بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan an-Nasa'i
1
51 hadith
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلاَ يَغْمِسْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاَثًا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:"When any one of you wakes from sleep, let him not dip his hand in (the water he uses for) his Wudu' until he has washed it three times, for none of you knows where his hand spent the night
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے جاگ جائے تو اپنا ہاتھ اپنے وضو کے پانی میں نہ ڈالے، یہاں تک کہ اسے تین بار دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ہے ۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ أَصَلَّى هَؤُلاَءِ قُلْنَا نَعَمْ ‏.‏ فَأَمَّهُمَا وَقَامَ بَيْنَهُمَا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ ‏.‏ قَالَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَفْرِشْ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It was narrated from 'Alqamah and Al-Aswad that:They were with 'Abdullah in his house and he said: "Have these people prayed?" We said: "Yes." So he led them in prayer and stood between them, with no Adhan and no Iqamah, and said: "If you are three then do this, and if you are more than that then let one of you lead the others in prayer, and let him lay his hands on his thighs. It is as if I can see the fingers of the Messenger of Allah (ﷺ), interlaced
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: ہاں! تو انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے دونوں کی امامت کی، اور ان دونوں کے درمیان میں کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: جب تم تین ہو تو ایسے ہی کرو، اور جب تم اس سے زیادہ ہو تو تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصَمِّ، قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ التَّكْبِيرِ، فِي الصَّلاَةِ فَقَالَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ‏.‏ فَقَالَ حُطَيْمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا فَقَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رضى الله عنهما - ثُمَّ سَكَتَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ حُطَيْمٌ وَعُثْمَانُ قَالَ وَعُثْمَانُ ‏.‏
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Al-Asamm said:"Anas bin Malik was asked about the takbir in the prayer. He said: "The takbir should be said when bowing, when prostrating, when raising one's head from prostration and when standing up following the first two rak'ahs.' Hutaim said: 'From whom did you learn this?' He said: 'From the Prophet (ﷺ), Abu Bakr and 'Umar, may Allah (SWT) be pleased with them.' Then he fell silent and Hutaim said to him: 'And 'Uthman?' He said: 'And 'Uthman
عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا: آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنُ، طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ - يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ - فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'We are the last (to come) but will be the foremost on the Day of Resurrection, but they were given the Book before us and we were given it after them. They differed concerning this day which Allah, the Mighty and Sublime, had prescribed for them and Allah, the Mighty and Sublime, guided us to"--meaning Friday--"so the people follow us, the Jews the next day and the Christians the day after that
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دنیا میں ) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور ( قیامت میں ) آگے ہوں گے، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں ( یعنی یہود و نصاریٰ کو ) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے، یہ ( جمعہ کا دن ) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے ( یعنی جمعہ کے دن سے ) ہمیں نواز دیا، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ۲؎، یہود کل کی یعنی ہفتہ ( سنیچر ) کی تعظیم کرتے ہیں، اور نصاریٰ پرسوں کی ( یعنی اتوار کی ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‏{‏ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا، مِنَ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ‏}‏ فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ya'la bin Umayyah said:"I said to 'Umar bin Al-Khattab: 'There is no sin on you if you shorten salah and if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you). But now the people are safe.' 'Umar said: 'I wondered the same thing, so I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that and he said: This is a favor from Allah (SWT) to you, so accept His favor
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے آیت کریمہ: «‏ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے ( النساء: ۱۰۱ ) ، کے متعلق عرض کیا کہ اب تو لوگ مامون اور بےخوف ہو گئے ہیں؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا جس سے تم کو تعجب ہے، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے ۱؎ جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، تو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏‏ "‏‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
It was narrated that Abu Bakrah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The sun and moon are two signs of Allah (SWT), the Most High, and they do not become eclipsed for death or birth of anyone, rather Allah (SWT), the Mighty and Sublime, strikes fear into His slaves through them
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو کسی کے مرنے اور کسی کے پیدا ہونے سے گرہن نہیں لگتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ وَالآكَامِ وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ ‏"‏ ‏.‏ فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, the livestock have died and the routes have been cut off; pray to Allah (SWT), the Mighty and Sublime.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed to Allah (SWT) and it rained from that Friday until the next. Then a man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'The houses have been destroyed, the routes have been cut off and the livestock have died.' He said: 'O Allah, on the tops of the mountains and hills, in the bottom of the valleys and where the trees grow.' So (the rain) was lifted from Al-Madinah like a garment being removed
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہو گئے، ( اور پانی نہ ہونے سے ) راستے ( سفر ) ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہو گئے، راستے ( سیلاب کی وجہ سے ) کٹ گئے، اور جانور مر گئے، تو آپ نے دعا کی: «اللہم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا ( اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہو جاتا ہے ) ۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي بِطَبَرِسْتَانَ وَمَعَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَقَالَ أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا فَوَصَفَ فَقَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْخَوْفِ بِطَائِفَةٍ رَكْعَةً صَفٍّ خَلْفَهُ وَطَائِفَةٍ أُخْرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّتِي تَلِيهِ رَكْعَةً ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلاَءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ‏.‏
It was narrated that Tha'labah bin Zahdam said:"We were with Sa'eed bin Al-'Asi in Tabaristan, and Hudhaifah bin Al-Yaman was with us. He said: 'Which of you offered the fear prayer with the Messenger of Allah (ﷺ)?' Hudhaifah said: 'I did', and he described it. He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) offered the fear prayer, leading one group who had formed rows behind him in praying one rak'ah, while the other group was between him and the enemy. So he led the group that was near him in praying one rak'ah, then they left and took the place of others, and the others came and he led them in praying one rak'ah
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم سعید بن عاصی کے ساتھ طبرستان میں تھے، ہمارے ساتھ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، سعید نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ تو خذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے، تو انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو جو آپ کے پیچھے صف باندھے تھا ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرا گروہ آپ کے اور دشمنوں کے مابین ڈٹا ہوا تھا، تو جو گروہ آپ کے ساتھ تھا اسے آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہوں پر چلے گئے جو دشمن کے سامنے صف باندھے تھے، اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے تو آپ نے انہیں ( بھی ) ایک رکعت پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ قَالَ ‏ "‏ كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:"The people of the Jahiliyyah had two days each year when they would play. When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah he said: 'You had two days when you would play, but Allah (SWT) has given Muslims something instead that is better than them: the day of Al-Fitr and the day of Al-Adha
