أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْمُفَدَّمِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ .
It was narrated that Ali said:"The Messenger of Allah (ﷺ) forbade me-but I do not say he forbade you- from wearing gold rings, Al-Qassi, and from wearing Al-Mufaddam, and from wearing clothes dyed with safflower, and from reciting Qur'an when bowing
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے، انتہائی سرخ کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنْ كُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَمَرَّةً " .
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said:"Mu'aiqib told me that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If you have to do that, then do it only once
معیقب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر تمہیں ( کنکریوں پر ) ہاتھ پھیرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار پھیر سکتے ہو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Ghusl on Friday is obligatory for everyone who has reached the age of puberty
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، - هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَنَتْفِ الإِبْطِ أَنْ لاَ نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا . وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً .
It was narrated that Anas bin Malik said:"A time limit was set for us, by the Messenger of Allah (ﷺ), regarding trimming the mustache, clipping the nails and plucking the pubes; we were not to leave that for more than forty days," on one occasion he said: "Forty nights
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کترنے، ناخن تراشنے، زیر ناف کے بال صاف کرنے، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎، راوی نے دوسری بار «أربعين يومًا» کے بجائے «أربعين ليلة» کے الفاظ کی روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated that Harithah bin Wahab said:"The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer in Mina, two rak'ahs, when the people were greater in number and more secure
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں دو رکعت پڑھائی، ایک ایسے وقت میں جس میں لوگ تعداد میں زیادہ تھے، اور سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " . ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " . ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَىْءٍ وُعِدْتُمْ لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي أَرَدْتُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَىٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ " .
It was narrated from Ibn Shihab rom 'Urwah bin Az-Zubair, that Aishah said:"The sun was eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood and said the takbir, and the people formed rows behind him. The Messenger of Allah (ﷺ) recited for a long time, then he said the takbir and bowed for a long time, then he raised his head and said: Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd. Then he stood and recited for a long time, but it was a shorter recitation than the first recitation, then he said the takbir and bowed but it was shorter than the first bowing. Then he said: Sami Allahu liman hamidah, then he prostrated. In this manner, he bowed four times, and the eclipse ended before he had finished. Then he stood and addressed the people. He praised and glorified Allah (SWT), the Mighty and Sublime, as He deserves, then he said: The sun and moon are two of the signs of Allah (SWT), Most High. They do not become eclipsed for the death or birth of anyone. If you see that (eclipsed) then pray until it ends. And the Messenger of Allah (ﷺ) said: While I was standing just now I saw everything you have been promised. When you saw me moving forward, I wanted to take a cluster of fruit from Paradise. And I saw Hell; parts of it were consuming other parts when you saw me step backward. And I saw therein Ibn Luhayy, who was the first one to establish the Sa'ibah
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے، اور تکبیر کہی، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی قرآت کی، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، تو«سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر آپ کھڑے رہے، اور ایک لمبی قرآت کی مگر پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کہی، اور ایک لمبا رکوع کیا، مگر پہلے رکوع سے چھوٹا، پھر آپ نے «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا، اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے پورے کیے، آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کیا، تو اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی، پھر فرمایا: بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو، جب تک کہ وہ تم سے چھٹ نہ جائے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے اس کھڑے ہونے کی جگہ میں ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، میں نے چاہا کہ جنت کے پھلوں میں سے ایک گچھا توڑ لوں، جب تم نے مجھے دیکھا میں آگے بڑھا تھا، اور میں نے جہنم کو دیکھا، اس حال میں کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا، اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا ۱؎، یہی ہے جس نے سب سے پہلے سائبہ چھوڑا ۲؎ ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - وَهُوَ الْعُمَرِيُّ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قُحِطَتِ الْمَطَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا . قَالَ " اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا " . قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ - قَالَ - فَأَنْشَأَتْ سَحَابَةٌ فَانْتَشَرَتْ ثُمَّ إِنَّهَا أُمْطِرَتْ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى وَانْصَرَفَ النَّاسُ فَلَمْ تَزَلْ تَمْطُرُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ صَاحُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا . فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا " . فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تَمْطُرُ حَوْلَهَا وَمَا تَمْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الإِكْلِيلِ .
