بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
12
17 hadith
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي ‏.‏ قَالَ فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الآخِرَةِ ‏.‏
It was narrated that Abi Qibalah said:"Abu Sulaiman Malik bin Al-Huwairith came to our masjid and said: "I want to show you how I saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray.'" He said: "He sat during the first Rak'ah when he raised his head from the second prostration
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے، تو وہ پہلی رکعت میں آخری سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے وقت بیٹھے ( جلسہ استراحت کرتے ) ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَتِهِ فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَتْ بِهِ الْجُبَّةُ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِنَا ‏.‏
It was narrated that Al-Mughirah bin Shu'bah said:"The Prophet (ﷺ) went out to relieve himself, and when he came back, I met him with a vessel (of water). I poured some for him and he washed his hands, then he washed his face. Then he wanted to wash his forearms but his Jubbah was too tight, so he brought them out from beneath the Jubbah to wash them, and he wiped over his Khuffs, then he led us in prayer
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، جب آپ لوٹے تو میں ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، اور میں نے ( اسے ) آپ پر ڈالا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازو دھونے چلے تو جبہ تنگ پڑ گیا، تو آپ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی، ( پھر ہمیں نماز پڑھائی کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ أَبُو بُرَيْدٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الأَدْرَعِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ إِذَا رَجُلٌ قَدْ قَضَى صَلاَتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ غُفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا ‏.‏
Hanzalah bin 'Ali narrated that:Mihjan bin Al-Adra' narrated to him that the Messenger of Allah (ﷺ) entered the masjid and there was a man who had finished his prayer and he was reciting the tashahhud. He said: "Allahumma inni as'aluka ya Allah! Bi-annakal-Wahidul-Ahad us-Samad, alladhi lam yalid wa lam yowled, wa lam yakun lahu kufuwan ahad, an taghfirali dhunubi, innaka antal-Ghafurur-Rahim (O Allah, I ask of You, O Allah, as You are the One, the Only, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was He begotten, and there is None equal or comparable to Him, forgive me my sins, for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful.)" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "He has been forgiven," three times
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں گئے، تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر چکا ہے، اور تشہد میں ہے اور کہہ رہا ہے:«اللہم إني أسألك يا اللہ بأنك الواحد الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اے اللہ تجھی سے، اس لیے کہ تو ہی ایک ایسا تن تنہا بے نیاز ہے جس نے نہ تو کسی کو جنا ہے، اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، لہٰذا تو میرے گناہوں کو بخش دے، تو ہی غفور و رحیم یعنی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس کے گناہ بخش دیے گئے ۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لاَ يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَةِ وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَدْعُو بَيْنَهُنَّ وَلاَ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَقْعُدُ وَذَكَرَ كَلِمَةً نَحْوَهَا وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ ‏.‏
It was narrated from Sa'd bin Hisham that Aishah said:"We used to prepare siwak and water for wudu for the Messenger of Allah (ﷺ). Allah (SWT) would wake him when He willed to wake him at night, then he would clean his teeth and make wudu, and pray nine rak'ahs, not sitting until the eighth, when he would praise Allah (SWT) and send blessings upon His Prophet and supplicate between them, but he did not say the taslim. Then he prayed the ninth and sat, and said something similar, praising Allah (SWT) and sending blessings upon His Prophet (ﷺ), then he said a taslim that we could hear, then he prayed two rak'ahs sitting down
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیا کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا تورات میں آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے ( پھر ) وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اور اللہ کی حمد کرتے، اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے، اور ان کے درمیان دعائیں کرتے، اور کوئی سلام نہ پھیرتے، پھر نویں رکعات پڑھتے اور قعدہ کرتے، راوی نے اس طرح کی کوئی بات ذکر کی کہ آپ اللہ کی حمد کرتے، اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے، اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ بُرْدٍ، أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ قِيرَاطٌ وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجَنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ قِيرَاطَانِ وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Al-Musayyab bin Rafi' said:"I heard Al-Bara' bin 'Azib say: The Messenger of Allah said: 'whoever follows a Janazah until the prayer is offered, he will have one Qirat of reward and whoever walks with the funeral until (the body) is buried will have two Qirats of reward, and a Qirat is like Uhud
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی گئی اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو شخص کسی جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک وہ دفن کر دیا گیا، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور ایک قیراط احد ( پہاڑ ) کے مثل ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Al-Ahwas that 'Abdullah said:"Allah, may He be exalted, said: 'Fasting is for me and I shall reward for it. The fasting person has two moments of joy: When he breaks his fast and when he meets his Lord. And the smell that comes from the mouth of the fasting person is better before Allah than the fragrance of musk