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگوں کے لیے سال میں دو دن ایسے ہوتے تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے ہجرت کر کے ) مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے دو دن تھے جن میں تم کھیل کود کیا کرتے تھے ( اب ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلہ ان سے بہتر دو دن دے دیئے ہیں: ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن ۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Nafi' that Abdullah bin Umar said:"Pray in your houses and do not make them like graves
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"None of you should wish for death. Either he is a doer of good, so perhaps he may do more good, or he is an evildoer but perhaps he will give up his evil ways
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے، ( کیونکہ ) یا تو وہ نیک ہو گا تو ہو سکتا ہے زیادہ نیکی کرے، یا برا ہو گا تو ہو سکتا ہے وہ برائی سے توبہ کر لے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ قَالَ ‏"‏ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ ‏"‏ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الزَّكَاةِ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرَائِعِ الإِسْلاَمِ ‏.‏ فَقَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلاَ أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ شَيْئًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Talhah bin 'Ubaidullah that:a Bedouin came to the Messenger of Allah with unkempt hair and said: "O Allah has enjoined upon me of Salah." He said: "The five daily prayers, unless you do any more voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me of fasting." He said: "Fasting the month of Ramadan, unless you do any more voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me of Zakah." The Messenger of Allah told him of the laws of Islam, He said: "By the One Who has honored you, I will not do anything voluntarily, and I will not do anything voluntarily, and I will not do less than that which Allah has enjoined upon, me: The Messenger of Allah said: "He will succeed if he is sincere," or "He will enter Paradise if he is sincere
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پراگندہ بال آیا، ( اور ) اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ ( وقت کی ) نمازیں، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو“، پھر اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزے، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی ( روزے ) رکھنا چاہو“، ( پھر ) اس نے پوچھا: مجھے بتلائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے احکام بتائے، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی تکریم کی ہے، میں کوئی نفل نہیں کروں اور نہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہو گیا“، یا کہا: ”اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہو گیا“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، عَنِ الْمُعَافَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ‏ "‏ إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ - يَعْنِي أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ - فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ بِذَلِكَ فَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah said to Mu'adh when he sent him to Yemen: 'You are going to some of the People of the book. When you come to them, call them to testify that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. If they obey you in that, then tell them that Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined on them a charity (Zakah) to be taken from their rich and given to their poor. If they obey you in that, then beware of the supplication of the oppressed person
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: ”تم اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) کے پاس جا رہے ہو، تو جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن و رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر ( زکاۃ ) فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں بانٹ دیا جائے گا، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر مظلوم کی بد دعا سے بچو“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، - وَاسْمُهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ فِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ عَنْهُ حَتَّى أَعَادَهُ ثَلاَثًا فَقَالَ ‏"‏ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالشَّىْءِ فَخُذُوا بِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَىْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah addressed the people and said: 'Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined upon you Hajj.' A man said: 'Every year?' He remained silent until he had repeated it three times. Then he said: 'If I said yes, it would be obligatory, and if it were obligatory you would not be able to do it. Leave me alone so long as I have left you alone. Those who came before you were destroyed because they asked too many questions and differed with their prophets. If I command you to do something then follow it as much as you can, and if I forbid you to do something then avoid it
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو فرمایا: ”اللہ عزوجل نے تم پر حج فرض کیا ہے“ ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے یہاں تک اس نے اسے تین بار دہرایا تو آپ نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دیتا ہاں، تو وہ واجب ہو جاتا، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، تم مجھے میرے حال پر چھوڑے رہو جب تک کہ میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھوں ۱؎، تم سے پہلے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوئے، جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آ جاؤ“۔
Narrated by It was narrated that Ibn Abbas said
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ‏}‏ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ ‏.‏
Narrated It was narrated that Ibn Abbas said:“When the Prophet was expelled from Makkah, Abu Bakr said to him: ‘They have driven out their Prophet, verily to Allah we belong and to Him we return. They are surely doomed.’ Then it was revealed: ‘Permission to fight (against disbelievers) is given to those (believers) who are fought against, because they have been wronged; and surely, Allah is able to give them (believers) victory.’ Then I knew that there would be fighting.” Ibn Abbas said: “This is the first Verse that was revealed concerning fighting.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «‏أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ”جن ( مسلمانوں ) سے ( کافر ) جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے“۔ ( الحج: ۳۹ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے“۔
Narrated by Ata
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ جَنَازَتَهَا فَلاَ تُزَعْزِعُوهَا وَلاَ تُزَلْزِلُوهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ مَعَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا ‏.‏
Narrated 'Ata':It was narrated that 'Ata' said: "We attended the funeral of Maimunah, the wife of the Prophet, with Ibn 'Abbas in Sarif. Ibn 'Abbas said: 'This is Maimunah; when you lift up her bier, do not rock it nor shake it. The Messenger of Allah had nine wives and he used to give a share of his time to eight of them and not to one
عطا کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں گئے، تو آپ نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، تم ان کا جنازہ نہایت سہولت کے ساتھ اٹھانا، اسے ہلانا نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں تھیں۔ آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے، اور ایک کے لیے نہیں کرتے تھے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ بَعْضَ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِفَضْلِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْمَاءَ لاَ يُنَجِّسُهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Abbas that one of the wives of the Prophet (ﷺ) performed Ghusl from Janabah, and the Prophet (ﷺ) performed Wudu' with her leftover water. She mentioned that to him and he said:"Water is not made impure by anything." [1] [1] See the following versions
