بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
1
20 hadith
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ بَاطِنِهِمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرِهِمَا بِإِبْهَامَيْهِ ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu', and he scooped up one handful (of water) and rinsed his mouth and nose. Then he scooped up another handful and washed his face. Then he scooped up another handful and washed his right hand, then another handful and washed his left hand. Then he wiped his head and his ears, the inside with his forefinger and the outside with his thumb. Then he scooped up a handful of water and washed his right foot, and scooped up another handful and washed his left foot
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تو آپ نے ایک چلو پانی لیا، اور کلی کی، اور ناک میں ڈالا، پھر دوسرا چلو لیا، اور اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلی سے، اور ان دونوں کے بیرونی حصہ کا انگوٹھے سے مسح کیا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوَجَدْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ وَصُدُورُ قَدَمَيْهِ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"I noticed the Messenger of Allah (ﷺ) was missing one night and I found him prostrating with the tops of his feet facing toward the Qiblah. I heard him saying: 'A'udhu biridaka min sakhatika, wa a'udhu bimu 'afatika min 'uqubatika wa a'udhu bika minka la uhsi thana'an 'alaika anta kama athnaita 'ala nafsik (I seek refuge in Your pleasure from Your wrath; I seek refuge in Your forgiveness from Your punishment; I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised Yourself)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بستر پر ) موجود نہیں پایا، تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، اور آپ کے دونوں قدموں کے پنجے قبلہ رخ ہیں، تو میں نے آپ کو سجدہ میں کہتے سنا: «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، میں پناہ مانگتا ہوں تیری معافی کی تیری سزا سے، اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے، میں تیری حمد و ثنا کا حق نہیں ادا کر سکتا، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ الأَشْعَرِيَّ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلاَتَنَا فَقَالَ ‏"‏ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ ‏{‏ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Hittan bin 'Abdullah that Al-Ash'ari said:"The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and taught us our Sunnahs and our prayer. He said: 'When you stand for the prayer, make your rows straight, then let one of you lead the others. When he says the takbir, then say the takbir; when he says : "Wa lad-dallin" then say "Amin" and Allah (SWT) will answer you. Then when he says the takbir and bows, then say the takbir and bow, for the Imam bows before you and stands up before you.' The Prophet of Allah (ﷺ) said: "This makes up for that. When he says: 'Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears the one who praises Him),' say: 'Allahumma, Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord, to You be praise),' Allah will hear you, for indeed Allah (SWT), the Mighty and Sublime, has said on the tongue of His Prophet: "Allah hears the one who praises Him." Then when he says the takbir and prostrates, say the takbir and prostrate, for the Imam prostrates before you and rises before you.' The Prophet of Allah (ﷺ) said: 'This makes up for that. Then when you are sitting, let the following be among what one of you says: At-tahiyyatu lillahi wasalawatu wat-tayibaat, as-salamu 'alaika ayah-Nabiyyu wa rahmatAllahi wa baraktuhu. As-salamu 'alaina a 'ala ibad illahis-salihin, ashadu an la ilaha ill Allah, wa ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu. (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that that none has the right to be worshipped except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and messenger)
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ نے ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہم سے ہماری نماز کے طریقے بیان کیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی تمہاری امامت کرے، جب وہ «اللہ اکبر» کہے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور جب وہ «ولا الضالين‏» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری اس کی ہوئی دعا کو قبول کرے گا، پھر جب وہ «اللہ اکبر» کہے اور رکوع کرے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور رکوع کرو، بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ، تو ادھر کی کمی ادھر سے پوری ہو جائے گی، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «اللہم ربنا لك الحمد» اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام حمد ہے کہو، اس لیے کہ اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوا دیا ہے کہ اس نے اپنے حمد کرنے والے کی حمد سن لی ہے، پھر جب وہ «اللہ اکبر» کہے اور سجدہ کرے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور سجدہ کرو، بیشک امام تم سے پہلے سجدہ میں جائے گا، اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ، تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کو یہ کہنا چاہیئے: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام قولی، فعلی، اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت آپ پر نازل ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ بِثَلاَثِ رَكَعَاتٍ كَانَ يَقْرَأُ فِي الأُولَى بِـ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَفِي الثَّانِيَةِ بِـ ‏{‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏}‏ وَفِي الثَّالِثَةِ بِـ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏}‏ وَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ فَإِذَا فَرَغَ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ يُطِيلُ فِي آخِرِهِنَّ ‏.‏
