بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
11
17 hadith
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاَةِ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ أَتَّئِدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ ‏.‏
Abu 'Awn said:"I heard Jabir bin Samurah say: 'Umar said to Sa'eed': "The people are complaining about everything about you, even about your prayer." Sa'd said: "I take my time in the first two rak'ahs and I make the other two shorter. I do my best to follow the example of the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer." 'Umar said: 'That is what I thought about you
ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگ ہر بات میں تمہاری شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتوں میں جلد بازی نہیں کرتا ۱؎ اور پچھلی دونوں رکعتوں میں قرأت ہلکی کرتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے مجھے یہی توقع ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from Abu Salamah :That Abu Hurairah used to lead them in prayer, and he said the takbir when he went down and came up. When he had finished he said: 'By Allah (SWT), I am the one among you whose prayer most closely resembles that of the Messenger of Allah (ﷺ)
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے تھے، تو جب جب جھکتے اور اٹھتے «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب وہ سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتے: قسم اللہ کی، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ رَخَّصَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا كُنَّا مُسَافِرِينَ أَنْ لاَ نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ ‏.‏
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:"The Prophet (ﷺ) granted us a dispensation when traveling, allowing us not to take off our Khuffs for three days and three nights
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت سفر ہم کو تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتارنے کی اجازت دی تھی۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلاَةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ لَقَدْ خَفَّفْتَ أَوْ أَوْجَزْتَ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَامَ تَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ هُوَ أَبِي غَيْرَ أَنَّهُ كَنَى عَنْ نَفْسِهِ فَسَأَلَهُ عَنِ الدُّعَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَأَخْبَرَ بِهِ الْقَوْمَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لاَ يَنْفَدُ وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لاَ تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلاَ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ ‏"‏ ‏.‏
Ata bn As-Sa'ib narrated that his father said:"Ammar bin Yasir led us in prayer and he made it brief. Some of the people said to him: 'You made the prayer sort (or brief).' He said: 'Nevertheless I still recited supplications that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ).' When he got up and left, a man -- he was my father but he did not name himself -- followed him and asked him about that supplication, then he came and told the people: "Allāhumma bi `ilmikal-ghaiba wa qudratika 'alal-khalqi aḥyinī mā `alimtal-ḥayāta khairan lī, wa tawaffanī idhā `alimtal-wafāta khairan lī. Allāhumma wa 'as'aluka khashyataka fil-ghaibi wash-shahādati wa 'as'aluka kalimatal-ḥaqqi fir-riḍā'i wal ghaḍab, wa as'alukal-qaṣda fil faqri wal-ghina, wa 'as'aluka na`īman lā yanfadu wa 'as'aluka qurrata `ainin lā tanqaṭi`u wa as'alukar-riḍā'i ba`dal-qaḍā'i wa 'as'aluka bardal `aishi ba`dal-mawti, wa 'as'aluka ladhdhatan-naẓari ilā wajhika wash-shawqa ilā liqā'ika fī ghairi ḍarrā'a muḍirratin wa lā fitnatin muḍillatin, Allāhumma zayyinnā bizīnatil-īmāni waj`alna hudātan muhtadīn (O Allah, by Your knowledge of the unseen and Your power over creation, keep me alive so long as You know that living is good for me and cause me to die when You know that death is better for me. O Allah, cause me to fear You in secret and in public. I ask You to make me true in speech in times of pleasure and of anger. I ask You to make me moderate in times of wealth and poverty. And I ask You for everlasting delight and joy that will never cease. I ask You to make me pleased with that which You have decreed and for an easy life after death. I askYou for the sweetness of looking upon Your face and a longing to meet You in a manner that does not entail a calamity that will bring about harm or a trial that will cause deviation. O Allah, beautify us with the adornment of faith and make us among those who guide and are rightly guided)
سائب کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس میں اختصار سے کام لیا، قوم میں سے کچھ لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے نماز ہلکی کر دی ہے، راوی کو شک ہے «خففت» کہا یا «أوجزت» ( ہلکی کر دی یا مختصر کر دی ) تو انہوں نے کہا: اس کے باوجود میں نے اس میں ایسی دعائیں پڑھی ہیں جن کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تو جب وہ جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو قوم میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے ہو لیا ( وہ کوئی اور نہیں میرے والد تھے مگر انہوں نے اپنا نام چھپایا ہے ) ۱؎ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں سوال کیا، پھر آ کر لوگوں کو اس کی خبر دی، وہ دعا یہ تھی: «اللہم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللہم وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الحق في الرضا والغضب وأسألك القصد في الفقر والغنى وأسألك نعيما لا ينفد وأسألك قرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بعد القضاء وأسألك برد العيش بعد الموت وأسألك لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين» اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری مشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور تنگ دستی و خوشحالی دونوں میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہ نما اور ہدایت یافتہ بنا دے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، - يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ - قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ‏.‏ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