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے ۱؎۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ السَّرَخْسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ ‏ "‏ مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يَدَعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى فَإِذَا طَهُرَتْ فَإِنْ شَاءَ فَلْيُفَارِقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا وَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ‏"‏ ‏.‏
Nafi' narrated from 'Abdullah, that he divorced his wife while she was menstruating. 'Umar asked the Messenger of Allah about that and said:"Abdullah has divorced his wife while she was menstruating." He said: "Tell 'Abdullah to take her back, then leave her until she becomes pure from this menstrual period, then menstruates again, then when she becomes pure again, if he wishes he may separate from her before having intercourse with her, or if he wishes he may keep her. This is the time when Allah, the Mighty and Sublime, has stated that women may be divorced
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ کر کہ عبداللہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے مسئلہ پوچھا ( کہ کیا اس کی طلاق صحیح ہوئی ہے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو ( طلاق ختم کر کے ) اسے لوٹا لے ( یعنی اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے اپنے اس حیض سے پاک ہو لینے دے، پھر جب وہ دوبارہ حائضہ ہو اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو وہ اگر اسے چھوڑ دینا چاہے تو اسے جماع کرنے سے پہلے چھوڑ دے اور اگر اسے رکھنا چاہے تو اسے رکھ لے ( اور اس سے اپنی ازدواجی زندگی بحال کرے ) یہ ہے وہ عدت جس کے مطابق اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، - رضى الله عنه - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) with no intention other than Hajj. When he was in Sarif I began menstruating. The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and I was weeping. He said: 'What is the matter with you? Has you Nifas begun?' I said: 'Yes.' He said: 'This is something that Allah the Mighty and Sublime has decreed for the daughters of Adam. Do what the pilgrims do but do not perform Tawaf around the House
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارا مقصد صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ کیا تم حائضہ ہو گئی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر مقدر کر دیا ہے ۱؎، اب تم وہ سارے کام کرو، جو حاجی کرتا ہے، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا ۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صَبِيحٍ الْمُرِّيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ الْكِنْدِيِّ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَذَالَ النَّاسُ الْخَيْلَ وَوَضَعُوا السِّلاَحَ وَقَالُوا لاَ جِهَادَ قَدْ وَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَجْهِهِ وَقَالَ ‏ "‏ كَذَبُوا الآنَ الآنَ جَاءَ الْقِتَالُ وَلاَ يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ وَيُزِيغُ اللَّهُ لَهُمْ قُلُوبَ أَقْوَامٍ وَيَرْزُقُهُمْ مِنْهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ وَحَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُوحَى إِلَىَّ أَنِّي مَقْبُوضٌ غَيْرَ مُلَبَّثٍ وَأَنْتُمْ تَتَّبِعُونِي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ وَعُقْرُ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Salamah bin Nufail Al-Kindi said:"I was sitting with the Messenger of Allah when a man said: 'O Messenger of Allah! The people have lost interest in horses and put down their weapons, and they say there is no Jihad, and that war has ended.' The Messenger of Allah turned to face him and said: 'They are lying, now the fighting is to come. There will always be a group among my Ummah who will fight for the truth, for whom Allah will cause some people to deviate, and grant them provision from them, until the Hour begins and until the promise of Allah comes. Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection. It has been revealed to me that I am going to die and will not stay long, and you will follow me group after group, striking one another's necks. And the place of safety for the believers is Ash-Sham
سلمہ بن نفیل کندی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس وقت ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! لوگوں نے گھوڑوں کی اہمیت اور قدر و قیمت ہی گھٹا دی، ہتھیار اتار کر رکھ دیے اور کہتے ہیں: اب کوئی جہاد نہیں رہا، لڑائی موقوف ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور ( پورے طور پر متوجہ ہو کر ) فرمایا: ”غلط اور جھوٹ کہتے ہیں، ( صحیح معنوں میں ) لڑائی کا وقت تو اب آیا ہے ۱؎، میری امت میں سے تو ایک امت ( ایک جماعت ) حق کی خاطر ہمیشہ برسرپیکار رہے گی اور اللہ تعالیٰ کچھ قوموں کے دلوں کو ان کی خاطر کجی میں مبتلا رکھے گا ۲؎ اور انہیں ( اہل حق کو ) ان ہی ( گمراہ لوگوں ) کے ذریعہ روزی ملے گی ۳؎، یہ سلسلہ قیامت ہونے تک چلتا رہے گا، جب تک اللہ کا وعدہ ( متقیوں کے لیے جنت اور مشرکوں و کافروں کے لیے جہنم ) پورا نہ ہو جائے گا، قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی ( خیر ) بندھی ہوئی ہے ۴؎ اور مجھے بذریعہ وحی یہ بات بتا دی گئی ہے کہ جلد ہی میرا انتقال ہو جائے گا اور تم لوگ مختلف گروہوں میں بٹ کر میری اتباع ( کا دعویٰ ) کرو گے اور حال یہ ہو گا کہ سب ( اپنے متعلق حق پر ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود ) ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہوں گے اور مسلمانوں کے گھر کا آنگن ( جہاں وہ پڑاؤ کر سکیں، ٹھہر سکیں، کشادگی سے رہ سکیں ) شام ہو گا“ ۵؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِينَارًا وَلاَ دِرْهَمًا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ أَمَةً إِلاَّ بَغْلَتَهُ الشَّهْبَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا وَسِلاَحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ قُتَيْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى صَدَقَةً ‏.‏
It was narrated that 'Amr bin Al-Harith said:"The Messenger of Allah did not leave behind a Dinar nor a Dirham, or any slave, male or female; except his white mule which he used to ride, his weapon and some land which he left to be used for the cause of Allah." (One of the narrators) Qutaibah said on one occasion: "In charity
عمرو بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے ) اور انتقال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر سوار ہوا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار کے اور زمین کے جسے اللہ کے راستہ میں دے دیا تھا کچھ نہ چھوڑا تھا نہ دینار نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی، ( مصنف ) کہتے ہیں ( میرے استاذ ) قتیبہ نے دوسری بار یہ بتایا کہ زمین کو صدقہ کر دیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا قَالَ ‏ "‏ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ ‏"‏‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah, what kind of charity brings the greatest reward?' He said: 'To give in charity when you are healthy and feeling miserly, and fearing poverty and hoping for a long life. Do not wait until the (death rattle) reaches the throat and then say: "This is for so and so," and it nearly became the property of so and so (the heirs)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ اجر و ثواب میں سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا اس وقت صدقہ کرنا جب تندرست اور صحت مند ہو، تمہیں مال جمع کرنے کی حرص ہو، محتاج ہو جانے کا ڈر ہو اور تمہیں لمبی مدت تک زندہ رہنے کی امید ہو اور صدقہ کرنے میں جان نکلنے کے وقت کا انتظار نہ کر کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو: فلاں کو اتنا دے دو، حالانکہ اب تو وہ فلاں ہی کا ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، نَحَلَهُ غُلاَمًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُهُ فَقَالَ ‏"‏ أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَارْدُدْهُ ‏"‏ ‏.‏ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ ‏.‏
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father gave him a slave as a present, then he came to the Prophet to ask him to bear witness (to that). He said:"Have you given a present to all of your children?" He said: "No." He said: "Then take it back." This wording is that of (one of the narrators) Muhammad
