بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
1
18 hadith
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، وَكَانَ، يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الأَصَابِعِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Asim bin Laqit that his father said:The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you perform Wudu', do so properly, and wash in between the fingers (Al-Asabi')."[2] [1] Al-Asabi' is plural meaning fingers as well as toes, and the author mentioned only one narration on the topic whereas some of them clarify "of the hands and feet." So he mentioned the general wording amids chapters how to wash the feet. [2] Part of this narration preceded under No
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ‏ "‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ‏.‏ قَالَ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - يَفْعَلاَنِ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Al-Aswad from his father-and Alqamah-that:Abdullah said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) say the Takbir every time he went down and got up, or stood or sat; he said the Salam on his right and his left: 'As-salamu alaykum wa rahmatulah (peace be upon you and the mercy of Allah ),' until the whiteness of his cheek could be seen." He said: "And I saw Abu Bakr and 'Umar, may Allah (SWT) be pleased with them both, doing the same
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ خَارِجَةَ قَالَ أَنَا سَأَلْتُ، رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ صَلُّوا عَلَىَّ وَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ وَقُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Musa bin Talha said:"I asked Zaid bin Kharijah who said: 'I asked the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: Send salah upon me and strive hard in supplication, and say: Alahumma salli 'ala Muhammad wa 'ala ali Muhammad (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad)
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: مجھ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجو، اور دعا میں کوشش کرو، اور کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد» اے اللہ! صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیج محمد پر اور آل محمد پر ۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلاَثٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ‏"‏ ‏.‏
Al-Awza'I said:"Az-Zuhri narrated to me, he said: 'Ata bin Yazid, from Abu Ayyub: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Witr is a duty, and whoever wants to pray witr with seven (rak'ahs), let him do so; whoever wants to pray witr with five, let him do so, whoever wants to pray witr with three, let him do so; and whoever wants to pray witr with one, let him do so
اوزاعی نے زہری سے اور زہری نے عطاء بن یزید سے اور عطاء نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق ہے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے اور جو چاہے ایک پڑھے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، - وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ - عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا وَأَذَاهَا وَالْفَاجِرُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Qatadah said:"We were sitting with the Messenger of Allah when a funeral appeared. The Messenger of Allah said: 'He is relieved and others are relieved of him. When the believer dies he is relieved of the calamities, hardships and troubles of this world, and when the evildoer dies, the people, the land, the trees and the animals are relieved of him
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، ( کیونکہ ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے ( اللہ کے ) بندے، ملک و شہر، پیڑ پودے، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"Whoever fasts in Ramadan out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطَرَّتْ أَيْدِيَهُمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ تَقَبَّضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ ‏"‏ ‏.‏ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ فَيَجْتَهِدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلاَ تَتَّسِعُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"The parable of the miser and the one who gives in charity is that of two men wearing coats of mail with their hands tied to their collarbones. Every time the one who gives thinks of giving in charity, the (coat of mail) expands until it obliterates his traces, and every time the miser thinks of giving charity, every circle (of the coat of mail) contracts and sticks to him, and his hand is tied up to his collarbones." I heard the Messenger of Allah say: "He tries to expand it, but he cannot
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل اور صدقہ دینے والے ( سخی ) کی مثال ان دو شخصوں کی ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہوں، اور ان کے ہاتھ ان کی ہنسلیوں کے ساتھ چمٹا دیئے گئے ہوں، تو جب جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے لیے وسیع و کشادہ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ چلتے وقت اس کے پیر کے نشانات کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ہر کڑی دوسرے کے ساتھ پیوست ہو جاتی اور سکڑ جاتی ہے، اور اس کے ہاتھ اس کی ہنسلی سے مل جاتے ہیں“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”وہ ( بخیل ) کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رضى الله عنهما قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ ‏ "‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ لْيُهْدِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ فَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ ‏.‏