It was narrated from Sa'd bin Hisham:That he came to the Mother of the Believers Aishah and asked her about the prayers of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: "He used to pray eight rak'ahs at night and pray witr with the ninth, then he would pray two rak'ahs sitting down
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور انہوں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بتایا: آپ رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے، اور نویں رکعت کے ذریعہ اسے وتر کر لیتے، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق�� بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ ‏.‏
It was narrated from Salim:That his father saw the Messenger of Allah, Abu Bakr and 'Umar, may Allah be pleased with them, walking in front of the Janazah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ إِذَا كَانَ يَوْمُ صِيَامِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: '(Allah says) Every deed of the son of Adam is for him, except fasting; it is for me and I shall reward for it. Fasting is a shield. If any one of you is fasting, let him no utter obscene talk or raise his voice in anger, and if anyone insults him or wants to fight, let him say: I am fasting. By the One in whose hand is the soul of Muhammad, the smell coming from the mouth of the fasting person is better before Allah than the fragrance of musk. The fasting person has two moments of joy: When he breaks his fast he rejoices at breaking his fast and when he meets his Lord, the Mighty and Sublime, he will rejoice at having fasted
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے، شور و شغب نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے ( بھائی ) میں روزے سے ہوں، ( مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے یہاں قیامت کے دن مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے: ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو اپنے روزہ کھولنے سے خوش ہوتا ہے، اور دوسری جب وہ اپنے بزرگ و برتر رب سے ملے گا تو اپنے روزہ ( کا ثواب ) دیکھ کر خوش ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir that the Messenger of Allah said:"The one who recites the Qur'an loudly is like one who gives charity openly, and the one who recites the Qur'an quietly is like one who gives charity in secret
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے، اور دھیرے سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے“۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْيَمَنِ فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِيَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ عَلِيٌّ وَجَدْتُ فَاطِمَةَ قَدْ نَضَحَتِ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ قَالَ فَتَخَطَّيْتُهُ فَقَالَتْ لِي مَا لَكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ‏"‏ كَيْفَ صَنَعْتَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْىَ وَقَرَنْتُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Al-Bara' said:"I was with 'Ali when the Messenger of Allah appointed him as governor of Yemen. When 'Ali came to the Messenger of Allah, 'Ali said: 'I found that Fatimah had perfumed the house with perfume.' He said: 'I tried to avoid it, and she said to me: what is the matter with you? The messenger of Allah told his Companions to exit Ihram.' He said: 'I said: I have entered Ihram for that for which the Prophet entered Ihram."" He said: 'So I went to the Prophet and he said to me: "What did you do?" I said: "I entered Ihram for that for which you entered Ihram." He said: "I have brought the Hadi and am performing Qiran
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر ( امیر ) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آ گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا: میں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تو تم نے کیسے کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے“۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ سَهْلَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَقَدْ عَقَلَ مَا يَعْقِلُ الرِّجَالُ وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ بِذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَمَكَثْتُ حَوْلاً لاَ أُحَدِّثُ بِهِ وَلَقِيتُ الْقَاسِمَ فَقَالَ حَدِّثْ بِهِ وَلاَ تَهَابُهُ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Sahlah came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, Salim enters upon us and he understands what men understand, and knows what men know.' He said: 'Breast-feed him, and you will become unlawful to him thereby.' (Ibn Abi Mulaikah, one of the narrators said:) For a year I did not narrate this, then I met Al-Qasim and he said: 'Narrate it and do not worry about it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کہا: اللہ کے رسول! سالم ہمارے پاس آتا جاتا ہے ( اب وہ بڑا ہو گیا ہے ) جو باتیں لوگ سمجھتے ہیں وہ بھی سمجھتا ہے اور جو باتیں لوگ جانتے ہیں وہ بھی جان گیا ہے ( اور اس کا آنا جانا بھی ضروری ہے ) آپ نے فرمایا: ”تو اسے اپنا دودھ پلا دے تو اپنے اس عمل سے اس کے لیے حرام ہو جائے گی“۔ ابن ابی ملیکہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو سال بھر کسی سے بیان نہیں کیا، پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی ( اور اس کا ذکر آیا ) تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو بیان کرو اور اس کے بیان کرنے میں ( شرماؤ ) اور ڈرو نہیں۔
