بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
11
17 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنِّي لأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلْقَمَةَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ فَأَخْبَرَنَا بِهِنَّ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:I know the similar surahs that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite, twenty surahs in ten rak'ahs." Then he took 'Alqamah's hand and went in, then 'Alqamah came out and we asked him and he told us what they were
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، وہ بیس سورتیں ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس رکعتوں میں پڑھتے تھے، پھر انہوں نے علقمہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، اور اندر لے گئے، پھر علقمہ رضی اللہ عنہ نکل کر باہر ہمارے پاس آئے، تو ہم نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے ہمیں وہ سورتیں بتائیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مِنْ سُنَّةِ الصَّلاَةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى وَتَنْصِبَ الْيُمْنَى ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abdullah bin 'Umar that his father said:"One of the sunnahs of the prayer is to spread your left foot beneath you, and hold your right foot upright
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز کی سنت میں سے یہ بات ہے کہ تم اپنے بائیں پیر کو بچھاؤ اور دائیں کو کھڑا رکھو۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْمُسَافِرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ يَعْنِي فِي الْمَسْحِ ‏.‏
It was narrated that 'Ali (may Allah be pleased with him) said:"The Messenger of Allah (ﷺ) set a time limit of three days and three nights for the traveler, and one day and one night for the resident - meaning, with regards to wiping (over the Khuffs)
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی تحدید فرمائی ہے ۱؎یعنی ( موزوں پر ) مسح کے سلسلے میں۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ حَدِّثِينِي بِشَىْءٍ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِهِ ‏.‏ فَقَالَتْ نَعَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Farwah bin Nawfal said:"I said to 'Aishah: 'Tell me of a supplication that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his prayer.' She said: 'Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: Allahumma inni author bika min sharri ma 'amiltu wa min sharri ma lam a'mal (O Allah, I seek refuge with You from the evil of that which I have done, and the evil of that which I have not done)
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے ایسی چیز بیان کیجئیے جس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دعا کرتے رہے ہوں، تو وہ کہنے لگیں: ہاں، سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو میں نے کیا ہے، اور اس کام کی برائی سے جو میں نے نہیں کیا ہے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ‏.‏
It was narrated from Aishah that:The Prophet (ﷺ) used to pray eleven rak'ahs at night, of which one was witr, then he would lie down on his right side
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے، اور آپ ایک کے ذریعہ اسے وتر کر لیتے، پھر آپ اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Imran bin Husain said:"The Messenger of Allah said: 'Your brother has died, so get up and pray for him
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھائی مر گیا ہے، اٹھو اس کی نماز جنازہ پڑھو“۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْ��َرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخِلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:"I heard the Messenger of Allah say: 'Allah, the mighty and sublime, said: Every deed of the son of Adam is for him, except fasting; it is for me and I shall reward for it. By the one in whose hand is the soul of Muhmmad, the smell coming from the mouth of the fasting person is better before Allah than the fragrance of musk
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدمی کا ہر عمل اسی کے لیے ہے، سوائے روزہ کے وہ میرے لیے ہے، اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُدْرِكِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ خَابُوا وَخَسِرُوا خَابُوا وَخَسِرُوا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Dharr that the Prophet said:"There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, or look at them, or sanctify them, and theirs will be a painful torment." The Messenger of Allah repeated and Abu Dharr said: "May they be lost and doomed." He said: "The one who lets his garment hang beneath his ankles, a vendor who tries to sell his product by means of false oaths, and the one who reminds people of what he has given them
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی۔ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ نامراد ہوئے، گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ” ( وہ تین یہ ہیں ) اپنا تہبند ٹخنے کے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے سامان کو رواج دینے والا، اپنے دیے ہوئے کا احسان جتانے والا“۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ إِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَاهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهِلُّ يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ ‏.‏
It was narrated that Ibn Shihab said:"Salim told me that his father said: "I heard the Messenger of Allah say the Talbiyah: "Labbaika Allahumma Labbaik, Labbaika La sharika laka Labbaik. Innal-hamda wan-ni'mata laka wal-mulk, la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner)." 'Abdullah bin 'Umar used to say: "The Messenger of Allah used to pray two Rak'ahs in Dhul-Hulaifah, then when his she-camel stood up straight with him at the Masjid of Dhul-Hulaifah, he would enter Ihram saying these words
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پکارتے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں اے رب! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک و ساجھی دار نہیں، حاضر ہوں میں، تمام تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں، تیری ہی سلطنت ہے، تیرا کوئی ساجھی و شریک نہیں“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب اونٹنی آپ کو مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لے کر پوری طرح کھڑی ہوئی تو آپ نے ان کلمات کو بلند آواز سے کہا۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَمَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضْعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ - يُرِيدُ رَضَاعَةَ الْكَبِيرِ - وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نُرَى الَّذِي أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلاَّ رُخْصَةً فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهِ لاَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضْعَةِ وَلاَ يَرَانَا ‏.‏
