بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
1
20 hadith
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلاَتُهُ نَافِلَةً لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُتَيْبَةُ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏.‏
It was narrated from 'Abdullah As-Sunabihi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When the believing slave performs Wudu' and rinses his mouth, his sins come out from his mouth. When he sniffs water into his nose and blows it out, his sins come from his nose. When he washes his face, his sins come out from his face, even from beneath his eyelashes. When he washes his hands, his sins come out from his hands, even from beneath his fingernails. When he wipes his head, his sins come out from his head, even from his ears. When washes his feet, his sins come from his feet, even from beneath his toenails. Then his walking to the Masjid and his Salah will earn extra merit for him
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ مومن وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کی دونوں آنکھ کے پپوٹوں سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کانوں سے نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخن کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر اس کا مسجد تک جانا اور اس کا نماز پڑھنا اس کے لیے نفل ہوتا ہے ۔ قتیبہ کی روایت میں «عن الصنابحي أن رسول اللہ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال» کے بجائے «عن الصنابحي أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال» ہے۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ ‏ "‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"I noticed that the Messenger of Allah (ﷺ) was missing one night, and I thought he had gone to one of his other wives. I tried to feel for him, and I found him bowing or prostrating and saying: 'SubhanakAllahumma wa bihamdika la ilaha ila ant (Glory and praise be to You, O Allah, there is none worthy of worship but You.)'" She said: "May my father and mother be ransomed for you. I thought you were doing one thing and you were doing something else altogether
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات ( بستر پر ) موجود نہیں پایا، تو میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، پھر میں نے آپ کو تلاش کیا تو اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ رکوع یا سجدہ کی حالت میں کہہ رہے ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك لا إله إلا أنت» اے اللہ! تو پاک ہے، میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی ، تو وہ کہنے لگیں: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! میں کس خیال میں تھی اور آپ کس حال میں ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏ "‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ أَيْمَنَ بْنَ نَابِلٍ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَأَيْمَنُ عِنْدَنَا لاَ بَأْسَ بِهِ وَالْحَدِيثُ خَطَأٌ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us the tashahhud just as he would teach us a surah of the Quran: 'Bismillah, wa billahi. At-tahiyyatu lillahi wasalawatu wat-tayibaat, as-salamu 'alaika ayah-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu 'alaina a 'ala ibad illahis-salihin, ashadu an la ilaha ill Allah, wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu. As'al Allahal-jannah wa author billahi min an-nar (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that that none has the right to be worshipped except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and messenger. I ask Allah for Paradise and I seek refuge with Allah from the Fire)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تشہد اسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے«بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا عبده ورسوله وأسأل اللہ الجنة وأعوذ به من النار» اللہ کے نام سے اور اسی کے واسطے سے، تمام قولی فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو آپ پر، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اللہ سے جنت مانگتا ہوں، اور آگ ( جہنم ) سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس روایت پر ایمن بن نابل کی متابعت کی ہو، ایمن ہمارے نزدیک قابل قبول ہیں، لیکن حدیث میں غلطی ہے، ہم اللہ سے توفیق کے طلب گار ہیں۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الْوَتْرِ بِـ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَفِي الثَّانِيَةِ بِـ ‏{‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏}‏ وَفِي الثَّالِثَةِ بِـ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏}‏
It was narrated that Ubayy bin Ka'b said:"In the first rak'ah of witr, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite: "GLorify the Name of your Lord, the Most High;" in the second; "Say: O you disbelievers!" and in the third; "Say: He is Allah, (the) One
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى‏» دوسری رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے۔
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ، يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَطَلَعَتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ مَنْ مَعَهُ فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ ‏.‏
It was narrated form Yazid bin Thabit:That they were sitting with the Messenger of Allah when a funeral appeared. The Messenger of Allah stood up, and those who were with him stood up, until it had passed by
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے ( اتنے میں ) ایک جنازہ نظر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہو گئے، تو وہ لوگ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ نکل گیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ فِيهِ فَيَقُولُ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