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَابْنُ، عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا وَضَعَتِ الْمَرْأَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا فَإِنَّ عِدَّتَهَا آخِرُ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَبَعَثْنَا كُرَيْبًا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ فَجَاءَنَا مِنْ عِنْدِهَا أَنَّ سُبَيْعَةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَوَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَيَّامٍ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَتَزَوَّجَ ‏.‏
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said:"Ibn 'Abbas, Abu Hurairah and I were together, and Ibn 'Abbas said: 'If a woman gives birth after her husband dies, her 'Iddah is the longer of the two periods.'" Abu Salamah said: "We sent Kuraib to Umm Salamah to ask her about that. He came to us and told us from her that the husband of Subai'ah died and she gave birth a few days after her husband died, and the Messenger of Allah told her to get married
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ( سب ) ساتھ میں تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب عورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنے گی تو وہ عورت دونوں عدتوں میں سے وہ عدت گزارے گی جس کی مدت بعد میں ختم ہوتی ہو۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: ہم نے ام سلمہ ( ام المؤمنین ) رضی اللہ عنہا سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے ان کے پاس کریب کو بھیجا، وہ ہمارے پاس ان کے پاس سے یہ خبر لے کر آئے کہ سبیعہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا، ان کے انتقال چند دنوں بعد سبیعہ کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شادی کرنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever is killed defending his wealth, he is a martyr
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ فَجَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي فَقُلْتُ، هَذَا لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ فَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ وَمَا عَابَهُ عَلَىَّ أَحَدٌ فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِي ائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that abu Al-Minhal said:"Sharik sold some silver on credit for me. He came to me and told me. And I said: 'This is not correct.' He said; 'By Allah, I did this transaction in the market and no one criticized me .' So I went to Al-Bara bin Azib and asked him about that. He said: 'The Prophet came to us in Al-Madinah and we used to do this kind of transaction, but he said: Whatever is hand to hand, there is nothing wrong with it, but whatever is on credit, is Riba. Then he said to me: 'Go to Zaid bin Arqam.' So I went to him and asked him, and he said the same thing
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أَبِي فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنِي أَشْهَدُ بِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّكَ لاَ تَجْنِي عَلَيْهِ وَلاَ يَجْنِي عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Rimthah said; "I came to the Prophet with my father and he said:'Who is this with you?' He said:' my son, I bear witness (that he is my son). He said: 'You cannot be affected by his sin or he by yours
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ ‏.‏
It was narrated that 'Ali said:"The Prophet [SAW] forbade me to wear gold rings, and Al-Qassi, red Al-Miyathir
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ، - يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ - عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ الْقَاضِي إِذَا أَكَلَ الْهَدِيَّةَ فَقَدْ أَكَلَ السُّحْتَ وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ ‏.‏ وَقَالَ مَسْرُوقٌ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَدْ كَفَرَ وَكُفْرُهُ أَنْ لَيْسَ لَهُ صَلاَةٌ ‏.‏
It was narrated that Masruq said:"If a judge accepts a gift he has consumed something unlawful, and if he accepts a bribe, that takes him to the level of Kufr." Masruq said: "Whoever drinks Khamr, he has committed (an act of) Kufr, and his Kufr is that his Salah does not count
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ ‏{‏ أَقِمِ الصَّلاَةِ لِلذِّكْرَى ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ هَكَذَا قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ ‏.‏
It was narrated from Ma'mar, from Az-Zuhri, from Sa'eed bin Al-Musayyab, that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it, for Allah says: "and perform prayer when you remember (li dhikra).'" I said to Az-Zuhri: "Is that how the Messenger of Allah (ﷺ) recited it?" He said: "Yes
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو یاد آنے پر ، معمر کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھا ہے؟ کہا: ہاں ( یعنی: «للذکریٰ» ) ۔