أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ رَاكِعًا وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ .
It was narrated that 'Ali said:"The Prophet (ﷺ) forbade me from wearing gold rings, from reciting the Qur'an when bowing, and from wearing Al-Qassi, and clothes dyed with safflower
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ فَلاَ يَمْسَحِ الْحَصَى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ " .
It was narrated that Abu Dharr said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When any one of you stands in prayer, let him not smooth the pebbles, for he is facing Mercy
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکری پر ہاتھ نہ پھیرے، کیونکہ رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا " .
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever does not trim his mustache, he is not from one of us
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی مونچھ کے بال نہ لے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When any one of you wants to come to Jumu'ah prayer, let him perform ghusl
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ ( کی نماز ) کے لیے آئے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated that Harithah bin Wahab Al-Khuza'i said:"I prayed two rak'ahs with the Prophet (ﷺ) in Mina when the people were more secure and greater in number
حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو ہی رکعت پڑھی، ایک ایسے وقت میں جس میں کہ لوگ سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے، اور تعداد میں زیادہ تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، فِي صَلاَةِ الآيَاتِ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ . قُلْتُ لِمُعَاذٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لاَ شَكَّ وَلاَ مِرْيَةَ .
It was narrated fom 'Ata from Ibn 'Umair, from Aishah, that:The Prophet (ﷺ) prayed, bowing six times and prostrating four times. "I said to Mu'adh: 'Is this from the Prophet (ﷺ)?' He said: 'Without a doubt
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں میں چھ رکوع کئے۔ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے معاذ بن ہشام سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے نا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُمَّ اسْقِنَا " .
It was narrated from Anas bin Malik that:The Prophet (ﷺ) said: "Allahumma sqina (O Allah, give us rain)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما ۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، وَأَبِي، أَيُّوبَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ قَامَ فَكَبَّرَ فَصَلَّى خَلْفَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَلَمْ يُسَلِّمُوا وَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ فَصَفُّوا مَكَانَهُمْ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَتَمَّ رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ فَصَلَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ . قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ السُّنِّيِّ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ مِنِ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثَيْنِ وَلَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْهُ .
It was narrated that 'Abdullah bin Umar said:"The Messenger of Allah (ﷺ) offered the fear prayer. He stood and said the takbir, and a group of us prayed behind him while another group was facing the enemy. The Messenger of Allah (ﷺ) bowed once and prostrated twice with them, then they moved away but did not say the taslim. They went to face the enemy and lined up in their places, and the other group came and formed a row behind the Messenger of Allah (ﷺ), and he led them in praying, bowing once and prostrating twice. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said the taslim and he had bowed twice and prostrated four times. Then the two groups stood up and each man prayed by himself, bowing once and prostrating twice." Abu Bakr IB As-Sunni said: "Az-Zuhri heard two hadiths from Ibn 'Umar, and he did not hear this from him
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو آپ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، تو آپ کے پیچھے ہم میں سے ایک گروہ نے نماز پڑھی، اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر وہ لوگ پلٹے حالانکہ انہوں نے ابھی سلام نہیں پھیرا تھا، اور دشمن کے بالمقابل آ گئے، اور ان کی جگہ صف بستہ ہو گئے، اور دوسرا گروہ آیا، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اس حال میں کہ آپ نے دو رکوع اور چار سجدے مکمل کر لیے تھے، پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے، اور ان میں سے ہر شخص نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ ابوبکر بن السنی کہتے ہیں: زہری نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے دو حدیثیں سنی ہیں، لیکن یہ حدیث انہوں نے ان سے نہیں سنی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ{ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ } وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَيَقْرَأُ بِهِمَا .
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite on the two 'Eids and on Friday: "GLorify the Name of Your Lord, the Most High" and "Has there come to you the narration of The Overwhelming?" Sometimes the two ('Eid and Jumu'ah) occurred on the same day, and he would recite them (these two Surahs)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى ثُمَّ أَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ ثُمَّ أَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'May Allah (SWT) have mercy on a man who gets up at night and prays, then he wakes his wife and she prays, and if she refuses he sprinkles water in her face. And may Allah (SWT) have mercy on a woman who gets up at night and prays, then she wakes her husband and prays, and if he refuses she sprinkles water in his face
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے، پھر اپنی بیوی کو بیدار کرے، تو وہ ( بھی ) نماز پڑھے، اگر نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اور اللہ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور تہجد پڑھے، پھر اپنے شوہر کو ( بھی ) بیدار کرے، تو وہ بھی تہجد پڑھے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلاَ أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah died while he was between my chest and my chin, and I never disliked the agony of death for anyone after I saw the Messenger of Allah
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا - يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ إِسْحَاقَ - خَطَأٌ وَلَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ إِسْحَاقَ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَالصَّوَابُ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ .