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کے والد نے ایک غلام ہبہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو“۔ اس حدیث کے الفاظ محمد ( راوی ) کے ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَتَتْهُ وَفْدُ هَوَازِنَ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ وَقَدْ نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلاَءِ مَا لاَ يَخْفَى عَلَيْكَ فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اخْتَارُوا مِنْ أَمْوَالِكُمْ أَوْ مِنْ نِسَائِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا قَدْ خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا بَلْ نَخْتَارُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَقُومُوا فَقُولُوا إِنَّا نَسْتَعِينُ بِرَسُولِ اللَّهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَوِ الْمُسْلِمِينَ فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا صَلَّوُا الظُّهْرَ قَامُوا فَقَالُوا ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَمَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَالَتِ الأَنْصَارُ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلاَ ‏.‏ وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ فَلاَ ‏.‏ وَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلاَ ‏.‏ فَقَامَتْ بَنُو سُلَيْمٍ فَقَالُوا كَذَبْتَ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ مِنْ هَذَا الْفَىْءِ بِشَىْءٍ فَلَهُ سِتُّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَىْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا ‏"‏ ‏.‏ وَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَرَكِبَ النَّاسُ اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْأَنَا فَأَلْجَئُوهُ إِلَى شَجَرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَىَّ رِدَائِي فَوَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لَكُمْ شَجَرَ تِهَامَةَ نَعَمًا قَسَمْتُهُ عَلَيْكُمْ ثُمَّ لَمْ تَلْقَوْنِي بَخِيلاً وَلاَ جَبَانًا وَلاَ كَذُوبًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَى بَعِيرًا فَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ هَا إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَىْءِ شَىْءٌ وَلاَ هَذِهِ إِلاَّ خُمُسٌ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ بِكُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتُ هَذِهِ لأُصْلِحَ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَوَبَلَغَتْ هَذِهِ فَلاَ أَرَبَ لِي فِيهَا ‏.‏ فَنَبَذَهَا ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ عَارًا وَشَنَارًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:"We were with the Messenger of Allah when the delegation of Hawazin came to him and said: 'O Muhammad! We are one of the 'Arab tribes and a calamity has befallen us of which you are well aware. Do us a favor, may Allah bless you.' He said: 'Choose between your wealth or your women and children.' They said: 'You have given us a choice between our families and our wealth; we choose our women and children.' The Messenger of Allah said: 'As for that which was allocated to myself and to Banu 'Abdul-Muttalib, it is yours. When I have prayed Zuhr, stand up and say: "We seek the help of the Messenger of Allah in dealing with the believers, or the Muslims, with regard to our women and children."' So when they prayed Zuhr, they stood up and said that. The Messenger of Allah said: 'As for that which was allocated to myself and to Banu 'Abdul-Muttalib, it is yours.' The Muhajirun said: 'That which was allocated to us is for the Messenger of Allah.' The Ansar said: 'That which was allocated to us is for the Messenger of Allah.' Al-Aqra' bin Habis said: 'As for myself and Banu Tamim, then no (we will not give it up).' 'Uyaynah bin Hisn said: 'As for myself and Banu Fazarah, then no (we will not give it up).' Al-'Abbas bin Mirdas said: 'As for myself and Banu Sulaim, then no (we will not give it up).' Banu Sulaim stood up and said: 'You lied; whatever was allocated to us, it is for the Messenger of Allah.' The Messenger of Allah said: 'O people, give their women and children back to them. Whoever gives back anything of these spoils of war, he will have six camels from the spoils of war that Allah grants us next.' Then he mounted his riding-animal and the people surrounded him, saying: 'Distribute our spoils of war among us.' They made him go back toward a tree on which his Rida' (upper-wrap) got caught. He said: 'O people! Give me back my Rida'. By Allah! If there were cattle as many in number as the trees of Tihamah I would distribute them among you, then you would not find me a miser, a coward or a liar.' Then he went to a camel and took a hair from its hump between two of his fingers and said: 'Look! I do not have any of the spoils of war. All I have is the Khums, and the Khums will be given back to you.' A man stood up holding a ball of yarn made from goat hair and said: 'O Messenger of Allah, I took this to fix my camel-saddle.' He said: 'What was allocated to myself and to Banu 'Abdul-Muttalib is for you.' He said: 'Is this so important? I don't need it!' And he threw it down. He said: 'O people! Give back even needles large and small, for Al-Ghulul will be (a source of) shame and disgrace for those who took it on the Day of Resurrection
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ہوازن کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو ہم آپ کے پاس تھے۔ انہوں نے کہا: اے محمد! ہم ایک ہی اصیل اور خاندانی لوگ ہیں اور ہم پر جو بلا اور مصیبت نازل ہوئی ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں، آپ ہم پر احسان کیجئے، اللہ آپ پر احسان فرمائے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے مال یا اپنی عورتوں اور بچوں میں سے کسی ایک کو چن لو“، تو ان لوگوں نے کہا: آپ نے ہمیں اپنے خاندان والوں اور اپنے مال میں سے کسی ایک کے چن لینے کا اختیار دیا ہے تو ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو حاصل کر لینا چاہتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا: ”میرے اور بنی مطلب کے حصے میں جو ہیں انہیں میں تمہیں واپس دے دیتا ہوں اور جب میں ظہر سے فارغ ہو جاؤں تو تم لوگ کھڑے ہو جاؤ اور کہو: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے آپ سارے مسلمانوں اور مومنوں سے اپنی عورتوں اور بچوں کے سلسلہ میں مدد کے طلب گار ہیں“۔ چنانچہ جب لوگ ظہر پڑھ چکے تو یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہی بات دہرائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ ہے وہ تمہارے حوالے ہے“، یہ بات سن کر مہاجرین نے کہا: جو ہمارے حصے میں ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد، اور انصار نے بھی کہا: جو ہمارے حصہ میں ہے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد، اس پر اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو تمیم تو اپنا حصہ واپس نہیں کر سکتے۔ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ میں اور بنو فزارہ بھی اپنا حصہ دینے کے نہیں۔ عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور بنو سلیم بھی اپنا حصہ نہیں لوٹانے کے۔ ( یہ سن کر ) قبیلہ بنو سلیم کے لوگ کھڑے ہوئے اور کہا: تم غلط کہتے ہو، ہمارا حصہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! ان کی عورتوں اور بچوں کو انہیں واپس کر دو اور جو کوئی بغیر کسی بدلے نہ دینا چاہے تو اس کے لیے میرا وعدہ ہے کہ مال فیٔ میں سے جو اللہ تعالیٰ پہلے عطا کر دے گا میں اس کے ہر گردن ( غلام ) کے بدلے چھ اونٹ ملیں گے“، یہ فرما کر آپ اپنی سواری پر سوار ہو گئے، اور لوگوں نے آپ کو گھیر لیا ( اور کہنے لگے: ) ہمارے حصہ کا مال غنیمت ہمیں بانٹ دیجئیے، اور آپ کو ایک درخت کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا جس سے آپ کی چادر الجھ کر آپ سے الگ ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ”لوگو! میری چادر تو واپس لا دو، قسم اللہ کی! اگر تمہارے لیے تہامہ کے درختوں کے برابر اونٹ بھی ہوں تو میں انہیں تم میں تقسیم کر دوں گا، تم لوگ مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہیں پاؤ گے، پھر ایک اونٹ کے پاس آئے اور اپنی انگلیوں کے درمیان اس کے کوہان سے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہنے لگے: سن لو! فیٔ میں سے میرا کچھ نہیں ہے اور یہ بھی نہیں ہے ( اونٹ کے بالوں کی طرف اشارہ کر کے کہا ) سوائے خمس ( ۱/۵ ) کے اور خمس بھی ( گھوم پھر کر ) تمہیں لوگوں کو لوٹا دیا جاتا ہے“۔ یہ بات سن کر ایک آدمی بالوں کا ایک گچھا لے کر آپ کے پاس آ کھڑا ہوا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بالوں کا یہ گچھا لیا ہے تاکہ اس سے اپنے اونٹ کی ( پھٹے ہوئے ) پالان ( گدے ) کو درست کر لوں، آپ نے فرمایا: ”میرا اور بنی مطلب کا جو حصہ ہے وہ تمہارے لیے ہے“ اس شخص نے کہا: کیا یہ اس حد تک سنگین اور اہم معاملہ ہے؟ تو مجھے اس سے کچھ نہیں لینا دینا، یہ کہہ کر اس نے بالوں کا گچھا مال فیٔ میں ڈال دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! ”سوئی اور دھاگا بھی لا کر جمع کرو، کیونکہ مال غنیمت میں چوری اور خیانت قیامت کے دن چوری اور خیانت کرنے والے کے لیے شرم و ندامت کا باعث ہو گا“۔
أَخْبَرَنَا هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو - عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الرُّقْبَى جَائِزَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Hilal bin Al-'Ala' informed us:"My father narrated to us: Ubaidullah -he is, Ibn 'Amr- narrated to us, from Sufyan, from Ibn Abi Najih, from Tawus, from Zaid bin Thabit, that the Prophet said: 'Ar-Ruqba is permissible
