أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ .
It was narrated that Al-Bara' bin Azib said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was on a journey and he recited: 'By the fig and the olive' in the first rak'ah of isha
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی پہلی رکعت میں «والتین والزیتون» پڑھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَقُلْ هَذَا عَنْ شَرِيكٍ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
It was narrated that Wa'il bin Hujr said:'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he prostrated, place his knees on the ground before his hands, and when he got up, he lifted his hands before his knees
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو گھٹنوں کو ہاتھ سے پہلے زمین پر رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اسے شریک سے یزید بن ہارون کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ فِي صَلاَتِهِ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ وَالْعَزِيمَةِ عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَلِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ " .
It was narrated from Shadad bin Aws that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his prayer: "Allahumma inni as'aluka at-thabbuta fi al-amr wal-'azimata 'alar-rushdi wa as'aluka shukr ni'matik wa husna 'ibadatik wa as'aluka qalban saliman wa lisanan sadiqan wa as'aluka min khairi ma at'lamu wa author bika min sharri ma at'lamu wastaghfiruka lima ta'lam (O Allah, I ask You for steadfastness in all my affairs and determination in following the right path, I ask You to make me thankful for Your blessings and to make me worship You properly. I ask You for a sound heart and a truthful tongue. I ask You for the best of what You know and I seek refuge in You from the worst of what You know and I seek Your forgiveness for what You know)
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں کہتے تھے: «اللہم إني أسألك الثبات في الأمر والعزيمة على الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألك من خير ما تعلم وأعوذ بك من شر ما تعلم وأستغفرك لما تعلم» اے اللہ! میں معاملہ میں تجھ سے ثابت قدمی کا، اور راست روی میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے تیری نعمتوں کے شکر اور تیری حسن عبادت کی توفیق مانگتا ہوں، اور تجھ سے تمام برائیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف دل، اور سچ کہنے والی زبان کا طلب گار ہوں، اور تجھ سے ان چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور ان چیزوں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور میں تجھ سے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ .
It was narrated from Aishah that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray witr with nine and pray two rak'ahs sitting down
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے، اور دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ " .
It was narrated that Al-Mughirah bin Shu'bah said:"The Messenger of Allah said: "The rider should travel behind the Janazah and the pedestrian may travel wherever he wishes, and the (funeral) prayer should be offered for a child
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والا ( آگے پیچھے دائیں بائیں ) جہاں چاہے رہے، اور بچوں پہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ حَسَنَةٍ عَمِلَهَا ابْنُ آدَمَ إِلاَّ كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ جُنَّةٌ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There is no good deed that the son of Adam does, but between ten and seven hundred Hasanahs will be recorded for him. Allah, the mighty and sublime, said: 'Except fasing, for it is for me and I shall reward for it. He gives up his desires and his food for my sake. Fasting is a shield, and the fasting person has two moments of joy. One when he breaks his fast and another when he meets his Lord. And the smell that comes from the mouth of the fasting person is better before Allah than the fragrance of musk
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے ان اس کے لیے دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ اپنی شہوت اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے، روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اسے اپنے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملنے کے وقت حاصل ہو گی، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہے“۔
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا " . وَقَالَ " الْخَازِنُ الأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ " .
It was narrated that Abu Musa said:"The Messenger of Allah said: 'The believers are like a building they support one another.' And he said: "The trustworthy storekeeper who gives that which he has been commanded to give, and is happy with what he is doing, is one of the two giving charity
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن، مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے“، نیز فرمایا: ”امانت دار خازن جو خوش دلی سے وہ چیز دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہو تو وہ بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے“۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ " . قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ " . قَالَ وَأَهْدَى عَلِيٌّ لَهُ هَدْيًا .