It was narrated from Ubayy bin Ka'b that:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray witr with three rak'ahs. In the first he would recite: "Glorify the Name of Your Lord, the Most High" in the second: "Say: O you disbelievers!", and in the third: "Say: He is Allah, (the) One". And he would say the Qunut before bowing, and when he finished he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, elongating the words the last time
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى‏» دوسری رکعت میں«قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» پڑھتے، اور دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے، پھر جب ( وتر سے ) فارغ ہو جاتے تو فراغت کے وقت تین بار: «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور ان کے آخر میں کھینچتے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ ح وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرُّوا عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ ‏.‏ وَقَالَ عَمْرٌو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed that a funeral passed by the Messenger of Allah and he stood up. (One of the narrators) 'Amr said:"If a funeral passed by the Messenger of Allah he would stand up
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ ( لے کر ) گزرے، تو آپ کھڑے ہو گئے، اور عمرو بن علی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that the Messenger of Allah said:"Whoever spends the nights of Ramadan in prayer (Qiyam) out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins
(تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ( رات کو ) ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ‏"‏ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقُوا ‏"‏ ‏.‏ فَتَصَدَّقُوا فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقُوا ‏"‏ ‏.‏ فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا إِنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطُنُوا لَهُ فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَلَمْ تَفْعَلُوا فَقُلْتُ تَصَدَّقُوا ‏.‏ فَتَصَدَّقْتُمْ فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ ثُمَّ قُلْتُ تَصَدَّقُوا ‏.‏ فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ خُذْ ثَوْبَكَ ‏"‏ ‏.‏ وَانْتَهَرَهُ ‏.‏
It was narrated from Abu Sa'eed that:a man entered the Msjid on a Friday when the Messenger of Allah was delivering the Khutbah, and he said: "Pray two Rak'ahs." Then he came on the following Friday, when the Prophet was delivering the Khutbah and he said: "Pray two Rak'ahs." Then he came on the third Friday, when the Prophet was delivering Khutbah and he said: "Pray two Rak'ahs." Then he said: "Give in charity." So they gave in charity, and he gave him (that man) two garments. Then he said: "Give in charity" and (that man) threw one of his two garments. The Messenger of Allah said: "Have you not seen this man? He entered the Masjid in scruffy clothes and I hoped that you would notice him, and give charity to him, but you did not do that, So I said, 'Give in charity.' You gave in charity, and I gave him two garments, then I said; 'Give in charity' and he threw one of his two garments. Take your garment." And he rebuked him
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”تم دو رکعتیں پڑھو“، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”تم دو رکعتیں پڑھو“، پھر وہ تیسرے جمعہ کو ( بھی ) آیا، آپ نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھو“، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”صدقہ دو“، تو لوگوں نے صدقہ دیا، تو آپ نے اس شخص کو دو کپڑے دئیے، پھر آپ نے پھر فرمایا: ”لوگو صدقہ دو“، تو اس شخص نے اپنے ان دونوں کپڑوں میں سے ایک کو آپ کے سامنے ڈال دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے اس شخص کو نہیں دیکھا؟ یہ خستہ حالت میں مسجد میں آیا، میں نے امید کی کہ تم لوگ اسے دیکھ کر اس کی خستہ حالی کو تاڑ لو گے اور اسے صدقہ دو گے، لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا، تو مجھ ہی کو کہنا پڑا کہ تم صدقہ دو، تو تم لوگوں نے صدقہ دیا تو میں نے اسے دو کپڑے دئیے، پھر لوگوں سے کہا: ”صدقہ دو“، تو اس نے ان کپڑوں میں سے ( جو ہم نے اسے دیے تھے ) ایک ( ہمارے آگے ) ڈال دیا، ( ارے بیوقوف ) تم اپنا کپڑا لے لو، آپ نے اسے ڈانٹا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا الصُّبَىُّ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ إِلاَّ قَوْلَهُ يَا هَنَّاهُ ‏.‏
(Another chain) that shaqiq said; a "As-Subai told us something similar, and he said:'I came to 'Umar and told him the story, apart from the words: 'Hey you
ابووائل شقیق کہتے ہیں کہ ہمیں صبی بن معبد رضی اللہ عنہ مجھ نے خبر دی پھر راوی نے اسی کے مثل بیان کی اس میں ہے کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے انہیں پورا واقعہ سنایا، مگر ان میں اس کے قول «یا ھناہ» کا ذکر نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الرُّكَيْنِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُتِبَتْ لَهُ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Khuraim bin Fatik said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever spends in the cause of Allah, it will be recorded for him seven hundred fold
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى الشَّعْبِيِّ كِتَابًا فِيهِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ جَابِرٍ ‏.‏
