أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ كُلَّهُ يَعْنِي رَفْعَ يَدَيْهِ .
It was narrated from Malik bin Al-Huwairith that:When the Prophet of Allah (ﷺ) started to pray, he raised his hands, and when he bowed, he did likewise, and when he raised his head from bowing he did likewise, and when he raised his head from prostration, he did likewise, meaning he raised his hands
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے یعنی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ، قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا قَالَ هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that Abu Hayyah Al-Wadi'i said:I saw 'Ali performing Wudu'. He washed his hands three times, and rinsed his mouth three times and his nose three times, and he washed his face three times and each forearm three times. Then he wiped his head and washed each foot three times. Then he said: 'This is the Wudu' of the Prophet (ﷺ)
ابوحیہ وادعی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچوں کو تین بار دھویا، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار اپنا چہرہ اور تین تین بار اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور تین تین بار اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكَ قَالَ " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ " .
It was narrated that abu Sa'eed Al-Khudri said:"We said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), we know how to send salams upon you, but how should we send salah upon you?' He said: 'Say: "Allahumma salli 'ala Muhammadin 'abdika wa rasulika kama salaita 'ala Ibrahim wa barik 'ala Muhammadin wa 'ala ali Muhammadin kama barakta 'ala Ibrahim (O Allah, send salah upon Muhammad, Your slave and Messenger , as You sent Salah upon Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon Ibrahim)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم جان چکے ہیں، پر مگر آپ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللہم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على إبراهيم» اے اللہ! درود و رحمت بھیج اپنے بندے اور رسول محمد پر جس طرح تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں ۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مُعَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلاَثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ .
Abu Mu'aid narrated from Az-Zuhri, who said:"Ata' bin Yazid narrated to me that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say: 'Witr is a duty, so whoever wants to pray witr with five rak'ahs let him do so, whoever wants to pray witr with three, let him do so; and whoever wants to pray witr with one, let him do so
ابومعید نے زہری سے اور زہری نے عطاء بن یزید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: وتر حق ہے، جو پانچ رکعت پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے وہ تین پڑھے، اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ " . وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ " . فَقَالَ عُمَرُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةِ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ " وَجَبَتْ " . وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ " وَجَبَتْ " . فَقَالَ " مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ " .
It was narrated that Anas said:"A funeral passed by and the deceased was praised." The Prophet said: "It is granted." Another funeral passed by and the deceased was criticized. The Prophet said: "It is granted." 'Umar said: "May my father and mother be ransomed for you. One funeral passed by and the deceased was praised, and you said, 'It is granted?"' He said: "Whoever is praised will be granted Paradise, and whoever is criticized will be granted Hell, You are the witnesses of Allah on Earth
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، ( پھر ) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی؟، تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی، تم ۱؎ روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever fasts Ramadan out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ كُنَّا يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسًا وَنَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَى عَائِشَةَ لِيَسْتَأْذِنَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ سَائِلٌ مَرَّةً وَعِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرْتُ لَهُ بِشَىْءٍ ثُمَّ دَعَوْتُ بِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا تُرِيدِينَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ بَيْتَكِ شَىْءٌ وَلاَ يَخْرُجَ إِلاَّ بِعِلْمِكِ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " مَهْلاً يَا عَائِشَةُ لاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ " .
It was narrated that Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said:"One day we were sitting in the Masjid with a group of the Muhajirin and Ansar, We sent a man to 'Aishah to ask permission to come to her. She said: 'A beggar came in to me one day when the Messenger of Allah was present, and I ordered that he be given something, then I called for it and looked at it. The Messenger of Allah said: Do you want that nothing should enter or leave your house without your knowledge? I said: 'Yes.' He said: "Don't be hasty, O 'Aishah. Do not count what you give, otherwise Allah will count what He gives to you
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، ( انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ( خادمہ کو ) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ چاہتی ہیں کہ بغیر آپ کے علم میں آئے تمہارے گھر میں کچھ نہ آئے اور تمہارے گھر سے کچھ نہ جائے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! ٹھہر جاؤ، گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں بھی گن کر دے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ حَجَّ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَهَى عُثْمَانُ عَنِ التَّمَتُّعِ فَقَالَ عَلِيٌّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدِ ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا . فَلَبَّى عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِالْعُمْرَةِ فَلَمْ يَنْهَهُمْ عُثْمَانُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ التَّمَتُّعِ قَالَ بَلَى . قَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَمَتَّعَ قَالَ بَلَى .
Sa'ced bin Al-Musayyab said:"Ali and 'Uthman performed Hajj, and when we were partway there, 'Uthman forbade Tamattu, 'Ali said 'When you see him setting out, set out with him (saying the Talbiyah for 'Umrah)So 'Ali and his companions recited the Talbiyah for 'Umrah, and 'Uthman did not forbid them. 'Ali said: 'Have I not been told that you did.' Ali said to him: 'Did you not hear that the Messenger of Allah did Tamattu? He said: 'Of course
سعید بن مسیب کہتے ہیں علی اور عثمان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تو جب ہم راستے میں تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے تمتع سے منع کیا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم لوگ انہیں دیکھو کہ وہ ( عثمان ) کوچ کر گئے ہیں تو تم لوگ بھی کوچ کرو، علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( یعنی تمتع کیا ) تو عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ آپ تمتع سے روکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( صحیح اطلاع دی ہے ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah said: 'Suckling once or twice does not make (marriage) prohibited
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا ( نکاح کو ) حرام نہیں کرتا ۱؎“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
It was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid that she heard Hafsah bint 'Umar, the wife of the Prophet, (narrate) that the Prophet said:"It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days except for a husband; she should mourn for him for four months and ten (days)
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے شوہر کے، شوہر کے انتقال پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ ابْنِ حَيَّانَ، - يَعْنِي يَزِيدَ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ سَحَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ عَقَدَ لَكَ عُقَدًا فِي بِئْرِ كَذَا وَكَذَا فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَخْرَجُوهَا فَجِيءَ بِهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَمَا ذَكَرَ ذَلِكَ لِذَلِكَ الْيَهُودِيِّ وَلاَ رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ .
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"A Jewish man cast a spell on the Prophet [SAW], and he fell ill as a result of it, for several days. Then Jibra'il, peace be upon him, came to him and said: 'A Jewish man has put a spell on you. In such and such a well there is a knot that he tied for you.' The Messenger of Allah [SAW] sent them to take it out and bring it to him. Then the Messenger of Allah [SAW] got up as if he had been released from some bonds. No mention of that was made to that Jew, and he did not see that in his face at all
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، - وَكَانَ بَدْرِيًّا وَكَانَ بَايَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ - أَنَّ عُبَادَةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُيُوعًا لاَ أَدْرِي مَا هِيَ أَلاَ إِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا وَإِنَّ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا وَلاَ بَأْسَ بِبَيْعِ الْفِضَّةِ بِالذَّهَبِ يَدًا بِيَدٍ وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا وَلاَ تَصْلُحُ النَّسِيئَةُ أَلاَ إِنَّ الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ مُدْيًا بِمُدْىٍ وَلاَ بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْحِنْطَةِ يَدًا بِيَدٍ وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا وَلاَ يَصْلُحُ نَسِيئَةً أَلاَ وَإِنَّ التَّمْرَ بِالتَّمْرِ مُدْيًا بِمُدْىٍ حَتَّى ذَكَرَ الْمِلْحَ مُدًّا بِمُدٍّ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى .
It was narrated from 'Ubdah bin As-Samit-who had been present at Badar and had given his pledge to the Prophet swearing not to fear the blame of any blamer for the sake of Allah that 'Ubadah stood up to deliver a speech and said:"O people, you have invented kinds of transactions, I do not know what they are, but make sure it is gold for gold, of the same weight, or silver for silver, of the same weight. There is nothing wrong with selling silver for gold, hand to hand, giving more silver than gold, but no credit is allowed. When you sell wheat for wheat and barley for barley, it should be measure for measure, but there is nothing wrong with selling barley for wheat, hand to hand, giving more barley than wheat, but no credit is allowed. And when you sell dates for dates, it should be measure for measure" And he mentioned salt, "measure for measure, and whoever gives more or asks for more has engaged in Riba
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلَ وَلاَ اسْتَهَلّ وَلاَ نَطَقَ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَذَا مِنَ الْكُهَّانِ " .
It was narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab that:the Messenger of Allah ruled that for a fetus which is killed in the mother's womb, a male or female slave be given (as Diyah). The one against whom he passed this ruling said: "How can I pay blood money for one who neither ate nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked." The Messenger of Allah said: "This is one of the soothsayers
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو شَيْخٍ، عَنْ أَخِيهِ، حِمَّانَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، عَامَ حَجَّ جَمَعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَعْبَةِ فَقَالَ لَهُمْ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبُوسِ الذَّهَبِ قَالُوا نَعَمْ . قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ . خَالَفَهُ الأَوْزَاعِيُّ عَلَى اخْتِلاَفِ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ فِيهِ .
Abu Shaikh narrated from his brother Himman:That when Mu'awiyah went on Hajj, he gathered together a group of the Companions of the Messenger of Allah [SAW] at the Ka'bah and said to them: "I adjure you by Allah, did the Messenger of Allah [SAW] forbid wearing gold?" They said: "Yes." He said: "And I bear witness to that
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلاَثٍ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ فَكُلُوا مِنْهَا مَا شِئْتُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ فِي الأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أَىِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'I used to forbid three things to you: Visiting graves, but now visit them, and may visiting them increase you in goodness; and I forbade you (to store) the sacrificial meat for more than three days, but now eat whatever you wish of it. And I forbade to you drinks in (certain kinds of ) vessels, but now drink from whatever vessel you wish, but do not drink any intoxicant
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ صَلاَتَيْنِ إِلاَّ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ وَقْتِهَا .
It was narrated that 'Abdullah said:"I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) combine any two prayers except in Al-Muzdalifah, and on that day he prayed Subh before its time
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ۱؎، آپ نے اس روز فجر ( اس کے عام ) وقت سے ۲؎ پہلے پڑھ لی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا أَطْوَلُ الطُّولَيَيْنِ قَالَ الأَعْرَافُ .
Marwan bin Al-Hakam narrated that:Zaid bin Thabit said: "Why do I see you reciting short surahs in Maghrib when I saw the Messenger of Allah (ﷺ) reciting the longer of the two long surahs in it?" I said: "O Abu Abdullah, what is the longer of the two long surahs?" He said: "Al-A'raf
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے، میں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: اعراف۔