حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، وَكَانَ، أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا فُلاَنَةُ . قَالَ فَعَرَفَهَا وَقَالَ " أَلاَ آذَنْتُمُونِي بِهَا " . قَالُوا كُنْتَ قَائِلاً صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ . قَالَ " فَلاَ تَفْعَلُوا لاَ أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلاَّ آذَنْتُمُونِي بِهِ فَإِنَّ صَلاَتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ " . ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَفَّنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا .
Kharijah bin Zaid bin Thabit narrated that Yazid bin Thabit, who was older than Zaid, said:“We went out with the Prophet (ﷺ) and when we reached Al-Baqi’, we saw a new grave. He asked about it and they said: ‘(It is) so-and-so (a woman).’ He recognized the name and said: ‘Why did you not tell me about her?’ They said: ‘You were taking a nap and you were fasting, and we did not like to disturb you.’ He said: ‘Do not do that; I do not want to see it happen again that one of you dies, while I am still among you, and you do not tell me, for my prayer for him is a mercy.’ Then he went to the grave and we lined up in rows behind him, and he said four Takbir (i.e. for the funeral prayer).”
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟ ، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَصُومُ عَاشُورَاءَ، وَيَأْمُرُ بِصِيَامِهِ .
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to fast ‘Ashura’, and he ordered (others) to fast it too.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء ( محرم کی دسویں تاریخ ) کا روزہ رکھتے، اور اس کے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لاَ تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلاَ الرَّضْعَتَانِ أَوِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
It was narrated that Umm Fadl said:that the Messenger of Allah said: “Breastfeeding once or twice, or suckling once or twice, does not make (marriage) unlawful.”
ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ پینے یا چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ " .
It was narrated from Abu Ayyub that the Prophet (ﷺ) said:"Measure your food, may you be blessed therein
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا اناج ناپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ وَتَغَيَّرَتْ لَهُ وُجُوهُهُمْ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ " إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ زَيْدٌ فَالْتَمَسُوا فِي مَتَاعِهِ فَإِذَا خَرَزَاتٌ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said:“A man from (the tribe of) Ashja’ died in Khaibar, and the Prophet (ﷺ) said: ‘Offer the funeral prayer for your companion.’ The people found that strange.* When he saw that, he said: ‘Your companion stole from the spoils of war (when fighting) in the cause of Allah.’”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اشبحع کے ایک شخص کا خیبر میں انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز ( جنازہ ) پڑھ لو، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں ( حاصل شدہ مال غنیمت میں ) خیانت کی ہے ۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے جو کہ دو درہم کے برابر تھے اس کے سامان میں موجود تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَطِيبًا فِي هَذَا الْوَادِي فَقَالَ " أَلاَ إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
It was narrated that Suraqah bin Ju’shum said:“The Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver a speech in this valley, and said: ‘Lo! ‘Umrah has been included in Hajj until the Day of Resurrection.”
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: آگاہ رہو، عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ حَتَّى قُبِضَ .
It was narrated that ‘Aishah said:“The family of Muhammad (ﷺ) never ate their fill of barley bread until he was taken (i.e. died).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال نے کبھی بھی جو کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُبَارَكٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى رَجُلاً فِي يَدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ " مَا هَذِهِ الْحَلْقَةُ " . قَالَ هَذِهِ مِنَ الْوَاهِنَةِ . قَالَ " انْزِعْهَا فَإِنَّهَا لاَ تَزِيدُكَ إِلاَّ وَهْنًا " .
It was narrated from ‘Imran bin Husain that the Prophet (ﷺ) saw a man with a brass ring on his hand. He said:“What is this ring?” He said: “It is for Wahinah.”* He said: “Take it off, for it will only increase you in weakness.”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے، پوچھا: یہ کیسا کڑا ہے، اس نے جواب دیا: یہ واہنہ ۱؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اتارو، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن ( کمزوری ) پیدا کر دے گا ۲؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُطَهَّرُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ يَكِلُ طُهُورَهُ إِلَى أَحَدٍ وَلاَ صَدَقَتَهُ الَّتِي يَتَصَدَّقُ بِهَا يَكُونُ هُوَ الَّذِي يَتَوَلاَّهَا بِنَفْسِهِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:"The Messenger of Allah never entrusted his purification to anyone nor his charity that he had given to anyone; he would be the one to take care of these matters himself
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طہارت ( وضو ) کے برتن کو کسی دوسرے کے سپرد نہیں کرتے تھے، اور نہ اس چیز کو جس کو صدقہ کرنا ہوتا، بلکہ اس کا انتظام خود کرتے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَجْعَلُ فَصَّ خَاتَمِهِ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) used to wear (his ring) with the stone nearest his palm
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلاَءِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ اطَّلَى وَوَلِيَ عَانَتَهُ بِيَدِهِ .
It was narrated from Umm Salamah that:"the Prophet(ﷺ) would coat (with hair removing chemical) and remove the pubic hairs with his hand
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر اپنے ہاتھ سے خود بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " {يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللاَّعِنُونَ } " . قَالَ " دَوَابُّ الأَرْضِ " .
It was narrated from Bara’ bin ‘Azib that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Allah will curse them and those who curse will curse them.” He said: “The inhabitants of the earth.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ: «يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون» یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں ( سورة البقرة: 159 ) ، کی تفسیر میں فرمایا: «اللاعنون» سے زمین کے چوپائے مراد ہیں ۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي جِنَازَةٍ فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى ثُمَّ قَالَ " يَا إِخْوَانِي لِمِثْلِ هَذَا فَأَعِدُّوا " .
It was narrated that Bara’ said:“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at a funeral, and he sat at the edge of the grave weeping, until the ground became wet. Then he said: ‘O my brothers, prepare yourselves for something like this.’”
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازے میں تھے، آپ قبر کے کنارے بیٹھ گئے، اور رونے لگے یہاں تک کہ مٹی گیلی ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائیو! اس جیسی کے لیے تیاری کر لو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلاَءِ، قَالَ سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ " رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْزُقْنِي وَارْفَعْنِي " .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“When praying at night (Qiyamul-Lail), the Messenger of Allah (ﷺ) used to say between the two prostrations: ‘Rabbighfir li warhamni wajburni warzuqni warfa’ni (O Lord, forgive me, have mercy on me, improve my situation, grant me provision and raise me in status).’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي وارحمني واجبرني وارزقني وارفعني» اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھ کو ضائع شدہ چیزوں کا بدلہ دیدے، مجھے رزق دے، اور مجھے بلندی عطا فرما پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى يَرَاهُمْ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ الطَّالِعُ فِي الأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:"The Messenger of Allah said: 'The people of the highest degrees of Paradise will be seen by those beneath them as a rising star is seen on the horizon. Abu Bakr and 'Umar will be among them, and how blessed they are
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند درجے والوں کو ( جنت میں ) نیچے درجہ والے دیکھیں گے جس طرح چمکتا ہوا ستارہ آسمان کی بلندیوں میں دیکھا جاتا ہے، اور ابوبکرو عمر بھی انہیں میں سے ہیں، اور ان میں سب سے فائق و برتر ہیں ۱؎۔