It was narrated from Salim bin 'Abdullah that 'Abdullah bin 'Umar said; "during the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah benefited from performing 'Umrah and then Hajj, and he brought a Hadi (sacrificial animal )with him from dhul-Hulaifah. The Messenger of Allah entered Ihram for 'Umrah frist, them for Hajj, and the people also benefited by entering Ihram for 'Umrah first, then for Hajj. Some of the people brought the Hadi and carried it along with them, and other s did not. When the Messenger of Allah came to Makkah, he said to the people:'Whoever among you has brought a Hadi, nothing is permissible for him that became forbidden when he entered Ihram, until he has finished his Hajj, Whoever did not find a Hadi, let him fast for three days during the Hajj, and for seven when he returns to his family, the Messenger of Allah performed Tawaf when he came to Makkah and touched the corner (where the Black Stone is) first of all, then he walked rapidly during the first three of the seven circles, and walked daring the last four. After he finished circumambulating the House he prayed two Rak'ahs at Maqam Ibrahim. Then he went to As-Safa and walked seven rounds between As-Safa and Al-Marwah. And he did not do any action that was forbidden because of Ihram until he had completed his Hajj and slaughtered his Hadi on the Day of sacrifice. Then he hastened onward (toard Makkah) and circumambulated the House. Then everything that had been forbidden because of Ihram became permissible. And those who had brought the Hadi with them did the same as the Messenger of Allah did
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا ۱؎ یعنی پہلے عمرہ کیا پھر حج کیا اور ہدی بھیجی، بلکہ اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے ( وہاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تمتع کیا، یعنی عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا۔ البتہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہدی بھیجی اور اپنے ساتھ بھی لیے گئے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ہدی نہیں لے گئے تھے۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر آئے ہیں وہ جب تک حج پورا نہ کر لیں کسی بھی چیز سے جو ان پر حرام ہیں حلال نہ ہو ) اور جو ہدی ساتھ لے کر نہیں آئے ہیں تو وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور صفا و مروہ کی سعی کریں، اور بال کتروائیں اور احرام کھول ڈالیں۔ پھر ( اٹھویں ذی الحجہ کو ) حج کا احرام باندھے پھر ہدی دے اور جسے ہدی میسر نہ ہو تو وہ حج میں تین دن روزے رکھے، اور سات دن اپنے گھر واپس پہنچ جائیں تب رکھیں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پہنچ کر طواف کیا، اور سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دوڑ کر چلے ۲؎، باقی چار پھیرے عام رفتار سے چلے۔ پھر جس وقت بیت اللہ کا طواف پورا کر لیا، تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر صفا آئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے کیے۔ پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان میں سے کسی چیز سے بھی حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ اپنے حج کو مکمل کیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنے ہدی کی نحر کی ( جانور ذبح کئے ) اور منیٰ سے لوٹ کر مکہ آئے، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان سب سے حلال ہو گئے، اور لوگوں میں سے جو ہدی ( کا جانور ) لے کر گئے تھے، انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Az-Zubair that the Prophet said:"Suckling once or twice does not make (marriage) prohibited
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا“۔
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الأَنْصَارِيِّ، - وَجَدُّهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتَا جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا أَفَأَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَجْلِسُ حَوْلاً وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا كَانَ الْحَوْلُ خَرَجَتْ وَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah, that Umm Salamah and Umm Habibah said:"A woman came to the Prophet and said: 'My daughter's husband has died, and I am worried about her eyes. Can I apply kohl to her?' The Messenger of Allah said: 'One of you used to stay (in mourning) for a year. Rather (the mourning period is) four months and ten (days). And when that year had passed she would go out and fling a piece of dung behind her
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر ( یعنی میرے داماد ) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے ( عدت میں بیٹھی ) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ( سوگ منانے والی ) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ عَقَدَ عُقْدَةً ثُمَّ نَفَثَ فِيهَا فَقَدْ سَحَرَ وَمَنْ سَحَرَ فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِّلَ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever ties a know and blows on it, he has practiced magic; and whoever practices magic, he has committed Shirk; and whoever hangs up something (as an amulet) will be entrusted to it
