أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَالأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءَ فِي رَكْعَةٍ لاَ يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلاَّ سَأَلَ وَلاَ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلاَّ اسْتَجَارَ .
It was narrated from Hudhaifah that:The Prophet (ﷺ) recited Surat Al-Baqarah, Al 'Imran and An-Nisa' in one rak'ah, and he did not reach any verse that spoke of mercy but he asked Allah for it, nor any verse that spoke of punishment but he asked Allah for protection therefrom
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں تین سورتیں: بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں، آپ جب بھی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ( اللہ سے ) رحمت کی درخواست کرتے، اور عذاب کی آیت سے گزرتے تو ( عذاب سے ) اللہ کی پناہ مانگتے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنِ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَقُولَ إِذَا جَلَسْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) taught us to say when we sat following two rak'ahs: 'At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat, as-salamu 'alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu 'alaina wa 'ala 'ibad illahis-salihin, ashahdu an la illaha ill-Allah wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu (Allah compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah (SWT) and his blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah (SWT). I bear witness that none has the right to be worshipped except Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دوسری رکعت میں بیٹھیں تو «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام بزرگیاں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، تمام دعائیں اور صلاتیں اور تمام پاک چیزیں بھی، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں کہیں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، - وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ - عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً يُصَلِّي فَطَفَّفَ فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ مُنْذُ كَمْ تُصَلِّي هَذِهِ الصَّلاَةَ قَالَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ عَامًا . قَالَ مَا صَلَّيْتُ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَوْ مِتَّ وَأَنْتَ تُصَلِّي هَذِهِ الصَّلاَةَ لَمِتَّ عَلَى غَيْرِ فِطْرَةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ وَيُتِمُّ وَيُحْسِنُ .
It was narrated from Hudhaifah that:He saw a man praying (And his bowing and prostration) were lacking. Hudhaifah said to him: 'For how long have you been praying like this?' He said: "For forty years.' He said: 'You have not been praying for forty years and if you die praying like this, you will have died following a path other than the path of Muhammad (ﷺ). Then he said: 'It is possible for a man to pray briefly, but still do it properly
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے، اور اچھی طرح نہیں پڑھ رہا ہے، اس میں وہ کمی کر رہا ہے، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: اس طرح سے نماز تم کب سے پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا: چالیس سال سے، تو انہوں نے کہا: تم نے چالیس سال سے کامل نماز نہیں پڑھی، اور اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مر جاتے تو تمہارا خاتمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے علاوہ پر ہوتا، پھر انہوں نے کہا: آدمی ہلکی نماز پڑھے لیکن پوری اور اچھی پڑھے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ . قَالَ " عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ " .
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Wudu' for every prayer. One the day of the Conquest (of Makkah), he offered all the prayers with one Wudu'. 'Umar said to him: 'You have done something that you never did before.' He said: 'I did that deliberately, O 'Umar
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎؟ فرمایا: عمر! میں نے اسے عمداً ( جان بوجھ کر ) کیا ہے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ }
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza from his father that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Witr: "Glorify the Name of your Lord, the Most High;" and "Say: O you disbelievers!;' and 'Say: He is Allah, (the) One
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل يا أيها الكافرون» اور«قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ " خَلَقَهُمُ اللَّهُ حِينَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ يَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: 'Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ( اور ) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا ( کہ آئندہ ) وہ کیا کرنے والے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، - هُوَ ابْنُ السَّكَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ الْهِلاَلِيِّ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ . قَالَ " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لاَ عِدْلَ لَهُ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ . قَالَ " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لاَ عِدْلَ لَهُ " .
It was narrated that Abu Umamah said:"I said: 'O Messenger of Allah, tell me of an action (I should do).' He said: 'Take to fasting, for there is nothing equal to it
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کسی کام کا حکم فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس جیسا کوئی ( عمل ) نہیں ہے“۔ میں نے ( پھر ) عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کسی کام کا حکم دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ - لأَصَابِعِ يَدَيْهِ - أَلاَّ آتِيَكَ وَلاَ آتِيَ دِينَكَ وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لاَ أَعْقِلُ شَيْئًا إِلاَّ مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا قَالَ " بِالإِسْلاَمِ " . قَالَ قُلْتُ وَمَا آيَاتُ الإِسْلاَمِ قَالَ " أَنْ تَقُولَ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَخَلَّيْتُ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ أَخَوَانِ نَصِيرَانِ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ مُشْرِكٍ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلاً أَوْ يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ " .
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:"I said: 'O Prophet of Allah! I did not come to you until I had sworn more that this many times' - the number of fingers on his hands - 'that I would never come to you or follow your religion. I am a man who does not know anything except that which Allah and His Messenger teach me. I ask you by the face of Allah, the Mighty and Sublime, with what has your Lord sent you to us? He said: 'With Islam.' I said: What are the signs of Islam? He said; To say: I submit my face to Allah and give up Shirk, and, to establish the Salah and to pay Zakah. Each Muslim is sacred and inviolable to his fellow Muslim; they support one another. Allah does not accept my deed from an idolater after he becomes a Muslim, until he departs from the idolaters and joins the Muslims
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایک بے عقل اور ناسمجھ انسان ہوں ( اب بھی کچھ نہیں سمجھتا ) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: اللہ نے آپ کو ہمارے پاس کیا چیزیں دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام دے کر“، میں نے عرض کیا: ”اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟“ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ہے کہ تم کہو: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک کر لیا ہے، اور تم نماز قائم کرو، زکاۃ دو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۱؎۔ ہر ایک دوسرے کا بھائی و مددگار ہے، اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل اس کے بعد کہ وہ اسلام لے آیا ہو قبول نہیں کرتا، یا وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے ۲؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ إِلاَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْهُ مُرْسَلاً .
It was narrated that Abu Hurairah said:"Part of the Talbiyah of the Messenger of Allah was: 'Labbaika ilahal-haqq (Here I am, O God of truth)." (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: I do not know of anyone who narrated a chain for this from 'Abdullah bin Al-Fadl except for 'Abdul-Aziz. Ismail bin Umayyah reported it from him in Mursal form
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ میں «لبيك إله الحق» بھی تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ عبدالعزیز کے علاوہ اس حدیث کو کسی نے بواسطہ عبداللہ بن فضل مسند قرار دیا ہے، اسماعیل بن امیہ نے اسے عبداللہ بن فضل سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ قَالَ " غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ " .
It was narrated from Hajjaj bin Hajjaj that his father said:"I said: 'O Messenger of Allah, how can I pay back the dues of the one who breast-fed me?' He said: 'By giving a male or female slave
حجاج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رضاعت کے حق کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مجھے کیا چیز عہدہ بر آ کر سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”شریف غلام یا شریف لونڈی ۱؎“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينِ بْنِ نُمَيْلَةَ، - يَمَامِيٌّ - قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأَخْبَرَنِي مَيْمُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شُبْرُمَةَ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ مَنْ شَاءَ لاَعَنْتُهُ مَا أُنْزِلَتْ { وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } إِلاَّ بَعْدَ آيَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَدْ حَلَّتْ وَاللَّفْظُ لِمَيْمُونٍ .
It was narrated from 'Alqamah bin Qais that Ibn Mas'ud said:"Whoever wants, I will meet and debate with him and invoke the curse of Allah upon those who lie. The Verse: 'And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their 'Iddah (prescribed period) is until they lay down their burden.' was only revealed after the Verse about women whose husbands die. 'When a woman whose husband has died gives birth, it becomes permissible for her to marry.'" This is the wording of Maimun (one of the narrators)
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: جو کوئی مجھ سے مباہلہ کرنا چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں ( کہ حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے ) کیونکہ وضع حمل کی مدت سے متعلق آیت «متوفی عنہا زوجہا» والی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے جس کا شوہر مر گیا ہو جب وہ بچہ جن دے گی حلال ہو جائے گی۔ اس روایت کے الفاظ میمون کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ مَنْ رَفَعَ السِّلاَحَ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ .
It was narrated that Ibn Az-Zubair said:"Whoever wields a weapon and starts to strike (the people) with it, it is permissible to shed his blood
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ قَالَ " لاَ بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَىْءٌ " .
It was narrated that Ibn 'Umar said:"I used to sell camels at Al-Baqi and I would sell Dinars in exchange for Dirhams. I came to the Prophet in the house of Hafsah and said: 'O Messenger of Allah, I want to ask you: I sell camels in Al-Baqi and I sell Dinars in exchange for Dirhams. He said: 'There is nothing wrong with it if you take the price on that day, unless you depart when there is still unfinished business between you both (buyer and seller)
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ - عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلاَءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلاَنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ . فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا . فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ " لاَ تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ " . مَرَّتَيْنِ .
It was narrated from Tariq and Muharibi that a manh said:"O Messenger of Allah, these are Banu Tha'labah who killed so and so during the Jahiliyyah: avenger us! He raised his arms until the whiteness of his armpits could be seen and said: "No mother's sin can affect her child," twice. (Shaih)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْمُفَدَّمِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ رَاكِعًا .
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade me- but I do not say that he forbade you- from wearing rings of gold, and from wearing Al-Qassi, and from wearing Al-Mufaddam (garments dyed deep red) and Al-Mu'asfar (garments dyed with safflower), and from reciting Qur'an while bowing
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ نُبَيْطٍ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلاَ عَاقٌّ وَلاَ مُدْمِنُ خَمْرٍ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that:The Prophet [SAW] said: "No one who reminds others of his favors, no one who is disobedient to his parents and no drunkard, will enter Paradise