بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
17 hadith
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وَتْرٍ مِنْ صَلاَتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ‏.‏
It was narrated that Malik bin Al-Huwairith said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray, and when he was in an odd-numbered rak'ah, he did not get up until he had settled in a sitting position
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں ہوتے تو جب تک بیٹھ کر سیدھے نہیں ہو جاتے نہیں اٹھتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ‏.‏
It was narrated from Al-Mughirah bin Shu'bah that the Messenger of Allah (ﷺ) went out to relieve himself, and Al-Mughirah followed him, (carrying) a vessel of water. He poured water for him when he had finished relieving himself, and he performed Wudu' and wiped over his Khuffs
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گئے، اور آپ پر پانی ڈالا، یہاں تک ۱؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۲؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، - رضى الله عنهما أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr, from Abu Bakr As-Siddiq, may Allah (SWT) be pleased with them both, that he said to the Messenger of Allah (ﷺ):"Teach me a supplication that I may recite in my prayer." He said: "Say: 'Alahumma inni zalamtu afsi zulman kathiran wa la yaghfirudhunub illa anta faghfirli maghfiratan min 'indika warhamni innaka antalGhafurur-Rahim (O Allah, verily I have wronged myself much and there is None who forgives sins except You. Grant me forgiveness from You and have mercy on me for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful)
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا مانگا کروں، تو آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! بیشک میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے، اور سوائے تیرے گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا، لہٰذا تو اپنی خاص مغفرت سے مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم کر، یقیناً تو غفور و رحیم یعنی بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، لَمَّا أَنْ قَدِمَ، عَلَيْنَا أَخْبَرَنَا أَنَّهُ، أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وَتْرِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَلاَ أَدُلُّكَ أَوْ أَلاَ أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ بِوَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قُلْتُ مَنْ قَالَ عَائِشَةُ ‏.‏ فَأَتَيْنَاهَا فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا وَدَخَلْنَا فَسَأَلْنَاهَا فَقُلْتُ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ وَلاَ يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلاَّ فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يَنْهَضُ وَلاَ يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَجْلِسُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَىَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعًا أَىْ بُنَىَّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا ‏.‏
It was narrated from Zurarah bin Awfa:"When Sa'd bin Hisham bin Amir came to visit us, he told us that he came to Ibn Abbas and asked him about the witr of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'Shall I not tell you of the most knowledgeable person on Earth about the witr of the Messenger of Allah (ﷺ)?' I said: 'Who?' He said: 'Aishah.' So we went to her and greeted her with Salam and entered and asked her. I said: 'Tell me about the witr of the Messenger of Allah (ﷺ).' She said: 'We used to prepare for him his siwak and water for wudu, then Allah (SWT) would wake him when He willed to wake him at night. He would clean his teeth and perform wudu, then he would pray nine rak'ahs, during which he would not sit until the eighth. Then he would praise Allah (SWT) and remember Him and supplicate, then he would get up and not say the taslim. Then he would pray the ninth, then sit and praise Allah (SWT) and remember Him and supplicate, then he would say a taslim that we could hear. Then he prayed two rak'ahs sitting, and that was eleven rak'ahs, O my son. When the Messenger of Allah (ﷺ) grew older and put on weight, he prayed witr with seven, then he prayed two rak'ahs sitting after saying the taslim, and that was nine, O my son. And when the Messenger of Allah (ﷺ) offered a prayer, he liked to persist in offering it
سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اس ہستی کو نہ بتاؤں یا اس ہستی کی خبر نہ دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو زمین والوں میں سب سے زیادہ جانتی ہے؟ میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، تو ہم ان کے پاس آئے، اور ہم نے انہیں سلام کیا، اور ہم اندر گئے، اور اس بارے میں میں نے ان سے پوچھا، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے، پھر رات کو جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، سوائے آٹھویں کے ان میں سے کسی میں قعدہ نہیں کرتے، اللہ کی حمد کرتے اس کا ذکر کرتے، اور دعا مانگتے، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے تو اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے آپ ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں، لیکن جب آپ بوڑھے ہو گئے اور آپ کے جسم پر گوشت چڑھ گیا تو آپ وتر سات رکعت پڑھنے لگے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، اس طرح میرے بیٹے! یہ کل نو رکعتیں ہوتی تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ فَإِنْ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Al-Mughaffal said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever follows a Janazah until it is finished, he will have two Qirats, and whoever goes back before it is finished, he will have one Qirat
