أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ - وَهُوَ ابْنُ إِيَاسٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا } قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ - وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ - وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ } أَىْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعُ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ { وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا } عَنْ أَصْحَابِكَ فَلاَ يَسْمَعُوا { وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً } .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:Concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "And offer your salah (prayer) neither aloud nor in a low voice"- It was revealed when the Messenger of Allah (ﷺ) was still (preaching) in secret in Makkah. When he led his companions in prayer, he would raise his voice" -(One of the narrators) Ibn Mani' said: He would recite the Quran out loud"- "And when the idolators heard his voice they would insult the Quran, and the One Who revealed it, and the one who brought it. So Allah, the Mighty and Sublime, said to His Prophet (ﷺ): And offer your salah (prayer) neither aloud that is, such that the idolators can hear your recitation and insult the Quran; nor in a low voice, so that your companions cannot hear; but follow a way between
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے رہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے، ( ابن منیع کی روایت میں ہے: قرآن زور سے پڑھتے ) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاَةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ فَأَمَّا التَّشَهُّدُ فِي الصَّلاَةِ " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . إِلَى آخِرِ التَّشَهُّدِ .
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) taught us the tashahhud for prayer and the tashahhud for Al-Hajah. The tashahhud for prayer is: At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat, as-salamu 'alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu 'alaina wa 'ala 'ibad illahis-salihin, ashahdu an la illaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu (Allah compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah (SWT) and his blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah (SWT). I bear witness that none has the right to be worshipped except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger).' (to the end of the tashahhud)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صلاۃ کا تشہد اور حاجت کا تشہد دونوں سکھایا، رہا صلاۃ کا تشہد تو وہ «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمٍّ، لَهُ بَدْرِيٍّ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُهُ فِي صَلاَتِهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ لَهُ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . حَتَّى كَانَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَقَالَ وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ وَحَرَصْتُ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي . قَالَ " إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلاَتَكَ عَلَى هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا فَإِنَّمَا تَنْتَقِصُهُ مِنْ صَلاَتِكَ " .
Ali bin Yahya bin Khallad bin Raf' bin Malik Al-Ansari said:"My father narrated to me that a paternal uncle of his, who had been at Badr, said: 'I was sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) in the masjid when a man came in and prayed two rak'ahs, then he came and greeted the Prophet (ﷺ) with salam. The Prophet (ﷺ) had been watching him as he prayed, so he returned his salam, then he said: "Go back and pray, for you have not prayed." So he went back and prayed, then he came back and greeted the Prophet (ﷺ) with salam. He returned the salam, then he said: "Go back and pray, for you have not prayed." The third or fourth time this happened, then the man said: "By the One Who revealed the Book to you, I have done my best and have tried hard; show me and teach me." He said: 'When you want to pray, perform wudu and do it well, then turn to face the Qiblah and say the takbir. Then recite the Quran, then bow until you are at ease in bowing. Then stand up until you are standing straight, then prostrate until you are at ease prostrating, then sit up until you are at ease sitting, then prostrate until you are at ease prostrating, then get up. If you complete the prayer in this manner you wil hve done it properly, and whatever you do less than this is lacking from you prayer
یحییٰ بن خلاد بن رافع بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے چچا بدری صحابی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہ آیا، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر اس سے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ وہ واپس آیا، اور پھر سے اس نے نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، یہاں تک کہ تیسری یا چوتھی بار میں اس نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، میں اپنی کوشش کر چکا ہوں، اور میری خواہش ہے آپ مجھے ( صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ ) دکھا، اور سکھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو پھر قرآت کرو پھر رکوع میں جاؤ اور رکوع میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ میں جاؤ اور اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کر اور سجدہ میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ تو جب تم اپنی نماز کو اس نہج پر پورا کرو گے تو وہ مکمل ہو گی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ کمی کی تو تم اپنی نماز میں کمی کرو گے۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، ��َنْ مَنْصُورٍ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ . قَالَ أَحْمَدُ فَنَضَحَ فَرْجَهُ .