It was narrated form Abu Hurairah that the Prophet said:"When the month of Ramadan beings, the gates of Paradise are opened. The gates of the Fire are closed and the devils are chained up." (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This meaning, the narration of Ibn Ishaq - is a mistake. Ibn Ishaq did not hear from Az-Zuhri. What is correct is what we mentioned it previously
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ابن اسحاق ( والی ) حدیث غلط ہے، اسے ابن اسحاق نے زہری سے نہیں سنا ہے، اور صحیح ( روایت ) وہ ہے جس کا ذکر ہم ( اوپر ) کر چکے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ أَبُو كَامِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَخَذْتُ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُمْ إِنَّ هَذِهِ فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا رَسُولَهُ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِ وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلاَ يُعْطِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاَثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلاَّ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلاَّ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَىْءٌ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلاَّ أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ وَلاَ تَيْسُ الْغَنَمِ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةٌ وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلاَّ تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا " .
It was narrated from Anas bin Malik that Abu Bakar wrote to them:"This is the obligation of Sadaqah which the Messenger of Allah enjoined upon the Muslims, as Allah , the Mighty and Sublime, commanded the Messenger of Allah .Whoever is asked for it in the manner explained (in the letter of Abu Bakar), let him give it, and whoever is asked for more than that, let him not give it. When there are less than twenty-five camels, for every five camels, one sheep (is to be given). If the number reaches twenty five, then a Bint Makhad (a one-year old she-camel) is due, up to thirty-five. If a Bint Makhad is not available, then a Bin Labun (a two-year old male camel). If the number reaches thirty-six, then a Bint Labun (a two-yer-old she-camel) is due, up to forty-five. If the number reaches forty-six, then a Hiqqqah (a three-year-old she-camel) that has been bred from a stallion camel is due, up to sixty. If the number reaches sixty-one, then a Jadhah (a four-year-old she-camel) is due, up to seventy-six, then two Bint Labuns (two-year-old she-camels0 are due, up to ninety. If the number reaches ninety-one, then two Hiqqahs (three-year-old she-camels) that have been bred from stallion camels are due, up to one hundred and twenty. If there are more than one hundred and twenty, then for every forty a Bint Labun, and for every fifty a Hiqqah. In the event that a person does not have a camel of the age specified according to the Hiaqah regulations, then if a person owes a Jadhah as Sadaqah but he does not have a Jadhah, then a Hiqqah should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams, If he owes a Hiqqah as Sadaqah and he does not have Hiqqah but he has a Jadhah, then if should be accepted from him, and the Zakah collector should give him twenty Dirhams, or two sheep if they are available. If a person owes a Hiqqah as Sadaqah and he does not have one, but he has a Bint Labun, it should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah but he only has a Hiqaah, then it should be accepted from him and the Zakah collector should give him twenty Dirhams, or two sheep. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah but he only has a Bint Makhad, then it should be accepted from him, and he should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Makhad as Sadaqah but he only has a Bint Labun, a male; it should be accepted from him, and he does not have to give anything else along with it. If a person has only four camels he does not have to give anything unless their owner wants to. With regard to the Sadaqah on grazing sheep, if there are forty, then one sheep is due upon them, up to one hundred and twenty. If there is one more, then two sheep are due, up to two hundred. If there is one more, then three sheep are due, up to three hundred. If there are more than that, then for every hundred, one sheep is due. No feeble, defective or male sheep should be taken as Sadaqah unless the Zakah collector wishes. Do not combine separate flocks or separate combined flocks for fear of Sadaqah. Each partner (who has a share in a combined flock) should pay the Sadaqah in proportion to his shares. If a man's flock is one less than forty sheep, then nothing is due from them, unless their owner wishes. With regard to silver, one-quarter of one-tenth, and if there are only one hundred and ninety Dirhams, no Zakah is due unless the owner wishes