زید بن ثابت رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبیٰ لاگو ہو گا ۱؎۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعُمْرَى هِيَ لِلْوَارِثِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Zaid bin Thabit that the Prophet said:"'Umra (a gift given for life) belongs to the heir
زید بن ثابت رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ وارث کا حق ہے“ ۱؎۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّهَاوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتْ يَمِينٌ يَحْلِفُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Umar said:"The oath by which the Messenger of Allah used to swear was: 'No, by the Controller of the hearts
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی «‏لا ومقلب القلوب» نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیر نے والا ہے ۔
حَدَّثَنِي الشَّيْخُ الإِمَامُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْقُومَسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ أَبُو الْمُنْذِرِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حُبِّبَ إِلَىَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Anas said:"The Messenger of Allah said: 'In this world, women and perfume have been made dear to me, and my comfort has been provided in prayer
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی چیزوں میں سے عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنا دی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے“۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏‏ "‏‏ لاَ يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ ‏‏"‏‏ ‏‏.‏‏
Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'None of you should perform ghusl in standing water while he is Junub
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے، اور وہ جنبی ہو ۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ سُمَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَصَلَّوْا صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبَائِحَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that:The Prophet [SAW] said: "I have been commanded to fight the idolators until they bear witness to La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah) and that Muhammad is His slave and Messenger. If they bear witness to La ilaha illallah and that Muhammad is His slave and Messenger, and they pray as we pray and face our Qiblah, and eat our slaughtered animals, then their blood and wealth becomes forbidden to us except for a right that is due
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ، حِينَ خَرَجَ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تُرَاهُ قَالَ هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُمْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ وَيَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَيُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏
It was narrated from Yazid bin Hurmuz that:when Najdah Al-Haruriyyah rebelled during the Fitnah of Ibn Zubayr, he sent word to Ibn 'Abbas asking him about the share of the relatives (of the Messenger of Allah) -to whom did he think it should be given? He replied: "It is for us, because of our blood ties to the Messenger of Allah allocated it to them, but 'Umar offered us something we thought was less than what was our due, and we refused to accept it. What he offered to them who wanted to get married, and to help the debtors pay off their debts, and he gave to their indigent. But he refused to give them more than that
أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، مِنْ لَفْظِهِ قَالَ أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا لاَ نَخَافُ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ‏.‏
It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said:"We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey, both in times of ease and hardship, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would was entrusted with it, that we would stand firm in the way of truth wherever we may be, and that we would not fear the blame of the blamers
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْعُقُوقَ ‏"‏ ‏.‏ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الاِسْمَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّمَا نَسْأَلُكَ أَحَدُنَا يُولَدُ لَهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَنْسُكْ عَنْهُ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ دَاوُدُ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ عَنِ الْمُكَافَأَتَانِ قَالَ الشَّاتَانِ الْمُشَبَّهَتَانِ تُذْبَحَانِ جَمِيعًا ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin Shuaib, from his fahther, that his grandfather said:"The messenger of Allah was asked about the 'Aqiqah and he said: "Allah, the mighty and sublime, does not like Al-Uquq' as if he disliked the word (Al-Aqiqah). He said to the Messenger of Allah: 'But one of us may offer a sacrifice when a child is born to him.' He said: 'Whoever wants to offer a sacrifice for his child, let him do so, for a boy; two sheep, Mukafaatan, (of equal age), and for a girl, one.' (One of the narrators) Dawud said: 'I asked Ziad bin Aslam about the word Mukafaatan and he said: 'Two similar sheep that are slaughtered together
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"There is no fara' and no' Atirah
أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، بِمِصْرَ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ ‏ "‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ لَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلاَ تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَ كَلْبُكَ كِلاَبًا فَقَتَلْنَ فَلَمْ يَأْكُلْنَ فَلاَ تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim that:he asked the Messenger of Allah about hunting. He said: "When you release your dog, mention the name of Allah over him, and if you catch up with him and he has not killed (the game), then slaughter it and mention the name of Allah over it. If you catch up with him and he has killed (the game) but has not eaten any of it, then eat, for he caught it for you. If you find that the has eaten some of it, then do not eat any of it for he caught it for himself. If there are other dogs with your dog and they have killed (the game) but have not eaten any of it, then do not eat any of it, because you do not know which of them killed it
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ، - وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ - قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ رَأَى هِلاَلَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلاَ مِنْ أَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ummm Salamah that the Prophet said:"Whoever sees the new crescent of Dhul-Hijjah and wants to offer a sacrifice, let him not remove any of his hair or nails until he has offered the sacrifice
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ السَّرَخْسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that 'Aishah said:"The Messenger of Allah said: "The best (most Pure) food that a man eats is that which he has earned himself, and a man's child (and his child's wealth) is part of his earnings" (Sahih)
