint Malik, the sister of Abu Sa'eed Al-Khudri, said:"My husband died in Al-Qadum, so I went to the Prophet and told him that our house was remote." He gave her permission then he called her back and said: "Stay in your house for four months and ten days, until the term prescribed is fulfilled
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر کا قدوم ( بستی ) میں انتقال ہو گیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا کہ میرا گھر ( بستی سے ) دور ( الگ تھلگ ) ہے ( تو میں اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار لوں؟ ) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا: ”اپنے گھر ہی میں چار مہینے دس دن رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ قُلْتُ لِحَمَّادٍ سَمِعْتُ مَنْصُورًا، وَسُلَيْمَانَ، وَزُبَيْدًا، يُحَدِّثُونَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " . مَنْ تَتَّهِمُ أَتَتَّهِمُ مَنْصُورًا أَتَتَّهِمُ زُبَيْدًا أَتَتَّهِمُ سُلَيْمَانَ قَالَ لاَ وَلَكِنِّي أَتَّهِمُ أَبَا وَائِلٍ .
It was narrated from Shu'bah who said:"I said to Hammad: 'I heard Mansur, and Sulaiman, and Zubaid narrating from Abu Wa'il, from 'Abdullah, that the Messenger of Allah [SAW] said: "Defaming a Muslim is evildoing and fighting him is Kufr." - Who are you worried about? Are you worried about Mansur? Are you worried about Zubaid? Are you worried about Sulaiman?' He said: 'No, but I am worried about Abu Wa'il
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ، بَزًّا مِنْ هَجَرَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِمِنًى وَوَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ فَاشْتَرَى مِنَّا سَرَاوِيلَ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ " زِنْ وَأَرْجِحْ " .
It was narrated that Suwaid bin Qais said:"Makhrafah Al-Abdi and I brought some cloth from Hajar, and the Messenger of Allah came to us while we were in Mina where there w a man who weighed (goods) in return for payment. He bought some trousers from us, and said to the man who weighed: 'Weigh it, and allow more
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الأَصَابِعُ عَشْرٌ عَشْرٌ .
It was narrated that Ibn 'abbas said:"The (Diyah for) fingers are ten each
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْحَرِيرِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَأَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا . خَالَفَهُ هِشَامٌ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
It was narrated that 'Ali said:"The Prophet [SAW] forbade me from Al-Qassi, silk, gold rings, and that I recite Qur'an while bowing." Hisham contradicted him, he did not narrate it in Marfu' form
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي وَالِدَتِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الأَشْرِبَةِ، فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ . وَاعْتَلُّوا بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ .
It was narrated that 'Aishah was asked about drinks and she said:"The Messenger of Allah [SAW] used to forbid all intoxicants." And they use the narration of 'Abdullah bin Shaddad from 'Abdullah bin 'Abbas