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ( عاملین صدقہ کو ) یہ لکھا کہ یہ صدقہ کے وہ فرائض ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض ٹھہرائے ہیں، جن کا اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، تو جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے تو وہ دے، اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ نہ دے: پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں پینتیس اونٹوں تک ایک برس کی اونٹنی ہے، اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ( نر ) ہے، اور جب چھتیس اونٹ ہو جائیں تو چھتیس سے پینتالیس تک دو برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھیالیس اونٹ ہو جائیں تو چھیالیس سے ساٹھ اونٹ تک میں تین برس کی اونٹنی ( یعنی جو ان اونٹنی جو نر کودانے کے لائق ہو گئی ہو ) ہے، اور جب اکسٹھ اونٹ ہو جائیں تو اکسٹھ سے پچہتر اونٹوں تک میں چار برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھہتر اونٹ ہو جائیں تو چھہتر سے نوے اونٹوں تک میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں، اور جب اکیانوے ہو جائیں تو ایک سو بیس اونٹوں تک میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کے کودانے کے قابل ہو گئی ہوں۔ اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو گئی ہوں تو ہر چالیس اونٹ میں دو برس کی ایک اونٹنی۔ اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی ایک اونٹنی ہے، اگر اونٹوں کی عمروں میں اختلاف ہو ( یعنی زکاۃ کے لائق اونٹ نہ ہو، اس سے بڑا یا چھوٹا ہو ) مثلاً جس شخص پر چار برس کی اونٹنی لازم ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو، تین برس کی اونٹنی ہو۔ تو تین برس کی اونٹنی ہی اس سے قبول کر لی جائے گی اور وہ ساتھ میں دو بکریاں بھی دے۔ اگر اسے بکریاں دینے میں آسانی و سہولت ہو، اور اگر دو بکریاں نہ دے سکتا ہو تو بیس درہم دے۔ اور جس شخص کو تین برس کی اونٹنی دینی پڑ رہی ہو، اور اس کے پاس تین برس کی اونٹنی نہ ہو، چار برس کی اونٹنی ہو تو چار برس کی اونٹنی ہی قبول کر لی جائے گی۔ اور عامل صدقہ ( یعنی زکاۃ وصول کرنے والا ) اسے بیس درہم واپس کرے گا۔ یا اسے بکریاں دینے میں آسانی ہو تو دو بکریاں دے۔ اور جس کو تین برس کی اونٹنی دینی ہو اور تین برس کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس دو برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کر لی جائے، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں اور دے، اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کو دو برس کی اونٹنی دینی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو تین برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کر لی جائے، اور عامل صدقہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے، اور جسے دو سال کی اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو، اور دو سال کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو ایک سال کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے، اور اس کے ساتھ وہ دو بکریاں دے اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کے اوپر ایک برس کی اونٹنی دینی لازم ہو، اور اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی نہ ہو۔ دو برس کا ( نر ) اونٹ ہو، تو دو برس کا اونٹ قبول کر لیا جائے۔ ( اس کے ساتھ کچھ مزید لینا دینا نہیں ہو گا ) اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور جنگل میں چرائی جانے والی بکریاں جب چالیس ہوں تو ان میں ایک سو بیس بکریوں تک میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور ایک سو بیس سے جو ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو بکریوں تک میں دو بکریاں ہیں۔ اور دو سو سے ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں ہیں اور جب تین سو سے بھی بڑھ جائیں تو پھر ہر ایک سو میں ایک بکری زکاۃ ہے۔ زکاۃ میں کوئی بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا، اور نہ بکریوں کا نر جانور لیا جائے گا مگر یہ کہ صدقہ وصول کرنے والا کوئی ضرورت و مصلحت سے مجھے تو لے سکتا ہے، زکاۃ کے ڈر سے دو جدا مالوں کو یکجا نہیں کیا جا سکتا ۱؎ اور نہ یکجا مال کو جدا جدا ۲؎ اور جب آدمی کی چرائی جانے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ ہاں ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تودے سکتا ہے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے، اور اگر ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکاۃ نہیں۔ ہاں مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجِّ الْمَبْرُورِ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ " .
It was narrated that 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'Perform Hajj and 'Umrah consecutively, for they remove poverty and sin as the bellows removes impurity from iron and gold and silver, and Hajj Al-Mabrur brings no less a reward than Paradise
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَنْبَأَنَا وُهَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ - قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever dies without having fought or thought of fighting, he dies on one of the branches of hypocrisy
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا، اور اس نے جہاد نہیں کیا، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎“۔
Narrated by Alqamah
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ .
Narrated 'Alqamah:It was narrated from 'Alqamah and Al-Aswad that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah said to us: 'Whoever among you can afford it, let him get married, and whoever cannot then he should fast, for it will be a restraint (wija') for him.'" Abu Abdur-Rahman said: (The mention of) Al-Aswad in this hadith is not preserved
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( نوجوانوں ) سے فرمایا: ”جو شخص بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہوا سے شادی کر لینی چاہیئے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیئے، کیونکہ وہ اس کے لیے توڑ ہے، یعنی روزہ آدمی کی شہوت کو دبا اور کچل دیتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں ”اسود“ راوی کا ذکر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ الْكِلاَبِ قَالَ " مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلاَبِ " . قَالَ وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ وَقَالَ " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوا الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ " . خَالَفَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ إِحْدَاهُنَّ بِالتُّرَابِ .
