بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
11
17 hadith
أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ وَقَعَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي سَعْدٍ عِنْدَ عُمَرَ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يُحْسِنُ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ أَخْرِمُ عَنْهَا أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ‏.‏ قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin Samurah said:"Some of the peole of Al-Khufah complained about Sa'd to 'Umar. They said: 'By Allah, he does not pray properly.' He said: 'I lead them in prayer as the Messenger of Allah (ﷺ) did, and I do not deviate from that. I take my time in the first two rak'ahs and make the other two shorter.' He (Umar) said: 'That is what I thought about you
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوفہ کے چند لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آئے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، ( عمر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر ) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز پڑھاتا ہوں، اس میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا، پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرتا ہوں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں ہلکی کرتا ہوں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے یہی توقع ہے۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - فَلَمَّا رَكَعَ كَبَّرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ثُمَّ كَبَّرَ حِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلاَتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ‏.‏ وَاللَّفْظُ لِسَوَّارٍ ‏.‏
It was narrated from Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman and from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman that:They prayed behind Abu Hurairah, may Allah (SWT) be pleased with him, and he when he bowed, he said the Takbir, when he raised his head he said: 'Sami Allahu liman hamidah, Rabbana wa lakal-hamd. Then he prostrated and said the takbir, then he raised his head and said the takbir, then he said the takbir when he stood up following that Rak'ah. Then he said: 'By the One in Whose Hand is my soul, I am the one among you whose prayer most closely resembles that of the Messenger of Allah (ﷺ). And this is how he continued to pray until he left this world
ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، جب انہوں نے رکوع کیا تو اللہ اکبر کہا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر سجدہ کیا تو «اللہ اکبر» کہا، اور سجدہ سے اپنا سر اٹھایا تو «اللہ اکبر» کہا، پھر جس وقت رکعت پوری کر کے کھڑے ہوئے تو «اللہ اکبر» کہا، پھر کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نماز میں ازروئے مشابہت تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہوں، برابر آپ کی نماز ایسے رہی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے، یہ الفاظ «سّوار» کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّهَاوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَزُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ سَأَلْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ عَنِ الْمَسْحِ، عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا مُسَافِرِينَ أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا وَلاَ نَنْزِعَهَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ إِلاَّ مِنْ جَنَابَةٍ ‏.‏
It was narrated that Zirr said:"I asked Safwan bin 'Assal about wiping over the Khuffs, and he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to tell us, when we were travelling, to wipe over our Khuffs and not take them off for three nights in the event of defecating, urinating or sleeping; only in the case of Janabah
زر کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: جب ہم مسافر ہوتے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں، اور اسے تین دن تک پیشاب، پاخانہ اور نیند کی وجہ سے نہ اتاریں سوائے جنابت کے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ صَلَّى عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ بِالْقَوْمِ صَلاَةً أَخَفَّهَا فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهَا فَقَالَ أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ أَمَّا إِنِّي دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهِ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الإِخْلاَصِ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لاَ يَنْفَدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لاَ تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بِالْقَضَاءِ وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَفِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Qais bin 'Ubad said:"Ammar bin Yasir led the people in prayer and he made the prayer short. It was as if they disliked that, so he said: 'Did I not do bowing and prostration properly?' They said: 'Yes.' He said: 'And I said a supplication that the Prophet (ﷺ) used to say:Allahumma bi 'ilmikal-ghaiba wa qudratika 'alal-khalqi ahini ma 'alimtal-hayata khairan li, wa tawaffani idha 'alimtal-wafata khairan li. Allahumma as'aluka khashyataka fil-ghaibi wash-shahadati wa as'aluka kalimatul-aqua fir-rida'i wal ghadab, wa as'alukal-qasda fil faqr wal-ghina, wa as'aluka na'iman la yanfadu wa as'aluka qurrata ainan la tanqati'u wa as'alukar-rida'i ba'dal-qada'i wa as'aluka bardal 'aishi ba'dal-mawti, wa as'aluka ladhatan-nazari ila wajhika wash-shawqa ila liqa'ika fi fitnatin mudillatin, Allahumma zayyina dizinatil-imani waj'alna