Asim said:"I read a book to Ash-Sha'bi in which it was narrated from Jabir that the Prophet said: 'A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.' He said: 'I heard that from Jabir
شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے عاصم نے بتایا کہ میں نے شعبی کے سامنے ایک کتاب پڑھی جس میں جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہیں کی جا سکتی“ تو شعبی نے کہا: میں نے یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلِيٌّ رضى الله عنه يَوْمَئِذٍ بِالْيَمَنِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ فِي ثَلاَثَةِ نَفَرٍ ادَّعَوْا وَلَدَ امْرَأَةٍ فَقَالَ عَلِيٌّ لأَحَدِهِمْ تَدَعُهُ لِهَذَا ‏.‏ فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا تَدَعُهُ لِهَذَا ‏.‏ فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا تَدَعُهُ لِهَذَا ‏.‏ فَأَبَى قَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَسَأُقْرِعُ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ ‏.‏ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"I was with the Messenger of Allah, and 'Ali, may Allah be pleased with him, was in Yemen at that time. A man came to him and said: 'I saw 'Ali when three men were brought to him who all claimed (to be the father) of a child. 'Ali said to one of them: Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. 'Ali said: You are disputing partners. I will cast lots among you, and whoever wins the draw, the child is for him, and he has to pay two-thirds of the Diyah.' The Messenger of Allah laughed so much that his back teeth became visible
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور علی رضی اللہ عنہ ان دنوں یمن میں تھے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک دن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس تین آدمی آئے وہ تینوں ایک عورت کے بیٹے کے دعویدار تھے ( کہ یہ بیٹا ہمارا ہے ) علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے ( دوسرے سے ) کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا: نہیں، اور تیسرے سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہو، میں تم لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کر دیتا ہوں تو جس کے نام قرعہ نکل آئے لڑکا اسی کا مانا جائے گا اور اسے دیت کا دو تہائی دینا ہو گا ( جو لڑکے سے محروم دونوں کو ایک ایک ثلث تہائی کر کے دے دیا جائے گا ) یہ قصہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ( اور ایسے زور سے ہنسے ) کہ آپ کی داڑھ دکھائی پڑنے لگی۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ ‏"‏ اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ‏"‏ ‏.‏ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ وَمِقْيَسُ بْنُ صُبَابَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا - وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ - فَقَتَلَهُ وَأَمَّا مِقْيَسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ النَّاسُ فِي السُّوقِ فَقَتَلُوهُ وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ أَخْلِصُوا فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لاَ تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَا هُنَا ‏.‏ فَقَالَ عِكْرِمَةُ وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي مِنَ الْبَحْرِ إِلاَّ الإِخْلاَصُ لاَ يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَىَّ عَهْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِهِ فَلأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا ‏.‏ فَجَاءَ فَأَسْلَمَ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلاَثًا كُلَّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا وَمَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فِي نَفْسِكَ هَلاَّ أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ أَعْيُنٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said:"On the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah [SAW] granted amnesty to the people, except four men and two women. He said: 'Kill them, even if you find them clinging to the covers of Ka'bah.' (They were) 'Ikrimah bin Abi Jahl, 'Abdullah bin Khatal, Miqyas bin Subabah and 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh. 'Abdullah bin Khatl was caught while he was clinging to the covers of Ka'bah. Sa'eed bin Huraith and 'Ammar bin Yasir both rushed toward him, but Sa'eed, who was the younger of the two, got there before 'Ammar, and he killed him. Miqyas bin Subabah was caught by the people in the marketplace, and they killed him. 'Ikrimah traveled by sea, and he was caught in a storm. The crew of the ship said: 'Turn sincerely toward Allah, for your (false) gods cannot help you at all in this situation.' 'Ikrimah said: 'By Allah, if nothing came to save me at sea except sincerity toward Allah then nothing else will save me on land. O Allah, I promise You that if You save me from this predicament I will go to Muhammad [SAW] and put my hand in his, and I am sure that I will find him generous and forgiving.' So he came, and accepted Islam. 'Abdullah (bin Sa'd) bin Abi Sarh hid in the house of 'Uthman bin 'Affan, and when the Messenger of Allah [SAW] called the people to give their Oath of Allegiance, he brought him, and made him stand before the Prophet [SAW]. He ('Uthman) said: 'O Messenger of Allah! Accept the allegiance of 'Abdullah.' He raised his head and looked at him three times, refusing his allegiance each time, then he accepted his allegiance after three times. Then he turned to his Companions and said: 'Was there not any sensible man among you who would get up when he saw me refusing to give him my hand and kill him?' They said: 'We did not know, O Messenger of Allah, what was in your heart. Why did you not gesture to us with your eyes?' He said: 'It is not befitting for a Prophet that his eyes be deceitful
