بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
1
20 hadith
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ ‏ "‏ أَمَعَكَ مَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ ‏.‏
It was narrated from Hamzah bin Al-Mughirah bin Shu'bah that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stayed behind, and I stayed with him. When he had relieved himself he said: 'Do you have any water with you?' I brought some water to him, and he washed his hands and face, then he started trying to uncover his arms, but the sleeves of his Jubbah were too tight, so he threw it over his shoulders and washed his arms and wiped over his forehead and 'Imamah, and over his Khuff
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی سفر میں ) لشکر سے پیچھے ہو گئے، تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہو گیا، تو جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں اور اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازؤوں کو کھولنے لگے تو جبہ کی آستین تنگ ہو گئی، تو آپ نے ( ہاتھ کو اندر سے نکالنے کے بعد ) اسے ( آستین کو ) اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیا، پھر اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ أَبُو يَحْيَى، بِمَكَّةَ - وَهُوَ بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى بْنِ خَلاَّدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَأَتَى الْقِبْلَةَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبَ فَصَلَّى فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُ صَلاَتَهُ وَلاَ يَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبْتَ مِنْ صَلاَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهَا لَمْ تَتِمَّ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ وَيُمَجِّدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ وَيَحْمَدَ اللَّهَ وَيُمَجِّدَهُ وَيُكَبِّرَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكِلاَهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ ‏"‏ وَيَقْرَأَ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَذِنَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَرْكَعَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ثُمَّ يَقُولَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَسْتَوِيَ قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ جَبْهَتَهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ وَيُكَبِّرَ فَيَرْفَعَ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَيَسْتَرْخِيَ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلْ هَكَذَا لَمْ تَتِمَّ صَلاَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Rifa'ah bin Rafi' said:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting with us around him, a man came in, turned towards the Qiblah and prayed. When he had finished his prayer, he came and greeted the Messenger of Allah (ﷺ) and the people with Salam. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'And also to you. Go and pray, for you have not prayed.' So he went and prayed, and the Messenger of Allah (ﷺ) started watching him, and he (the man) did not know what was wrong with it. When he had finished the prayer, he came and greeted the Messenger of Allah (ﷺ) and the people with salam. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'And also to you. Go and pray, for you have not prayed.' He repeated it two or three times, then the man said: 'O Messenger of Allah, what is wrong with my prayer?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The prayer of any of you is not complete unless he performs wudu properly as enjoined by Allah, the Mighty and Sublime. So he should wash his face, his arms up to the elbows, and wipe his head, and (wash) his feet up to the ankles. Then he should magnify Allah (SWT) and praise Him and glorify Him.'" - (One of the narrators) Hammam said: "I heard him say: 'He should praise Allah and glorify Him and magnify Him." He said: "I heard both of them." -"He (the Prophet (ﷺ)) said: 'He should recite whatever is easy for him of the Quran that Allah has taught him and permitted him in it (the prayer). Then he should say the Takbir and bow until his joints settle and he is relaxed. Then he should say: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him)' and stand up straight until his backbone is straight (and at ease). Then he should say Takbir and prostrate until he has placed his face firmly on the ground." "I heard him say: his forehead, until his joints settle and he is relaxed. Then he should say the Takbir and sit up until his backbone is straight (and at ease). Then he should prostrate until he has placed his face firmly on the ground and he is relaxed. If he does not do that then he has not completed his prayer
