بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
11
17 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ ‏.‏ قَالَ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ ‏.‏ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ ‏.‏
It was narrated that 'Amr bin Murrah said:"I heard Abu Wa'il say: "A man said in the presence of Abdullah: 'I recited Al-Mufassal in one rak'ah.' He said: 'That is like reciting poetry. I know the similar surahs that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite together.' And he mentioned twenty surahs from Al-Mufassal, two by two in each rak'ah
ابووائل شفیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا: میں نے پوری مفصل ایک ہی رکعت میں پڑھ لی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، مجھے وہ سورتیں معلوم ہیں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے، تو انہوں نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا جن میں آپ دو دو سورتیں ایک رکعت میں ملا کر پڑھا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّ الْقَاسِمَ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مِنْ سُنَّةِ الصَّلاَةِ أَنْ تَنْصِبَ، الْقَدَمَ الْيُمْنَى وَاسْتِقْبَالُهُ بِأَصَابِعِهَا الْقِبْلَةَ وَالْجُلُوسُ عَلَى الْيُسْرَى ‏.‏
It was narrated from Al-Qasim who narrated from 'Abdullah-he is Ibn Abdullah bin 'Umar- that:His father (Ibn 'Umar) said: "One of the sunnahs of the prayer is to hold the right foot upright and point its toes toward the Qiblah, and to sit on the left foot
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز کی سنت میں سے دائیں پیر کو کھڑا رکھنا، اور اس کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھنا اور بائیں پیر پر بیٹھنا ہے۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتِ ائْتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي ‏.‏ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا أَنْ يَمْسَحَ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلاَثًا ‏.‏
It was narrated that Shuraih bin Hani' said:"I asked 'Aishah about wiping over the Khuffs and she said: 'Go to 'Ali, for he knows more about that than I do.' So I went to 'Ali and asked him about wiping (over the Khuffs) and he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to tell us to wipe (over the Khuffs) for one day and one night for the resident, and three for the traveler
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ ‏ "‏ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةً بَعْدُ إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the torment of the grave, and he siad: 'Yes, the torment of the grave is real.'" 'Aishah said: "After that I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) offer any prayer but he would seek refuge with Allah (SWT) from the torment of the grave
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں، قبر کا عذاب برحق ہے ، اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جس میں آپ نے قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوتِرُ بِثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِتِسْعٍ ‏.‏
It was narrated that Umm Salamah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray witr with thirteen rak'ahs, but when he grew older and weaker he prayed witr with nine
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور ضعیف ہو گئے تو نو رکعت پڑھنے لگے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ خَالَتِهَا أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَائِشَةَ قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الأَنْصَارِ فَصَلَّى عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَلَمْ يُدْرِكْهُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ أَوَغَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلاً وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلاً وَخَلَقَهُمْ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
The mother of the believers, 'Aishah, said:"One of the children of the Ansar (who had died) was brought to the Messenger of Allah so he prayed for him." 'Aishah said: "How fortunate he is, one of the little birds of Paradise. He never did any evil or reached the age of puberty." He said: "It is better not to say anything, O 'Aishah Allah, the Mighty and Sublime, created Paradise and created people for it, He created them in the loins of their fathers. And He created Hell and created people for it, and He created them in the loins of their fathers
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انصار کے بچوں میں سے ایک بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اس کی جنازے کی نماز پڑھی، میں نے کہا: ( یہ ) خوش بخت جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برا کام کیا، اور نہ اس عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا عائشہ! اس کے علاوہ کچھ اور معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کی تخلیق فرمائی، اور اس کے لیے لوگ پیدا کئے، جبکہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے، اور ( اللہ ) نے جہنم کی تخلیق کی، اور اس کے لیے لوگ پیدا کیے جبکہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلاَّ الصِّيَامَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said (that Allah said):"For every good deed that the son of Adam does, he will have (the reward of) ten the like thereof, except for fasting. It is for Me and I shall reward for it
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) ہر وہ نیکی جسے آدمی کرتا ہے تو اسے اس کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہے، سوائے روزے کے، روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا“۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ، - وَهُوَ الأَعْمَشُ - عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah said: "There are three to whom of Allah will not speak on the Day of Resurrection or look at them or purify them, and theirs will be a painful torment: the one who reminds people of what he has given them, the one who lets his garment hang beneath his ankles, and a vendor who tries to sell his product by means of false oaths
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ عزوجل نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک و صاف کرے گا، اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا: اپنے دئیے ہوئے کا احسان جتانے والا، اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اپنے سامان کو جھوٹی قسمیں کھا کر رواج دینے والا“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدًا، وَأَبَا، بَكْرٍ ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Prophet used to say:"Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ، زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُدْخَلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذِهِ إِلاَّ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً لِسَالِمٍ فَلاَ يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلاَ يَرَانَا ‏.‏
Zainab bint Abu Salamah narrated that her mother Umm Salamah, the wife of the Prophet, used to say:"The rest of the wives of the Prophet refused for anyone to enter upon them on the basis of that type of breast-feeding, meaning breast-feeding of an adult. They said to 'Aishah: 'By Allah, we think that this is a concession which the Messenger of Allah granted only to Salim. No one will enter upon us, nor see us on the basis of this type of breast-feeding