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal said:"The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that dogs be killed. He said: 'What do they have to do with dogs?' And he granted a concession regarding hunting dogs and sheepdogs. And he said: 'If a dog licks a vessel, wash it seven times, and rub it the eighth time with dust.' Abu Hurairah differed from him and said: 'Rub it one time with dust
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا سروکار؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات دفعہ دھو لو، آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مغفل کی مخالفت کی ہے اور ( اپنی روایت میں ) یوں کہا ہے: ان میں سے ایک بار مٹی سے مانجھو ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ، قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ " أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " . حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَقْتُلُهُ .
Makhramah narrated that his father said:"I heard Mahmud bin Labid say: 'The Messenger of Allah was told about a man who had divorced his wife with three simultaneous divorces. He stood up angrily and said: Is the Book of Allah being toyed with while I am still among you? Then a man stood up and said: 'O Messenger of Allah, shall I kill him?
محمود بن لبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، ( یہ سن کر ) آپ غصے سے کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: ”میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو ۱؎“، ( آپ کا غصہ دیکھ کر اور آپ کی بات سن کر ) ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہ میں اسے قتل کر دوں؟۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said:"There is goodness in the forelocks of horses until the Day of Resurrection
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ، - رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ - وَذَاكَ أَنِّي قُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ اعْتِزَالَ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ مَا كَانَ قَالَ سَمِعْتُ الأَحْنَفَ يَقُولُ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا حَاجٌّ فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَى آتٍ فَقَالَ قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا يَعْنِي النَّاسَ مُجْتَمِعُونَ وَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ نَفَرٌ قُعُودٌ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا قُمْتُ عَلَيْهِمْ قِيلَ هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ جَاءَ - قَالَ - فَجَاءَ وَعَلَيْهِ مُلَيَّةٌ صَفْرَاءُ فَقُلْتُ لِصَاحِبِي كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ . فَقَالَ عُثْمَانُ أَهَا هُنَا عَلِيٌّ أَهَا هُنَا الزُّبَيْرُ أَهَا هُنَا طَلْحَةُ أَهَا هُنَا سَعْدٌ قَالُوا نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلاَنٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . فَابْتَعْتُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنِّي ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلاَنٍ . قَالَ " فَاجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ قَدِ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ . قَالَ " فَاجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ يُجَهِّزْ جَيْشَ الْعُسْرَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالاً وَلاَ خِطَامًا . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ .
Al-Ahnaf said:"I came to Al-Madinah, and I was performing Hajj, and while we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: 'The people have gathered in the Masjid.' I looked and found the people gathered, and in the midst of them was a group; there I saw 'Ali bin Abi Talib, Az-Zubair, Talhah and Sa'd bin Abi Waqqas, may Allah have mercy on them. When I got there, it was said that 'Uthman bin 'Affan had come. He came, wearing a yellowish cloak. I said to my companion: Stay where you are until I find out what is happening. 'Uthman said: Is 'Ali here? Is Az-Zubair here? Is Talhah here? Is Sa'd here? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah said: Whoever buys the Mirbad of Banu so and so, Allah will forgive him, and I bought it, then I came to the Messenger of Allah and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours? They said: Yes. He said: I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah said: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I came to the Messenger of Allah and said: I have bought the well of Rumah. He said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours? They said: Yes. He said: 'I adjure you by Allah, beside Whom there is none worthy of worship, are you aware that the Messenger of Allah said: Whoever equips the army of Al-'Usrah (i.e. Tabuk), Allah will forgive him, so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle?' They said: Yes. He said: O Allah, bear witness, O Allah, bear witness, O Allah, bear witness
معتمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حصین بن عبدالرحمٰن کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے اور وہ عمرو بن جاوان سے، جو ایک تمیمی شخص ہیں، روایت کرتے ہیں، اور یہ بات اس طرح ہوئی کہ میں ( حصین بن عبدالرحمٰن ) نے ان سے ( یعنی عمرو بن جاوان سے ) کہا: کیا تم نے احنف بن قیس کا اعتزال دیکھا ہے، کیسے ہوا؟ وہ کہتے ہیں: میں نے احنف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں مدینہ آیا ( اس وقت ) میں حج پر نکلا ہوا تھا، اسی اثناء میں ہم اپنی قیام گاہوں میں اپنے کجاوے اتار اتار کر رکھ رہے تھے کہ اچانک ایک آنے والے شخص نے آ کر بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ اکٹھا ہیں اور انہیں کے درمیان کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان میں علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم موجود ہیں۔ میں وہاں کھڑا ہو گیا، اسی دوران یہ آواز آئی: یہ لو عثمان بن عفان بھی آ گئے، وہ آئے ان کے جسم پر ایک زرد رنگ کی چادر تھی ۱؎، میں نے اپنے پاس والے سے کہا: جیسے تم ہو ویسے رہو مجھے دیکھ لینے دو وہ ( عثمان ) کیا کہتے ہیں، عثمان نے کہا: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ( موجود ہیں ) انہوں نے کہا: میں آپ لوگوں سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص خرید لے گا فلاں کا «مربد» ( کھلیان، کھجور سکھانے کی جگہ ) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے خرید لیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر آپ کو بتایا تھا کہ میں نے عقلان کا «مربد» ( کھلیان ) خرید لیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا: ”اسے ہماری مسجد ( مسجد نبوی ) میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“، لوگوں نے کہا: ہاں، ( ایسا ہی ہوا تھا ) ( پھر ) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خرید لے گا ( رومہ مدینہ کی ایک جگہ کا نام ہے ) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“۔ میں ( بئررومہ خرید کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور ( آپ سے ) کہا: میں نے بئررومہ خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“، لوگوں نے کہا: ہاں ( ایسا ہی ہوا تھا ) انہوں نے ( پھر ) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ تبوک کے موقع پر ) فرمایا تھا: ”جو شخص جیش عسرۃ ( تہی دست لشکر ) کو ( سواریوں اور سامان حرب و ضرب سے ) آراستہ کرے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے ان لشکریوں کو ساز و سامان کے ساتھ تیار کر دیا یہاں تک کہ انہیں عقال ( اونٹوں کے پاؤں باندھنے کی رسی ) اور خطام ( مہار بنانے کی رسی ) کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی۔ لوگوں نے کہا: ہاں ( آپ درست فرماتے ہیں ایسا ہی ہوا تھا ) یہ سن کر انہوں نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ . فَقَالَ " تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ " .
It was narrated that Zainab bint Jahsh said:"I said to the Prophet (ﷺ) that I was suffering from Istihadah. He said: 'Do not pray during the days of your period, then perform Ghusl and delay Zuhr and bring Maghrib and bring 'Isha' forward and pray them together, and perform Ghusl for Fajr
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں مستحاضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ ( نماز نہ پڑھو ) پھر غسل کرو، اور ظہر کو مؤخر کرو، اور عصر میں جلدی کرو، اور غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء کو جلدی کرو، اور غسل کر کے ( دونوں کو ایک ساتھ ) پڑھو، اور فجر کے لیے ( الگ ایک ) غسل کرو ۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهُذَيْلِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِرْهَمًا وَلاَ دِينَارًا وَلاَ شَاةً وَلاَ بَعِيرًا وَلاَ أَوْصَى. لَمْ يَذْكُرْ جَعْفَرٌ دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا.
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah did not leave behind a Dirham or a Dinar, or a sheep or a camel, and he did not leave any will." Ja'far did not mention "Dinar or Dirham
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ ( اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - وَقَالَ مُحَمَّدٌ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى ابْنِي بِصَدَقَةٍ فَاشْهَدْ فَقَالَ " هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " أَعْطَيْتَهُمْ كَمَا أَعْطَيْتَهُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَأَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud that a man came to the Prophet and said:"I have given a gift to my son, so bear witness." He said: "Do you have any other children?" He said: "Yes." He said: "Have you given them something like that which you have given him?" He said: "No." He said: "Shall I bear witness to unfairness?
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں نے اپنے بیٹے کو کچھ ہبہ کیا ہے تو آپ اس پر گواہ ہو جائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کوئی اور لڑکا ہے؟“، انہوں نے کہا: جی ہاں، ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں بھی ایسا ہی دیا ہے جیسے تم نے اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو کیا میں ظلم پر گواہی دوں گا؟“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الرَّاجِعُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ فِي قَيْئِهِ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said: 'It does not befit us to leave bad examples. The one who takes back his gift is like a dog with its vomit
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال ( زیبا ) نہیں، ہبہ کر کے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے کھا لیتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " .
Ma'mar narrated from 'Amr bin Dinar, from Tawus, from Zaid bin Thabit, that the Prophet said:"'Umra (a gift given for life) belongs to the heir
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُرْقِبُوا وَلاَ تُعْمِرُوا فَمَنْ أُرْقِبَ أَوْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
Sufyan narrated from Ibn Juraij, from 'Ata', from Jabir that the Messenger of Allah said:"Do not give things on the basis of Ruqba or 'Umra. Whoever is given something on the basis of Ruqba or 'Umra, it belongs to his heirs
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ رقبیٰ اور عمریٰ نہ کیا کرو۔ ( جان لو ) اگر کوئی چیز کسی کو بطور رقبیٰ یا بطور عمریٰ دی گئی تو جس کو دی گئی ہے ( اس کے نہ رہنے پر ) اس کے ورثاء کی ہو جائے گی“۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ قُتَيْلَةَ، - امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ - أَنَّ يَهُودِيًّا، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّكُمْ تُنَدِّدُونَ وَإِنَّكُمْ تُشْرِكُونَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ وَتَقُولُونَ وَالْكَعْبَةِ . فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادُوا أَنْ يَحْلِفُوا أَنْ يَقُولُوا " وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . وَيَقُولُونَ " مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Yasar, from Qutailah, a woman from Juhainah, that a Jew came to the Prophet and said:"You are setting up rivals (to Allah) and associating others (with Him). You say: 'Whatever Allah wills and you will,' and you say: 'By the Ka'bah.'" So the Prophet commanded them, if they wanted to swear an oath, to say: "By the Lord of the Ka'bah;" and to say: "Whatever Allah wills, then what you will
قبیلہ جہینہ کی ایک عورت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: تم لوگ ( غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ ) شریک ٹھہراتے اور شرک کرتے ہو، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں، اور تم کہتے ہو: کعبے کی قسم! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانا چاہیں تو کہیں: کعبے کے رب کی قسم! اور کہیں: جو اللہ چاہے پھر آپ جو چاہیں
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that 'Aishah said:"The people used to try to bring their gifts (to the Prophet) on 'Aishah's day, hoping thereby to earn the pleasure of the Messenger of Allah
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ ہدیے اور تحفے بھیجتے جس دن عائشہ کی باری ہوتی، وہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی چاہتے تھے۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "We will fight the people until they say La ilaha illallah. If they say La ilaha illallah then their blood and their wealth become forbidden to us, except for a right that is due, and their reckoning will be with Allah
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاءً - قَالَتْ - فَسَتَرْتُهُ فَذَكَرَتِ الْغُسْلَ قَالَتْ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا .
It was narrated that Maimunah said:"I put some water out for the Messenger of Allah (ﷺ), then I concealed him" - and she mentioned how he performed Ghusl, then she said: "Then I brought him a cloth (a towel) but he did not want it
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں ( لینا ) چاہا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ سُئِلَ الشَّعْبِيُّ عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم وَصَفِيِّهِ فَقَالَ أَمَّا سَهْمُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَّا سَهْمُ الصَّفِيِّ فَغُرَّةٌ تُخْتَارُ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ شَاءَ .
It was narrated that Mutarrif said:"Ash-Shabi was asked about the share of the Prophet and what he chose for himself. He said: 'The share of the Prophet was like the share of any Muslim man, and what he chose for himself was something precious; he chose whatever he wanted to
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ " . خَالَفَهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ .
It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said:"While there was a group of his companions around him, the Messenger of Allah said: 'Pledge to me, that you will not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful sexual relations, nor kill your children; you will not utter slander, fabricating from between your hands and feet, and you will not disobey me in goodness (Ma'ruf). Whoever fulfills (this pledge), his reward will be with Allah, and whoever commits any of these actions and is punished for it, it will be an expiation for him. Whoever commits any of these actions then Allah conceals him, then his affair is up to Allah; if He wills He will forgive him, and if He wills punish him."' (Sahih) Ahmed bin Sa'eed contradicted him
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى شَاةٍ مَيِّتَةٍ مُلْقَاةٍ فَقَالَ " لِمَنْ هَذِهِ " . فَقَالُوا لِمَيْمُونَةَ . فَقَالَ " مَا عَلَيْهَا لَوِ انْتَفَعَتْ بِإِهَابِهَا " . قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ . فَقَالَ " إِنَّمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَكْلَهَا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas, from Maimunah, that:the Prophet passed by a dead sheep that had been thrown aside. He said: "Who does this belong to?" They said: "Maimunah." He said: "Why did she not make use of its skin?" They said: "It is dead meat (i.e., it was not slaughtered properly)." He said: "Allah, the Mighty and Sublime, has only forbidden us to eat it
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّيْدِ قَالَ " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلاَ تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْهِ وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْكَ " .
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim At-Tai that he asked the Messenger of Allah about hunting. He said:"If you release your dog and mention the name of Allah over him, and he kills (the game), but does not eat any of it, then eat. But if he has eaten from it, then do not eat, for he caught it for himself, and not for you
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، - قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ - عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالأُذُنَ وَأَنْ لاَ نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلاَ مُقَابَلَةٍ وَلاَ مُدَابَرَةٍ وَلاَ شَرْقَاءَ وَلاَ خَرْقَاءَ .