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، اور ہم لوگ آپ کے اردگرد تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو وہ گیا، اور اس نے جا کر پھر سے نماز پڑھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن وہ یہ جان نہیں رہا تھا کہ اس میں وہ کیا غلطی کر رہا ہے؟ تو جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا، اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا: تم پر بھی سلامتی ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، چنانچہ اس نے دو یا تین بار نماز دہرائی، پھر اس شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری نماز میں آپ نے کیا خامی پائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کر لے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اپنا چہرہ دھوئے، اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے، پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرے ( یعنی تکبیر تحریمہ کہے ) اور اس کی حمد و ثناء اور بزرگی بیان کرے ( یعنی دعائے ثناء پڑھے ) ۔ ہمام کہتے ہیں: میں نے اسحاق کو «ويحمد اللہ ويمجده ويكبره» بھی کہتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دونوں طرح سے انہیں کہتے سنا ہے۔ آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور قرآن میں سے حسب توفیق اور مرضی الٰہی جو آسان ہو پڑھے، پھر اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں، اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہے، پھر سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک اس کی پیٹھ برابر ہو جائے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ، ( میں نے اسحاق کو اپنی پیشانی بھی کہتے سنا ہے ) ، اور تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر اللہ اکبر کہے، اور اپنا سر اٹھائے یہاں تک کہ اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے، اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے، پھر اللہ اکبر کہے، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین سے اچھی طرح ٹکا دے، اور ڈھیلا پڑ جائے، اگر اس نے اس طرح نہیں کیا تو اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُمِرْنَا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ وَنُسَلِّمَ أَمَّا السَّلاَمُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ ‏ "‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Mas'ud Al-Ansari said:"It was said to the Prophet (ﷺ): We have been commanded to send salah and salams upon you. We know how to send salams, but how should we send salah?' He said: Say: 'Alahumma salli 'ala Muhammad wa 'ala ali Muhammad, kama sallaita 'ala Ibrahima wa barik 'ala Muhammad kama barakta 'ala ali Ibrahim fil-'alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim)
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ہمیں آپ پر صلاۃ ( درود ) و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے، رہا سلام تو اسے ہم جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ ( درود ) کس طرح بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد كما صليت على آل إبراهيم اللہم بارك على محمد كما باركت على آل إبراهيم» اے اللہ! محمد پر تو اسی طرح صلاۃ ( درود ) و رحمت بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، اے اللہ! محمد پر تو اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی ہیں ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَاكَ وَهُوَ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ‏{‏ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ ‏}‏ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ عَادَ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ نَفْخَهُ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَاكَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَاكَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَأَوْتَرَ بِثَلاَثٍ ‏.‏
Husain narrated from Habib bin Abi Thabit, from Muhammad bin 'Ali bin 'Abdullah bin Abbas, from his father, that his grandfather said:"I was with the Prophet (ﷺ) and he got up and performed wudu, cleaned his teeth while reciting this verse until he finished: 'Verily, in the creation of the heavens and the Earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understanding.' Then he prayed two rak'ahs, then he went back and slept until I heard him breathing deeply. Then he got up and performed wudu and cleaned his teeth. Then he prayed two rak'ahs, then he slept, then he got up and performed wudu and cleaned his teeth and prayed two rak'ahs and prayed witr with three rak'ahs
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ نیند سے بیدار ہوئے، آپ نے وضو کیا، مسواک کی، آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے: «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ( آل عمران: ۱۹۰ ) یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ واپس آئے، اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ اٹھے، اور وضو کیا، مسواک کی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور تین رکعت وتر پڑھی۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ مُرَّ بِجَنَازَةٍ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحَسَنُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَمَا قَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَامَ لَهَا ثُمَّ قَعَدَ ‏.‏
It was narrated that Ibn Sirin said:"A funeral passed by Al-Hasan bin 'Ali and Ibn 'Abbas. Al-Hasan stood up but Ibn 'Abbas did not. Al-Hasan said to Ibn 'Abbas: 'Didn't the Messengr of Allah stand up for it?' Ibn 'Abbas said: 'He stood up for it then he sat
اس سند سے بھی ابن سیرین کہتے ہیں کہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے کہا: کیا اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کھڑے ہوئے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn Shahab that Abu Salamah told him that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Whoever spends the nights of Ramadan in prayer (Qiyam) out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا یعنی تہجد پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man said: 'O Messenger of Allah, which kind of charity is best? He said: 'Giving charity when you are in good health, and feeling stingy, hoping for a long life and fearing poverty
