أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى - قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ " رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " . ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلاَةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ .
Abu Hurairah said:"When the Messenger of Allah (ﷺ) stood to pray, he said the takbir, when he (started), then he said the takbir when he bowed, then he said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him)', when he stood up from bowing. Then he said when he was standing: 'Rabbana lakal-hamd.' Then he said the takbir when he went down in prostration, then he said the takbir when he raised his head, and he did that throughout the entire prayer until he finished it, and he said the takbir when he stood up after the first two rak'ahs, after sitting
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اٹھتے تو جس وقت کھڑے ہوتے «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو«اللہ اکبر» کہتے، پھر جس وقت اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، پھر کھڑے ہو کر کہتے: «ربنا لك الحمد» پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب ( دوسرا ) سجدہ کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ آپ اسے پوری کر لیتے، اور جس وقت دوسری رکعت سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو ( بھی ) «اللہ اکبر» کہتے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِهِ .
It was narrated from Sa'd bin Abi Waqqas, from the Messenger of Allah (ﷺ), with regard to wiping over the Khuffs; "There is nothing wrong with it
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے متعلق روایت کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ أَخِي، أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا - يَعْنِي - وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ وَتَشَهَّدَ دَعَا فَقَالَ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ يَا حَىُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ " تَدْرُونَ بِمَا دَعَا " . قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"I was sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) and a man was standing and praying. When he bowed, prostrated and recited the tashahhud, he supplicated, and in his supplication he said: "Allahumma inni as'aluka bi-anna lakal-hamd, lailaha illa ant, al-mannanu badi'us-samawati wal-ard, ya dhal-jalali wal-ikram! Ya hayyu ya qayyum! Inni as'aluka. (O Allah, indeed I ask You since all praise is due to You, there is none worthy of worship but You, the Bestower, the Creator of the heavens and earth, O Possessor of majesty and honor, O Ever-living, O-Eternal, I ask of You.)' The Prophet (ﷺ) said: 'Do you know what he has supplicated with?' They said: "Allah (SWT) and His Messenger know best." He said: 'By the One in Whose Hand is my soul, he called upon Allah by His greatest Name, which, if He is called by it, He responds, and if He is asked by it, He gives
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مسجد میں ) بیٹھا ہوا تھا، اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا، اور تشہد سے فارغ ہو گیا، تو اس نے دعا کی، اور اپنی دعا میں اس نے کہا: «اللہم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم إني أسألك» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے، تو بہت احسان کرنے والا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے، اے عظمت و جلال اور احسان والے، ہمیشہ زندہ و باقی رہنے والے!، میں تجھی سے مانگتا ہوں۔ یہ سنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: تم جانتے ہو اس نے کن لفظوں سے دعا کی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے تو اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے جس کے ذریعہ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ مانگا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَوْتَرَ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَقْعُدْ إِلاَّ فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يَنْهَضُ وَلاَ يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ لاَ يَقْعُدُ إِلاَّ فِي السَّادِسَةِ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلاَ يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي السَّابِعَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ .
Mu'adh bin Hisham said:"My father narrated to me, from Qatadah, from Zurarah bin Awfa, from Sa'd bin Hisham, that Aishah said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed witr with nine rak'ahs, he did not sit until the eighth rak'ah. Then he would praise Allah (SWT) and remember Him and supplicate, then he would get up and he wouldn't say the taslim, then he prayed the ninth, then he sat and remembered Allah (SWT) and supplicated. Then he said a taslim that we could hear. Then he prayed two rak'ahs sitting down. When he grew older and weaker, he prayed witr with seven rak'ahs and did not sit until the sixth. Then he got up and did not say the taslim, and prayed the seventh, then he said the taslim, then he prayed two rak'ahs sitting down
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نو رکعت وتر پڑھتے تو صرف آٹھویں رکعت میں قعدہ کرتے، اللہ کی حمد کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے، اور سلام نہیں پھیرتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے تو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے، دعا کرتے، پھر ایک سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے، صرف چھٹی میں قعدہ کرتے، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے، اور ساتویں رکعت پڑھتے، پھر ایک سلام پھیرتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، ح وَأَنْبَأَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ هَنَّادٌ قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَقَالَ سُلَيْمَانُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَعَنِ الْمَيَاثِرِ وَالْقَسِّيَّةِ وَالإِسْتَبْرَقِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ .
It was narrated that Al-Bara bin 'Azib said:"The Messenger of Allah commanded us to do seven things, and forbade us form seven things. He commanded us to visit the risk, to reply (say: Yarhamuk Allah, may Allah have mercy on you) to one who sneezes, to fulfill our oaths, to support the oppressed, to spread the greeting of Salam, to accept invitation, and to attend funerals. And he forbade us from using gold rings, silver vessels, Mayathir, the Qasiyyah, Al-Istabraq, silk and Ad-Dibaj
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا، اور سات باتوں سے منع فرمایا: ہمیں آپ نے مریض کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کے جواب میں «یرحمک اللہ» کہنے، قسم پوری کرانے، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو عام کرنے، دعوت دینے والوں ( کی دعوت ) قبول کرنے، اور جنازے کے ساتھ جانے کا حکم دیا، اور ہمیں آپ نے سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے، چاندی کے برتن ( میں کھانے، پینے ) سے، میاثر، قسّیہ، استبرق ۱؎، حریر اور دیباج نامی ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ حِينَ يُفْطِرُ وَحِينَ يَلْقَى رَبَّهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
It was narrated from 'Ali bin Abi Talib that the Messenger of Allah said:"Allah, may He be blessed and exalted, says: 'Fasting is for me and I shall reward for it. The fasting person has two moments of joy: When he breaks his fast and when he meets his Lord.' By the One in whose hand is my soul, the smell that comes from the mouth of the fasting person is better before Allah than the fragrance of musk
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کہتا ہے: روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک جس وقت وہ روزہ کھولتا ہے، اور دوسری جس وقت وہ اپنے رب سے ملے گا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اشْفَعُوا تُشَفَّعُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ " .
It was narrated from Abu Musa that the Prophet said:"Intercede and your intercession may be accepted, and Allah, the Mighty and Sublime, decrees on the lips of His Prophet whatsoever He will
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو چاہے فیصلہ فرمائے“۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ حِجَجٍ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَاجِّ هَذَا الْعَامِ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَفْعَلُ مَا يَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ قَالَ جَابِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَىْءٍ عَمِلْنَا فَخَرَجْنَا لاَ نَنْوِي إِلاَّ الْحَجَّ .
Ja`far bin Muhammad said:"My father told me: 'We came to Jabir bin `Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet (ﷺ). He told us: The Messenger of Allah (ﷺ) stayed in al-Madinah for nine years of Hajj, then it was announced to the people that the Messenger of Allah (ﷺ) was going to perform Hajj this year. Many people came to al-Madinah, all of them hoping to learn from the Messenger of Allah (ﷺ) and to do as he did. The Messenger of Allah (ﷺ) set out when there were five days left of Dhul-Qa`dah, and we set out with him,: Jabir said; "And the Messenger of Allah was among us; the Qur'an was being revealed to him, and he knew what it meant. Whatever he did based on it (the Qur'an), we did, and we set out with no intention other than Hajj
ابو جعفر محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک مدینہ میں رہے پھر لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ امسال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، تو بہت سارے لوگ مدینہ آ گئے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں اور وہی کریں جو آپ کرتے ہیں۔ تو جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے آپ پر قرآن اتر رہا تھا اور آپ اس کی تاویل ( تفسیر ) جانتے تھے اور جو چیز بھی آپ نے کی ہم نے بھی کی۔ چنانچہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهِشَامِ بْنِ ع��رْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ عَمِّي أَفْلَحُ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ " ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ . قَالَ " ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " .
It was narrated that 'Aishah said:"My paternal uncle Aflah asked permission to enter upon me after the (Verse of) Hijab had been revealed, but I did not let him in. The Prophet came to me and I asked him (about that) and he said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.' I said: 'O Messenger of Allah, the woman breast-fed me, not the man.' He said: 'Let him in, may your hands be rubbed with dust, for he is your uncle
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے چچا افلح نے پردہ کی آیت کے اترنے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا ہے ( وہ میرے محرم کیسے ہو گئے ) ، آپ نے فرمایا: ”تم انہیں ( اندر ) آنے کی اجازت دو، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ( تمہیں نہیں معلوم؟ ) وہ تمہارے چچا ہیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ - قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى، عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرُ الأَجَلَيْنِ . وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ . فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَخَطَبَهَا رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالآخَرُ كَهْلٌ فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ فَقَالَ الْكَهْلُ لَمْ تَحْلِلْ . وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا فَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ " .
It was narrated that Abu Salamah said:"Ibn 'Abbas and Abu Hurairah were asked about the woman whose husband dies when she is pregnant. Ibn 'Abbas said: '(She should wait) for the longer of the two periods.' Abu Hurairah said: 'When she gives birth it becomes permissible for her to marry.' Abu Salamah went to Umm Salamah and asked her about that, and she said: 'Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth half a month after her husband died, and two men proposed to her. One was young and one was old, and she was inclined toward the young one. So the old one said: It is not permissible for you to marry. Her family was not there, and he hoped that if he went to her family they would marry her to him. She went to the Messenger of Allah and he said: It is permissible for you to marry, so marry whomever you want
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت ( کی عدت ) کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور وہ ( انتقال کے وقت ) حاملہ رہی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو آخر میں ہو یعنی لمبی ہو اور دوسری کے مقابل میں بعد میں پوری ہوتی ہو ۱؎، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت عورت بچہ جنے اسی وقت اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ ( یہ اختلاف سن کر ) ابوسلمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے پندرہ دن بعد بچہ جنا پھر دو آدمیوں نے اسے شادی کرنے کا پیغام دیا، ان دونوں میں سے ایک جوان تھا اور دوسرا ادھیڑ عمر کا، وہ جوان کی طرف مائل ہوئی اور اسے شادی کے لیے پسند کر لیا۔ ادھیڑ عمر والے نے اس سے کہا: تو تم ابھی حلال نہیں ہوئی ہو ( شادی کرنے کیسے جا رہی ہو ) ، اس کے گھر والے غیر موجود تھے ادھیڑ عمر والے نے امید لگائی ( کہ میرے ایسا کہنے سے شادی ابھی نہ ہو گی اور ) جب لڑکی کے گھر والے آ جائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کا اس کے ساتھ رشتہ کر دینے کو ترجیح دیں ( اور سبیعہ کو اس کے ساتھ شادی کر لینے پر راضی کر لیں ) ۔ لیکن وہ تو ( سیدھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم ( بچہ جن کر ) حلال ہو چکی ہو، تمہارا دل جس سے چاہے اس سے شادی کر لو“ ۲؎۔
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهُذَيْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " .
It was narrated that 'Abudllah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever is killed defending his wealth, he is a martyr
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ " .
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah said:"Do not sell gold for gold except like for like and do not differentiate. Do not sell silver for silver except like for like, and do not sell it in return for something to be paid later
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِحَجَرٍ وَهِيَ حُبْلَى فَقَتَلَتْهَا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً وَجَعَلَ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا فَقَالُوا نُغَرَّمُ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ وَلاَ اسْتَهَلّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ هُوَ مَا أَقُولُ لَكُمْ " .
It was narrated from al-a'mash from Ibrahim who said:"I woman struck her co-wife, who was pregnant, with a rock and killed her Messenger of Allah ruled that a slave should be given (as Diyah) for the child in her woman, and that her Diyah should be paid by her 'Asabah. They said:' should we be penalized for one who neither after nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked.' He said: 'Rhyming vase like the vase of the Bedouisn? It is what I say to (sahih)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ جَدِّهِ، عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلاَبِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ .
It was narrated from 'Arafah bin As'ad that:His nose was cut off at the battle of Al-Kulab during the Jahiliyyah, so he wore a nose made of silver, but it began to rot, so the Prophet [SAW] told him to wear a nose made of gold
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كُلُّهُمْ حَدَّثُونِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet [SAW] said: "The adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the robber is not a believer at the moment when he is robbing and taking something valuable by force while the Muslims are looking at it
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلاَةِ فَقَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .
It was narrated that Abu Qatadah said:"They told the Prophet (ﷺ) that they had slept and missed the prayer. He said: 'There is no negligence when one sleeps, rather negligence is when one is awake. If any one of you forgets a prayer or sleeps and misses it, let him pray it when he remembers it
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے نمازوں سے اپنے سو جانے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند کی حالت میں کوئی تقصیر ( کمی ) نہیں ہے ، تقصیر ( کمی ) تو جاگنے میں ہے ( کہ جاگتا ہو اور نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وقت گزر جائے ) ، تو جب تم میں سے کوئی آدمی نماز بھول جائے، یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَامَ مُعَاذٌ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ فَطَوَّلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَيْنَ كُنْتَ عَنْ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَالضُّحَى وَ { إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ } " .
It was narrated that Jabir said:"Muadh stood up and prayed Isha', and made it lengthy. The Prophet (ﷺ) said: 'Do you want to cause hardship to the people, O Mu'adh; do you want to cause hardship to the people O Mu'adh? Why didn't you recite 'Glorify the Name of your Lord Most High' or Ad-Duha or; 'When the heaven is cleft asunder?
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء پڑھائی، تو انہوں نے قرأت لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والضحى» اور «إذا السماء انفطرت» کیوں نہیں پڑھتے؟ ۔