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عزوجل فرماتا ہے: روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک وقت وہ اپنے رب سے ملے گا، اور دوسری خوشی وہ جو اسے روزہ کھولنے کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَسْأَلُنِي الشَّىْءَ فَأَمْنَعُهُ حَتَّى تَشْفَعُوا فِيهِ فَتُؤْجَرُوا ‏"‏ ‏.‏ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mu'awiyah bin Sufyan that the Messenger of Allah said:"A man may come and ask for something, and I refuse until you intercede, so that you will be rewarded." And the Messenger of Allah said: "Intercede and you will be rewarded
معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کوئی چیز مجھ سے مانگتا ہے تو میں نہیں دیتا، تاکہ تم اس سلسلہ میں سفارش کرو، اور سفارش کرنے کا اجر پاؤ“، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفارش کرو تمہیں سفارش کا اجر ( ثواب ) دیا جائے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا لاَ نَنْوِي إِلاَّ الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ أَحِضْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْمُحْرِمُ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"We set out with no intention other than Hajj. And when we were in Sarif, my menses came. The Messenger of Allah entered upon me while I was weeping, and he said: 'Have your menses come?' I said; 'Yes.' He said; 'That is something that Allah, the Mightily and Sublime, has decreed for the daughters of Adam. Do everything that the pilgrim in Ihram does, but do not circumambulate the House
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیا تجھے حیض آ گیا ہے“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں ( عورتوں ) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا“۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ بَكْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ فَقُلْتُ لاَ آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ لَهُ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, came and asked permission to enter, and I said: 'I will not let him in until I seek the permission of the Prophet of Allah.' When the Prophet of Allah came, I said to him: 'Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, came and asked permission to enter, but I refused to let him in.' He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.' I said: 'The wife of Abu Al-Qu'ais breast-fed me; the man did not breast-feed me.' He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح ( میرے پاس گھر میں آنے کی ) اجازت مانگنے آئے، میں نے کہا: میں جب تک خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں انہیں اجازت نہ دوں گی، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے بتایا کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آئے تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، آپ نے فرمایا: ” ( نہیں ) انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: مجھے تو ابوالقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، مرد نے نہیں پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( بھلے سے مرد نے نہیں پلایا ہے ) تم انہیں آنے دو، وہ تمہارے چچا ہیں“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِي امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً أَيَصْلُحُ لَهَا أَنْ تَزَوَّجَ قَالَ لاَ إِلاَّ آخِرَ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏ وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ‏}‏ فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الطَّلاَقِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي ‏.‏ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ‏.‏ فَأَرْسَلَ غُلاَمَهُ كُرَيْبًا فَقَالَ ائْتِ أُمَّ سَلَمَةَ فَسَلْهَا هَلْ كَانَ هَذَا سُنَّةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ فَقَالَ قَالَتْ نَعَمْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَزَوَّجَ فَكَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فِيمَنْ يَخْطُبُهَا ‏.‏
Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said:"It was said to Ibn 'Abbas concerning a woman who gives birth one day after her husband died: 'Can she get married?' He said: 'No, not until the longer of the two periods has ended.' He said: 'Allah says: And for those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead), their 'Iddah (prescribed period) is until they lay down their burden.' He said: 'That only applies in the case of divorce.' Abu Hurairah said: 'I agree with my brother's son' --meaning, Abu Salamah. He sent his slave Kuraib and told him: 'Go to Umm Salamah and ask her: Was this the Sunnah of the Messenger of Allah?' He came back and said: 'Yes, Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth twenty days after her husband died, and the Messenger of Allah told her to get married, and Abu As-Sanabil was one of those who proposed marriage to her
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی ”جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن دیں“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حکم مطلقہ ( حاملہ ) کا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ابوسلمہ جو کہتے ہیں وہی میرے نزدیک بھی صحیح اور بہتر ہے ) اس گفتگو کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو بھیجا کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا اس سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت موجود ہے؟ کریب ان کے پاس آئے اور انہیں ( ساری بات ) بتائی، تو انہوں نے کہا: ہاں، سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد کی بیس راتیں گزرنے کے بعد بچہ جنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کی اجازت دی، اور ابوسنابل رضی اللہ عنہ انہیں لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اسے شادی کا پیغام دیا تھا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ‏.‏
