بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
1
20 hadith
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَرَأَى أَعْقَابَهُمْ تَلُوحُ فَقَالَ ‏ "‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah (ﷺ) saw some people whose heels were still dry, so he said: 'Woe to the heels from the Fire. Perform Wudu' properly
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا، تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں ( خشک ہونے کی وجہ سے ) چمک رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے، وضو کامل طریقہ سے کرو ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي أَوْ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَسَكَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَىَّ فَقَالَ عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ ثَوْبَانَ فَقَالَ لِي عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَا مِنْ عَبْدِ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ‏"‏ ‏.‏
Ma'dan bin Talha Al-Ya'muri said:"I met Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ) and said: "Tell me of an action that will benefit me or gain me admittance to Paradise.' He remained silent for a while, then he turned to me and said: 'You should prostrate, because I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "There is no one who prostrated once to Allah, the Mighty and Sublime, except that Allah will raise him one degree in status thereby, and erase one sin thereby." Ma'dan said: "Then I met Abu Ad-Darda' and asked him the same question I had asked Thawban." He said to me: "You should prostrate, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "There is no one who prostrates once to Allah (SWT), but Allah (SWT) will raise him one degree thereby and erase one sin thereby
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے فائدہ پہنچائے، یا مجھے جنت میں داخل کرے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے بدلے، اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں: پھر میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان سے وہی سوال کیا جو ثوبان رضی اللہ عنہ سے کر چکا تھا، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا: تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ قَالَ لِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ ‏ "‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn Abi Laila said:"Ka'b bin Ujrah said to me: 'Shall I not give you a gift?' We said: "O Messenger of Allah (ﷺ), we know about sending salams upon you, but how should we send salah upon you?" He said: 'Say: Alahumma salli 'ala Muhammad wa 'ala ali Muhammad, kama sallaita 'ala Ibrahima wa barik 'ala Muhammad kama barakta 'ala ali Ibrahim fil-'alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory)
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ ( درود ) کیسے بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وآل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! درود بھیج محمد اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُوتِرُ بِثَلاَثِ عَشْرَةَ رَكْعَةً فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِتِسْعٍ ‏.‏ خَالَفَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ فَرَوَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏
It was narrated that Umm Salamah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray witr with thirteen rak'ahs, and when he grew older and weaker he prayed witr with nine
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو آپ نو رکعت وتر پڑھنے لگے۔ عمارہ بن عمیر نے عمرو کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے یحییٰ بن جزار سے اور یحییٰ بن جزار نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ ( یعنی عمارہ بن عمیر نے اس کو مسند ام سلمہ کی بجائے مسند عائشہ رضی اللہ عنہا میں سے قرار دیا ہے۔)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ ‏.‏ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ ‏.‏
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir say:"The Prophet and his Companions stood up for the funeral of Jew that passed by him, until it disappeared." (In another narration) Jabir said: "The Prophet and his Companions stood up for the funeral of a Jew until it disappeared
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"Whoever spends the nights of Ramadan n prayer (Qiyam) out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Mas'ud that the Prophet said:"When a man spends on his family, seeking reward for that, that is an act of charity on his part
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے صدقہ ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسٍ، سَمِعُوهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"I heard the Messenger of Allah 'Labbaika 'Umratan wa Hajjan ma'an, Iabbaika 'Umratan wa Hajjan ma'an (Here I am (O Allah) for "Umrah and Hajj together, here I am (O Allah) for "Umrah and Hajj together
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «‏لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» کہتے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ، - يَعْنِي الطَّائِيَّ - عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَبْرٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَيِّتٍ فَبَكَى النِّسَاءُ فَقَالَ جَبْرٌ أَتَبْكِينَ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا قَالَ ‏ "‏ دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ بَيْنَهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabr that he entered with the Messenger of Allah (ﷺ) upon someone who was dying, and the women were weeping. Jabr said:"Are you weeping when the Messenger of Allah (ﷺ) is sitting here?" He said: "Let them weep so long as he is among them, but if he dies no one should weep for him
جبر بن عتیک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک میت کے یہاں پہنچے تو عورتیں رونے لگیں تو انہوں نے کہا: تم رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو انہیں رونے دو جب تک کہ وہ ان میں موجود ہے۔ پھر جب وہ انتقال کر جائے تو کوئی عورت ( چیخ چیخ کر ) نہ روئے“۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that the daughter of Hamzah was suggested to Messenger of Allah (as a potential wife). He said:"She is the daughter of my brother through breast-feeding, and what becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is the same as that which becomes unlawful through lineage