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يُطْعَمَ وَعَنْ بَيْعِ ذَلِكَ إِلاَّ بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ ‏.‏
It was narrated from Jabir that:the Messenger of Allah forbade Mukhabarah, Muzabanah and Muhaqalah, and selling dates before they arte fit or eating, and selling them for anything except Dinars and Dirhams
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَقْلُ الْكَافِرِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from 'Abdullah bin 'Amr, that the Messenger of Allah said:"The blood money for a disbeliever is half the blood money for the believer." (Hassan)
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ وَلاَ مُنْتَهِبٍ وَلاَ مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَيْضًا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ‏.‏
It was narrated from Sufyan, from Abu Az-Zubair, that Jabir said:"The Messenger of Allah said: 'The pilferer is not to be cut off."' (Sahih) Ibn Juraij also did not hear it from Abu Az-Zubair. Ibn Juraij also did not hear it from Abu Az-Zubair
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ جَاءَتْ بِنْتُ هُبَيْرَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ مِنْ ذَهَبٍ أَىْ خَوَاتِيمَ ضِخَامٍ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated that Thawban said:"The daughter of Hubairah came to the Messenger of Allah [SAW] and on her hand were large gold rings." - a similar report
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ جُبَيْرٌ وَهُوَ الْخَسْفُ ‏.‏ قَالَ عُبَادَةُ فَلاَ أَدْرِي قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَوْلَ جُبَيْرٍ ‏.‏
Umar said:"I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'Allahumma, inni a'udhu bi-'azamatika an ughtala min tahti (O Allah, I seek refuge in Your greatness from being swallowed up from beneath me)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ، - وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ - يَقُولُ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ نَبِيذِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ ‏.‏ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ إِسْحَاقُ وَذَكَرَتْ هُنَيْدَةُ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ حَدِيثِ مُعَاذَةَ وَسَمَّتِ الْجِرَارَ ‏.‏ قُلْتُ لِهُنَيْدَةَ أَنْتِ سَمِعْتِيهَا سَمَّتِ الْجِرَارَ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏
It was narrated from Ishaq - he is Ibn Suwaid - that he said:"Mu'adhah narrated to me from 'Aishah, that the Messenger of Allah [SAW] forbade Nabidh made in An-Naqir, Al-Muqayyar, Ad-Dubba', and Al-Hantam." And in the narration of Ibn 'Ulayyah, Ishaq said: "And Hunaidah mentioned from 'Aishah similar to the narration of Mu'adhah, and she named earthenware containers. I said to Hunaidah: 'Did you hear her say earthenware containers?' She said: 'Yes
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ يُرِيدُ أَرْضًا لَهُ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ لَمَا بِهَا فَانْظُرْ أَنْ تُدْرِكَهَا ‏.‏ فَخَرَجَ مُسْرِعًا وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُسَايِرُهُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَلَمْ يُصَلِّ الصَّلاَةَ وَكَانَ عَهْدِي بِهِ وَهُوَ يُحَافِظُ عَلَى الصَّلاَةِ فَلَمَّا أَبْطَأَ قُلْتُ الصَّلاَةَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَىَّ وَمَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ وَقَدْ تَوَارَى الشَّفَقُ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ صَنَعَ هَكَذَا ‏.‏
Nafi' said:"I went out with 'Abdullah bin 'Umar on a journey to some of his land. Then someone came to him and said: 'Safiyyah bint Abi 'Ubaid is sick, try to get there before it is too late.' He set out quickly, accompanied by a man of the Quraish. The sun set but he did not pray, although I knew him to be very careful about praying on time. When he slowed down I said: 'The prayer, may Allah have mercy on you.' He turned to me but carried on until the twilight was almost gone, then he stopped and prayed Maghrib, then he said the Iqamah for 'Isha', at that time the twilight had totally disappeared and led us in prayer. Then he turned to us and said: 'If the Messenger of Allah (ﷺ) was in a hurry to travel he would do this
نافع کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، وہ اپنی زمین ( کھیتی ) کا ارادہ کر رہے تھے، اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آپ کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید سخت بیمار ہیں تو آپ جا کر ان سے مل لیجئے، چنانچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلے اور ان کے ساتھ ایک قریشی تھا وہ بھی ساتھ جا رہا تھا، آفتاب غروب ہوا تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کی بڑی محافظت کرتے ہیں، تو جب انہوں نے تاخیر کی تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے لگی تو اترے، اور مغرب پڑھی، پھر عشاء کی تکبیر کہی، اس وقت شفق غائب ہو گئی تھی، انہوں نے ہمیں ( عشاء کی ) نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَكَانَ يُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ ‏.‏
It was narrated from Abdullah bin Abi Qatadah that his father said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite the Umm Al-Quran and two surahs in the first two rak'ahs of Zuhr and 'Asr, and in the last two with Umm Al-Quran, and he would make us hear a verse sometimes, and he used to make the first rak'ah lengthy
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