It was narrated from Thabit that Anas said:"The Prophet (ﷺ) was delivering the Khutbah one Friday when the people stood up and shouted: 'O Prophet of Allah! There has been no rain and the animals have died. Pray to Allah (SWT) to send us rain.' He said: 'O Allah, send us rain; O Allah, send us rain.' By Allah (SWT), we could not see even a wisp of a cloud in the sky, then a cloud appeared and grew, and it rained. The Messenger of Allah (ﷺ) came down and prayed, and the people departed, and it continued to rain until the following Friday. When the Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver the Khutbah, they called out to him and said: 'O Prophet of Allah, the houses are destroyed and the routes are cut off. Pray to Allah to take it away from us.' The Messenger of Allah (ﷺ) smiled and said: 'O Allah, around us and not on us!' Then is dispersed from Al-Madinah and rain fell around Al-Madinah but not a single drop fell on Al-Madinah. I looked, and it was in something like a ring
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کی طرف اٹھ کر بڑھے، اور چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! بارش نہیں ہو رہی ہے، اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ تو آپ نے دعا کی: «اللہم اسقنا اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اس وقت ہم کو آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا ( مگر آپ کے دعا کرتے ہی ) بدلی اٹھی، اور پھیل گئی، پھر برسنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، اور آپ نے نماز پڑھی، اور لوگ فارغ ہو کر پلٹے تو دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی۔ تو دوسرے جمعہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، تو لوگ پھر چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! گھر گر گئے، راستے ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ اب اسے ہم سے روک لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور آپ نے دعا فرمائی: «اللہم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا ہم پر نہ برسا تو بادل مدینہ سے چھٹ گئے، اور اس کے اطراف میں برسنے لگے، اور مدینہ میں ایک بوند بارش کی نہیں پڑ رہی تھی۔ میں نے مدینہ کو دیکھا کہ وہ ایسا لگ رہا تھا گویا وہ تاج پہنے ہوئے ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) offered the fear prayer during one of his battles. One group stood with him and another group faced the enemy. He led those who were with him in praying one rak'ah, then they went away and the others came, and he led them in praying one rak'ah. Then each group made up one rak'ah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض غزوات میں خوف کی نماز پڑھی، تو ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں رہا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہیں آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسرے لوگ آ گئے تو آپ نے انہیں ( بھی ) ایک رکعت پڑھائی، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت پوری کی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يُخْبِرُ عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَشْهَدُ أَنِّي شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ .
It was narrated that 'Ata said:"I heard Ibn 'Abbas say: 'I bear witness that I attended 'Eid with the Messenger of Allah (ﷺ); he started with the prayer before the Khutbah, then he delivered the Khutbah
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک رہا، تو آپ نے خطبہ سے پہلے نماز شروع کی، پھر آپ نے خطبہ دیا۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ " أَلاَ تُصَلُّونَ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهَا بَعَثَهَا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ " { وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً } " .
It was narrated from 'Ali bin Abi Talib that:The Prophet (ﷺ) came to him and Fatimah at night and said: "Won't you pray?" I said: "O Messenger of Allah (ﷺ), our souls are in the hand of Allah and if He wants to make us get up, He will make us get up." The Messenger of Allah (ﷺ) went away when I said that to him. Then as he was leaving I heard him striking his thigh and saying: But, man is ever more quarrelsome than anything
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور فاطمہ کو ( دروازہ کھٹکھٹا کر ) بیدار کیا، اور فرمایا: کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ انہیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ پڑے، پھر میں نے آپ کو سنا، آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے اور اپنی ران پر ( ہاتھ ) مار کر فرما رہے تھے: «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» انسان بہت حجتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنه فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَرْتَدَّ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ امْكُثُوا وَأَلْقَى السِّجْفَ وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَذَلِكَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ .
It was narrated that Anas said:"The last time I saw the Messenger of Allah, he drew back the curtain when the people were in rows behind Abu Bakr, may Allah be pleased with him. Abu Bakr wanted to step back, but he gestured to them to stay as they were, and let the curtain drop. He died at the end of that day, and that was a Monday
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار اس وقت کیا تھا ( جب ) آپ نے ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے ( کھڑے تھے ) ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا ( پھر ) آپ اسی دن کے آخری ( حصہ میں ) انتقال فرما گئے، اور یہ دوشنبہ کا دن تھا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَدِيدِ بَنِي تَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَكُمْ تُفَتَّحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغَلَّقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ .
It was narrated form Anas bin Malik that the Messenger of Allah said:" There has come to you Ramadan in which the gates of Paradise are opened, the gates of the fire are closed and the devils are chained up." (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman said: this narration is a mistake
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رمضان ہے جو تمہارے پاس آپ پہنچا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ حدیث غلط ہے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ بِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَأْتِي الإِبِلُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ إِذَا هِيَ لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَأْتِي الْغَنَمُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ إِذَا لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا - قَالَ - وَمِنْ حَقِّهَا أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ أَلاَ لاَ يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَاءٌ فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ . أَلاَ لاَ يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ - قَالَ - وَيَكُونُ كَنْزُ أَحَدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَيَطْلُبُهُ أَنَا كَنْزُكَ فَلاَ يَزَالُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ " .
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: '(On the Day of Resurrection) camels will come to their owner in the best state of health that they ever had (in this world) and if he did not pay what was due on them, they will trample him with their hooves. Sheep willcome to their owner in the best state of health that they ever had (in this world) and if he did not pay what was due on them, they will trample him with their cloven hooves and gore him with their horns. And among their rights are that they should be milked with water in the front of them. I do not want any one of you to come on the Day of Resurrection with a groaning camel on his neck, saying , O Muhammad, and I will say: I cannot do anything for you, I conveyed the message. I do not want any one of you to come on the Day of Resurrection with a bleating sheep on his neck, saying, "O Muhammad," and I will say: "I cannot do anything for you, I conveyed the message." And on the Day of Resurrection the hoarded treasure of one of you will be a blad-headed Shujaa[1]from which its owner will flee, but it will chase him (saying), I am your hoarded treasure, and it will keep (chasing him) until he gives it his finger to swallow
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا اس سے بہتر حالت میں آئیں گے جس میں وہ ( دنیا میں ) تھے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، اور بکریاں اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا، اس سے بہتر حالت میں آئیں گی جس حالت میں وہ ( دنیا میں ) تھیں۔ وہ اسے اپنی کھروں سے روندیں گی، اور اپنی سینگوں سے ماریں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حق یہ بھی ہے کہ انہیں اسی جگہ دوہا جائے جہاں انہیں پانی پلانے کا نظم ہو ۱؎، سن لو، قیامت کے دن تم میں کا کوئی اپنے اونٹ کو اپنی گردن پر لادے ہوئے نہ لائے وہ بلبلا رہا ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! ( بچائیے مجھ کو اس عذاب سے ) کہ میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے بتا چکا تھا، سن لو! قیامت کے دن کوئی اپنی گردن پر بکری کو لادے ہوئے نہ آئے کہ وہ ممیا رہی ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! ( مجھے اس عذاب سے بچائیے ) کہ اس وقت میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے پہلے ہی بتا چکا ہوں“۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا خزانہ ۲؎ قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر سامنے آئے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا برابر پیچھا کرتا رہے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس کی انگلی کو اپنے منہ میں داخل کر لے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَمَاتَتْ فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَاقْضُوا اللَّهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:a woman vowed to perform Hajj but she died. Her brother came to the Prophet and asked him about that, he said: 'Do yhou think that if your sister owed a debt you wouold pay it off?' He said: 'Yes.' He said: 'Then fulfill the right of Allah, for He is more deserving that His rights should be fulfilled
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی، پھر ( حج کئے بغیر ) مر گئی، اس کا بھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں میں ادا کرتا، آپ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کرو وہ تو اور بھی ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ عُفَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لاَ تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ " .
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'By the One in Whose hand is my soul, were it not for the fact that there are some believing men who would not feel happy to stay behind (when I go out on a campaign) and I do not have the means to provide them with mounts (so that they cn join me), I would not have stayed behind from any campaign or battle in the cause of Allah. By the One in Whose hand is my soul, I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then be killed, then be brought back to life, then be killed then be brought back to life, then be killed
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر بہت سے مسلمانوں کو مجھ سے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا اور میں ایسی چیز نہ پاتا جس پر انہیں سوار کر کے لے جاتا تو کسی ایسے فوجی دستے سے جو اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا ہو پیچھے نہ رہتا، ( لیکن چونکہ مجبوری ہے اس لیے ایسے مجبور کے لیے فوجی دستے کے ساتھ نہ جانے کی رخصت ہے ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔
Narrated by Abdullah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَنْكِحْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لاَ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ " .
Narrated 'Abdullah:It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah said to us: 'O young men, whoever among you can afford it, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding chastity, and whoever cannot then he should fast, for it will be a restraint (wija') for him
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نوجوانوں سے کہا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو بیوی کے نان و نفقہ کا بار اٹھا سکتا ہو، اسے شادی کر لینی چاہیئے، کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ نبھا سکتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کا توڑ ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاَهُنَّ بِالتُّرَابِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"If a dog licks the vessel of any one of you, let him wash it seven times, the first time with dust
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے ( مانجھے ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَيَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ . فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتَ عَنْهَا . فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَ عُوَيْمِرٌ قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا . فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Sahl bin Sa'd As-Sa'idi narrated that 'Uwaimir Al-'Ajlani came to 'Asim bin 'Adiy and said:"What do you think, O 'Asim! If a man finds another man with his wife, should he kill him, and be killed in retaliation, or what should he do? O 'Asim! Ask the Messenger of Allah about that for me." So 'Asim asked the Messenger of Allah about that, and the Messenger of Allah disapproved of the question, and criticized the asking of too many questions until 'Asim felt upset. When 'Asim went back to his people, 'Uwaimir came to him and said: "O 'Asim, what did the Messenger of Allah say to you?" 'Asim said: "You have not brought me any good. The Messenger of Allah disapproved of the question you asked." 'Uwaimir said: "By Allah, I will go and ask the Messenger of Allah." So he went to the Messenger of Allah and found him in the midst of the people. He said: "O Messenger of Allah, what do you think if a man finds another man with his wife -should he kill him, and be killed in retaliation or what should he do?" The Messenger of Allah said: "Something has been revealed concerning you and your wife, so go and bring her here." Sahl said: "So they engaged in the procedure of Li'an, and I was among the people in the presence of the Messenger of Allah. When 'Uwaimir finished he said: "I would have been telling lies about her, O Messenger of Allah, if I keep her." So he divorced her thrice before the Messenger of Allah told him to do so
