أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، سَالِمٌ سَبَلاَنُ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَعْجِبُ بِأَمَانَتِهِ وَتَسْتَأْجِرُهُ فَأَرَتْنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ فَتَمَضْمَضَتْ وَاسْتَنْثَرَتْ ثَلاَثًا وَغَسَلَتْ وَجْهَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَتْ يَدَهَا الْيُمْنَى ثَلاَثًا وَالْيُسْرَى ثَلاَثًا وَوَضَعَتْ يَدَهَا فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهَا ثُمَّ مَسَحَتْ رَأْسَهَا مَسْحَةً وَاحِدَةً إِلَى مُؤَخَّرِهِ ثُمَّ أَمَرَّتْ يَدَيْهَا بِأُذُنَيْهَا ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْخَدَّيْنِ قَالَ سَالِمٌ كُنْتُ آتِيهَا مُكَاتَبًا مَا تَخْتَفِي مِنِّي فَتَجْلِسُ بَيْنَ يَدَىَّ وَتَتَحَدَّثُ مَعِي حَتَّى جِئْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْتُ ادْعِي لِي بِالْبَرَكَةِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ أَعْتَقَنِي اللَّهُ . قَالَتْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ . وَأَرْخَتِ الْحِجَابَ دُونِي فَلَمْ أَرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
Abu 'Abdullah Salim Sabalan said:"'Aishah liked my honesty and hired me, and she showed me how the Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Wudu'. She rinsed her mouth, sniffed water into her nose and blew it out three times, and washed her face three times. Then she washed her right hand three times and her left hand three times. Then she put her hand on the front of her head and wiped her head once, front to back. Then she rubbed her ears with her hands, then she passed her hands over her cheeks." Salim said: "I came to her as a slave with a contract of manumission, and she did not hide herself from me. She would sit before me and talk to me, until I came to her one day and said: 'Pray for blessing for me, O Mother of Believers.' She said: 'Why is that?' I said: 'Allah has set me free.' She said: 'May Allah bless you.' Then she lowered the Hijab before me, and I never saw her again after that day
ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے تین بار کلی کی، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا، اور تین بار بایاں، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا، سالم کہتے ہیں: میں بطور مکاتب ( غلام ) کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: ام المؤمنین! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے، وہ بولیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے، اور پھر آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَذَكَرَ، آخَرَ قَبْلَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ إِذَا سَجَدَ " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " .
It was narrated from Muhammad bin Maslamah that:When the Messenger of Allah (ﷺ) got up to offer voluntary prayers at night, he would say when he prostrated: "Allahumma laka sajadtu wa bika amantu wa laka aslamtu, Allahumma anta Rabbi, sajada wajhi lilladhi khalaqahu wa sawwarahu wa shaqqa sam'ahu wa basarahu, tabarak Allahu ahsanul-khaliqin ( O Allah, to You I have prostrated and in You I have believed and to You I have submitted. O Allah, You are my Lord. My face has prostrated to the One Who created it and formed it, and brought forth its hearing and sight. Blessed be Allah the best of Creators)
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو نفل پڑھتے، اور جب سجدہ کرتے تو کہتے: «اللہم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت اللہم أنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك اللہ أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھی پر میں ایمان لایا، تیرے لیے میں مسلمان ہوا، اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی صورت گری کی، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، اللہ بڑی برکتوں والا، سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us the tashahhud just as he used to teach us a surah from the Quran
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ قَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ قَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنِي تَنَامُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي " .
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that :He asked Aishah, the Mother of the Believers, about how the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray in Ramadan. She said: "The Messenger of Allah (ﷺ) did not pray more than eleven rak'ahs during Ramadan or at any other time. He would pray four, and do not ask how beautiful or how long they were. Then he would pray four, and do not ask how beautiful or how long they were. Then he would pray three." Aishah said: "I said: 'O Messenger of Allah, do you sleep before you pray witr?' He said: 'O Aishah, my eyes sleep but my heart does not
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اور غیر رمضان میں کسی میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ چار رکعت پڑھتے تو ان کا حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو ۱؎، پھر چار رکعت پڑھتے تو تم ان کا ( بھی ) حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو، پھر تین رکعت پڑھتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ۲؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ، ح وَأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلاَ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ " .
It was narrated that Abu Sa'eed said:"The Messenger of Allah said: 'When you see a funeral, stand up, and whoever follows it, let him not sit down until (the body) is placed (in the grave)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، ( اور ) جو اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے وہ نہ بیٹھے“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ مِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلاً وَلَبَنًا فَقَالَ لِي هَلُمَّ . فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ وَحَلَفَ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ يَحْلِفُ لاَ يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ قُلْتُ هَاتِ الآنَ مَا عِنْدَكَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابَةٌ أَوْ ظُلْمَةٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ عِدَّةَ شَعْبَانَ وَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالاً وَلاَ تَصِلُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ " .
It was narrated that Simak said:"I entered upon 'Ikrimah on the day concerning which there was doubt as to whether it was Ramadan or Shaban, and he was eating bread, vegetables and milk. He said: 'Come and eat.' I said: 'I am fasting.' He adjured me by Allah to break my fast. I said Subhan-Allah twice. When I saw that he was insisting, I went forward and said: 'Give me what you have.' He said: 'I heard Ibn 'Abbas say: The Messenger of Allah said: 'Fast when you see it (the crescent) and stop fasting when you see it, and if clouds or darkness prevent you from seeing it, then complete the number of days of Shaban, and do not fast ahead of the month, and do not join Ramadan to a day of Shaban
سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”روزہ رکھو ( چاند ) دیکھ کر، اور افطار کرو ( چاند ) دیکھ کر، اور اگر تمہارے اور چاند کے بیچ کوئی بدلی یا سیاہی حائل ہو جائے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو، اور ایک دن پہلے روزہ رکھ کر مہینے کا استقبال مت کرو، اور نہ رمضان کو شعبان کے کسی دن سے ملاؤ“۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"The best of charity is that which is given when you are self-sufficient, and the upper hand is better than the lower hand, and start with those for whom you are responsible
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ .
It was narrated that 'Aishah said:"We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) thinking that it was for nothing other than Hajj
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا فُلاَنُ هَلُمَّ فَادْخُلْ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَاكَ الَّذِي لاَ تَوَى عَلَيْهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, the gatekeepers of Paradise will call him from the gates of Paradise (saying): O So-and-so, come and enter!' Abu Bakr said: 'O Messenger of Allah, such a person will never perish or be miserable.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I hope that you will be one of them
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے میں جوڑا جوڑا صدقہ دیا اسے جنت کے سبھی دروازوں کے دربان بلائیں گے: اے فلاں ادھر آؤ ( ادھر سے ) جنت میں داخل ہو“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس میں آپ اس شخص کا کوئی نقصان تو نہیں سمجھتے ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نہیں ) میں تو توقع رکھتا ہوں کہ تم ان ہی ( خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہو گے“ ( جنہیں جنت کے سبھی دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کے لیے بلایا جائے گا ) ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"A woman should not be taken as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں اور اسی طرح اس کی خالہ کی موجودگی میں شادی نہ کی جائے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ رضى الله عنه بِثَلاَثَةٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالاَ لاَ . ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالاَ لاَ . فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَىِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
It was narrated that Zaid bin Arqam said:"Three men were brought to 'Ali while he was in Yemen; they all had intercourse with a woman during a single menstrual cycle. He asked two of them: 'Do you affirm that this child belongs to (the third man)?' And they said: 'No.' He asked another two of them: 'Do you affirm that this child belongs to (the third man)?' And they said: 'No.' So he cast lots between them, and attributed the child to the one whom the lot fell, and obliged him to pay two-thirds of the Diyah. The Prophet was told of this, and he laughed so much that his back teeth became visible