Urwah bin Az-Zubair narrated that Aishah told him that:the Messenger of Allah used to encourage the people to pray Qiyam in Ramadan, without insisting on that. He said: "Whoever spends the nights of Ramadan in prayer out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام کی ترغیب دیتے، آپ فرماتے: ”جس نے رمضان میں ( رات کو ) ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ أَمَرَنِي مَوْلاَىَ أَنْ أُقَدِّدَ، لَحْمًا فَجَاءَ مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلاَىَ فَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ فَقَالَ ‏"‏ لِمَ ضَرَبْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يُطْعِمُ طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى بِغَيْرِ أَمْرِي قَالَ ‏"‏ الأَجْرُ بَيْنَكُمَا ‏"‏ ‏.‏
Narrated:'Umair, the freed slave of commanded me to cut up some meat, then a poor man came so I gave him some. When my master fund out about that, he beat me, so I went to the Messenger of Allah and he came to him and said: 'Do not beat him.' He said: 'He gave away my food without me telling him to.' He said: 'The reward will be shared between you both
عمیر مولی آبی اللحم کہتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھے گوشت بھوننے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا، میں نے اس میں سے تھوڑا سا اسے کھلا دیا، میرے مالک کو اس بات کی خبر ہو گئی تو اس نے مجھے مارا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے اسے بلوایا اور پوچھا: تم نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا کھانا ( دوسروں کو ) بغیر اس کے کہ میں اسے حکم دوں کھلا دیتا ہے۔ اور دوسری بار راوی نے کہا: بغیر میرے حکم کے کھلا دیتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس کا ثواب تم دونوں ہی کو ملے گا“۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يُقَالُ لَهُ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِي تَغْلِبَ يُقَالُ لَهُ الصُّبَىُّ بْنُ مَعْبَدٍ وَكَانَ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ فَأَقْبَلَ فِي أَوَّلِ مَا حَجَّ فَلَبَّى بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ جَمِيعًا فَهُوَ كَذَلِكَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا فَمَرَّ عَلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِكَ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ الصُّبَىُّ فَلَمْ يَزَلْ فِي نَفْسِي حَتَّى لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ شَقِيقٌ وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ إِلَى الصُّبَىِّ بْنِ مَعْبَدٍ نَسْتَذْكِرُهُ فَلَقَدِ اخْتَلَفْنَا إِلَيْهِ مِرَارًا أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الأَجْدَعِ ‏.‏
It was narrated from Mujahid and others, from a man from the people of Al-Iraq who was called Shaqiq bin Salmah Abu Wail, that:there was a man from Banu Taghlib, who was called As-Subai bin Mabad, who had been a Christian, then became of Muslim.The first time he went for Hajj, he recited the Talbiyah Hajj and "Umrah together, and he continued to recite the Talbiyah for them together, He passed by Salman bin Rabiah and Zaid bin suhan, and one to then said; "You are more lost than this camel of yours." As-Subai" said: "This upset me until I met 'Umar bin Al-Khattab, and I mentioned that to him. He said: 'Yuou have been guided to the sunnah of your Prophet shaqiq said: "Masruq bin Al-Ajda and I often used to visit As-Subai bin Ma'bad and talk with him
شقیق بن سلمہ ابووائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہو گیا، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے کہا: تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہدایت و توفیق ملی ہے۔ شقیق ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں اور مسروق بن اجدع دونوں صبی بن معبد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے تو میں اور مسروق بن اجدع دونوں متعدد بار ان کے پاس گئے۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِمِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Mas'ud that a man gave a bridled camel in charity in the cause of Allah. The Messenger of Allah (ﷺ) said:"On the Day of Resurrection seven hundred bridled camels will come to you
ابومسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ کے راستے میں صدقہ میں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ( اس ایک اونٹنی کے بدلہ میں ) سات سو مہار والی اونٹنیوں کے ( ثواب ) کے ساتھ آئے گا“۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَخَالَتِهَا ‏.‏
Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or maternal aunt
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے شادی کی جائے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ حَضْرَمَوْتَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِيًّا عَلَى الْيَمَنِ فَأُتِيَ بِغُلاَمٍ تَنَازَعَ فِيهِ ثَلاَثَةٌ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏ خَالَفَهُمْ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ‏.‏
It was narrated from a man from Hadramawt, that Zaid bin Arqam said:"The Messenger of Allah sent 'Ali to (be the governor of) Yemen, and a child was brought to him concerning whom three men were disputing." Then he quoted the same Hadith. Salamah bin Kuhail contradicted them
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا، جس کا باپ ہونے کے تین دعویدار تھے اور آگے وہی حدیث پوری بیان کر دی ( جو پہلے گزر چکی ہے ) نسائی کہتے ہیں: «خالفہم سلمۃ بن کہیل» سلمہ بن کہیل نے ان لوگوں کے خلاف روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ ثُمَّ تَنَدَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ فُلاَنًا قَدْ نَدِمَ وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَسْأَلَكَ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَنَزَلَتْ ‏{‏ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ غَفُورٌ رَحِيمٌ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَسْلَمَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"A man from among the Ansar accepted Islam, then he apostatized and went back to Shirk. Then he regretted that, and sent word to his people (saying): 'Ask the Messenger of Allah [SAW], is there any repentance for me?' His people came to the Messenger of Allah [SAW] and said: 'So and so regrets (what he did), and he has told us to ask you if there is any repentance for him?' Then the Verses: 'How shall Allah guide a people who disbelieved after their Belief up to His saying: Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful' was revealed. So he sent word to him, and he accepted Islam