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ عُبَادَةُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ - قَالَ أَحَدُهُمَا وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ وَلَمْ يَقُلِ الآخَرُ - إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ - قَالَ أَحَدُهُمَا مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى وَلَمْ يَقُلِ الآخَرُ - وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا فَبَلَغَ هَذَا الْحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ صَحِبْنَاهُ وَلَمْ نَسْمَعْهُ مِنْهُ ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَامَ فَأَعَادَ الْحَدِيثَ فَقَالَ لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنْ رُغِمَ مُعَاوِيَةُ ‏.‏ خَالَفَهُ قَتَادَةُ رَوَاهُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ عَنْ عُبَادَةَ ‏.‏
Muslim bin Yasar and 'Abdullah bin 'Ubaid said:"Ubadah bin As-Samit and Muawiyah met at a stopping place on the road. 'Ubadah said: 'The Messenger of Allah forbade us to sell gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, dates for dates"' - one of them said: "salt for salt, " but the other did not say "unless it was equal amount for equal amount, like for like." One of them said: "Whoever gives more or takes more has engaged in Riba," but the other one did not say it. "And the commanded us to sell gold for silver and silver for gold, and wheat for barley and barley for wheat, hand to hand, however we wanted.' News of this hadith reached Muawiyah and he stood up and said: 'What is the matter with men who narrate Hadiths from the Messenger of Allah when we accompanied him and we never heard him say it? News of that reached 'Ubadah bin As-Samit and he stood up and repeated the Hadith, then he said: 'We will narrate what we heard from the Messenger of Allah, whether Muawiyah likes it or not."' Qatadah contradicted him, he reported it from Muslim bin Yasar, from Abu Al-=Ashath, from 'Ubadah
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ، مِنْ هُذَيْلٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:there were two women of Hudhail during the time of the Messenger of Allah, one of whom threw something at the other and caused her to miscarry. The Messenger of Allah ruled that (Diyah of ) a male or female slave be paid for that
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُغَرَّمُ صَاحِبُ سَرِقَةٍ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَذَا مُرْسَلٌ وَلَيْسَ بِثَابِتٍ ‏.‏
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Awf that the Messenger of Allah said:"The thief is not to be penalized (financially) if the Hadd punishment is carried out on him." (Daif) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is Mursal and it is not confirmed
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ، عَنْ أَبِي حِمَّانَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، عَامَ حَجَّ جَمَعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَعْبَةِ فَقَالَ لَهُمْ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ ‏.‏ خَالَفَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ رَوَاهُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي شَيْخٍ عَنْ أَخِيهِ حِمَّانَ ‏.‏
It was narrated from Abu Himman:That when Mu'awiyah went on Hajj, he gathered together a group of the Companions of the Messenger of Allah [SAW] at the Ka'bah and said to them: "I adjure you by Allah, did the Messenger of Allah [SAW] forbid wearing gold?" They said: "Yes." He said: "And I bear witness to that
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلاَّ فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'I used to forbid you to visit graves, but (now) visit them. And I forbade you (to keep) the sacrificial meat for three days, but now keep whatever you wish. And I forbade Nabidh to you, unless it was (made) in a water skin, but now drink from all kinds of vessels but do not drink any intoxicant
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (ﷺ) prayed Maghrib and 'Isha' at Al-Muzdalifah
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء ( جمع کر کے ) پڑھی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ أَتَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِـ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏}‏ وَ ‏{‏ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ‏}‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَمَحْلُوفَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ ‏{‏ المص ‏}‏ ‏.‏
It was narrated from Zaid bin Thabit that :He said to Marwan: "O Abu Abdul-Malik, do you recite: 'Say: He is Allah, (the) One' and 'Verily, We have granted you Al-Kawthar' in maghrib?" He said: "Yes." He (Zaid) said: "I swear by Allah, I saw the Messenger of Allah (ﷺ) reciting the longer of the two long surahs in it: 'Alif-Lam-Mim-Sad
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے پوچھا: اے ابوعبدالملک! کیا تم مغرب میں «قل هو اللہ أحد‏» اور «إنا أعطيناك الكوثر» پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں ‏ «المص» جو دو لمبی سورتوں ( انعام اور اعراف ) میں زیادہ لمبی ہے ( سورۃ الاعراف ) پڑھتے دیکھا ہے۔