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ان کے پاس تین آدمی لائے گئے، ایک ہی طہر ( پاکی ) میں ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا ( جھگڑا لڑکے کے تعلق سے تھا کہ ان تینوں میں سے کس کا ہے ) انہوں نے دو کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا تیسرے کا تسلیم و قبول کرتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے دو کو الگ کر کے تیسرے کے بارے میں پوچھا: کیا تم دونوں لڑکا اس کا مانتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ان تینوں کے نام کا قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اسی کو دے دیا، اور دیت کا دو تہائی اس کے ذمہ کر دیا ( اور اس سے لے کر ایک ایک تہائی ان دونوں کو دے دیا ) ۱؎ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ ہنس پڑے اور ایسے ہنسے کہ آپ کی داڑھ دکھائی دینے لگی ۲؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًّا، أُتِيَ بِنَاسٍ مِنَ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا فَأَحْرَقَهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
It was narrated from Anas that :'Ali came to some people of Az-Zutt, who worshipped idols, and burned them. Ibn 'Abbas said: "But the Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever changes his religion, kill him
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُبَاعُ الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَلاَ الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ الطَّعَامِ " .
Abu Zubair narrated that he heard Jabir bin 'Abdullah say:"The Prophet said: ' A heap of grain should not be sold for a heap of grain, or for a heap of grain of known measure
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّه��، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَقْلُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ عَقْلِ الرَّجُلِ حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ مِنْ دِيَتِهَا " .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"The Messenger of Allah said: 'The blood money of a woman (in the event of injury) is like the blood money of a man, up to one-third of the Diyah (for her life)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ قَوْمِهِ حَدَّثَهُ عَنْ عَمٍّ، لَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ " .
It was narrated that Rafi bin Khadij said:"I heard the Messenger of Allah say: 'The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ - يَعْنِي - بِقِلاَدَةٍ مِنْ ذَهَبٍ جُعِلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهُ خُرْصًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Asma' bint Yazid narrated that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Any woman who puts on a necklace of gold, Allah will put something similar of fire around her neck. Any woman who puts earrings of gold on her ears, Allah, the Mighty and Sublime, will put earrings of fire on her ears on the Day of Resurrection
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ حَدِّثِينِي بِشَىْءٍ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو بِهِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
It was narrated that Farwah bin Nawfal said:"I asked 'Aishah: 'Tell me of something that the Messenger of Allah [SAW] used to say in his supplication.' She said: 'The Messenger of Allah [SAW] used to say: Allahumma, inni a'udhu bika min sharri ma 'amiltu wa min sharri ma lam a'mal ba'd (O Allah, I seek refuge with You from the evil of what I have done and from the evil of what I have not done)
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، قَالَ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ، فَقَالَتْ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلُوهُ فِيمَا يَنْبِذُونَ فَنَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ .
Thumamah bin Hazn Al-Qushairi said:"I met 'Aishah and asked her about Nabidh. She said: 'The delegation of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah [SAW] and asked him in which vessels they should soak (fruits - to make Nabidh). The Prophet [SAW] forbade them to soak (fruits) in Ad-Dubba' (gourds), An-Naqir, Al-Muqayyar, and Al-Hantam
أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِسَرِفَ .
It was narrated that Jabir said:"The sun set when the Messenger of Allah (ﷺ) was in Makkah, and he joined the two prayers in Sarif.: [1] [1] A valley about 12 km northeast of Makkah on the way to Al-Madinah
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، تو آپ نے مقام سرف ۱؎ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسْلِمٍ، - يُعْرَفُ بِابْنِ أَبِي جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَصَلاَةِ الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى .
Abdullah bin Abi Qatadah said:"My father told us that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite Umm Al-Quran and two surahs in the first two rak'ahs of Zuhr and 'Asr, and he would make us hear a verse sometimes, and he used to make the first rak'ah lengthy
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے۔