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر لینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت ( دودھ پینے ) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہو جاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے“۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ‏}‏ وَقَالَ ‏{‏ وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ ‏}‏ الآيَةَ وَقَالَ ‏{‏ يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ ‏}‏ فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ وَقَالَ ‏{‏ وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ ‏}‏ وَقَالَ ‏{‏ وَاللاَّئِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاَثَةُ أَشْهُرٍ ‏}‏ فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ تَعَالَى ‏{‏ وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ ‏}‏ ‏{‏ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ‏}‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas with regard to Allah's saying:"Whatever a Verse (revelation) do We abrogate or cause to be forgotten, We bring a better one or similar to it." and He said: "And when We change a Verse in place of another --and Allah knows best what He sends down." and He said: "Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book." "The first thing that was abrogated in the Qur'an was the Qiblah." And He said: "And divorced women shall wait (as regards their marriage) for three menstrual periods." and He said: "And those of your women as have passed the age of monthly courses, for them the 'Iddah, if you have doubt (about their periods), is three months." So (some) of that was abrogated, (according to) His, Most High, saying: "And then divorce them before you have sexual intercourse with them, no 'Iddah have you to count in respect of them
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ۔ ( سورۃ البقرہ کی ) آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں“۔ ( البقرہ: ۱۰۶ ) ( اور سورۃ النمل کی ) آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل‏» ”اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے“۔ ( النحل: ۱۰۱ ) ( اور سورۃ الرعد کی ) آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے“۔ ( الرعد: ۳۹ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ۱؎، اور ( اس کے بعد ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ( اور یہ جو سورۃ البقرہ کی ) آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» ”طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں“۔ ( البقرہ: ۲۲۸ ) اور ( سورۃ الطلاق کی ) آیت: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» ”تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے“۔ ( الطلاق: ۴ ) آئی ہے تو ان دونوں آیات سے ( ان کا عموم ) منسوخ ہو گیا ( سورۃ الاحزاب کی اس ) آیت: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» سے ”اگر تم مومنہ عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو“۔ ( الاحزاب: ۴۹ ) ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ أَتَيْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَقَدْ أَغْلَظَ لِرَجُلٍ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَقُلْتُ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَانْتَهَرَنِي ‏.‏ فَقَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ لأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو نَصْرٍ حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ ‏.‏ وَرَوَاهُ عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ فَأَسْنَدَهُ ‏.‏
Abu Nasr narrated from Abu Barzah, that he said:"I came to Abu Bakr when he had spoken harshly to a man who had answered back. I said: 'Shall I not strike his neck (kill him)?' He rebuked me, and said: 'That is not for anyone after the Messenger of Allah [SAW]
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلاَّ مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Dates for dates, wheat for wheat, barley for barley, salt for salt, exchanged hand to hand. Whoever gives more or takes more has engaged in Riba unless they are of different types
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ عُمَرَ، اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنِينِ غُرَّةً ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ إِنَّ الْفَرَسَ غُرَّةٌ ‏.‏
Hamal bin Malik said:"The Messenger of Allah ruled that a slave (should be given as Diyah) for a fetus." Tawus said: "A horse would do in place of a slave
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ كُنْتُ فِي سَبْىِ قُرَيْظَةَ وَكَانَ يُنْظَرُ فَمَنْ خَرَجَ شِعْرَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ تَخْرُجِ اسْتُحْيِيَ وَلَمْ يُقْتَلْ ‏.‏
It was narrated that 'Atiyyah said:'I was among the prisoners of Quraizah; we were examined, and whoever had grown (pubic) hair was killed, and whoever had not grown hair, he was allowed to live and was not killed
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلاَّ مُقَطَّعًا وَعَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ ‏.‏
It was narrated from Mu'awiyah that :The Messenger of Allah [SAW] forbade wearing gold unless it was broken (into smaller pieces), and (he forbade) riding on Al-Mayathir
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ كَانَ إِذَا قِيلَ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِّثْنَا مَا، سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لاَ أُحَدِّثُكُمْ إِلاَّ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَنَا بِهِ وَيَأْمُرُنَا أَنْ نَقُولَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَدَعْوَةٍ لاَ تُسْتَجَابُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Al-Harith said:"When it was said to Zaid bin Arqam: 'Tell us what you heard from the Messenger of Allah [SAW], he said: "I will not tell you anything but that which the Messenger of Allah [SAW] commanded us to say: 'Allahumma inni a'udhu bika min al-'ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa 'adhabil-qabri. Allahumma at nafsi taqwaha, wa zakkaha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min nafsin la tashba'u wa min qalbin la yakhsha'u wa min 'ilmin la yanfa'u wa du'a'in la yustajab (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and Lord. O Allah, I seek refuge in You from a soul that is not satisfied, a heart that is not humble, knowledge that is of no benefit and a supplication that is not answered)
أَخْبَرَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ ‏.‏
It was narrated from Jabir that:The Messenger of Allah [SAW] forbade Ad-Dubba' (gourds), An-Naqir, earthenware jars, and Al-Muzaffat
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى بَطْنِ الْوَادِي خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ‏.‏
Ja'far bin Muhammad narrated from his father that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) traveled until he came to 'Arafah, where he found that the tent had pitched for him. He stayed there until the sun had passed its zenith, then he called for Al-Qaswa' which was saddled for him. When he reached the bottom of the valley he addressed the people. Then Bilal called the Adhan, then the Iqamah, then he prayed Zuhr, then he called the Iqamah, then he prayed 'Asr, and he did not offer any other prayer in between
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حج میں منی سے مزدلفہ ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ۱؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ۲؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ ‏.‏
It was narrated from Ibn Abbas from his mother that:She heard the Prophet (ﷺ) recite Al-Mursalat in Maghrib
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