Narrated by Al-Qaisi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، - يَعْنِي عُمَارَةَ - قَالَ حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَقَالَ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّةً وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِيَمِينِهِ كِلْتَيْهِمَا .
Al-Qaisi narrated that he was with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and some water was brought to him. He poured some onto his hands from the vessel and washed them once, then he washed his face and each arm once, and he washed his feet with both hands
عمارہ کہتے ہیں: مجھ سے قیسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۱؎ اور انہیں ایک بار دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازؤوں کو ایک ایک بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعِشَاءِ وَهُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَهُ ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلاَةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ صَلاَتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا . قَالَ أَبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ إِلَى سُجُودِي فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ سَجَدْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَىْ صَلاَتِكَ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ . قَالَ " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ " .
It was narrated from 'Abdullah bin Shaddad, this his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us for one of the nighttime prayers, and he was carrying Hasan or Husain. The Messenger of Allah (ﷺ) came forward and put him down, then he said the Takbir and started to pray. He prostrated during his prayer, and made the prostration lengthy." My father said: "I raised my head and saw the child on the back of the Messenger of Allah (ﷺ) while he was prostrating so I went back to my prostration. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished praying, the people said: "O Messenger of Allah (ﷺ), you prostrated during the prayer for so long that we thought that something had happened or that you were receiving a revelation.' He said: 'No such thing happened. But my son was riding on my back and I did not like to disturb him until he had enough
شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی دونوں نمازوں میں سے کسی ایک نماز کے لیے نکلے، اور حسن یا حسین کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں ( زمین پر ) بٹھا دیا، پھر آپ نے نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی، اور نماز شروع کر دی، اور اپنی نماز کے دوران آپ نے ایک سجدہ لمبا کر دیا، تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر ہے، اور آپ سجدے میں ہیں، پھر میں اپنے سجدے کی طرف دوبارہ پلٹ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کر دیا کہ ہم نے سمجھا کوئی معاملہ پیش آ گیا ہے، یا آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی، البتہ میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لی تھی تو مجھے ناگوار لگا کہ میں جلدی کروں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کر لے ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
It was narrated from Musa bin Talha, from his father, that:A man came to the Prophet of Allah (ﷺ) and said: "How should we send blessings upon you, O Prophet of Allah?' He said: 'Say: Alahumma salli 'ala Muhammad wa 'ala ali Muhammad, kama sallaita 'ala Ibrahima wa barik 'ala Muhammad kama barakta 'ala ali Ibrahim fil-'alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory)
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم آپ پر صلاۃ ( درود ) کس طرح بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! صلاۃ ( درود ) بھیج محمد پر اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
Narrated by Duwaid bin Nafi'
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ حَدَّثَنِي ضُبَارَةُ بْنُ أَبِي السَّلِيلِ، قَالَ حَدَّثَنِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلاَثٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ " .
Duwaid bin Nafi' said:" Ibn Shihab informed me, saying: 'Ata bin Yazid narrated to me from Abu Ayyub: That the Prophet (ﷺ) said: 'Witr is a duty, and whoever wants to pray witr with seven (rak'ahs), let him do so; whoever wants to pray witr with five, let him do so, whoever wants to pray witr with three, let him do so; and whoever wants to pray witr with one, let him do so
دوید بن نافع نے زہری سے، اور زہری نے عطاء بن یزید سے اور عطاء بن یزید نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق ہے، جو چاہے سات رکعت پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ " . فَقَالُوا مَا الْمُسْتَرِيحُ وَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ " الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " .
It was narrated from Abu Qatadah bin Raib'i that he used to narrate:"A funeral passed by the Messenger of Allah and he said: 'He is relieved and others are relieved of him.' They said: 'What does relieved mean and what does relieved of him mean: He said: "The believing slave is relieved of the hardships and troubles of this world, and the people, the land, the trees and the animals are relieved of the immoral slave
ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ( یہ ) «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، تو لوگوں نے پوچھا: «مستریح» اور «مستراح منہ» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ مومن ( موت کے بعد ) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے، اور فاجر ۱؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے، بستیاں، پیڑ پودے، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ " . وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:"Whoever fasts during Ramadan" and according to the Hadith of Qutaibah, the Prophet said: "Whoever spends the nights of Ramadan in prayer (Qiyam) out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins, and whoever spends the night of Lailat Al-Qadr in prayer out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں روزے رکھے، ( اور قتیبہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مَثَلَ الْمُنْفِقِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى أَخَذَتْهُ بِتَرْقُوَتِهِ أَوْ بِرَقَبَتِهِ " . يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوَسِّعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ . قَالَ طَاوُسٌ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِيَدِهِ وَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَتَوَسَّعُ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: "The parable of the one who spends and give in charity, and the one who is miserly, is that of two men wearing coats of mail, with their hands pressed closely to their breasts and their collarbones. When the one who spends wants to give charity, the (coat of mail) expends so much that it covers his fingertips and obliterates his traces. But when the miser wants to give, the (coat of mail) contracts and every ring grips the place where it is, and his hands are tied up to his collarbone."' Abu Hurairah says: 'I swear that he saw the Messenger trying to expand it but it did not." Tawus said: "I heard Abu Hurairah said: "I heard Abu Hurairah illustrating with his hand trying to expand it but it did not." (Sahaih)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرنے والے فیاض اور بخیل کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو کرتے یا دو ڈھال ان دونوں کی چھاتیوں سے لے کر ان کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ہوں، جب فیاض خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے بدن پر کشادہ ہو جاتی ہے، پھیل کر اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے، اور اس کے نشان قدم کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور اس کی کڑیاں اپنی جگ ہوں پر چمٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ اس کی ہنسلی یا اس کی گردن پکڑ لیتی ہے“۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسے کشادہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ آپ اپنے ہاتھ سے کشادہ کرنے کے لیے اشارہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔
Narrated by Bakr bin 'Abdullah Al-Muzani
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، قَالَ أَنْبَأَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ . فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ أَنَسٌ مَا تَعُدُّونَا إِلاَّ صِبْيَانًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا مَعًا " .
Bakr bin 'Abdullah Al-Muzani said:"Anas said: 'I heard the Prophet reciting the Talbiyah for 'Umrah and Hajj together. I told Ibn 'Umar about that and he said: "He recited the Talbiyah for Hajj only. I met Anas and told him what Ibn 'Umar had said, and Anas said: "do you think of us as no more than children? I heard the Messenger of Allah say: 'Labbaika 'Umratan wa Hajjan ma'an (Here I am (O allah) for 'Umrah and Hajj together) (sahih)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے تو میں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر میری ملاقات انس سے ہوئی تو میں نے ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بیان کی، اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ساتھ «لبيك عمرة وحجا» کہتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَأَيُّوبَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الرَّضَاعِ فَقَالَ " لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَةُ وَلاَ الإِمْلاَجَتَانِ " . وَقَالَ قَتَادَةُ " الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
It was narrated from Umm Fadl that the Prophet of Allah was asked about breast-feeding and said:"Suckling (Al-Imlajah) once or twice does not make (marriage) prohibited." And (one of the narrators) Qatadah said (in his narration): "Suckling (Al-Massah) once or twice does not make (marriage) prohibited
ام الفضل رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رضاعت ( یعنی دودھ پلانے ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ایک بار اور دو بار کا پلانا ( نکاح کو ) حرام نہیں کرتا“۔ قتادہ اپنی روایت میں «الإملاجة ولا الإملاجتان» کی جگہ «المصة والمصتان» کہتے ہیں، یعنی ”ایک بار یا دو بار چھاتی کا چوسنا نکاح کو حرام نہ کرے گا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قُلْتُ عَنْ أُمِّهَا، قَالَ نَعَمْ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ امْرَأَةٍ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا أَتَكْتَحِلُ فَقَالَ " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلاَسِهَا حَوْلاً ثُمَّ خَرَجَتْ فَلاَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah -I (the narrator) said:"From her mother?" He said: "Yes" - "that the Prophet was asked about a woman whose husband had died but they were worried about her eyes - could she use kohl?" He said: "One of you used to stay in her house wearing her shabbiest clothes for a year, then she would come out. No, (the mourning period is) four months and ten (days)
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا شوہر مر گیا ہو اور سرمہ ( و کاجل ) نہ لگانے سے اس کی آنکھوں کے خراب ہو جانے کا خوف و خطرہ ہو تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہاری ہر عورت ( اپنے شوہر کے سوگ میں ) اپنے گھر میں انتہائی خراب، گھٹیا و گندا کپڑا ( اونٹ کی کاٹھ کے نیچے کے کپڑے کی طرح ) پہن کر سال بھر گھر میں بیٹھی رہتی تھی، پھر کہیں ( سال پورا ہونے پر ) نکلتی تھی۔ اور اب چار مہینے دس دن بھی تم پر بھاری پڑ رہے ہیں؟“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ . قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ لاَ تَقُلْ نَبِيٌّ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ . فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَأَلاَهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَقَالَ لَهُمْ " لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ وَلاَ تَسْحَرُوا وَلاَ تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلاَ تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ وَلاَ تَوَلَّوْا يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُودُ أَنْ لاَ تَعْدُوا فِي السَّبْتِ " . فَقَبَّلُوا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ وَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ . قَالَ " فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِي " . قَالُوا إِنَّ دَاوُدَ دَعَا بِأَنْ لاَ يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنِ اتَّبَعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا يَهُودُ .