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی جنازے کے ساتھ جائے، اور اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو لیا جائے، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور اگر لوٹ آئے قبل اس کے کہ اس سے فارغ ہوا جائے، تو اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے“۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ، ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Saeed said:"The Prophet said: 'Allah, may He be blessed and exalted, says: Fasting is for me I shall reward for it. The fasting person has two moments of joy: When he breaks his fast and when he meets his Lord. By the One in Whose hand is the soul of Muhammad, the smell that comes from the mouth of the fasting person is better before Allah than the fragrance of musk
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہتا ہے: روزہ میرے لیے ہے۔ اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے، اور ( دوسری ) جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا اور وہ اسے بدلہ دے گا تو وہ خوش ہو گا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الْخُيَلاَءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ وَالاِخْتِيَالُ الَّذِي يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَعِنْدَ الصَّدَقَةِ وَالاِخْتِيَالِ الَّذِي يُبْغِضُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخُيَلاَءُ فِي الْبَاطِلِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Jabir, from his father, that the Messenger of Allah said:"There is a kind of protective Jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves anda kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, and a kind of pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves and a kind that Allah, the Mighty and Sublime, hates, As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is protective jealousy when there are grounds for suspicion. As for the protective jealousy that Allah, the Mighty and Sublime, hates, it is protective jealousy when there are no grounds for suspicion. As for the pride that Allah, the Mighty and Sublime, loves, it is when a man feels proud of himself when fighting and when giving charity. And as for the kind of pride that Allah, the Mighty and Sublime, hates, it is pride in doing wrong
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، ( ایسے ہی ) ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو جس غیرت کو اللہ پسند کرتا ہے وہ تہمت کی جگہ کی غیرت ہے، اور وہ غیرت ۱؎ جو اللہ عزوجل کو ناپسند ہے تو وہ غیر تہمت کی جگہ کی غیرت ہے ۲؎ رہا فخر جو اللہ کو پسند ہے تو وہ آدمی کا لڑائی کے وقت یا صدقہ دیتے وقت اپنی ذات پر فخر ہے ۳؎ اور وہ فخر جو اللہ کو ناپسند ہے وہ یہ ہے کہ آدمی لغو اور بیہودہ کاموں پر فخر کرے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلْتُ مِنَ الْيَمَنِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ حَيْثُ حَجَّ فَقَالَ ‏"‏ أَحَجَجْتَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَحِلَّ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً فَفَلَتْ رَأْسِي فَجَعَلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ حَتَّى كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَى رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو مُوسَى يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَائْتَمُّوا بِهِ ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ ‏.‏
Abu Musa said:"I came from Yemen and the Prophet had stopped in Al-Batha at the time to Hajj. He asked: 'Have you performed Hajj?' I said: 'Yes, He said: 'What did you say?' I said; 'Labbaika bi ihlal ka ihlal in-nabiy (Here I am (O Allah, entering Ihram for that for which the Prophet entered Ihram). He said 'Circumambulate the House and (perform Sa) between As-Safa and Al-Marwah, and exit Ihram.' Then I went to a woman who combed my hair. I started to issue Fatwas to the people based on that. Then during the Khilafah of 'Umar, a man said to me: 'O abu Musa, withhold some of our Fatwas from us, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you.''' Abu Musa said: "O people, O people, whoever heard our Fatwa,let him not rush to follow it, for the Commander of the Believers is coming to your and you should follow him.: 'Umar said: "If we follow the Book of Allah, then indeed He commands us to complete Hajj and 'Umrah, and the Messenger of Allah did not exit Ihram until the Hadi had reached its place
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے ( مجھ سے ) پوچھا: ”کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: «لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم» ”میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے“ آپ نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف کر لو، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لو، پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ“، میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ تو میں اسی کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دینے لگا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مجھ سے ایک شخص کہنے لگا: ابوموسیٰ! تم اپنے بعض فتوے دینے بند کر دو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! جس کو بھی میں نے فتویٰ دیا ہو وہ توقف کرے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں ( وہ جیسا بتائیں ) ان کی پیروی کرو۔ ( اور جب عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات آئی تو ) انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب ( قرآن ) کو لیں تو وہ ( حج اور عمرہ کو ) پورا کرنے کا حکم دے رہی ہے اور اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو آپ کی سنت یہ رہی ہے کہ آپ نے اپنا احرام نہیں کھولا جب تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ گئی۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْضِعِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنَّهُ لَذُو لِحْيَةٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ بَعْدُ ‏.‏