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah commanded us to examine the eyes and ears (of animals) and not to Sacrifice and animal with a bad eye, nor an animal with its ears slit from the front, nor an animals with its ears slit form the back, nor an animal with a round hole in its ear
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"Taking oaths may help you to make a sale but it takes (blessing) away from the earnings "(Sahih)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَبِيبُ الأَمِينُ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلاَ تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . فَرَدَّدَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَدَّمْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَايَعْنَاكَ فَعَلاَمَ قَالَ " عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَأَسَرَّ كَلِمَةً خَفِيَّةً أَنْ لاَ تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا " .
Awf bin Malik Al-Ashja'i said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'Will you not pledge to the Messenger of Allah (ﷺ)?' And he repeated it three times. So we stretched forth our hands to give our pledge. We said: 'O Messenger of Allah, we are willing to give you our pledge, but on what?' He said: 'That you will worship Allah and not associate anything with him, and (offer) the five daily prayers.' And he said, very quietly: 'And you will not ask the people for anything
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کر لی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے ، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں ۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَقَدِمَ مُحَيِّصَةُ فَأَتَى هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ لِمَكَانِهِ مِنْ أَخِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَبِّرْ كَبِّرْ " . فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَذَكَرُوا شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ " . قَالَ مَالِكٌ قَالَ يَحْيَى فَزَعَمَ بُشَيْرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ . خَالَفَهُمْ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ .
It was narrated from Bushair bin Yasar that:'Abdullah bin Sahl Al-Ansari and Muhayysah bin Mas'ud went out to Khaibar, where they went their separate ways to go about their business. 'Abdullah bin Sahl was killed, and Muhayysah came (to Madinah) and went with his brother Huwayysah and 'Abdur-Rahman bin Sahl to the Messenger of Allah. 'Abdur-Rahaman started to speak, because of his position as brother (of the slain man) but the Messenger of Allah said: "Let the elders speak first." So Huyysah and Muhayysah spoken, and told him about what happened to 'Abdullah bin Sahl. The Messenger of Allah said to them: "Will you sewer fifty oaths, then you will receive compensation or be entitled to retaliate?" (In his narration) Malik said: "Yahya said: 'Bushair said that the Messenger of Allah paid the blood money himself, but Sa'eed bin 'Ubaid At-Ta'l disagreed with them (in reporting that)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي خِيَرَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ، - يَعْنِي ابْنَ الْعَلاَءِ الْكُوفِيَّ - قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ صَفْوَانُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ وَرِدَاؤُهُ تَحْتَهُ فَسُرِقَ فَقَامَ وَقَدْ ذَهَبَ الرَّجُلُ فَأَدْرَكَهُ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ قَالَ صَفْوَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَلَغَ رِدَائِي أَنْ يُقْطَعَ فِيهِ رَجُلٌ . قَالَ " هَلاَّ كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَشْعَثُ ضَعِيفٌ .
It narrated that Ibn 'Abbas said:"Safwina was slleping in the Masjid with his Rida' beneath him, and it was stolen. He got up, and the man had gone, but he caught up with him, and took him to the prophet, who ordered that his hand be cut off. Safwan said; 'O Messenger of Allah, my Rida 'is not worth cutting off a man's hand for. 'He said 'Why did you not say that before you brought him to me
أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكُمُ الْمُسْلِمُ " .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever prays as we pray, turns to face the same Qiblah as us and eats our slaughtered animals, that is a Muslim
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخُو قَبِيصَةَ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلِي شَعْرٌ فَقَالَ " ذُبَابٌ " . فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي " لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ " .
It was narrated that Wa'il bin Hujr said:"I came to the Prophet [SAW] and I had hair. He said: 'This is bad,' and I thought he meant me, so I cut my hair then I came to him. He said to me: 'I didn't mean you, but this is better
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَالَ الآخَرُ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ .
It was narrated from Anas:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray 'Asr, then a person could go to Quba'." One of them [1] said: "And he would come to them when they were prayed." The other said: "And the sub was still high." [1] Both Az-Zuhri and Ishaq bin 'Abdullah narrated it from Anas, so the reference is about them
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے، پھر جانے والا قباء جاتا، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے، اور دوسرے کی روایت میں ہے: اور سورج بلند ہوتا۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ " نَعَمْ ". وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
It was narrated that 'Abdullah bin 'Abbas said:"Al-Fadl bin 'Abbas was riding behind the Messenger of Allah [SAW] when a woman from Khath'am came to ask him a question. Al-Fadl started looking at her, and she at him, and the Messenger of Allah [SAW] turned the face of Al-Fadl the other way. She said: 'O Messenger of Allah, the command of Allah, the Mighty and Sublime, to His slaves to perform Hajj has come while my father is an old man, and he cannot sit firmly in the saddle; can I perform Hajj on his behalf?' He said: 'Yes.' That was during the Farewell Pilgrimage
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُنْزِلَ عَلَىَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } إِلَى آخِرِ السُّورَةِ وَ { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } " . إِلَى آخِرِ السُّورَةِ .