hudatan muhtadin (O Allah, by Your knowledge of the unseen and Your power over creation, keep me alive so long as You know that living is good for me and cause me to die when You know that death is better for me. O Allah, cause me to fear You in secret and in public. I ask You to make me true in speech in times of pleasure and of anger. I ask You to make me moderate in times of wealth and poverty. And I ask You for everlasting delight and joy that will never cease. I ask You to make me pleased with that which You have decreed and for an easy life after death. I ask You for the sweetness of looking upon Your face and a longing to meet You in a manner that does not entail a calamity that will bring about harm or a trial that will cause deviation. O Allah, beautify us with the adornment of faith and make us among those who guide and are rightly guided)
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسے ہلکی پڑھائی، تو گویا کہ لوگوں نے اسے ناپسند کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں نے رکوع اور سجدے پورے پورے نہیں کیے ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور کیا ہے، پھر انہوں نے کہا: سنو! میں نے اس میں ایسی دعا پڑھی ہے جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے: «‏اللہم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وكلمة الإخلاص في الرضا والغضب وأسألك نعيما لا ينفد وقرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بالقضاء وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك وأعوذ بك من ضراء مضرة وفتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين» اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری خشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ اخلاص کی توفیق مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طلبگار ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طلبگار ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تیری اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہنما و ہدایت یافتہ بنا دے ۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، أُرَاهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ ‏.‏
It was narrated that Aishah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray nine rak'ahs at night
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمَنْصُورٌ، وَزِيَادٌ، وَبَكْرٌ، - هُوَ ابْنُ وَائِلٍ - كُلُّهُمْ ذَكَرُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا مِنَ الزُّهْرِيِّ، يُحَدِّثُ أَنَّ سَالِمًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَىِ الْجَنَازَةِ ‏.‏ بَكْرٌ وَحْدَهُ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ ‏.‏
Salim narrated:That his father told him that he was the Prophet, Abu Bakr, 'Umar and 'Uthman walking in front of the Janazah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے ( پیدل ) چلتے دیکھا ہے۔ صرف راوی بکر نے عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے، اور درست مرسل ہونا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ الزَّيَّاتُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ‏.‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Allah, the Mighty and sublime, said: Every deed of the son of Adam is for him, except fasting; it is for me and I shall reward for it. Fasting is a shield. If any one of you is observing a fast, let him not utte obscene a fast, let him not utter obscene talk or raise his voice in anger, and if anyone insults him or wants to fight, let him say: I am a person who is fasting. By the One in Whose hand is the soul of Muhammad, the smell coming from the mouth of the fasting person is better before Allah than the fragrance of musk." ' (Sahih) This Hadith was narrated from Abu Hurairah by Saeed bin Al-Musayyab
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہوتا ہے سوائے روزے کے، وہ خالص میرے لیے ہے، اور میں خود ہی اسے اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، تو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش اور لایعنی بات نہ کرے، اور نہ ہی شور و غل مچائے، اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا اس کے ساتھ مار پیٹ کرے تو اس سے کہے: میں روزہ دار آدمی ہوں ( گالی گلوچ مار پیٹ نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بوسے زیادہ عمدہ ہے۔ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب نے روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ وَالدَّيُّوثُ وَثَلاَثَةٌ لاَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ عَلَى الْخَمْرِ وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Salim bin 'Abdullah that his father said:"The Messenger of Allah said: "There are three at whom Allah will not look on the Day of Resurrection: The one who disobeys his parents, the woman who imitates men in her outward appearance, and the cuckold. And there are three who will not enter Paradise: The one who disobeys his parents, the drunkard, and the one who reminds people of what he has given them