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ أَقْبَلَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَلآنَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشَقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ فَغَسَلَ الْقَلْبَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ ‏.‏ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنِ ابْنٍ وَنَبِيٍّ ‏.‏ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمَا فَقَالاَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ‏.‏ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ‏.‏ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ‏.‏ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى هَارُونَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ‏.‏ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ‏.‏ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى قِيلَ مَا يُبْكِيكَ قَالَ يَا رَبِّ هَذَا الْغُلاَمُ الَّذِي بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ وَأَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ‏.‏ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنِ ابْنٍ وَنَبِيٍّ ‏.‏ ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ فَإِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا نَبِقُهَا مِثْلُ قِلاَلِ هَجَرٍ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَىَّ خَمْسُونَ صَلاَةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ فُرِضَتْ عَلَىَّ خَمْسُونَ صَلاَةً ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْكَ إِنِّي عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي فَجَعَلَهَا أَرْبَعِينَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ جَعَلَهَا أَرْبَعِينَ ‏.‏ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا ثَلاَثِينَ فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَجَعَلَهَا عِشْرِينَ ثُمَّ عَشْرَةً ثُمَّ خَمْسَةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الأُولَى فَقُلْتُ إِنِّي أَسْتَحِي مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ فَنُودِيَ أَنْ قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik, from Malik bin Sa'sa'ah, that the Prophet (ﷺ) said:"While I was at the Ka'bah, in a state between sleep and wakefulness, three men came, and one of them who was in the middle came toward me. I was brought a basin of gold, filled with wisdom and faith, and he slit open from the throat to the lower abdomen, and washed the heart with Zamzam water, then - "it was filled with wisdom and faith. Then I was brought a riding-beast, smaller than a mule and bigger than a donkey. I set off with Jibril, peace be upon him, and we came to the lowest heaven. It was said: 'Who is with you?' He said: 'Muhammad.' It was said: 'Has (revelation) been sent to him? Welcome to him, what an excellent visit his is.' I came to Adam, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent son and Prophet.' Then we came to the second heaven and it was said: 'Who is this?' He said: 'Jibra'il.' [1] It was said: 'Who is with you?' he said: 'Muhammad.' And the same exchange took place. I came to Yahya and 'Eisa, peace be upon them both, and greeted them, and they said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' Then we came to the third heaven and it was said: 'Who is this?' He said: 'Jibra'il.' It was said: 'Who is with you?' He said: 'Muhammad.' And the same exchange took place. I came to Yusuf, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' Then we came to the fourth heaven and the same exchange took place. I came to Idris, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' Then we came to the fifth heaven and the same exchange took place. I came to Harun, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' Then we came to the sixth heaven and the same exchange took place. I came to Musa, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.' What I passed him, he wept, and it was said: 'Why are you weeping?' He said: 'O Lord, this young man whom You have sent after me, more of his Ummah will enter Paradise than from my nation, and they will be more virtuous than them.' Then we came to the seventh heaven and a similar exchange took place. I came to Ibrahim, peace be upon him, and greeted him, and he said: 'Welcome to you! What an excellent son and Prophet.' Then I was taken up to the Oft-Frequented House (Al-Bait al-Ma'mur) and I asked Jibra'il about it, and he said: 'This is Al-Bait al-Ma'mur in which seventy thousand angels pray everyday, and when they leave it they never come back.' Then I was taken up to Sidrah Al-Muntaha (the Lote-Tree of the Utmost Boundary). Its fruits were like Qilal [2] of Hajar and its leaves were like the ears of elephants. At its base were four rivers: Two hidden rivers and two manifest rivers. I asked Jibril (About them) and he said: 'The two hidden ones are in paradise, and the two manifest ones are the Euphrates and the Nile.' Then fifty prayers were enjoined upon me. I came to Musa and he said: 'What happened?' I said: 'Fifty prayers have been enjoined upon me.' He said: 'I know more about the people than you. I tried hard with the Children of Israel. Your Ummah will never be able to bear that. Go back to your Lord and ask Him to reduce it for you.' So I went back to my Lord and asked Him to reduce it, and He made it forty. Then I went back to Musa, peace be upon him, and he said: 'What happened?' I said: 'He made it forty.' He said to me something similar to what he said the first time, so I went back to my Lord and He made it thirty. I came to Musa, peace be upon him, and told him, and he said to me something similar to what he said the first time, so I went back to my Lord and he made it twenty, then ten, then five. I came to Musa, peace be upon him, and he said to me something like he had said the first time, but I said: 'I feel too shy before my Lord to go back to Him.' Then it was called out: 'I have decreed (the reward for) My obligation, and I have reduced the burden for My slaves and I will give a ten-fold reward for each good deed.'" [1] It is like this here, while it is Jibra'il the first time it appears in this narration, and Jibra'il is often used in the Hadith literature. [2] Plural of Qullah
انس بن مالک، مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس نیم خواب اور نیم بیداری میں تھا کہ اسی دوران میرے پاس تین ( فرشتے ) آئے، ان تینوں میں سے ایک جو دو کے بیچ میں تھا میری طرف آیا، اور میرے پاس حکمت و ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لایا گیا، تو اس نے میرا سینہ حلقوم سے پیٹ کے نچلے حصہ تک چاک کیا، اور دل کو آب زمزم سے دھویا، پھر وہ حکمت و ایمان سے بھر دیا گیا، پھر میرے پاس خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور لایا گیا، میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ چلا، تو ہم آسمان دنیا پر آئے، تو پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، پوچھا گیا: کیا بلائے گئے ہیں؟ مرحبا مبارک ہو ان کی تشریف آوری، پھر میں آدم علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر ہم دوسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے ان دونوں کو سلام کیا، ان دونوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں یوسف علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے، وہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں ادریس علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم پانچویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، میں ہارون علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی، اور نبی! پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! تو جب میں ان سے آگے بڑھا، تو وہ رونے لگے ۱؎، ان سے پوچھا گیا آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: پروردگار! یہ لڑکا جسے تو نے میرے بعد بھیجا ہے اس کی امت سے جنت میں داخل ہونے والے لوگ میری امت کے داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ اور افضل ہوں گے، پھر ہم ساتویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر بیت معمور ۲؎ میرے قریب کر دیا گیا، میں نے ( اس کے متعلق ) جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ بیت معمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں، جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو پھر دوبارہ اس میں واپس نہیں ہوتے، یہی ان کا آخری داخلہ ہوتا ہے، پھر سدرۃ المنتھی میرے قریب کر دیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کان جیسے تھے، اور اس کی جڑ سے چار نہریں نکلی ہوئی تھی، دو نہریں باطنی ہیں، اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: باطنی نہریں تو جنت میں ہیں، اور ظاہری نہریں فرات اور نیل ہیں، پھر میرے اوپر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں، میں لوٹ کر موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میرے اوپر پچاس نمازیں فرض کی گئیں ہیں، انہوں نے کہا: میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں، میں بنی اسرائیل کو خوب جھیل چکا ہوں، آپ کی امت اس کی طاقت بالکل نہیں رکھتی، اپنے رب کے پاس واپس جایئے، اور اس سے گزارش کیجئیے کہ اس میں تخفیف کر دے، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اللہ تعالیٰ نے چالیس نمازیں کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس کر دی ہیں، پھر انہوں نے مجھ سے وہی بات کہی جو پہلی بار کہی تھی، تو میں پھر اپنے رب عزوجل کے پاس واپس آیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تیس کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، اور انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے انہیں بیس پھر دس اور پھر پانچ کر دیں، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں نے کہا: ( اب مجھے ) اپنے رب عزوجل کے پاس ( باربار ) جانے سے شرم آ رہی ہے، تو آواز آئی: میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے، اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے، اور میں نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں ۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَوَّلُ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَ رَجُلاً مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذِ أَحَدِهِمْ - قَالَ - فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ فَقَالَ أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي لاَ تَنْفِرُ الإِبِلُ فَأَعْطَاهُ عِقَالاً يَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ فَلَمَّا نَزَلُوا وَعُقِلَتِ الإِبِلُ إِلاَّ بَعِيرًا وَاحِدًا فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الإِبِلِ قَالَ لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ ‏.