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir that:The Prophet [SAW] said: "There have been revealed to me Verses the like of which has never been seen: 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of the daybreak...' to the end of the Surah, and 'Say: I seek refuge with (Allah) the Lord of mankind...' to the end of the Surah
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَنْبِذُوا الزَّهْوَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا وَلاَ تَنْبِذُوا الزَّبِيبَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا ".
It was narrated from Abu Qatadah that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Do not soak Az-Zahuw and ripe dates together, and do not soak raisins and ripe dates together
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " .
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (S.A.W) said:"Bilal calls the Adhan during the night, so eat and drink until you hear Ibn Umm Maktoom calling the Adhan
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات رہتی ہے تبھی اذان دے دیتے ہیں، تو تم لوگ کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کے اذان دینے کی آواز سنو ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الأَقْصَى " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Mounts are not saddled for except to (travel to) three Masjids: Al-Masjid Al-Haram, this Masjid of mine, and Al-Masjid Al-Aqsa
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ثواب کی نیت سے ) صرف تین مسجدوں کے لیے سفر کیا جائے: ایک مسجد الحرام، دوسری میری یہ مسجد ( مسجد نبوی ) ، اور تیسری مسجد اقصی ( بیت المقدس ) ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ الْحَكَمَ، أَخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ، يُحَدِّثُ عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ مَرَّ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ وَغُلاَمٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي فَنَزَلُوا وَدَخَلُوا مَعَهُ فَصَلَّوْا وَلَمْ يَنْصَرِفْ فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ تَسْعَيَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ فَفَرَعَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْ .
It was narrated that Suhaib said:"I heard Ibn Abbas narrate that he passed in front of the Messenger of Allah (ﷺ), he and a young boy of Banu Hashim, riding a donkey in front of the Messenger of Allah(ﷺ) when he was praying. Then they dismounted and joined the prayer, and he did not stop praying. Then two young girls of Banu Abdul-Muttalib started running around and grabbing him by the knees. He separated them but he did not stop praying
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ وہ اور بنی ہاشم کا ایک لڑکا دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک گدھے پر سوار ہو کر گزرے، آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو وہ دونوں اترے اور آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، پھر ان لوگوں نے نماز پڑھی اور آپ نے نماز نہیں توڑی، اور ابھی آپ نماز ہی میں تھے کہ اتنے میں بنی عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ کے گھٹنوں سے لپٹ گئیں، آپ نے ان دونوں کو جدا کیا، اور نماز نہیں توڑی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَلِمَةَ الْجَرْمِيُّ، قَالَ كَانَ يَمُرُّ عَلَيْنَا الرُّكْبَانُ فَنَتَعَلَّمُ مِنْهُمُ الْقُرْآنَ فَأَتَى أَبِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " . فَجَاءَ أَبِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " . فَنَظَرُوا فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ .
Amr bin Salamah Al-Jarmi said:"Riders used to pass by us and we would leam the Qur'an from them. My father came to the Prophet (ﷺ) and he said: 'Let the one of you who knows most Qur'an leads the prayer.' My father came and said that the Messenger of Allah (ﷺ) had said: 'Let the one of you who knows most Quran lead you in prayer.' They looked and found that I was the one who knew most Qur'an, so I used to lead them in prayer when I was eight years old
عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم ان سے قرآن سیکھتے تھے ( جب ) میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ، تو جب میرے والد لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ، تو لوگوں نے نگاہ دوڑائی تو ان میں سب سے بڑا قاری میں ہی تھا، چنانچہ میں ہی ان کی امامت کرتا تھا، اور اس وقت میں آٹھ سال کا بچہ تھا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ رَآنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ وَضَعْتُ شِمَالِي عَلَى يَمِينِي فِي الصَّلاَةِ فَأَخَذَ بِيَمِينِي فَوَضَعَهَا عَلَى شِمَالِي .
It was narrated that Al Hajjaj bin Abi Zainab said:X"I heard Abu Uthman narrate that Ibn Mas'ud said: 'The Prophet (ﷺ) saw me when I had placed my left hand on my right in prayer. He took hold of my right hand and placed it on my left
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