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلَةِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'umar that:the Messenger of Allah forbade selling dates in the trees before they ripen or selling ears of corn before the grains become visible and there is no fear of blight. He forbade that to the seller ad the buyer
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ بِدِيَةِ الْحُرِّ عَلَى قَدْرِ مَا أَدَّى ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah ruled that the Diyah for a Mukatab who is killed should be (equivalent) to the Diyah for a free mand, proportionate to the amount be had paid off (toward buying his freedom)
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah said:"The hand of the pilferer is not to be cut off
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ طَوْقٌ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُرْطَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُرْطَيْنِ مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ عَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَرَمَتْ بِهِمَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا لَمْ تَتَزَيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَصْنَعَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُصَفِّرَهُ بِزَعْفَرَانٍ أَوْ بِعَبِيرٍ ‏"‏ ‏.‏ اللَّفْظُ لاِبْنِ حَرْبٍ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"I was sitting with the Prophet [SAW] when a woman came to him and said: 'O Messenger of Allah, two bracelets of gold.' He said: 'Two bracelets of fire.' She said: 'O Messenger of Allah, a necklace of gold.' He said: 'A necklace of fire.' She said: 'Two earrings of gold.' He said: 'Two earrings of fire.' She was wearing two bracelets of gold, so she took them off and said: 'O Messenger of Allah, if a woman does not adorn herself for her husband, she will become unattractive to him.' He said: 'What is there to keep any one of you from making earrings of silver and painting them yellow with saffron or some 'Abir'?' This is the wording of Ibn Harb
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُمَّ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ الدُّعَاءَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ ‏"‏ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي بِذَلِكَ الْخَسْفَ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The Prophet [SAW] used to say: 'Allahumma (O Allah,)' and he mentioned the supplication, and said at the end, 'A'udhu bika an ughtala min tahti (and I seek refuge with You from being swallowed up from beneath me)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ طَوْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقَيْسِيِّ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هُنَيْدَةَ بِنْتِ شَرِيكِ بْنِ زَبَّانَ، قَالَتْ لَقِيتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِالْخُرَيْبَةِ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْعَكَرِ فَنَهَتْنِي عَنْهُ وَقَالَتِ انْبِذِي عَشِيَّةً وَاشْرَبِيهِ غُدْوَةً وَأَوْكِي عَلَيْهِ ‏.‏ وَنَهَتْنِي عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ ‏.‏
It was narrated that Hunaidah bint Sharik bin Aban said:"I met 'Aishah, may Allah be pleased with her, in Al-Khuraibah, and I asked her about the dregs and she forbade them to me and she said: 'Soak (the fruit) at night and drink it in the morning, and tie the vessel closed.' And she forbade me from using Ad-Dubba' (gourds), An-Naqir, Al-Muzaffat, and Al-Hantam
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ تِلْكَ اللَّيْلَةُ سَارَ بِنَا حَتَّى أَمْسَيْنَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ نَسِيَ الصَّلاَةَ فَقُلْنَا لَهُ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَسَكَتَ وَسَارَ حَتَّى كَادَ الشَّفَقُ أَنْ يَغِيبَ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى وَغَابَ الشَّفَقُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ هَكَذَا كُنَّا نَصْنَعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ‏.‏
It was narrated that Nafi' said:"We came back with Ibn 'Umar from Makkah. One night he kept on travelling until evening came, and we thought that he had forgotten the prayer!' But he kept quiet and kept going until the twilight had almost disappeared, then he stopped and prayed, and when the twilight disappeared he prayed 'Isha'. Then he turned to us and said: This is what we used to do with the Messenger of Allah (ﷺ) if he was in a hurry to travel
نافع کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے ( اور برابر چلتے رہے ) یہاں تک کہ ہم نے شام کر لی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چنانچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی ۱؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى فِي الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ ‏.‏
It was narrated that Abu Salamah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite the Umm Al-Quran and two surahs in the first two rak'ahs of Zuhr and 'Asr, and he would make us hear a verse sometimes, and he used to make the first rak'ah of zuhr lengthy, and he did likewise in Subh
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور ظہر میں پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت ( پہلی کی بہ نسبت ) مختصر کرتے تھے، نیز فجر میں بھی ایسا ہی کرتے۔