Jabir said:"Ali came from collecting Zakah and the Prophet said to him: "For what have you entered Ihram, O 'Ali?' he said: 'For that for which the Messenger of Allah entered Ihram.' He said: 'Then offer the Hadi and remain in Ihram as you are.' So 'Ali offered a Hadi
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، وَرَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ . قَالَ رَبِيعَةُ فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah commanded the wife of Abu Hudhaifah to breast-feed Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah, so that the protective jealousy of Abu Hudhaifah would be dispelled. She breast-fed him when he was a man." (One of the narrators) Rabi'ah said: "That was a concession granted to Salim
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت ( ناگواری ) ختم ہو جائے۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ ( بچے نہیں ) پورے مرد تھے۔ ربیعہ ( اس حدیث کے راوی ) کہتے ہیں: یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا، سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ آخِرُ الأَجَلَيْنِ . وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِذَا نُفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ . فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي . يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَدْ حَلَلْتِ " .
It was narrated from Sulaiman bin Yasar that 'Abdullah bin 'Abbas and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman disagreed concerning a woman who gave birth one day after her husband died. 'Abdullah bin 'Abbas said:"(She should wait) for the longer of the two periods." Abu Salamah said: "When she has given birth, it becomes permissible for her to remarry." Abu Hurairah came and said: "I agree with my brother's son" -meaning Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman. They sent Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas, to Umm Salamah to ask her about that. He came back to them and told them that she said: "Subai'ah gave birth one day after her husband died;" she mentioned that to the Messenger of Allah and he said: "It has become permissible for you to marry
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے درمیان اس عورت ( کی عدت ) کے بارے میں اختلاف ہو گیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے چند ہی راتوں بعد بچہ جنے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس عدت کی مدت زیادہ ہو گی اس پر عمل کرے گی اور ابوسلمہ نے کہا: جب بچہ پیدا ہو جائے گا تو وہ حلال ہو جائے گی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ( وہاں ) پہنچ گئے ( اور باتوں میں شریک ہو گئے ) انہوں نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ساتھ ہوں ( یعنی میری بھی وہی رائے ہے جو ابوسلمہ کی ہے ) پھر ان سبھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا وہ پوچھ کر ان لوگوں کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ وہ کہتی ہیں کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے چند راتوں بعد بچہ جنا پھر اس نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ نے فرمایا: ”تو حلال ہو چکی ہے ( جس سے بھی تو شادی کرنا چاہے کر سکتی ہے ) “۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
It was narrated from Sa'eed bin Zaid that:The Prophet [SAW] said: "Whoever is killed defending his wealth, he is a martyr
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلاَدَةً فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " افْصِلْ بَعْضَهَا مِنْ بَعْضٍ ثُمَّ بِعْهَا " .
It was narrated that Fadalah bin 'Ubad said:"On the Day of Khaibar I got a necklace containing gold and gems, and I wanted to sell it. Mention of that was made to the Prophet and he said: 'Take it apart, and then sell it
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، مِثْلَهُ سَوَاءً .
Narrator mentioned in hadith:A similar report was narrated from 'Amr bin shu'aib, from his father, from his grandfather. (Daif)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَاتِمَ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَعَنِ الْجِعَةِ .
Ali said:"The Prophet [SAW] forbade me to wear gold rings and Al-Qassi, red Al-Miyathir, and (to drink) Al-Ji'ah
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنِ بْنِ عَلاَّقٍ، - دِمَشْقِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ، رُوَيْمٍ أَنَّ ابْنَ الدَّيْلَمِيِّ رَكِبَ يَطْلُبُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ ابْنُ الدَّيْلَمِيِّ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ هَلْ سَمِعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ شَأْنَ الْخَمْرِ بِشَىْءٍ فَقَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي فَيَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَلاَةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا " .
Urwah bin Ruwaim narrated that :Ibn Ad-Dailami rode looking for 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As. Ibn Ad-Dailami said: "I entered upon him and said: 'O 'Abdullah bin 'Amr, did you hear the Messenger of Allah [SAW] say anything concerning Khamr?' He said: 'Yes, I heard the Messenger of Allah [SAW] say: If a man among my Ummah drinks Khamr, Allah will not accept his Salah for forty days
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ { أَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِكْرِي } " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it, for Allah says: and perform the Salah for My remembrance." [1] [1] Ta-Ha 20:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے ۔