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: عاصم! بتاؤ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ ( وہ قتل کر دے ) تو لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے! بتاؤ وہ کیا اور کیسے کرے؟ عاصم! اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر مجھے بتاؤ، عاصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ مسئلہ ) پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کے سوالات برے لگے اور آپ نے اسے ناپسند فرمایا ۱؎، عاصم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو بڑی گراں گزری ۲؎، جب عاصم رضی اللہ عنہ لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے مجھے کوئی اچھی بات نہیں سنائی، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! یہ مسئلہ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر رہوں گا، ( یہ کہہ کر ) عویمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہو گئے اور آپ جہاں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے وہاں پہنچ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے ایک شخص اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ ( اگر وہ اسے قتل کر دے ) تو آپ لوگ اسے ( اس کے بدلے میں ) قتل کر ڈالیں گے! ( ایسی صورت حال پیش آ جائے ) تو وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں قرآن نازل ہوا ہے، جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( وہ لے کر آئے ) پھر دونوں ( یعنی عویمر اور اس کی بیوی نے ) لعان کیا، میں بھی اس وقت لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ پھر جب عویمر رضی اللہ عنہ لعان سے فارغ ہوئے تو کہا: اللہ کے رسول! اگر میں نے ( اس لعان کے بعد ) اس کو اپنے گھر رکھا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں جھوٹا ہوں ( اور میں نے اس پر تہمت لگائی ہے ) یہ کہہ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے اسے ( دھڑا دھڑ ) تین طلاقیں دے دیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated that 'Urwah Al-Bariqi said:"The Messenger of Allah said: 'Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر رکھ دی گئی ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ وَفَزِعُوا . فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ وَإِذَا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَيْهِ مُلاَءَةٌ صَفْرَاءُ قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ فَقَالَ أَهَا هُنَا عَلِيٌّ أَهَا هُنَا طَلْحَةُ أَهَا هُنَا الزُّبَيْرُ أَهَا هُنَا سَعْدٌ قَالُوا نَعَمْ . قَالَ فَإِنِّي أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلاَنٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " اجْعَلْهَا فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ " . قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . فَابْتَعْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا . قَالَ " اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ " . قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَقَالَ " مَنْ جَهَّزَ هَؤُلاَءِ اللَّهُ غَفَرَ لَهُ " . يَعْنِي جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالاً وَلاَ خِطَامًا . قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ .
It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said:"We set out for Hajj, and came to Al-Madinah intending to perform Hajj. While we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: 'The people have gathered in the Masjid and there is panic.' So we set out and found the people gathered around a group in the middle of the Masjid, among whom were 'Ali, Az-Zubair, Talhah and Sa'd bin Abi Waqqas. While we were like that, 'Uthman came, wearing a yellowish cloak with which he had covered his head. He said: Is 'Ali here? Is Talhah here? Is Az-Zubair here? Is Sa'd here? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah said: Whoever buys the Mirbad of Banu so and so, Allah will forgive him, and I bought it for twenty or twenty-five thousand, then I came to the Messenger of Allah and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours? They said: By Allah, yes. He said: 'I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah said: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I bought it for such and such an amount, then I came to the Messenger of Allah and told him, and he said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours?' They said: By Allah, yes. He said: 'I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah said: Whoever equips these (men), Allah will forgive him, -meaning the army of Al-'Usrah (i.e. Tabuk)- so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle?' They said: By Allah, yes. He said: O Allah, bear witness, O Allah, bear witness
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلے۔ مدینہ پہنچ کر ہم اپنے پڑاؤ کی جگہوں ( خیموں ) میں اپنی سواریوں سے سامان اتار اتار کر رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے نے آ کر خبر دی کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہیں اور گھبرائے ہوئے ہیں تو ہم بھی ( وہاں ) چلے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مسجد کے بیچ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگ انہیں ( چاروں طرف سے ) گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ ہم یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان بن عفان آ گئے، وہ اپنے اوپر ایک پیلی چادر ڈالے ہوئے تھے اور اس سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے۔ ( آ کر ) کہنے لگے: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں ( ہیں ) انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بنی فلاں کا «مربد» ( کھجوریں خشک کرنے کا میدان، کھلیان ) خرید لے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے ( وقف کر کے ہماری ) مسجد میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“۔ ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں ( ہمیں معلوم ہے ) ( پھر ) انہوں نے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا“، تو میں نے اسے اتنے اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اسے اتنے داموں میں خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کو عام مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“۔ انہوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں، ( پھر ) انہوں نے کہا: میں قسم دیتا ہوں تم کو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا ”جو شخص ان لوگوں کو تیار کر دے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“۔ «هؤلاء» سے مراد جیش عسرت ہے ( ساز و سامان سے تہی دست لشکر ) تو میں نے انہیں مسلح کر دیا اور اس طرح تیار کر دیا کہ انہیں اونٹوں کے پیر باندھنے کی رسی اور نکیل کی رسی کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی تو ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا ہاں ( ایسا ہی ہوا ہے ) تب عثمان نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ ( میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا ہے اور ایسا کرنے والا مجرم نہیں ہو سکتا ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، - وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ - فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ - فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلاَةِ وَإِذَا كَانَ الآخَرُ فَتَوَضَّئِي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ هَذَا مِنْ كِتَابِهِ .
