أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رضى الله عنهم .
It was narrated that Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the takbir every time he got up, went down, stood and sat. Abu Bakr, 'Umar, and 'Uthman (did likewise)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ .
It was narrated from Sa'd bin Abi Waqqas that the Messenger of Allah (ﷺ) wiped over the Khuffs
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ، أَخُو سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلاَتِي . قَالَ " سَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا وَكَبِّرِيهِ عَشْرًا ثُمَّ سَلِيهِ حَاجَتَكِ يَقُلْ نَعَمْ نَعَمْ " .
It was narrated that Anas bin Malik said:"Umm Sulaim came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), teach me some words that I may supplicate with during my prayer.' He said: 'Glorify Allah (by saying SubhanAllah) ten times, and praise Him (by saying Alhamdulilah) ten times, and magnify Him (by saying Allahu Akbar) ten times, then ask Him for what you need; He will say: 'Yes, yes
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جن کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا کیا کروں، تو آپ نے فرمایا: دس بار «سبحان اللہ»، دس بار «الحمد لله»، دس بار «اللہ أكبر» کہو، اس کے بعد تم اللہ سے اپنی حاجت مانگو، وہ ہاں، ہاں کہے گا ، ( یعنی جو تم مانگو گی وہ تمہیں دے گا ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخَذَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لاَ يَقْعُدُ إِلاَّ فِي آخِرِهِنَّ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَىَّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا . مُخْتَصَرٌ . خَالَفَهُ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ .
Shu'bah narrated from Qatadah, from Zurarahbin Awfa, from Sa'd bin Hisham, that:Aishah said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) grew old and put on weight, he prayed seven rak'ahs and only sat in the last of them, and he prayed two rak'ahs while sitting after saying the taslim, and that was nine, O my son! And when the Messenger of Allah (ﷺ) offered any prayer he liked to persist in doing so
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے، اور بدن پر گوشت چڑھ گیا، تو آپ سات رکعت پڑھنے لگے، اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت اور پڑھتے تو میرے بیٹے یہ نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی صلاۃ پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں، ( یہ حدیث مختصر ہے ) ۔ ہشام دستوائی نے شعبہ کی مخالفت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"The believer owes six duties toward his fellow believer: To visit him when he is sick, to attend his funeral when he dies, to accept his invitation, to greet him with Salam when he meets him, to reply to him (say: Yarhamuk Allah, may Allah have mercy on you) when he sneezes and to be sincere to him, whether he is absent or present." (Hasan)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں: جب بیمار ہو تو وہ اس کی عیادت کرے، جب مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک رہے، جب دعوت کرے تو اسے قبول کرے، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے، جب چھینکے اور «الحمد للہ» کہے تو جواب میں «یرحمک اللہ» کہے، اور اس کی خیر خواہی کرے خواہ اس کے پیٹھ پیچھے ہو یا سامنے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنِي بِشَىْءٍ، سَمِعْتَهُ مِنْ، أَبِيكَ سَمِعَهُ أَبُوكَ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بَيْنَ أَبِيكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ . قَالَ نَعَمْ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
An-Nadr bin Shaiban said:"I said to Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman: 'Tell me of something that you heard from your father, that he heard from the Messenger of Allah, with no one in between your father and Messenge of Allah concerning the month of Ramadan. He said: 'Yes; my father said: The Messenger of Allah said: Allah, may He be blessed and exalted, enjoined the fast of Ramadan upon you, and I have made it Sunnah for you to spend its nights in prayer. Whoever fasts it and spends its nights in prayer out of faith and in the hope of reward, he will emerge from his sins as on the day his mother bore him."' (Daif)
نضر بن شیبان کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے کہا کہ آپ مجھ سے ماہ رمضان کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) سے سنی ہو، اور اسے آپ کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہو، آپ کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ کوئی اور حائل نہ ہو۔ انہوں نے کہا: اچھا سنو! مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں، اور میں نے تمہارے لیے اس میں قیام کرنے کو سنت قرار دیا ہے اس میں جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھے گا اور ( عبادت پر ) کمربستہ ہو گا تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَيَقُولُ الَّذِي يُعْطَاهَا لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ " .
It was narrated that Harithah said:"I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Give charity, for there will come a time when a man will walk about with his charity, and the one to whom he wants to give it will say: If you had brought it yesterday I would have accepted it, but today (I have no need of it)
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا: اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ۱؎۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَمَتَّعَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ قَالَ فِيهَا قَائِلٌ بِرَأْيِهِ .
It was narrated that Mutarrif said:"Imran bin Husain said to me; 'The Messenger of Allah performed 'Umrah and Hajj together, and we performed 'Umrah and Hajj together with him, and whoever says anything different, that is his own personal opinion
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج ) تمتع کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ ( حج ) تمتع کیا ( لیکن ) کہنے والے نے اس سلسلے میں اپنی رائے سے کہا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَىَّ وَهُوَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ " ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ .
It was narrated that 'Aishah said:"Aflah, the brother of Abu Al-Qu'ais, who was my paternal uncle through breast-feeding, used to ask permission to enter upon me, and I refused to let him in until the Messenger of Allah came, and I told him about that. He said: 'Let him in, for he is your paternal uncle.'" 'Aishah said: "That was after the (Verse of) Hijab had been revealed
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح جو میرے رضاعی چچا ہوتے تھے میرے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے تھے تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ واقعہ پردہ کی آیت کے نزول کے بعد کا ہے۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ اخْتَلَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ تُزَوَّجُ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَبْعَدَ الأَجَلَيْنِ . فَبَعَثُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ فَوَلَدَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةَ عَشَرَ نِصْفِ شَهْرٍ - قَالَتْ - فَخَطَبَهَا رَجُلاَنِ فَحَطَّتْ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا فَلَمَّا خَشُوا أَنْ تَفْتَاتَ بِنَفْسِهَا قَالُوا إِنَّكِ لاَ تَحِلِّينَ . قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ " .
Abu Salamah said:"Abu Hurairah and Ibn 'Abbas differed concerning the widow who gives birth after her husband's death. Abu Hurairah said: 'She may be married.' Ibn 'Abbas said: '(She has to wait) for the longer of the two periods.' They sent word to Umm Salamah and she said: 'The husband of Subai'ah died and she gave birth fifteen days -half a month- after her husband died.' She said: 'Two men proposed marriage to her, and she was inclined toward one of them. When they feared that she was becoming single-minded (on this issue, and not consulting her family), they said: It is not permissible for you to marry. She went to the Messenger of Allah and he said: 'It is permissible for you to marry, so marry whomever you want
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم میں اس عورت کی عدت کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور اس نے بچہ جن دیا ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ( وضع حمل کے بعد نفاس سے فارغ ہو کر ) وہ شادی کر سکتی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں ( یعنی وضع حمل اور عدت طلاق ) میں سے جس عدت کی مدت لمبی ہو گی اسے وہ عدت پوری کرنی ہو گی ( یعنی چار ماہ دس دن، اس کے بعد ہی وہ شادی کر سکے گی ) آخر کار ان لوگوں نے کسی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا سبیعہ رضی اللہ عنہا کے شوہر انتقال کر گئے اور ان کے انتقال کے پندرہ دن بعد اس نے بچہ جنا۔ پھر اسے دو آدمیوں نے شادی کا پیغام دیا، جن میں سے ایک کی طرف وہ مائل ہو گئی ( اور اس کا بھی خیال اس سے شادی کر ڈالنے کا ہو گیا ) تو جب ( دوسرا شادی کا خواہشمند اور اس کے ساتھی ) لوگ ڈرے کہ یہ تو ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو انہوں نے ( شادی روکنے اور رکاوٹ ڈالنے کی خاطر ) کہا: ابھی تو تم حلال ہی نہیں ہوئی ہو ( تمہاری عدت پوری نہیں ہوئی ہے تم شادی رچانے کیسے جا رہی ہو ) وہ کہتی ہیں ( جب ان لوگوں نے یہ بات کہی ) تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ تم حلال ہو گئی ہو تو جس سے بھی چاہو اس سے نکاح کر سکتی ہو“۔
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الأَسْوَدِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ مَظْلُومًا فَلَهُ الْجَنَّةُ " .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Whoever is killed defending his wealth and is killed unjustly, Paradise will be his
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Gold for gold, weight for weight, like for like; and silver for silver, weight for weight, like for like. Whoever gives more or takes more has engaged in Riba
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ هُذَيْلٍ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَأَسْقَطَتْ فَقِيلَ أَرَأَيْتَ مَنْ لاَ أَكَلْ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ صَاحَ فَاسْتَهَلّ . فَقَالَ " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ " . فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ وَجُعِلَتْ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ . أَرْسَلَهُ الأَعْمَشُ .
It was narrated form Al-Mughirahbin shu'bah that:a man of Hudhail had two wives, and one of them threw a tent pole at the o0ther and caused her to miscarry. It was said: "What do you think of one who neither ate nor drank, or shouted nor cried (at the moment of birth)?" he said: (Rhyming verse like the verse of the Bedouins. "And the Messenger of Allah ruled that a make or female slave shouted be given (as dihahj) for him (the unborn child), to be paid but the'Aqila h of the woman
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو شَيْخٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلاَّ مُقَطَّعًا . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِيثُ النَّضْرِ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
Abu Shaikh said:"I heard Ibn 'Umar say: 'The Messenger of Allah [SAW] forbade wearing gold unless it is broken (into smaller pieces)
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ شَارِبُهَا حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'The adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the robber is not a believer at the moment when he is robbing and people are looking on
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الأَحْوَلُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يَرْقُدُ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ يَغْفُلُ عَنْهَا قَالَ " كَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about a man who slept and missed the prayer, or forgot it. He said: 'The expiation for that is to pray it when he remembers it
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو نماز سے سو جاتا ہے یا اس سے غافل ہو جاتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ امْرَأَةٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } ثُلُثُ الْقُرْآنِ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَعْرِفُ إِسْنَادًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا .
It was narrated from Abu Ayyub that:The Prophet (ﷺ) said: "Say: He is Allah, (the) One" is one-third of the Quran
ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا۔