It was narrated that Al-Hakam bin Sufyan said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing Wudu' and sprinkling his private area (with water)
حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں «و نضح فرجه» کی جگہ «فنضح فرجه» ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ، وَزُبَيْدٌ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوَتْرِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } ثُمَّ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " . وَيَرْفَعُ بِـ " سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " . صَوْتَهُ بِالثَّالِثَةِ . رَوَاهُ مَنْصُورٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَرًّا .
Khalid said:"Shu'bah narrated to us, he said: Salamah and Zubaid informed me, from Dharr, from Ibn 'Abdur-Rahman bn Abza from Abdur-Rahman, that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Witr: "Glorify the Name of your Lord, the Most High;" and "Say: O you disbelievers!;' and 'Say: He is Allah, (the) One.' And when he said the taslim, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, raising his voice with Subhanal-Malikil-Quddus the third time
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور«قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے، تو «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار «سبحان الملك القدوس» کہتے وقت اپنی آواز بلند کرتے تھے۔ منصور نے اسے سلمہ بن کہیل سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے ذر کا ذکر نہیں کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ ابْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ ثُمَّ قَالَ أُهَاجِرُ مَعَكَ . فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةٌ غَنِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبْيًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ فَأَعْطَى أَصْحَابَهُ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهُمْ فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا قِسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ " قَسَمْتُهُ لَكَ " . قَالَ مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِّي اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى إِلَى هَا هُنَا - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ - فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ . فَقَالَ " إِنْ تَصْدُقِ اللَّهَ يَصْدُقْكَ " . فَلَبِثُوا قَلِيلاً ثُمَّ نَهَضُوا فِي قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحْمَلُ قَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَهُوَ هُوَ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ " صَدَقَ اللَّهَ فَصَدَقَهُ " . ثُمَّ كَفَّنَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي جُبَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَدَّمَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَكَانَ فِيمَا ظَهَرَ مِنْ صَلاَتِهِ " اللَّهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ فَقُتِلَ شَهِيدًا أَنَا شَهِيدٌ عَلَى ذَلِكَ " .
It was narrated from Shaddad bin Al-Had that:a man from among the Bedouins came to the Prophet and believed in him and followed him, then he said: "I will emigrate with you." The Prophet told one of his Companions to look after him. During one battle the Prophet got some prisoners as spoils of war, and he distributed them, giving him (that Bedouin) a share. His Companions gave him what had been allocated to him. He had been looking after some livestock for them, and when he came they gave him his share. He said: "What is this?" They said: "A share that the Prophet has allocated to you." He took it and brought it to the Prophet and said: "What is this?" He said: "I allocated it to your." He said: "It is not for this that I follwed you. Rather I followed you so that I might be shot her - and he pointed to his throat - with an arrow and die and enter Paradise." He said: "If you are sincere toward Allah, Allah will fulfill your wish." Shortly after that they got up to fight the enemy, then he was brought to the Prophet; he had pointed to. The Prophet said: "Is it him?" They said: "yes." He said: "He was sincere toward Allah and Allah fulfilled his wish." Then the Prophet shrouded him in his own cloak and out him in front of him and offered the (funeral) prayer for him. During his supplication he said: "O allah, this is Your sloave who went out as a emigrant (Muhajir) for your sake and was killed as a martyr; I am a witness to that.: (Sahih)