Zainab bint Abi Salamah said:"I heard 'Aisha, the wife of the Prophet say: 'Sahlah bint Suhail came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, I see (displeasure) in the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me.' The Messenger of Allah said: 'Breast-feed him.' She said: 'He has a beard.' He said: 'Breast-feed him, and that will take away (the displeasure) in the face of Abu Hudhaifah.' She said: 'By Allah, I never saw that on the face of Abu Hudhaifah after that
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم جب میرے پاس آتے ہیں تو میں ( اپنے شوہر ) ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ( ناگواری ) دیکھتی ہوں ( اور ان کا آنا ناگزیر ہے ) ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں دودھ پلا دو“، میں نے کہا: وہ تو ڈاڑھی والے ہیں، ( بچہ تھوڑے ہیں ) ، آپ نے فرمایا: ” ( پھر بھی ) دودھ پلا دو، دودھ پلا دو گی تو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر جو تم ( ناگواری ) دیکھتی ہو وہ ختم ہو جائے گی“، سہلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! دودھ پلا دینے کے بعد پھر میں نے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر کبھی کوئی ناگواری نہیں محسوس کی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ، عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تَذَاكَرُوا عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَضَعُ عِنْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْتَدُّ آخِرَ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ بَلْ تَحِلُّ حِينَ تَضَعُ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي ‏.‏ فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِيَسِيرٍ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ ‏.‏
It was narrated from Sulaiman bin Yasir that Abu Hurairah, Ibn 'Abbas, and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman were talking about the 'Iddah of a woman whose husband dies, and she gives birth after her husband dies. Ibn 'Abbas said:"She should observe 'Iddah for the longer of the two periods." Abu Salamah said: "No, it becomes permissible for her to marry when she has given birth." Abu Hurairah said: "I agree with my brother's son." So they sent word to Umm Salamah, the wife of the Prophet, and she said: "Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth shortly after her husband died; she consulted the Messenger of Allah and he told her to get married
سلیمان بن یسار سے روایت ہے، ابوہریرہ، ابن عباس (رضی الله عنہم) اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اس عورت کے بارے میں جس کا شوہر مر گیا ہو اور شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنا ہو آپس میں بات چیت کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو عدت بعد میں پوری ہو اس کا وہ لحاظ و شمار کرے گی، ابوسلمہ نے کہا: نہیں وہ وضع حمل کے ساتھ ہی ( دوسرے کے لیے ) حلال ہو جائے گی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ان کا ہم خیال ہوں ) ، پھر ان لوگوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تھوڑے ہی دنوں بعد بچہ جنا پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever is killed defending his wealth, he is a martyr
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏.‏
It was narrated from 'Ata' bin Yasir that:Muawiyah sold a cup of gold or silver for more than its weight. Abu Ad-Darda' said: "I heard the Messenger of Allah forbid such transactions unless it was like for like
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَةً وَلاَ يَحِلُّ لِمَوْلًى أَنْ يَتَوَلَّى مُسْلِمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِ ‏.‏
Jabir said:"The Messenger of Allah ruled that every clan should take part in paying the blood money, and it is not permissible for a freed slave to take a Muslim (other than the one who freed him) as his Mawla (Patron) without the permission (of his former master who set him free)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ لِصُهَيْبٍ مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ خَاتَمَ الذَّهَبِ قَالَ قَدْ رَآهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ فَلَمْ يَعِبْهُ ‏.‏ قَالَ مَنْ هُوَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said:"Umar said to Suhaib: 'Why do I see you wearing a ring of gold?' He said: 'One who was better than you saw it and did not criticize it.' He said: 'Who was that?' He said: 'The Messenger of Allah [SAW]
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ ‏"‏ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that :The Messenger of Allah [SAW] said: "If he becomes drunk, whip him; then if he becomes drunk, whip him; then if he becomes drunk, whip him." Then he said concerning the fourth time, "Strike his neck (i.e., kill him)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا نَامُوا عَنِ الصَّلاَةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فَلْيُصَلِّهَا أَحَدُكُمْ مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Qatadah that when they missed the prayer because they slept until the sun rose, the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Let any one of you pray it during its time tomorrow
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ نماز سے سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے دوسرے روز اس کے وقت پر پڑھنا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنَ السُّوَرِ ‏.‏
It was narrated from Abdullah bin Buraidah, from his father, that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite 'By the sun and its brightness' and similar surahs in Isha
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