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ سبھی ازواج مطہرات نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس رضاعت ( یعنی بڑے کی رضاعت ) کو دلیل بنا کر ان کے پاس ( یعنی کسی بھی عورت کے پاس ) جایا جائے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم اس رخصت کو عام رخصت نہیں سمجھتے، یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص سالم کے لیے دی تھی، اس رضاعت کو دلیل بنا کر ہم عورتوں کے پاس کوئی آ جا نہیں سکتا اور نہ ہی ہم عورتوں کو دیکھ سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا حَدِيثَهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ - وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ - فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ - فَقَالَ لَهَا مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏.‏ قَالَتْ سُبَيْعَةُ فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي ‏.‏
Ubaidullah bin 'Abdullah narrated that his father wrote to 'Umar bin 'Abdullah bin Arqam Az-Zuhri, telling him to go to Subai'ah bint Al-Harith Al-Aslamiyyah and ask her about her Hadith and what the Messenger of Allah had said to her when she consulted him. 'Umar bin 'Abdullah wrote back to 'Abdullah bin 'Utbah telling him that Subai'ah told him, that she was married to Sahl bin Khawlah -who was from Banu 'Amir bin Lu-ayy and was one of those who had been present at Badr- and her husband died during the Farewell Pilgrimage while she was pregnant. She gave birth soon after he died, and when her Nifas ended she adorned herself to receive proposals of marriage. Abu As-Sanabil bin Ba'kak -a man from Banu 'Abd Ad-Dar- went to her and said to her:'Why do I see you adorned? Perhaps you want to get married, but by Allah you will not get married until four months and ten days have passed.' Subai'ah said: 'When he said that to me, I put on my clothes in the evening and went to the Messenger of Allah and asked him about that. He ruled that it had become permissible for me to marry when I gave birth, and he told me to get married if I wanted to
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ان کے باپ عبداللہ ( عبداللہ بن عتبہ ) نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھ کر حکم دیا کہ تم سبیعہ اسلمی بنت حارث رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان کا قصہ معلوم کرو اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کیا فرمایا تھا جس وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، عمر بن عبداللہ نے ( سبیعہ اسلمی سے ملاقات کر کے ) عبیداللہ بن عتبہ کو باخبر کرتے ہوئے لکھا: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں اور وہ ( سعد ) بنو عامر بن لوئی کے قبیلے سے تھے اور بدری بھی تھے، ان کا انتقال حجۃ الوداع میں ہوا اور اس وقت وہ حاملہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی کے پیغامات آنے کے خیال سے بناؤ سنگھار کیا ( اور زیب و زینت کے ساتھ رہنے لگیں ) ، ان کے پاس قبیلہ بنو عبدالدار کے ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے کہا: کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھتا ہوں، لگتا ہے تم شادی کرنا چاہ رہی ہو؟ قسم اللہ کی! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک تم چار مہینے دس دن عدت کے پوری نہ کر لو۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے ایسی بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے لپیٹے و سمیٹے ( اور اوڑھ پہن کر اور سلیقے سے ہو کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”جس وقت میں نے بچہ جنا ہے اسی وقت سے میں حلال ہو چکی ہوں اور مجھے حکم دیا کہ میں شادی کر لوں اگر میرا جی چاہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ - الْهَاشِمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Sa'eed bin Zaid said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever is killed protecting his wealth, he is a martyr. Whoever is killed protecting his family, he is a martyr. Whoever is killed protecting his religion, he is a martyr. Whoever is killed protecting himself, he is a martyr
وَفِيمَا قَرَأَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا ‏.‏
Abdur-Rahman bin Abi Bakrah narrated that his father said:"The Messenger of Allah forbade selling silver for silver and gold for gold, unless it was of equal amounts. And he told us to sell gold for silver however we wanted, and silver for gold however we wanted
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ الأَسْوَدَ بْنَ هِلاَلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ أَنَّ نَاسًا، مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلاَءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلاَنًا رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ash'ath bin Abi Ash-Sha'tha, said:"I heard Al-Aswad bin Hilal narrate from a man of Banu Tha'labah bin Yarbu' that some people from Banu Tah'labah came to the Prophet and a man said: "O Messenger of Allah, these are Banu Tha'labah bin Yarbu'who killed so and so' - a man from among the companions of the Prophet. The Prophet said: 'No soul is affected by the sin of another
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ نَهَانِي عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ ‏.‏
It was narrated that Sa'sa'ah bin Suwhan said:"I said to 'Ali: 'Forbid to us that which the Messenger of Allah [SAW] forbade to you.' He said: 'He forbade me from Ad-Dubba', Al-Hantam, gold circles (rings), wearing silk, and Al-Qassi, and red Al-Mitharah
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْعَلاَءِ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ - عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَلَمْ يَنْتَشِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ مَادَامَ فِي جَوْفِهِ أَوْ عُرُوقِهِ مِنْهَا شَىْءٌ وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا وَإِنِ انْتَشَى لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَإِنْ مَاتَ فِيهَا مَاتَ كَافِرًا ‏.‏ خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"Whoever drinks Khamr and does not get intoxicated, his Salah will not be accepted so long as any trace of it remains in his belly or his veins, and if he dies he will die a Kafir. If he becomes intoxicated his Salah will not be accepted for 40 nights, and if he dies during them, he will die a Kafir." (Sahih Mawquf)
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفَعَلْنَا فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"We stopped to camp at the end of the night with the Messenger of Allah (ﷺ), and we did not wake up until the sun had risen. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let each man take hold of his camel's head (and leave), for the Shaitan was here in this place with us.' We did that, then he called for water and performed Wudu', then he prayed two Rak'ahs, then the Iqamah was said and he prayed Al-Ghadah (Fajr)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو ہم ( سوتے رہے ) جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کو چاہیئے کہ اپنی سواری کا سر تھام لے ( یعنی سوار ہو کر یہاں سے نکل جائے ) کیونکہ یہ ایسی جگہ ہے جس میں شیطان ہمارے ساتھ رہا ، ہم نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا اور وضو کیا، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے فجر پڑھائی۔