It was narrated that Safwan bin 'Assal said:"A Jew said to his companion: 'Let us go to this Prophet.' His companion said to him: 'Do not say Prophet; if he hears you, he will become big-headed.' So they came to the Messenger of Allah [SAW] and asked him about nine clear signs. He said to them: 'Do not associate anything with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill any soul whom Allah has forbidden you to kill, except by right, do not speak falsely about an innocent man before a ruler, do not engage in magic, do not consume Riba (usury), do not slander chaste women, and do not flee on the day of the march (to battle). And for you Jews especially, do not break the Sabbath.' They kissed his hands and feet and said: 'We bear witness that you are a Prophet.' He said: 'What is keeping you from following me?' They said: 'Dawud prayed that there would always be a Prophet among his descendants, and we are afraid that if we follow you, the Jews will kill us
أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ، - وَقَدْ كَانَ يُدْعَى ابْنَ هُرْمُزَ - قَالَ جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ - قَالَ أَحَدُهُمَا وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ وَلَمْ يَقُلْهُ الآخَرُ - إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ - قَالَ أَحَدُهُمَا مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى وَلَمْ يَقُلْهُ الآخَرُ - وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا .
Muslim bin Yasar and Abdullah bin Ubaid who was called Ibn Hurmuz narrated that 'Ubadah bin As-Samit and Muawiyah met at a stopping place on the road. 'Ubadah told them:"The Messenger of Allah forbade selling gold for gold, silver for silver, dates for dates, wheat for wheat, barley for barley"- one of them said: "salt for salt," but the other did not say it-"unless it was equal amount for equal amount, like for like." One of them said: "Whoever gives more or takes more has engaged in Riba," but he other one did not say it. "And he commanded us to sell gold for silver and silver for gold, and wheat for barley and barley for wheat, hand to hand, however we wanted
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ . فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغَرَّمُ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ وَلاَ نَطَقَ وَلاَ اسْتَهَلّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ " . مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ .
It was narrated that Abu Hurairah said:"Two women of Hudhail had a fight, and one of them threw a rock at the other and killed her and the child in her womb. They referred the dispute to the Messenger of Allah, and the Messenger of Allah ruled that the Diyah for her fetus was a male or female slave, and that the Diyah of the woman be paid by her 'Aqilah (male relatives on the father's side). And he made her children and those who were with them her heirs. Hamal bin Malik bin An-Nabighah Al-Hudhali said: "O Messenger of Allah, how can I pay blood money for one who neither ate nor drank, or shouted such a one should be over looked." The Messenger of Allah said: "This is one of the brothers of the soothsayers" because of the rhyming way in which he spoke
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ مِنَ السُّنَّةِ هُوَ قَالَ نَعَمْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ وَعَلَّقَهُ فِي عُنُقِهِ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ضَعِيفٌ وَلاَ يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ .
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Muhairiz said:"I said to Fadalah bin 'Ubaid: 'Do you think that hanging the hand from the thief's neck is Sunnah?' He said: 'Yes; a thief was brought to the Messenger of Allah and he cut off his hand and hung it from his neck."' (Daif) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said; Al-Hajjaj bin Artah is weak, his narrations are not used as proof
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ مُعَاوِيَةَ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ إِذْ جَمَعَ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلاَّ مُقَطَّعًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ . خَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَلَى اخْتِلاَفٍ بَيْنَ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ .
It was narrated that Abu Shaikh said:"While we were with Mu'awiyah on one of his pilgrimages, he gathered together a group of the Companions of Muhammad [SAW] and said to them: 'Do you not know that the Messenger of Allah [SAW] forbade wearing gold unless it was broken (into smaller pieces)?' They said: 'By Allah, yes
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، عَنِ الأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي فَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الآخِرَةَ وَاشْرَبُوا وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ " .
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said:"The Messenger of Allah [SAW] said: 'I used to forbid you (to store) the sacrificial meat, but now eat it and store it; and whosoever wants to visit graves (may do so), for they are a reminder of the Hereafter; and drink but avoid all intoxicants
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا أَتَى جَمْعًا جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا .
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said:"I was with Ibn 'Umar when he departed from 'Arafah. When he came to Jam' (Al-Muzdalifah), he combined Maghrib and 'Isha', and when he finished he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) did similar to this in this place
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہم عرفات سے چلے تو میں ان کے ساتھ تھا، جب وہ مزدلفہ آئے تو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی، اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی تھی۔
Narrated by Mu'awiyah bin Abdullah bin Ja'far
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ، آخَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ بِـ { حم } الدُّخَانِ .
Mu'awiyah bin Abdullah bin Ja'far narrated that Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud told him that:The Messenger of Allah (ﷺ) recited 'Ha- Mim Ad-Dukhan' in Maghrib
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ «حم» الدخان پڑھی۔