It was narrated from Fatimah bint Abi Hubaish that she suffered from Istihadah and the Messenger of Allah (ﷺ) said to her:"If it is menstrual blood then it is blood that is black and recognizable, so stop prying, and if it is other than that then perform Wudu', for it is just a vein
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ آتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو تو وہ سیاہ خون ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو تم نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کرو، کیونکہ یہ رگ ( کا خون ) ہے ۔ محمد بن مثنی کا کہنا ہے کہ ہم سے یہ حدیث ابن ابی عدی نے اپنی کتاب سے بیان کی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رضى الله عنه لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ صلى الله عليه وسلم وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى
It was narrated that 'Aishah said:"They say that the Messenger of Allah made a will concerning 'Ali, may Allah be pleased with him. But he called for a vessel in which to urinate, then he went limp without me realizing it. So to whom did he leave a will?
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی ( اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے ( روح پرواز کر گئی ) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ فِطْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ ذَهَبَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُهُ عَلَى شَىْءٍ أَعْطَانِيهِ فَقَالَ " أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ " . قَالَ نَعَمْ . وَصَفَّ بِيَدِهِ بِكَفِّهِ أَجْمَعَ كَذَا أَلاَ سَوَّيْتَ بَيْنَهُمْ .
An-Nu'man bin Bashir said:"My father took me to the Prophet to ask him to bear witness to something that he had given to me. He said: 'Do you have any other children?' He said: 'Yes.' He gestured with his hand held horizontally like this, (saying): 'Why don't you treat them all equally?
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد مجھے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، مجھے ایک چیز دی تھی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چیز پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے اس لڑکے کے علاوہ بھی کوئی اور لڑکا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں ہے، آپ نے اپنا پورا ہاتھ ہتھیلی سمیت ایک دم سیدھا پھیلاتے ہوئے فرمایا: ”تم نے اس طرح ان کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی ۱؎؟“۔
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Tawus, from his father, from Ibn 'Abbas, that the Messenger of Allah said:"The one who takes back his gift, is like the dog which vomits then goes back to its vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہبہ کر کے واپس لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا اور اپنے قے کو چاٹتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " . وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
(A different chain) from Ma'mar who said:"I heard 'Amr bin Dinar, narrating from Tawus, from Hujr Al-Madari, from Zaid bin Thabit, that the Messenger of Allah said: "'Umra (a gift given for life) belongs to the heir." And Allah knows best
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“، واللہ اعلم ( اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنْبَأَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عُمْرَى وَلاَ رُقْبَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ " .
Ibn Juraij narrated from 'Ata':"Habib bin Abi Thabit informed us from Ibn 'Umar, that the Messenger of Allah said: 'There is no 'Umra and no Ruqba. Whoever is given something on the basis of 'Umra or Ruqba, it belongs to him for the rest of his life and after he dies
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اور رقبیٰ ( مناسب ) نہیں ہے اور اگر کسی کو کوئی چیز بطور عمریٰ یا رقبیٰ دے ہی دی گئی تو وہ چیز اس کی ہو جائے گی اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلاَ بِالطَّوَاغِيتِ " .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet said:"Do not swear by your forefathers or by false gods (At-Tawaghit)
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں ( جھوٹے معبودوں ) کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هُدَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ فَقُمْتُ فَأَجَفْتُ الْبَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَلَمَّا رُفِّهَ عَنْهُ قَالَ لِي " يَا عَائِشَةُ إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ " .
It was narrated that 'Aishah said:"Allah sent Revelation to the Prophet when I was with him, so I got up and closed the door between him and I. When it was taken off him, he said to me: 'O 'Aishah, Jibril sends greetings of Salam to you
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، میں آپ کے ساتھ تھی، میں اٹھی اور اپنے اور آپ کے درمیان دروازہ بند کر دیا، جب وحی ختم ہو گئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”عائشہ! جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَقَالَ " اقْتُلُوهُ " . ثُمَّ قَالَ " أَيَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّمَا يَقُولُهَا تَعَوُّذًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said:"We were with the Messenger of Allah [SAW] and a man came and whispered to him. He said: 'Kill him.' Then he said: 'Does he bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah)?' He said: 'Yes, but he is only saying it to protect himself.' The Messenger of Allah [SAW] said: 'Do not kill him, for I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah, and if they say it, their blood and their wealth are safe from me, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَمَا أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ قَالَ فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ قَالَ بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لاَ غِنَى بِي عَنْ بَرَكَاتِكَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'While Ayyub, peace be upon him, was bathing naked, locusts of gold landed on him and he started to collect them in his garment. Then his Lord called him (saying): "O Ayyub, did I not make you rich?" he said: "Yes, O Lord, but I cannot do without Your blessing
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے ۱؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: ایوب! کیا میں نے تمہیں بے نیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں میرے رب! لیکن تیری برکتوں سے میں بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ بَيْنَا أَنَا مَعَ، مُطَرِّفٍ بِالْمِرْبَدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مَعَهُ قِطْعَةُ أُدْمٍ قَالَ كَتَبَ لِي هَذِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَقْرَأُ قَالَ قُلْتُ أَنَا أَقْرَأُ فَإِذَا فِيهَا " مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ أَنَّهُمْ إِنْ شَهِدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَفَارَقُوا الْمُشْرِكِينَ وَأَقَرُّوا بِالْخُمُسِ فِي غَنَائِمِهِمْ وَسَهْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَصَفِيِّهِ فَإِنَّهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
It was narrated that Yazid bin Ash-Shikhkhir said:"While I was with Mutarrif in Al-Mirbad, a man came in carrying a piece of leather and said: 'This was written to me by the Messenger of Allah. Is there anyone among you who can read?' I said: 'I can read.' And it was (a letter) from Muhammad the Prophet to Banu Zuhair bin Uqaish, who had testified to Lailah illallah, and that Muhammad is the Messenger of Allah, and had left the idolaters, and had agreed to give the Khumus from their spoils of the Prophet, and wheatever he chose for himself, so they became safe and secure by the covenant of Allah and His Messenger
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ تُبَايِعُونِي عَلَى مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءُ أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ " . قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَمَنْ أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا فَنَالَتْهُ عُقُوبَةٌ فَهُوَ كَفَّارَةٌ وَمَنْ لَمْ تَنَلْهُ عُقُوبَةٌ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ " .
It was narrated from 'Ubadah bin As-Samit that the Messenger of Allah said:"Why don't you pledge to me upon that which the women have pledged: That you will not associate anything with Allah, that you will not steal, that you will not have unlawful sexual relations, that you will not utter slander, fabricating from between your hands and feet, and that you will not disobey me in goodness (Ma'ruf)?" We said: "yes, O Messenger of Allah." So we gave him our pledge, on that basis. The Messenger of Allah said: "Whoever commits any of these actions after that, and is punished, that will be an expiation. Whoever is not punished, then his affair is up to Allah; if He wills, He will forgive him, and if He wills, He will punish him
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ كَانَ أَعْطَاهَا مَوْلاَةً لِمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah passed by a dead sheep that he had given to a freed slave woman of Maimunah, the wife of the Prophet. He said: 'Why don't you make use of its hide?' They said: 'O Messenger of Allah, it is dead meat.' The Messenger of Allah said: 'It is only forbidden to eat it
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَكِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ . فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الصَّغِيرِ .
It was narrated that Az-Zuhri said:"Ibn As-Sabbaq said: "Maimunah told me that Jibril, peace be upon him, said to the Messenger of Allah 'We (Angles) do not enter a house in which there is a dog or a picture, The next day the Messenger of Allah commanded that all dogs be killed, even small dogs
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ أَوْ مُدَابَرَةٍ أَوْ شَرْقَاءَ أَوْ خَرْقَاءَ أَوْ جَدْعَاءَ .
It was narrated that 'Ali bin Abi Talib, may Allah be please with him, said:"The Messenger of Allah forbade sacrificing an animals with its ears slit form the front, and animals with its ears slit form the back, and animal with its ears slit lengthwise, an animals with a round hole in tits ear, or an animals with its nose cut off
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالطَّرِيقِ يَمْنَعُ ابْنَ السَّبِيلِ مِنْهُ وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لِدُنْيَا إِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَّى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلاً عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ الآخَرُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, or will He look at them, or sanctify them and theirs will be a painful torment: A man who has surplus water when traveling but he withholds it form a wayfarer; a man who swears allegiance to an imam for worldly gains, and if he gives him what he wants he is loyal to him but if he does not give him anything he is not loyal to him: and a man who sells a man his product after 'Asr, swerving by Allah that he bought it for such and such a price, and the other believes him
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلاً، بِالشَّامِ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ الْوِتْرُ وَاجِبٌ . قَالَ الْمُخْدَجِيُّ فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
It was narrated from Ibn Muhairiz that a man from Banu Kinanah who was called Al-Mukhdaji heard a man in Ash-Sham, who was known as Abu Muhammad, saying that Witr was obligatory. Al-Mukhdaji said:"In the morning I went to 'Ubadah bin As-Samit, and I met him while he was on his way to the Masjid. I told him what Abu Muhammad said, and 'Ubadah said: 'Abu Muhammad is wrong. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Five prayers are those that Allah has decreed for (His) slaves, whoever does them, and does not neglect any of them out of disregard toward them, will have a promise from Allah that He will admit him to Paradise. And whoever does not to them will have no such promise from Allah; if He wills he will punish him and if He wills He will admit him to Paradise
ابن محریز سے روایت ہے کہ بنی کنانہ کے ایک آدمی نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا شام میں ایک آدمی کو جس کی کنیت ابو محمد تھی کہتے سنا کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں: تو میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور میں نے مسجد جاتے ہوئے انہیں راستے ہی میں روک لیا، اور انہیں ابو محمد کی بات بتائی، تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں ادا کرے گا، اور ان میں سے کس کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا، تو اللہ کا اس سے پختہ وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جس نے انہیں ادا نہیں کیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلاً فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا قَالُوا مَا قَتَلْنَاهُ وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً . فَانْطَلَقُوا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلاً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْكُبْرَ الْكُبْرَ " . فَقَالَ لَهُمْ " تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ " . قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ . قَالَ " فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ " . قَالُوا لاَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ . وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبْطُلَ دَمُهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ . خَالَفَهُمْ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ .
It was narrated from Sa'eed bin 'Ubaid At-Ta'l from Bushair bin Yasar who said:"A man from among the Ansar who was called Sahl bin Abi Hathmah told him that some of his people went to Khaibar, where they went their separate ways. Then they found one of their numbers slain. They said to those in whose land they found him: 'You killed our companion!' They said: 'We did not kill him and we do not know who killed him.' They went to the prophet of Allah and said: 'O Prophet of Allah, we went to Khaibar and we found one of our number slain.' The Messenger of Allah said: 'Let the elders speak first.' And he said to them: 'Bring proof of the one whom you suspect killed him.' They said: 'We do not have any proof.' He said: "Then let them swear an oath to you.' They said" 'We will not accept the oath of the Jews.' The Messenger of Allah did not want his blood to have been shed with no Justice done, so he paid a Diyah of one hundred camels from the Sadaqah." 'Amr bin Shu'aib differed with them
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ أُخْتِ، صَفْوَانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُهَا ثَلاَثُونَ دِرْهَمًا فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلاَثِينَ دِرْهَمًا أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا . قَالَ " فَهَلاَّ كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " .
It was knarrated that Safwan bin Umayyah said:"I was sleeping in the Masjid on a Khmaishah of mine that was worth thirty dirhams, and a man came and stole it from me. The man was caught and taken to the Prophet, who ordered that his hand be cut off. I came to him and said: "Will you cut off his hand for the sake of only thirty Dirhams? I will sell it to him on credit." He said:" Why did you not say this before you brought him to me?
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلاَمُهُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ كُلَّ حَسَنَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا وَمُحِيَتْ عَنْهُ كُلُّ سَيِّئَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا ثُمَّ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلاَّ أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا " .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'If a person accepts Islam, such that his Islam is good, Allah will decree reward for every good deed that he did before, and every bad deed that he did before will be erased. Then after that will come the reckoning; each good deed will be rewarded ten times up to seven hundred times. And each bad deed will be recorded as it is, unless Allah, the Mighty and Sublime, forgives it
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَعْرًا رَجِلاً لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلاَ بِالسَّبْطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ .
It was narrated that Anas said:"The hair of the Prophet [SAW] was wavy, neither curly nor straight, and (hung down) between his ears and his shoulders
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ .
It was narrated that Anas bin Malik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray 'Asr when the sun was still high and bright, and a person could go to Al-'Awali [1] when the sun was still high." [1] Al-'Awali is the southern most district of Al-Madinah, and it is very big. Its nearest limit is at a distance of about two miles from the center of Al-Madinah. While its furthest limit is about eight miles
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا ( نماز پڑھ کر ) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ ". فَأَخَذَ الْفَضْلُ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا - وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسْنَاءَ - وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْفَضْلَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ.
It was narrated from Ibn Shihab that Sulaiman bin Yasar told him that Ibn 'Abbas told him that:A woman from Khath'am said: "O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, and he cannot sit upright in the saddle. Will it discharge his duty if I perform Hajj on his behalf?" The Messenger of Allah [SAW] said to her: "Yes." Al-Fadl starting turning toward her, for she was a beautiful woman, and the Messenger of Allah [SAW] turned Al-Fadl's face to the other side
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنِي بَدَلٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَأْ يَا جَابِرُ " . قُلْتُ وَمَاذَا أَقْرَأُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " اقْرَأْ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } وَ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } " . فَقَرَأْتُهُمَا فَقَالَ " اقْرَأْ بِهِمَا وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا " .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah [SAW] said to me: 'Recite, O Jabir!' I said: 'What should I recite, may my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah?' He said: Recite: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak...,' and: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind...' So I recited them, and he said: 'Recite them, for you will never recite anything like them
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، - هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ - عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ وَأَنْ يُخْلَطَ الزَّهْوُ وَالتَّمْرُ وَالزَّهْوُ وَالْبُسْرُ.