It was narrated that 'Urwah said:"The rest of the wives of the Prophet refused for anyone to enter upon them on the basis of that type of breast-feeding, meaning breast-feeding of an adult. They said to 'Aishah: 'By Allah, we think that what the Messenger of Allah told Sahlah bint Suhail to do was a concession which was granted by the Messenger of Allah only with regard to breast-feeding Salim. By Allah, no one will enter upon us, nor see us on the basis of this type of breast-feeding
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبھی ازواج مطہرات ۱؎ نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی ان کے پاس اس رضاعت کا سہارا لے کر ( گھر کے اندر ) آئے، مراد اس سے بڑے کی رضاعت ہے اور سب نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: قسم اللہ کی! ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل کو ( سالم کو دودھ پلانے کا ) جو حکم دیا ہے وہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سالم کی رضاعت کے سلسلہ میں خاص تھا۔ قسم اللہ کی! اس رضاعت کے ذریعہ کوئی شخص ہمارے پاس آ نہیں سکتا اور نہ ہمیں دیکھ سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِي حَامِلٌ فَوَلَدَتْ لأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ يَوْمِ مَاتَ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرُ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ فَوَلَدَتْ لأَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَزَوَّجَ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said:"While Abu Hurairah and I were with Ibn 'Abbas, a woman came and said that her husband had died while she was pregnant, then she had given birth less than four months after the day he died. Ibn 'Abbas said: '(You have to wait) for the longer of the two periods.'" Abu Salamah said: "A man from among the Companions of the Prophet told me that Subai'ah Al-Aslamiyyah came to the Messenger of Allah and said that her husband died while she was pregnant, and she gave birth less than four months after he died. The Messenger of Allah told her to get married. Abu Hurairah said: 'And I bear witness to that
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ۔ ( ایک روز ) میں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، اتنے میں ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: وہ حمل سے تھی کہ اسی دوران اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اسے مرے ہوئے قریب چار مہینے ہوئے تھے کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا ( اس کی عدت کیا ہو گی؟ ) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس کی مدت لمبی ہو گی وہی تمہاری عدت ہو گی، ( یہ سن کر ) ابوسلمہ نے کہا: مجھے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: اس کا شوہر انتقال کر گیا، اس وقت وہ حاملہ تھی پھر اس نے قریب چار مہینے پر بچہ جنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کر لینے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں اس مسئلہ میں گواہ ہوں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قَاتَلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قَاتَلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sa'eed bin Zaid that:The Prophet [SAW] said: "Whoever fights to protect his wealth and is killed, he is a martyr. Whoever fights to protect himself, he is a martyr. Whoever fights to protect his family is a martyr
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ ‏.‏ فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلِ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ فَقَالاَ جَمِيعًا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا ‏.‏
Abu Al-Minhal said:"I asked Al-Bara bin 'Azib about money exchange. He said: 'Ask Zaid bin Arqam, for he is better than me and more knowledgeable.' So I asked Zaid and he said: 'Ask Al-Bara for he is better than me and more knowledgeable.' And they both said: 'The Messenger of Allah forbade (selling) silver for gold on credit
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ انْتَهَى قَوْمٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلاَءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلاَنًا رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Tha'1abah bin Zahdam said:"Some people from Banu Tha'labah came to the Prophet (ﷺ) when he was delivering a speech and a man said: 'O Messenger of Allah, these are Banu Tha'labah bin Yarbu' who killed so and so' - one of the Companions of the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said: 'No soul is affected by the sin of another
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ وَالْجِعَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي قَبْلَهُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ ‏.‏
It was narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade me (to wear) gold rings and Al-Qassi, Al-Mitharah, and Al-Ji'ah
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ - عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَقُولُ اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلاَ قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لاَ يَجْتَمِعُ وَالإِيمَانُ أَبَدًا إِلاَّ يُوشِكُ أَحَدُهُمَا أَنْ يُخْرِجَ صَاحِبَهُ ‏.‏
Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman bin Al-Harith narrated that his father said:"I heard 'Uthman say: 'Avoid Khamr for it is the mother of all evils. There was a man among those who came before you who was a devoted worshipper and used to stay away from people.'" And he mentioned something similar. He said: "Avoid Khamr for, by Allah, it can never coexist with Faith, but soon one of them will expel the other
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحُبِسْنَا عَنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَىَّ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلاَلاً فَأَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏ "‏ مَا عَلَى الأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were prevented from praying Zuhr, 'Asr, Maghrib and 'Isha'. I felt very upset about that and I said to myself: 'We are with the Messenger of Allah (ﷺ) and (fighting) for the sake of Allah.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) commanded Bilal to say the Iqamah and he led us in praying Zuhr. Then he said the Iqamah and he led us in praying 'Asr. Then he said the Iqamah and he led us in praying Maghrib. Then he said the Iqamah and he led us in praying 'Isha'. Then he went around among us and told us: 'There is no group on Earth who is remembering Allah, the Mighty and Sublime, except you
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہمیں ( کافروں کی طرف سے ) ظہر، عصر، مغرب اور عشاء سے روک لیا گیا، تو یہ میرے اوپر بہت گراں گزرا، پھر میں نے اپنے جی میں کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، اور اللہ کے راستے میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں ظہر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں عصر پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں مغرب پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی، تو آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر گھومے اور فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں ہے، جو اللہ کو یاد کر رہی ہو ۔