شداد بن ہاد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک بادیہ نشین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ پر ایمان لے آیا، اور آپ کے ساتھ ہو گیا، پھر اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب کو اس کا خیال رکھنے کی وصیت کی، جب ایک غزوہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں ملیں، تو آپ نے انہیں تقسیم کیا، اور اس کا ( بھی ) حصہ لگایا، چنانچہ اس کا حصہ اپنے ان اصحاب کو دے دیا جن کے سپرد اسے کیا گیا تھا، وہ ان کی سواریاں چراتا تھا، جب وہ آیا تو انہوں نے ( اس کا حصہ ) اس کے حوالے کیا، اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے لگایا تھا، تو اس نے اسے لے لیا، ( اور ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، اور عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا حصہ دیا ہے“، تو اس نے کہا: میں نے اس ( حقیر بدلے ) کے لیے آپ کی پیروی نہیں کی ہے، بلکہ میں نے اس بات پر آپ کی پیروی کی ہے کہ میں تیر سے یہاں مارا جاؤں، ( اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا ) پھر میں مروں اور جنت میں داخل ہو جاؤں، تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا وعدہ سچ کر دکھائے گا“، پھر وہ لوگ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، پھر دشمنوں سے لڑنے کے لیے اٹھے، تو انہیں ( کچھ دیر کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا، اور انہیں ایسی جگہ تیر لگا تھا جہاں انہوں نے اشارہ کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ وہی شخص ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اس نے اللہ تعالیٰ سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تو ( اللہ تعالیٰ ) نے ( بھی ) اپنا وعدہ اسے سچ کر دکھایا“ ۱؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جبّے ( قمیص ) میں اسے کفنایا، پھر اسے اپنے سامنے رکھا، اور اس کی جنازے کی نماز پڑھی ۲؎ آپ کی نماز میں سے جو چیز لوگوں کو سنائی دی وہ یہ دعا تھی: «اللہم هذا عبدك خرج مهاجرا في سبيلك فقتل شهيدا أنا شهيد على ذلك» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے، یہ تیری راہ میں ہجرت کر کے نکلا، اور شہید ہو گیا، میں اس بات پر گواہ ہوں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَالْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الصَّوْمُ جُنَّةٌ " .
It was narrated that Muadh bin Jabal said:"The Messenger of Allah said: 'Fasting is a shield
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيًّا، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَثَلاَثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَهُ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لاَ يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلاَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالَّذِي أَعْطَاهُ وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يَفْتَحَ اللَّهُ لَهُ وَالثَّلاَثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الشَّيْخُ الزَّانِي وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ " .
It was narrated from Zaid bin Zibyan, and attributed to Abu Dharr, that the Prophet said:"There are three whom Allah, the Mighty and Sublime, loves, and three whom Allah, the Mighty and Sublime, hates. As for those whom Allah, the Mighty and Sublime, loves: A man who comes to some people and asks (to be given something) for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and not for the sake of their relationship, but they do not give him. So one man stayed behind and gave to him in secret, and no one knew of his giving except Allah, the Mighty and Sublime, and the one to whom he gave it. People who travel all night until sleep becomes dearer to them than anything that may be equivalent to it, so they lay down their heads (and slept). Then a man among them got up and started praying to Me and beseeching Me, reciting MY Ayat. And a man who was on a campaign and met the enemy and they fled, but he went forward (pursuing them) until he was killed or Allah, the Mighty and Sublime, granted victory to him. And three whom Allah hates are the old man who commits Zina, the poor man who shows off, and the rich man who is unjust
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل محبت کرتا ہے، اور تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل بغض رکھتا ہے، رہے وہ جن سے اللہ محبت کرتا ہے تو وہ یہ ہیں: ایک شخص کچھ لوگوں کے پاس گیا، اور اس نے ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا، اور مانگنے میں ان کے اور اپنے درمیان کسی قرابت کا واسطہ نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے اسے نہیں دیا۔ تو ایک شخص ان لوگوں کے پیچھے سے مانگنے والے کے پاس آیا۔ اور اسے چپکے سے دیا، اس کے اس عطیہ کو صرف اللہ عزوجل جانتا ہو اور وہ جسے اس نے دیا ہے۔ اور کچھ لوگ رات میں چلے اور جب نیند انہیں اس جیسی اور چیزوں کے مقابل میں بہت بھلی لگنے لگی، تو ایک جگہ اترے اور اپنا سر رکھ کر سو گئے، لیکن ایک شخص اٹھا، اور میرے سامنے گڑگڑانے لگا اور میری آیتیں پڑھنے لگا۔ اور ایک وہ شخص ہے جو ایک فوجی دستہ میں تھا، دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی، لوگ شکست کھا کر بھاگنے لگے مگر وہ سینہ تانے ڈٹا رہا یہاں تک کہ وہ مارا گیا، یا اللہ تعالیٰ نے اسے فتح مند کیا۔ اور تین شخص جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے یہ ہیں: ایک بوڑھا زنا کار، دوسرا گھمنڈی فقیر، اور تیسرا ظالم مالدار“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas:That the Messenger of Allah began the Talbiyah following the prayer
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارنا شروع کیا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ فَقُلْتُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ .
It was narrated that Al-Bara' said:"I met my maternal uncle who was carrying a flag (for an expedition) and I said: 'Where are you going?' He said: 'The Messenger of Allah is sending me to a man who has married his father's wife after he died, to strike his neck or kill him
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے اُن سے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کر دینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کر لی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ . فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ فَقَالَ قَضَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ - امْرَأَةٍ مِنَّا - مِثْلَ مَا قَضَيْتَ . فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ رضى الله عنه .
It was narrated from Ibn Mas'ud, that he was asked about a man who married a woman, but did not name a Mahr or consummate the marriage before he died. Ibn Mas'ud said:"She should have a Mahr like that of women like her, no less and no more; she has to observe the 'Iddah, and she is entitled to inherit." Ma'qil bin Sinan Al-Ashja'i stood up and said: "The Messenger of Allah passed a similar judgment among us concerning Birwa' bint Washiq." And Ibn Masud rejoiced at that
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کی مہر متعین نہ کی اور دخول سے پہلے مر گیا تو انہوں نے کہا: اسے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مثل مہر دلائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ، اسے عدت گزارنی ہو گی اور اس عورت کو شوہر کے مال سے میراث ملے گی، یہ سن کر معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے، یہ سن کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوئے۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلاَبٍ وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدَ بَنِي نَبْهَانَ - قَالَ - فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ وَقَالُوا يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا فَقَالَ " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ " . فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئَ الْوَجْنَتَيْنِ كَثَّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اتَّقِ اللَّهَ قَالَ " مَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِي " . فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ فَمَنَعَهُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَخْرُجُونَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"When 'Ali was in Yemen, he sent some gold that was still enclosed in rock to the Prophet [SAW], who distributed it among Al-Aqra' bin Habis Al-Hanzali, who belonged to Banu Mujashi', 'Uyaynah bin Badr Al-Fazari, 'Alqamah bin 'Ulathah Al-'Amiri, who belonged to Banu Kilab and Zaid Al-Khail At-Ta'I, who belonged to Banu Nabhan. The Quraish and the Ansar became angry and said: 'He gives to the chiefs of Najd and ignores us!' He said: 'I am seeking to win them over (firmly to Islam).' Then a man with sunken eyes, a bulging forehead, a thick beard and a shaven head came and said: 'O Muhammad, fear Allah!' He said: 'Who will obey Allah if I do not? He trusts me with the people of this Earth but you do not trust me.' A man among the people asked for permission to kill him, but he did not let him do that. When (the man) went away, he (the Prophet [SAW]) said: 'Among the offspring of this man there will be people who will recite the Qur'an but it will not go beyond their throats, and they will go out of Islam as an arrow goes through the target. They will kill the Muslims and leave the idol-worshippers alone. If I live to see them, I will kill them as the killing of 'Ad
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ، الدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ .
It was narrated from Saeed bin Jubair that:he did not like to exchange Dinars for Dirhams or Dirhams for Dinars
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فِي الأَسْنَانِ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ " .
It was narrated from'Amr bin Shu'aib, from his father that his grandfather said; the Messenger of Allah said:"For teeth (the Diyah is) five camels
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَأَنْ لاَ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ .
It was narrated from Ibrahim bin 'Abdullah bin Hunain that his father said:"I heard 'Ali say: 'The Messenger of Allah [SAW] forbade me- but I do not say that he forbade you- from wearing gold rings, Al-Qassi, and garments dyed with safflower, and reciting Qur'an while bowing
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ " .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever drinks Khamr in this world and dies addicted to it, will not drink it in the Hereafter