It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Talhah that he heard 'Abdullah bin 'Amr narrating:From the Prophet [SAW], that he said: "If a person's wealth is sought without right, and he fights (to protect it) and is killed, he is a martyr
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ النَّهْىَ عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏ "‏ وَلاَ تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَلاَ تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الآخَرِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said:"My eyes saw and my ears heard the Messenger of Allah. And he mentioned the prohibition of (selling) gold for gold and silver for silver, unless it is equal amounts, like for like. And do not sell it in return for something to be paid later, and do not differentiate
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتِ امْرَأَتَانِ جَارَتَانِ كَانَ بَيْنَهُمَا صَخَبٌ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَأَسْقَطَتْ غُلاَمًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيْتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ ‏.‏ فَقَالَ عَمُّهَا إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ غُلاَمًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلّ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ فَمِثْلُهُ يُطَلّ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ وَكِهَانَتِهَا إِنَّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَتْ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالأُخْرَى أُمَّ غَطِيفٍ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said; "There were two women neighbors between whom there was some trouble. One of them threw a rock at the other a she miscarried a boy - whose hair had already grown -0 who was or dead, and the woman died too. He ruled that the 'Aqilah had to pay the Diyah. Her paternal uncle said:'O Messenger of Allah, she miscarried a boy whose hair had grown.' The father of the killer said: "He is lying. By Allah he never cried or shouted (at the moment of birth), nor drank nor ate. Such a one should be overlooked.' The Prophet said: 'rhyming verse like the verse of the Jahiliyyah and of its soothsayers? A slave must be given (as Diyah) for the boy, ''' Ibn 'Abbes said; "One of then was Mulaikah and the other was Umm Ghatif
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَبِي الأَشْهَبِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ كَرِبٍ، - قَالَ وَكَانَ جَدُّهُ - قَالَ حَدَّثَنِي أَنَّهُ، رَأَى جَدَّهُ قَالَ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلاَبِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ فِضَّةٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَّخِذَهُ مِنْ ذَهَبٍ ‏.‏
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Tarafah, from 'Arafah bin As'ad bin Karib, who was his grandfather- saying that he saw his grandfather, and he said:"His nose had been cut off at the battle of Al-Kulab during the Jahiliyyah, so he wore a nose made of silver, but it began to rot on him, so the Prophet [SAW] told him to wear a nose made of gold
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَنَفَرٍ، مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar and a number of the Companions of Muhammad [SAW] said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever drinks Khamr, whip him; then if he drinks (again), whip him; then if he drinks (again), whip him; then if he drinks (again), kill him
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِيمَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاَةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلاَةِ الأُخْرَى حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Qatadah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no negligence when one sleeps, rather negligence is when one does not offer one prayer until the time of the next prayer comes and he realizes that he has missed a prayer
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند کی حالت میں کوئی تقصیر ( کمی ) نہیں ہے، تقصیر ( کمی ) تو اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ جس وقت اسے اس کا ہوش آئے تو دوسری نماز کا وقت ہو جائے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ ‏.‏ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ مُعَاذٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَ ‏{‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ‏}‏ وَ ‏{‏ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"Mu'adh bin Jabal led his companions in praying Isha' and he made it lengthy. A man left, and Mu'adh was told about that, and he said: 'He is a hypocrite.' When news of that reached the man, he went to the Prophet (ﷺ) and told him what Mu'adh had said. The Prophet (ﷺ) said to him: 'Do you want to be a cause of hardship, O Mu'adh? When you lead the people in prayer, recite 'By the sun and its brightness' and 'Glorify the Name of your Lord, the Most High' and 'By the night as it envelops'and 'Read! In the Name of your Lord
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو عشاء پڑھائی تو انہوں نے قرأت ان پر طویل کر دی، تو ہم میں سے ایک شخص نے نماز توڑ دی ( اور الگ نماز پڑھ لی ) معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا: وہ منافق ہے، جب یہ بات اس شخص کو معلوم ہوئی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور معاذ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ بپا کرنا چاہتے ہو؟ جب تم لوگوں کی امامت کرو تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك‏» پڑھا کرو ۔