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا اس وقت کا صدقہ دینا افضل ہے جب تم تندرست ہو اور تمہیں دولت کی حرص ہو اور تم عیش و راحت کی آرزو رکھتے ہو اور محتاجی سے ڈرتے ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، يَقُولُ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ تُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنْهَا وَقَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْقُرْآنُ بِتَحْرِيمِهِ ‏.‏
Imran bin Husain said:"The Messenger of Allah combined Hajj and "Umrah, then he passed away before he could forbid that, and before Qur'an was revealed forbidding it
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سے پہلے کہ آپ اس سے منع فرماتے یا اس کے حرام ہونے کے سلسلے میں آپ پر کوئی آیت اترتی آپ کی وفات ہو گئی۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ جَاهِدُوا بِأَيْدِيكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Strive in Jihad with your hands, your tongues and your wealth.'" [1] [1] See
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کرو اپنے ہاتھوں سے، اپنی زبانوں سے، اور اپنے مالوں کے ذریعہ“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، ‏{‏ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏}‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلاَدَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Amrah said:"I heard 'Aishah say: The Messenger of Allah said: 'What becomes unlawful (for marriage) through breast-feeding is that which becomes unlawful through birth
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ ‏.‏ فَجَاءَ زَوْجُهَا وَقَالَ مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي ابْنِي فَقَالَ ‏ "‏ يَا غُلاَمُ هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ ‏.‏
It was narrated that Abu Maimunah said:"While I was with Abu Hurairah he said: 'A woman came to the Messenger of Allah and said: May my father and mother be ransomed for you! My husband wants to take my son away, but he helps me, and brings me water from the well of Abu 'Inabah. Her husband came and said: Who is going to take my son from me? The Messenger of Allah said: "O boy, this is your father and this is your mother; take the hand of whichever of them you want." He took his mother's hand and she left with him
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ ( و آرام ) ہے، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی ( لا کر ) پلاتا ہے، ( اتنے میں ) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا: کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا ( اور اختلاف ) کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے بیٹے سے کہا: ) اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ قَالَ وَلِمَ تَسْأَلُ قُلْتُ أَضْرِبُ عُنُقَهُ ‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ لأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ ثُمَّ قَالَ مَا كَانَتْ لأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated that Abu Barzah said:"I passed by Abu Bakr and he was furious with one of his companions. I said: 'O Khalifah of the Messenger of Allah, who is the one with whom you are furious?' He said: 'Why are you asking about him?' I said: 'I will strike his neck (kill him).' By Allah, the seriousness of what I said took away his anger. Then he said: 'That is not for anyone after Muhammad [SAW]
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ كُنَّا نَبِيعُ تَمْرَ الْجَمْعِ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ صَاعَىْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلاَ صَاعَىْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلاَ دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa' eed said:"We used to sell two Sa s of mixed dates for a Sa but the Prophet said (Do not sell) two Sa s dates for a Sa or two Sa s wheat or a Sa or two Dirhams for a Dirham
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، خَذَفَتِ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَلَدِهَا خَمْسِينَ شَاةً وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ ‏.‏ أَرْسَلَهُ أَبُو نُعَيْمٍ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah, from his father, that:a woman threw some pebbles and stuck another woman, and she miscarried. The Messenger of Allah stipulated (a Diyah of ) fifty sheep for her child. And on that day, he forbade throwing pebbles
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ اقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْطَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ فَقَالَ ‏"‏ اقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْطَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ‏"‏ اقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اقْطَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ فَقَالَ ‏"‏ اقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا سَرَقَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْطَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ قَالَ ‏"‏ اقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَدِ النَّعَمِ وَحَمَلْنَاهُ فَاسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ كَشَّرَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَانْصَدَعَتِ الإِبِلُ ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ فَقَتَلْنَاهُ ثُمَّ أَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ ثُمَّ رَمَيْنَا عَلَيْهِ بِالْحِجَارَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَمُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"A thief was brought to the Messenger of Allah and he said: 'Kill him.' They said: 'O Messenger of Allah, he only stole.' He said: 'Cut off (his hand).' So his hand was cut off. Then he was brought a second time and he said: 'Kill him.' They said; 'O Messenger of Allah, he only stole.' He said: 'Cut off (his foot).' So his foot was cut off. He was brought to him a third time and he said: 'Kill him.' They said: 'O Messenger of Allah, he only stole. He said: 'Cut off (his other hand).' Then he was brought to him a fourth time and he said: Kill him.' They said: 'O Messenger of Allah, he only stole.' He said: 'Cut off (his other foot).' He was brought to him a fifth time and he said: "So we took him to an animal pen and attacked him. He lay down on his back then waved his arms and legs (in the air), and the camels ran away. Then they attacked him a second time and he did the same thing, then they attacked him a third time, and we threw stones at him and killed him, then we threw him into a well and threw stones on top of him." (Hasan) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This Hadith is Munkar, Musab bin Thabit is not strong in Hadith
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبًا بِيَمِينِهِ وَحَرِيرًا بِشِمَالِهِ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah bin Zurair Al-Ghafiqi said:"I heard 'Ali say: 'The Messenger of Allah [SAW] took some gold in his right hand and some silk in his left hand and said: This is forbidden for the males of my Ummah
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، حَدَّثَهُ وَحَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ، - يُقَالُ لَهُ الْحَرَازِيُّ شَامِيٌّ عَزِيزُ الْحَدِيثِ - عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْتَتِحُ قِيَامَ اللَّيْلِ قَالَتْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَىْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا وَيَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي ‏"‏ ‏.‏ وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏.‏
It was narrated that 'Asim bin Humaid said:"I asked 'Aishah with what the Messenger of Allah [SAW] would start Qiyam Al-Lail. She said: 'You have asked me about something that no one else has asked me about. He used to say Allahu Akbar ten times, and Subhan-Allah ten times, and Istaghfir-Allah ten times, and he would say, Allahummaghfirli, wahdini, warzuqni, wa'afini (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and give me good health,) and he would seek refuge from the difficulty of the standing on the Day of Resurrection
أَخْبَرَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ عَنِ الدُّبَّاءِ وَعَنِ النَّقِيرِ وَعَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ وَقَالَ ‏"‏ انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ وَاشْرَبْهُ حُلْوًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بَعْضُهُمُ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي مِثْلِ هَذَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذًا تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَصِفُ ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah [SAW] forbade the delegation of 'Abdul-Qais, when they came to him, Ad-Dubba', An-Naqir, Al-Muzaffat, and large water-skins that are cut from the top and can no longer be closed. He said: 'Make Nabidh in your water-skins, and close them and drink it sweet.' One of them said: 'O Messenger of Allah, give me permission concerning something like this. He said: 'If you make it like this,' and he gestured with his hand, showing him how
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr and 'Asr together, and Maghrib and 'Isha' together, when there was no fear and he was not traveling
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھی ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلاَةً بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فُلاَنٍ ‏.‏ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَ ذَلِكَ الإِنْسَانِ وَكَانَ يُطِيلُ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ فِي الْعَصْرِ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"I have never prayed behind anyone whose prayer more closely resembled that of the Messenger of Allah (ﷺ) than so-and-so. We prayed behind that person and he used to make the first two rak'ahs of Zuhr lengthy and the last two shorter, and he would make 'Asr shorter; in Maghrib he would recite the short Mufassal surahs. In Isha' he recited: 'By the sun and its brightness and similar surahs, and in subh he recited two lengthy surahs
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں سے بڑھ کر کسی کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ نماز نہیں پڑھی ( سلیمان کہتے ہیں ) ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں ( رکعتیں ) ہلکی کرتے، اور عصر بھی ہلکی کرتے، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے، اور عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے، اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