‏ قَالَ فَأَيْنَ عِقَالُهُ قَالَ مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ فَاسْتَغَاثَنِي فَقَالَ أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي لاَ تَنْفِرُ الإِبِلُ ‏.‏ فَأَعْطَيْتُهُ عِقَالاً فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ قَالَ مَا أَشْهَدُ وَرُبَّمَا شَهِدْتُ ‏.‏ قَالَ هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدَّهْرِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ إِذَا شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ يَا آلَ قُرَيْشٍ فَإِذَا أَجَابُوكَ فَنَادِ يَا آلَ هَاشِمٍ فَإِذَا أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلاَنًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا قَالَ مَرِضَ فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ مَاتَ فَنَزَلْتُ فَدَفَنْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ كَانَ ذَا أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ ‏.‏ فَمَكُثَ حِينًا ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الْيَمَانِيَّ الَّذِي كَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبَلِّغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ قَالَ يَا آلَ قُرَيْشٍ ‏.‏ قَالُوا هَذِهِ قُرَيْشٌ ‏.‏ قَالَ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ ‏.‏ قَالُوا هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ ‏.‏ قَالَ أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ قَالَ هَذَا أَبُو طَالِبٍ ‏.‏ قَالَ أَمَرَنِي فُلاَنٌ أَنْ أُبَلِّغَكَ رِسَالَةً أَنَّ فُلاَنًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ ‏.‏ فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلاَثٍ إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا خَطَأً وَإِنْ شِئْتَ يَحْلِفُ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ ‏.‏ فَأَتَى قَوْمَهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ فَقَالُوا نَحْلِفُ ‏.‏ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ فَقَالَتْ يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ وَلاَ تُصْبِرْ يَمِينَهُ ‏.‏ فَفَعَلَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلاً أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الإِبِلِ يُصِيبُ كُلُّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ فَهَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي وَلاَ تُصْبِرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبَرُ الأَيْمَانُ ‏.‏ فَقَبِلَهُمَا وَجَاءَ ثَمَانِيَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلاً حَلَفُوا ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَالأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ ‏.‏
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The first instance of Qasamah during the Jahiliyyah involved a man from Banu Hashim who was employed by a man from Quraish, from another branch of the tribe. He went out with him, driving his camels and another man from Banu Hashim passed by them. The leather rope of that man's bag broke, so he said (to the hired worker): 'Help me by giving me a rope with which to tie the handle of my bag, lest the camels run away from me. 'So he gave him a rope and he tied his gab with it. When they halted, all the camels' legs were hobbled except one camel. The one who had hired him said: 'Why is his camel, out of all of them, not hobbled? He said: 'There is no rope for it. He said: 'Where is its rope? He said: A man from Banu Hashim passed by and the leather rope of his bag had broken, and he asked me to help him; he said: "Help me by giving me a rope with which to tie the handle of my bag lest the camels run away from me, so I gave him a rope . " He struck him with a stick, which led to his death.Then a man from Yemen passed by him (the man from Banu Hashim, (the man from Banu Hashim, just before he died) and he (the Hashimi man) said: 'Are you going to attend the Pilgrimage? He said: 'I do not think I will attend it, but perhaps I will attend it.' He said: 'Will you convey a message from me once in your lifetime? He said: 'Yes. 'He said: 'If you attend the pilgrimage, then call out, O family of Quraish! If they respond, then call out, O family of Hashim! If they respond, then ask for Abu Talib, and tell him that so and so killed me for a rope.' Then the hired worker died. When the one who had hired him cam, Abu Talib went to him and said: 'What happened to our companion? He said: 'He fell sick and I took good care of him, but he died, so I stopped and buried him.' He said: 'He deserved that from you. 'Some time passed, then the Yemeni man who had been asked to convey the message arrived at the time of the pilgrimage. He said: 'O family of Quraish! And they said: 'Here is Quraish.' He said: 'O family of Banu Hashim! They said: 'Here is Banu Hashim.' He said" 'Where is Abu Talib? He said: 'Here is Abu Talib.' He said: 'so and so asked me to convey a message to you, that so and so killed him for a camel's rope.' Abu Talib went to him and said" 'Choose one of three alternatives that we are offering you. If you wish, you may give us one hundred camels, because you killed our companion by mistake: or if you wish, fifty of your men may swear an oath that you did not kill him; or if you wish, we will kill you in retaliation. 'He went to his people and told them about that, and they said: 'We will swear the oath.' Then a woman from Banu Hashim, who was married to one of their men and had born him a child, came to Abu Talib and said:' O Abu Talib, I wish that my son, who is one of these fifty men, should be excused from having to take the oath., So the excused him. Then one of the men came to him and said: 'O Abu Talib, you want fifty men to take the oath in lieu of one hundred camels, which means that each man may give two camels instead, so here are two camels; take them from me, and do not make me take the oath.' So he accepted them, and did not make him take the oath. Then forty-eight men came and took the oath." Ibn 'Abbas said: "By the One in Whose hand is my soul, by the time a year has passed, none of those forty-eight men remained alive
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from abu Hurairah that the Messenger of Allah said:"No one who commits Zina is a believer at the moment when he is committing Zina; no one who steals is a believe at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it; and no robber is a believer at the moment when he is robbing and the people are looking on
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ‏.‏ فَقَالَ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ‏"‏ ‏.‏ يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ‏.‏
It was narrated from Ibn Shihab that 'Umar bin 'Abdul-'Aziz delayed the 'Asr prayer a little. 'Urwah said to him:"Jibril came down and led the Messenger of Allah (ﷺ) in prayer." 'Umar said: "Watch what you are saying, O 'Urwah!" He said: "I heard Bashir bin Abi Mas'ud say: 'I heard Abu Mas'ud say: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Jibril came down and led me in prayer, and I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him, then I prayed with him - and he counted off five prayers on his fingers
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر میں کچھ تاخیر کر دی، تو عروہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی ۱؎ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو تم کہہ رہے ہو اسے خوب سوچ سمجھ کر کہو، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ابومسعود سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جبرائیل اترے، اور انہوں نے میری امامت کرائی، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازوں کو گن رہے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ - مِنْ لَفْظِهِ - قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Messenger of Allah [SAW] was asked: "Which deed is best?" "He said: Faith in Allah [SWT] and His messenger [SAW]
