بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
15 hadith
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ مَاتَ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنْ يُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَفَّنَهُ فِي قَمِيصِهِ وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ}‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:“The leader of the hypocrites in Al- Madinah died, and left instructions that the Prophet (ﷺ) should offer the funeral prayer for him and shroud him in his shirt. He offered the funeral prayer for him and shrouded him in his shirt, and stood by his grave. Then Allah revealed the words: ‘And never pray (the funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.” [9:]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منافقین کا سردار ( عبداللہ بن ابی ) مدینہ میں مر گیا، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ ‏.‏
It was narrated from Aswad that ‘Aishah said:“I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) fasting the (first) ten days (of Dhul- Hijjah).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دس دنوں میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۱؎۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ قَالَ لِي أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هُوَ الْمُحَلِّلُ لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Uqbah bin 'Amir narrated:that the Messenger of said: 'Shall I not tell you of a borrowed billy goat.” They said: “Yes, O Messenger of!” He said: “He is Muhallil. May curse the Muhallil and the Muhallal lahu.”
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو «مستعار» ( مانگے ہوئے ) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ صَاعُ الْبَائِعِ وَصَاعُ الْمُشْتَرِي ‏.‏
It was narrated that Jabir said:'The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling food bought by measure until two Sa' have been measured - the Sa' of the seller and the Sa' of the buyer
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کو بیچنے سے منع کیا ہے جب تک اس میں بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے صاع نہ چلیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ ‏.‏ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً }‏ الآيَةَ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) burned the palm trees of Banu Nadir, and cut down Buwairah (the name of their garden). Then Allah revealed the words:“What you (O Muslims) cut down of the palm trees (of the enemy), or you left them standing...” [59:]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کا باغ جلا دیا، اور کاٹ ڈالا، اس باغ کا نام بویرہ تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة» یعنی تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پہ باقی رہنے دیا یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا، اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے ( سورۃ الحشر: ۵ ) ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ طَافَ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ طَوَافًا وَاحِدًا ‏.‏
It was narrated from Jabir that the Prophet (ﷺ) performed one Tawaf for Hajj and ‘Umrah
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے لیے ایک ہی طواف کیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ صَنَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خُبْزَةً وَضَعَتْ فِيهَا شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ ثُمَّ قَالَتِ اذْهَبْ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَادْعُهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أُمِّي تَدْعُوكَ ‏.‏ قَالَ فَقَامَ وَقَالَ لِمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ ‏"‏ قُومُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ هَاتِي مَا صَنَعْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ إِنَّمَا صَنَعْتُهُ لَكَ وَحْدَكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَاتِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَنَسُ أَدْخِلْ عَلَىَّ عَشْرَةً عَشْرَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا زِلْتُ أُدْخِلُ عَلَيْهِ عَشْرَةً عَشْرَةً فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَكَانُوا ثَمَانِينَ ‏.‏
It was narrated that Anas bin Malik said:“Umm Sulaim made some bread for the Prophet (ﷺ), and she put a little ghee on it. Then she said: ‘Go to the Prophet (ﷺ) and invite him (to come and eat).’ So I went and told him: ‘My mother is inviting you (to come and eat).’ So he stood up, and said to the people who were with him: ‘Get up.’ I went ahead of him and told her. Then the Prophet (ﷺ) came and said: ‘Bring what you have made.’ She said: ‘I only made it for you alone.’ He said: ‘Bring it.’ Then he said: ‘O Anas, bring (them) in to me ten by ten.’ So I kept bringing them in ten by ten, and they ate their fill, and there were eighty of them.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( میری والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی تیار کی، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا، پھر کہا: جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ، میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ اٹھو، چلو ، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا، اور انہیں اس کی خبر دی ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں ) اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے، اور فرمایا: جو تم نے پکایا ہے، لاؤ ، میری ماں نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ تو سہی ، پھر فرمایا: اے انس! میرے پاس لوگوں میں سے دس دس آدمی اندر لے کر آؤ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دس دس آدمی آپ کے پاس داخل کرتا رہا، سب نے سیر ہو کر کھایا، اور وہ سب اسّی کی تعداد میں تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ أَتَى جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يُوعَكُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ ‏.‏
It was narrated from ‘Umair that he heard Junadah bin Abu Umayyah say:“I heard ‘Ubadah bin Samit say: ‘Jibra’il (as) came to the Prophet (ﷺ) when he was suffering from fever and said: ‘Bismillahi arqika, min kulli shay’in yu’dhika, min hasadi hasidin, wa min kulli ‘aynin, Allahu yashfika (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you; from the envy of the envier and from every evil eye, may Allah heal you).’”
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، تو انہوں نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من حسد حاسد ومن كل عين الله يشفيك» یعنی اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے، حاسد کے حسد سے، اور ہر نظر بد سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء عطا کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ اسْتَنْجَى مِنْ تَوْرٍ ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ شَرِيكٍ، نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that:The Prophet relieved himself, then he cleaned himself (with water) from a pot made of brass, then he wiped his hand on the ground. Another chain with similar wording
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی، پھر پانی کے برتن سے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر دھویا ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ لَهُ فَصٌّ حَبَشِيٌّ وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) wore a ring of silver, in which was an Ethiopian gemstone and the inscription:‘Muhammad Rasul Allah’ (Muhammad the Messenger of Allah).”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ایک حبشی نگینہ تھا، اور اس میں «محمد رسول الله» کا نقش تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي، يَعْلَى وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ تُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الأَعَاجِمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا الْحَمَّامَاتُ فَلاَ يَدْخُلْهَا الرِّجَالُ إِلاَّ بِإِزَارٍ وَامْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَدْخُلْنَهَا إِلاَّ مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abdullah bin Amr said:"The Messenger of Allah(ﷺ) said: 'You will conquer the lands of the non-Arabs, where you will find houses called Hammamat (bathhouses). Men Should only enter them wearing a waist wrap, and do not let women enter them unless they are sick or bleeding following childbirth
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے عجم کے ممالک فتح ہوں گے، تو وہاں تم کچھ ایسے گھر پاؤ گے جنہیں حمامات ( عمومی غسل خانے ) کہا جاتا ہو گا، تو مرد ان میں بغیر تہہ بند کے داخل نہ ہوں، اور عورتوں کو اس میں جانے سے روکو، سوائے اس عورت کے جو بیمار ہو، یا نفاس والی ہو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو طُوَالَةَ، حَدَّثَنَا نَهَارٌ الْعَبْدِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لَيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقُولَ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ أَنْ تُنْكِرَهُ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ يَا رَبِّ رَجَوْتُكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa’eed Al-Khudri said:“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Allah will question His slave on the Day of Resurrection, until He says: “What kept you from denouncing evil when you saw it?” When Allah grants His slave a response, he will say: “O Lord, I hoped for Your mercy but I feared the people.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا یہاں تک کہ وہ پو چھے گا کہ تم نے جب خلاف شرع کام ہوتے دیکھا تو اسے منع کیوں نہ کیا؟ تو جب اس سے کوئی جواب نہ بن سکے گا تو اللہ تعالیٰ خود اس کو جواب سکھائے گا اور وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیرے رحم کی امید رکھی، اور لوگوں کا خوف کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“If you knew what I know, you would laugh little and weep much.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Ali said:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: “Do not squat between the two prostrations.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الأُمَّةِ الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّهِ إِنْ مَرِضُوا فَلاَ تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلاَ تَشْهَدُوهُمْ وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلاَ تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Magicians of this Ummah are those who deny the decrees of Allah. If they fall sick, do not visit them; if they die, do not attend their funerals; and if you meet them, do not greet them with Salam
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو ۱؎۔