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade mixing dried dates and raisins, and mixing Az-Zahuw and dried dates, and Az-Zahuw and Al-Busr
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَذَّنَ بِلاَلٌ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . قَالَتْ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلاَّ أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَصْعَدَ هَذَا .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah (S.A.W) said: 'Bilal calls the Adhan during the night, so eat and drink until Ibn Umm Maktum calls the Adhan." She said: "And there was no more between than the time it takes for one to come down and the other to go up
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بلال اذان دیں تو کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں ، ان دونوں کے درمیان صرف اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ یہ اتر رہے ہوتے اور وہ چڑھ رہے ہوتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلاَزِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ فِي إِدَاوَةٍ وَأَمَرَنَا فَقَالَ " اخْرُجُوا فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا " . قُلْنَا إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يَنْشَفُ . فَقَالَ " مُدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ فَإِنَّهُ لاَ يَزِيدُهُ إِلاَّ طِيبًا " . فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَكَسَرْنَا بِيعَتَنَا ثُمَّ نَضَحْنَا مَكَانَهَا وَاتَّخَذْنَاهَا مَسْجِدًا فَنَادَيْنَا فِيهِ بِالأَذَانِ . قَالَ وَالرَّاهِبُ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ فَلَمَّا سَمِعَ الأَذَانَ قَالَ دَعْوَةُ حَقٍّ . ثُمَّ اسْتَقْبَلَ تَلْعَةً مِنْ تِلاَعِنَا فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ .
It was narrated that Talq bin 'Ali said:"We went out as a delegation to the Prophet (ﷺ); we gave him our oath of allegiance and prayed with him. We told him that in our land there was a church that belonged to us. We asked him to give us the leftovers of his purification (Wudu' water). So he called for water, performed Wudu' and rinsed out his mouth, then he poured it into a vessel and said to us: 'Leave, and when you return to your land, demolish your church, and sprinkle this water on that place, and take it as a Masjid.' We said: 'Our land is far away and it is very hot; the water is far away and it is very hot; the water will dry up.' He said: 'Add more water to it, for that will only make it better.' So we left and when we came to our land we demolished our church, then we sprinkled the water on that place and took it as a Masjid, and we called the Adhan in it. The monk was a man from Tayy', and when he heard the Adhan, he said: 'It is a true call.' Then he headed toward one of the hills and we never saw him again
طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وفد کی شکل میں نکلے، ہم نے آ کر آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور آپ کو بتایا کہ ہماری سر زمین میں ہمارا ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کی درخواست کی، تو آپ نے پانی منگوایا وضو کیا، اور کلی کی پھر اسے ایک برتن میں انڈیل دیا، اور ہمیں ( جانے ) کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اور جب تم لوگ اپنے علاقے میں پہنچنا تو گرجا ( کلیسا ) کو توڑ ڈالنا، اور اس جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اسے مسجد بنا لینا ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا ملک دور ہے، اور گرمی سخت ہے، پانی سوکھ جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں اور پانی ملا لیا کرنا کیونکہ تم جس قدر ملاؤ گے اس کی خوشبو بڑھتی جائے گی ؛ چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ اپنے ملک میں آ گئے، تو ہم نے گرجا کو توڑ ڈالا، پھر ہم نے اس جگہ پر یہ پانی چھڑکا اور اسے مسجد بنا لیا، پھر ہم نے اس میں اذان دی، اس گرجا کا راہب قبیلہ طے کا ایک آدمی تھا، جب اس نے اذان سنی تو کہا: یہ حق کی پکار ہے، پھر اس نے ہمارے ٹیلوں میں ایک ٹیلے کی طرف چلا گیا، اس کے بعد ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ كَرِهْتُ أَنْ أَقُومَ - فَأَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ - انْسَلَلْتُ انْسِلاَلاً .
It was narrated that Aishah, may Allah be pleased with her, said:"I was in front of the Messenger of Allah (ﷺ) when he was praying, and when I wanted to leave I did not want to get up and pass in front of him, so I just slipped away slowly and quietly
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھی، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو جب میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے یہ بات ناگوار لگی کہ میں اٹھ کر آپ کے سامنے سے گزروں تو میں دھیرے سے سرک گئی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah that his father said:"The messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the call to prayer is given, do not stand up until you see me
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جائے، تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہوا کرو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ قُلْتُ لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا - قَالَ - وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا .
Wa'il bin Hujr said:"I said: 'I am going to watch how the Messenger of Allah (ﷺ) prays.' So I watched him and he stood and said the takbir, and raised his hands until they were in the level with his ears, then he placed his right hand over his left hand, wrist and lower forearm. When he wanted to bow he raised his hands likewise. Then he prostrated and placed his hands in level with his ears. Then he sat up and placed his left leg under him; he put his left hand on his left thigh and knee, and he put the edge of his right elbow on his right thigh, then he held two of his fingers together and made a circle, and raised his forefinger, and I saw him moving it and supplicating with it
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں ؛ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل لے گئے، پھر آپ نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی ( کی پشت ) ، کلائی اور بازو پر رکھا ۱؎، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، پھر جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل رکھا، پھر آپ نے قعدہ کیا، اور اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی داہنی کہنی کا سرا اپنی داہنی ران کے اوپر اٹھائے رکھا، پھر آپ نے اپنی انگلیوں میں سے دو کو بند ۲؎ کر لیا، اور ( بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ ( دائرہ ) بنا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کرتے تھے۔