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَشَرَةٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَالاِسْتِنْشَاقُ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُصْعَبٌ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah that:The Messenger of Allah [SAW] said: "Ten things are part of the Fitrah: Trimming the mustache, trimming the nails, washing the joints, letting the beard grow, using the Siwak, rinsing the nose, plucking the armpit hairs, shaving the pubes, and washing with water (after relieving oneself)." Mus'ab bin Shaibah said: "I have forgotten the tenth, unless it was rinsing the mouth
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا ‏"‏‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ ‏"‏‏.‏
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As that:The Prophet [SAW] said: "Those who are just and fair will be with Allah, Most High, on thrones of light, at the right hand of the Most Merciful, those who are just in their rulings and in their dealings with their families and those of whom they are in charge." Muhammad (one of the narrators) said in his Hadith: "And both of His hands are right hands
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَصَابَنَا طَشٌّ وَظُلْمَةٌ فَانْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ بِنَا ثُمَّ ذَكَرَ كَلاَمًا مَعْنَاهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُصَلِّيَ بِنَا فَقَالَ ‏"‏ قُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ ‏"‏ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏}‏ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاَثًا يَكْفِيكَ كُلَّ شَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Mu'adh bin 'Abdullah that his father said:"It was raining and dark, and we were waiting for the Messenger of Allah [SAW] to lead us in prayer. Then the Messenger of Allah [SAW] came out to lead us in prayer and he said: 'Say.' I said: 'What should I say?' He said: 'Say: He is Allah, (the) One and Al-Mu'awwadhatain in the evening and in the morning, three times, and that will suffice you against everything
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّنِّيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ فِي بَيْتِهِ قَالَ أَنْبَأَنَا الإِمَامُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عُمَرَ رضى الله عنه قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا‏.‏ فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا‏.‏ فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ‏}‏ فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَقَامَ الصَّلاَةَ نَادَى لاَ تَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا‏.‏ فَنَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغَ ‏{‏ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ ‏}‏ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه انْتَهَيْنَا انْتَهَيْنَا‏.‏
It was narrated from 'Umar that:When the prohibition of Khamr was revealed, 'Umar said: "O Allah, give us a clear ruling on Khamr," and the Verse in Al-Baqarah was revealed. 'Umar was called and it was recited to him. Then 'Umar said: "O Allah, give us a clear ruling on Khamr," and the Verse in An-Nisa' was revealed: "O you who believe! Approach not As-Salah (the prayer) when you are in a drunken state". And when the Iqamah for prayer was said, the caller of the Messenger of Allah [SAW] would cry out: "O you who believe! Approach not As-Salah (the prayer) when you are in a drunken state." 'Umar was called and this was recited to him. Then he said: "O Allah, give us a clear ruling on Khamr." Then the Verse in Surat Al-Ma'idah was revealed, and 'Umar was called, and it was recited to him. When he reached the words, "So, will you not then abstain?," 'Umar said: "We have abstained, we have abstained
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
Nafi' narrated that 'Abdullah bin 'Umar used to say:"When the Muslims arrived in Al-Madinah they used to gather and try to figure out the time for prayer, and no one gave the call to prayer. One day they spoke about that; some of them said: 'Let us use a bell like the Christians do;' others said, 'No, a horn like the Jews have.' 'Umar, may ,Allah be pleased with him, said: 'Why don't you send a man to announce the time of prayer?' The Messenger of Allah (S.A.W) said: 'O Bilal, get up and give the call to prayer
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت کا اندازہ کرتے تھے، اس وقت کوئی نماز کے لیے اذان نہیں دیتا تھا، تو ایک دن لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی، تو کچھ لوگ کہنے لگے: نصاریٰ کے مانند ایک ناقوس بنا لو، اور کچھ لوگ کہنے لگے: بلکہ یہود کے سنکھ کی طرح ایک سنکھ بنا لو، تو اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم کسی شخص کو بھیج نہیں سکتے کہ وہ نماز کے لیے پکار دیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! اٹھو اور نماز کے لیے پکارو ۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Amr bin 'Abasah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Whoever builds a Masjid in which Allah is remembered, Allah, (the Mighty and Sublime) will build for him a house in Paradise
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی مسجد بنائی جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
Narrated by Al Bara bin Azib
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ ‏.‏ فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ ‏.‏
Narrated Al Bara bin Azib:Al Bara bin Azib said: The messenger of Allah (peace be upon him) came to Al-Madinah and prayed toward Bait-al-Maqdis for sixteen months, then he was commanded to pray toward the Ka'bah. A man who had prayed with the prophet (peace be upon him)passed by some of the Ansar and said: "I bear witness that the messenger of Allah (peace be upon him) has been commanded to face toward the Ka'bah. So they turned to face the Ka'bah
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سولہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب نماز پڑھی، پھر آپ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیئے گئے، ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے، وہ لوگ ( یہ سنتے ہی نماز کی حالت میں ) کعبہ کی طرف پھر گئے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ الأَنْصَارُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ‏.‏ فَأَتَاهُمْ عُمَرُ فَقَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ ‏.‏
It was narrated that 'Abdullah said:"When the Messenger of Allah(ﷺ) passed away, the Ansar said: 'Let there be an Amir from among us and an Amir from among you.' Then 'Umar came to them and said: 'Do you not know that the Messenger of Allah(ﷺ) commanded Abu Bakr to lead the people in prayer? Who mong you could accept to put himself ahead of Abu Bakr?' They said: 'We seek refuge with Allah from putting ourselves ahead of Abu Bakr
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کہنے لگے: ایک امیر ہم ( انصار ) میں سے ہو گا اور ایک امیر تم ( مہاجرین ) میں سے، تو عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، اور کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ۱؎، تو اب بتاؤ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر تم میں سے کس کا جی خوش ہو گا؟ ۲؎ تو لوگوں نے کہا: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۳؎۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، ح وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، - هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ الزُّهْرِيُّ - قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ إِذَا قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ ‏"‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلاَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ‏.‏
It was narrated that Ibn Umar said:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he said the opening Takbir of the prayer, raise his hands until they were level with his shoulders. When he said the Takbir before bowing he did likewise, and when he said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him),' he did likewise, then he said: 'Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, to You be praise).' But he did not do that when he prostrated or when he raised his head from prostration
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں تکبیر تحریمہ شروع کرتے تو جس وقت اللہ اکبر کہتے اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل کر لیتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے، پھر جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ۱؎، اور «ربنا ولك الحمد» کہتے اور سجدہ میں جاتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہیں کرتے۔