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ دیکھے گا، ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسری وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، تیسرا دیوث ( بے غیرت ) اور تین شخص ایسے ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے۔ ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسرا عادی شرابی، اور تیسرا دے کر احسان جتانے والا“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ ‏.‏ قَالَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ إِذًا أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنِّي أُ��ْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ‏.‏ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي ‏.‏ وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ فَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from Nafi that:Ibn 'Umar wanted to perform Hajj in the year when Al-Hajjaj was besieging Ibn Az-Zubair, and it was said to him: "It seems that there will be fighting between them, and I am afraid that you will prevented from performing Hajj." He said: "In the messenger of Allah you have a good example. I am going to do what the Messenger of Allah did. I bear witness to you that I have resolved to perform 'Umrah." Then he set out, and when he was in Zahir Al-Baida, he said: "Hajj and Umrah are the same thing; I bear witness to you that I have resolved to perform Hajj with my 'Umrah." And he brought along a Hadi (sacrificial animal) that he had bought in Qudaid. Then he set out and entered Ihram for them both. When he came to Makkah he circumambulated the House and (did sa'i) between As-Safa and Al-Marwah. Then he did not do any thing more than that, and he did not offer a sacrifice, or shave his head, or cut his hair; he remained in Ihram until the Day of Sacrifice. Then he slaughtered his Hadi and shaved his head, and he thought that he had completed the Tawaf of Hajj and 'Umrah in the first Tawaf. Ibn 'Umar said: "That is what the Messenger of Allah did
نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ ان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ آپ کو ( حج سے ) روک دیں گے تو انہوں نے کہا: ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے پھر چلے، جب بیداء کے پاس پہنچے تو کہا: حج و عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، اور ہدی بھی ساتھ لے لی جسے قدید میں خریدا تھا پھر کچھ راستے دونوں ( حج و عمرہ ) کا تلبیہ پکارتے ہوئے چلے یہاں تک کہ مکہ آ گئے، تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، نہ قربانی کی، نہ سر منڈایا، نہ بال کتروائے، اور نہ ان چیزوں سے حلال ہوئے جو اس کی وجہ سے ان پر حرام ہوئی تھیں یہاں تک کہ جب ذی الحجہ کی دسویں تاریخ آئی تو انہوں نے نحر کیا ( قربانی کیا ) سر منڈوایا اور یہ خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج و عمرہ دونوں کا طواف ہو گیا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَالِمًا، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ فَأَتَتْ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ وَعَقَلَ مَا عَقَلُوهُ وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَإِنِّي أَظُنُّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْضَعْتُهُ فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah, was with Abu Hudhaifah and his family in their house. The daughter of Suhail came to the Prophet and said:"Salim has reached the age of manhood, and understands what men understand. He enters upon us, and I think that Abu Hudhaifah is not happy about that." The Prophet said: "Breast-feed him, and you will become unlawful to him." So she breast-fed him, and the displeasure of Abu Hudhaifah disappeared. She came back to him and said: "I breast-fed him and the displeasure of Abu Hudhaifah has disappeared
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ابوحذیفہ اور ان کی بیوی ( بچوں ) کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے۔ تو سہیل کی بیٹی ( سہلہ ابوحذیفہ کی بیوی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہا کہ سالم لوگوں کی طرح جوان ہو گیا ہے اور اسے لوگوں کی طرح ہر چیز کی سمجھ آ گئی ہے اور وہ ہمارے پاس آتا جاتا ہے اور میں اس کی وجہ سے ابوحذیفہ کے دل میں کچھ ( کھٹک ) محسوس کرتی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دودھ پلا دو، تو تم اس پر حرام ہو جاؤ گی“ تو انہوں نے اسے دودھ پلا دیا، چنانچہ ابوحذیفہ کے دل میں جو ( خدشہ ) تھا وہ دور ہو گیا، پھر وہ لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دوبارہ ) آئیں اور ( آپ سے ) کہا: میں نے ( آپ کے مشورہ کے مطابق ) اسے دودھ پلا دیا، اور میرے دودھ پلا دینے سے ابوحذیفہ کے دل میں جو چیز تھی یعنی کبیدگی اور ناگواری وہ ختم ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ فَقَالَ مَا يَصْلُحُ لَكِ أَنْ تَنْكِحِي حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ فَمَكَثَتْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نُفِسَتْ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ انْكِحِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman that Zainab bint Abi Salamah told him, from her mother, Umm Salamah, the wife of the Prophet:"That a woman from Aslam who was called Subai'ah was married to her husband, and he died while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Ba'kak proposed to her but she refused to marry him. He said: 'You cannot get married until you have observed 'Iddah for the longer of the two periods.' Approximately twenty days later she gave birth. She went to the Messenger of Allah and he said: 'Get married
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سن کر مجھے خبر دی کہ قبیلہ اسلم کی سبیعہ نامی ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اور حاملہ تھی ( اسی دوران ) شوہر کا انتقال ہو گیا تو ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ نے اسے شادی کا پیغام دیا جسے اس نے ٹھکرا دیا، اس نے اس سے کہا: تیرے لیے درست نہیں ہے کہ دونوں عدتوں میں سے آخری مدت کی عدت پوری کئے بغیر شادی کرے۔ پھر وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ ( اس کے بعد ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ( اور آپ سے اسی بارے میں مسئلہ پوچھا اور صورت حال بتائی ) آپ نے فرمایا: ”تو ( جس سے چاہے ) نکاح کر لے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِيثُ الْمُؤَمَّلِ خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏
It was narrated that Abu Ja'far said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever is killed defending his wealth and is killed unjustly, he is a martyr
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالاَ كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلاَ يَصْلُحُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Al-Minhal said:" I asked Al-Bara bin 'Azib and Zaid bin Arqam and they said: 'We were merchants at the time of the Messenger of Allah and we asked the Prophet of Allah about money exchange. He said: "If it is done hand to hand there is nothing wrong with it, but if it is done on credit then it is not right
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فِي أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلاَءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلاَنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهَتَفَ بِصَوْتِهِ ‏ "‏ أَلاَ لاَ تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى الأُخْرَى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Tha'labah bin Zahdam said:"some people from Banu Tha'labah came to the Prophet when he was delivering a speech and a man said; "O Messenger of Allah, these are Banu Tha'labah bin Yarbu' who killed so and so' - one of the Companions of the Prophet The Prophet said: "No soul is affected by the sin of another
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ آدَمَ - قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، سَمِعَهُ مِنْ، عَلِيٍّ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَعَنِ الثِّيَابِ الْقَسِّيَّةِ وَعَنِ الْجِعَةِ شَرَابٌ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالْحِنْطَةِ وَذَكَرَ مِنْ شِدَّتِهِ ‏.‏ خَالَفَهُ عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ رَوَاهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صَعْصَعَةَ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏
Ali said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade gold rings, red Al-Miyathir, Qassiyah garments and Al-Ji'ah, which is a drink made from barley and wheat." - And he mentioned its strength
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ، رضى الله عنه يَقُولُ اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ إِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلاَ قَبْلَكُمْ تَعَبَّدَ فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ غَوِيَّةٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ جَارِيَتَهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنَّا نَدْعُوكَ لِلشَّهَادَةِ فَانْطَلَقَ مَعَ جَارِيَتِهَا فَطَفِقَتْ كُلَّمَا دَخَلَ بَابًا أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ عِنْدَهَا غُلاَمٌ وَبَاطِيَةُ خَمْرٍ فَقَالَتْ إِنِّي وَاللَّهِ مَا دَعَوْتُكَ لِلشَّهَادَةِ وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقَعَ عَلَىَّ أَوْ تَشْرَبَ مِنْ هَذِهِ الْخَمْرَةِ كَأْسًا أَوْ تَقْتُلَ هَذَا الْغُلاَمَ ‏.‏ قَالَ فَاسْقِينِي مِنْ هَذَا الْخَمْرِ كَأْسًا فَسَقَتْهُ كَأْسًا ‏.‏ قَالَ زِيدُونِي فَلَمْ يَرِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا وَقَتَلَ النَّفْسَ فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا وَاللَّهِ لاَ يَجْتَمِعُ الإِيمَانُ وَإِدْمَانُ الْخَمْرِ إِلاَّ لَيُوشِكُ أَنْ يُخْرِجَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ‏.‏
It was narrated from Abu Bakr bin 'Abdur-Rahman bin Al-Harith that his father said:"I heard 'Uthman, may Allah be pleased with him, say: 'Avoid Khamr for it is the mother of all evils. There was a man among those who came before you who was a devoted worshipper. An immoral woman fell in love with him. She sent her slave girl to him, saying: We are calling you to bear witness. So he set out with her slave girl, and every time he entered a door, she locked it behind him, until he reached a beautiful woman who has with her a boy and a vessel of wine. She said: 'By Allah, I did not call you to bear witness, rather I called you to have intercourse with me, or to drink a cup of this wine, or to kill this boy.' He said: 'Pour me a cup of this wine.' So she poured him a cup. He said: 'Give me more.' And soon he had intercourse with her and killed the boy. So avoid Khamr, for by Allah faith and addiction to Khamr cannot coexist but, one of them will soon expel the other
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَأَسْرَيْنَا لَيْلَةً فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلاَّ بِالشَّمْسِ قَدْ طَلَعَتْ عَلَيْنَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ‏.‏
It was narrated from Buraid bin Abi Mariam that his father said:"We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and we kept going one night, then when it was nearly morning the Messenger of Allah (ﷺ) dismounted and slept, and the people slept too. We did not wake up until the sun had risen. The Messenger of Allah (ﷺ) asked the Mu'adhdhin to call the Adhan, then he prayed the two Rak'ahs before Fajr, then he asked him to say the Iqamah, then he led the people in prayer. Then he told us about everything that will happen until the Hour begins
ابومریم (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم رات بھر چلتے رہے جب صبح ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور سو رہے، لوگ بھی سو گئے، تو سورج کی دھوپ پڑنے ہی پر آپ جاگے، تو آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر آپ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ نے قیامت قائم ہونے تک جو اہم چیزیں ہونے والی ہیں انہیں ہم سے بیان کیں۔