بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
15 hadith
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ مَاتَتْ و لَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ هَلاَّ آذَنْتُمُونِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لأَصْحَابِهِ ‏"‏ صُفُّوا عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَصَلَّى عَلَيْهَا ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amir bin Rabi’ah, from his father, that a black woman died and the Prophet (ﷺ) was not told about that. Then he was informed of it, and he said:“Why did you not tell me?” Then he said to his Companions: “Line up in rows to pray for her,” and he offered the funeral prayer for her
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی ؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صُيَّامًا. فَقَالَ: ‏"‏ مَا هَذَا؟ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ نَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) came to Al- Madinah, and he found the Jews observing a fast. He said: ‘What is this?’ They said: ‘This is the day when Allah saved Musa and drowned Pharaoh, so Musa fasted this day in gratitude.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘We have more right to Musa than you do.’ So he fasted (that day) and enjoined (others) to fast it also.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی، اور فرعون کو پانی میں ڈبو دیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن شکریہ میں روزہ رکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۱؎، آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا، اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from 'Aishah:that the Prophet Allah said: “Suckling once or twice does not make (marriage) unlawful.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، وَعَلِيٌّ، ابْنَا الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَرَّادِ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، حَدَّثَهُمَا أَنَّ أَبَاهُ الْمُنْذِرَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَهَبَ إِلَى سُوقِ النَّبِيطِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى سُوقٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا السُّوقِ فَطَافَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَذَا سُوقُكُمْ فَلاَ يُنْتَقَصَنَّ وَلاَ يُضْرَبَنَّ عَلَيْهِ خَرَاجٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Usaid said that :the Messenger of Allah (ﷺ) went to the market of Nabit,[1] and looked at it, and said: "This is not a market for you." Then we went to another market and looked at it, and said: "This is not a market for you." Then he came back to this market and walked around in it then he said: "This is your market. It will always be your market and no duty will be levied on it." (Do,if)
ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبیط کے بازار تشریف لے گئے، اس کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ بازار تمہارے لیے نہیں ہے پھر ایک دوسرے بازار میں تشریف لے گئے، اور اس کو دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بازار بھی تمہارے لیے نہیں ہے، پھر اس بازار میں پلٹے اور اس میں ادھر ادھر پھرے، پھر فرمایا: یہ تمہارا بازار ہے، اس میں نہ مال کم دیا جائے گا اور نہ اس میں کوئی محصول ( ٹیکس ) عائد کیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كِرْكِرَةُ ‏.‏ فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هُوَ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ فَوَجَدُوا عَلَيْهِ كِسَاءً أَوْ عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:“There was a man called Kirkah in charge of the goods of the Prophet (ﷺ), who died. The Prophet (ﷺ) said: ‘He is in Hell.’ They went and looked, and found him wearing a garment or a cloak that he had stolen from the spoils of war.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہے ، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ، يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَخِيهِ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلَمْ يَنْزِلْ نَسْخُهُ قَالَ فِي ذَلِكَ بَعْدُ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ ‏.‏
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah bin Shikhkhir said:“Imran bin Husain said to me: ‘I will tell you a Hadith, that Allah may benefit you thereby after this day. Know that Allah’s Messenger (ﷺ) had a group from his family perform ‘Umrah during the ten (days) of Dhul-Hijjah, and the Messenger of Allah (ﷺ) did not forbid that, and no abrogation of that was revealed, and it does not matter what anyone else suggests.’”
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لاَ يَجِدُونَ الْعَشَاءَ وَكَانَ عَامَّةَ خُبْزِهِمْ خُبْزُ الشَّعِيرِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to spend many nights in a row hungry and his family could find no supper, and usually their bread was barley bread.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کئی راتیں بھوکے گزارتے، اور ان کے اہل و عیال کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا، اور اکثر ان کے کھانے میں جو کی روٹی ہوتی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّ جُنْدَبٍ، قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ بَلاَءٌ لاَ يَتَكَلَّمُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا ابْنِي وَبَقِيَّةُ أَهْلِي وَإِنَّ بِهِ بَلاَءً لاَ يَتَكَلَّمُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ ائْتُونِي بِشَىْءٍ مِنْ مَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ فَاهُ ثُمَّ أَعْطَاهَا فَقَالَ ‏"‏ اسْقِيهِ مِنْهُ وَصُبِّي عَلَيْهِ مِنْهُ وَاسْتَشْفِي اللَّهَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ لَوْ وَهَبْتِ لِي مِنْهُ ‏.‏ فَقَالَتْ إِنَّمَا هُوَ لِهَذَا الْمُبْتَلَى ‏.‏ قَالَتْ فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْغُلاَمِ فَقَالَتْ بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلاً لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ ‏.‏
It was narrated that Umm Jundub said:“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) stoning the ‘Aqabah Pillar from the bottom of the valley on the Day of Sacrifice, then he went away. A woman from Khath’am followed him, and with her was a son of hers who had been afflicted, he could not speak. She said: ‘O Messenger of Allah! This is my son, and he is all I have left of my family. He has been afflicted and cannot speak.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Bring me some water.’ So it was brought, and he washed his hands and rinsed out his mouth. Then he gave it to her and said: ‘Give him some to drink, and pour some over him, and seek Allah’s healing for him.’” She (Umm Jundub) said: “I met that woman and said: ‘Why don’t you give me some?’ She said: ‘It is only for the sick one.’ I met that woman one year later and asked her about the boy. She said: ‘He recovered and became (very) smart, not like the rest of the people.’”
ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب تھا، وہ بولتا نہیں تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے، اور اس پر ایک بلا ( آسیب ) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا سا پانی لاؤ ، پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا، اور فرمایا: اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو ، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں، ( تو اچھا ہوتا ) تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے سال بھر بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے، اور اسے ایسی عقل آ گئی جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ أَنْتُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِيَكُونَ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَىَّ الإِثْمُ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Razin said:'I saw Abu Hurairah hitting his forehead with his hand and saying: "O people of Iraq! Do you claim that I would tell a lie against the Messenger of Allah so that it may be more convenient for you and a sin upon me?' I bear witness that I heard the Messenger of Allah say: 'If a dog licks the vessel of anyone of you, let him wash it seven times
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا: اے عراق والو! تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہوں تاکہ تم فائدے میں رہو اور میرے اوپر گناہ ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) wore a silver ring with an Ethiopian gemstone, and he used to ear the stone in towards his palm
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی پہنی، اس میں حبشی نگینہ تھا، آپ اپنے نگینے کو اپنی ہتھیلی کے اندر کی جانب رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلاَّ أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"No one tells the stories to the people (for the purpose of exhortation) except a ruler, one appointed by a ruler, or a show-off
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلاَّ الْبِرُّ وَلاَ يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلاَّ الدُّعَاءُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Nothing increases one’s life span except righteousness and nothing repels the Divine decree except supplication, and a man may be deprived of provision by a sin that he commits.’”
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی ہی عمر کو بڑھاتی ہے، اور تقدیر کو دعا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی، اور کبھی آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے ملنے والے رزق سے محروم ہو جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Sa’d bin Abu Waqqas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:‘Weep, and if you cannot weep then pretend to weep.”
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رویا کرو، اگر رونا نہ آئے تو تکلف کر کے رؤو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قُلْنَا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلاَمُ عَلَى جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَعَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ ‏.‏ يَعْنُونَ الْمَلاَئِكَةَ ‏.‏ فَسَمِعَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُولُوا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ فَإِذَا جَلَسْتُمْ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏.‏ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، وَحُصَيْنٍ، وَأَبِي، هَاشِمٍ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَأَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، وَالأَسْوَدِ، وَأَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّشَهُّدَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said:“When we performed prayer with the Prophet (ﷺ) we said: ‘Peace be upon Allah from His slaves, peace be upon Jibra’il and Mika’il and so-and-so and so-and- so.’ The Messenger of Allah (ﷺ) heard us and said: ‘Do not say peace (Salam) be upon Allah, for He is As-Salam. When you sit (during prayer) say: At-Tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibatu; as- salamu ‘alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu; as- salamu ‘alayna wa ‘ala ‘ibadillahis-salihin (All compliments, prayers and good words are due to Allah; peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah).” For as you say that it will reach every righteous slave in the heavens and on earth. (Then say:) “Ashhadu an la ilaha illallah wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa Rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger).” (Another chain) with similar wording. (Another chain) that `Abdullah bin Mas`ud said: "The Prophet (ﷺ) used to teach us the Tashahhud." And he mentioned similarly
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: «السلام على الله قبل عباده السلام على جبرائيل وميكائيل وعلى فلان وفلان» سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، اور سلام ہو جبرائیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر ، اور وہ مراد لیتے تھے ( فلاں اور فلاں سے ) فرشتوں کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا: تم «السلام على الله» نہ کہو، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم تشہد کے لیے بیٹھو تو کہو «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» عمدہ آداب و تسلیمات اللہ کے لیے ہیں اور نماز اور اچھی باتیں سب اسی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعا ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے، «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى، لِرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنِّي لاَ أَدْرِي قَدْرَ بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ‏.‏
It was narrated that Hudhaifah bin Yaman said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I do not know how long I will stay among you, so follow the example of these two after I am gone,' and he pointed to Abu Bakr and `Umar
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ کب تک میں تمہارے درمیان رہوں، پس میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کی جانب اشارہ کیا۔