حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " صَلُّوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet (ﷺ) said:“Offer the funeral prayer for your dead by night or by day.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ " . يَعْنِي الْعَشْرَ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلاَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: " وَلاَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَىْءٍ " .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There are no days during which righteous deeds are more beloved to Allah than these days,” meaning the (first) ten days of Dhul- Hijjah. They said: “O Messenger of Allah! Not even Jihad in the cause of Allah?” He said: “Not even Jihad in the cause of Allah, unless a man goes out with himself and his wealth and does not bring anything back.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:“The Messenger of Allah cursed the Muhallil and the Muhallal lahu.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (ﷺ) said:"Whoever buys food, let him not sell it until he has taken full possession of it
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اناج خریدے تو اس پر قبضہ سے پہلے اسے نہ بیچے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَرْنَا عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهَا النَّاسُ فَأَفْرَجُوا لَهُ فَقَالَ (مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ فِيمَنْ يُقَاتِلُ) . ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ (انْطَلِقْ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ يَقُولُ لاَ تَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلاَ عَسِيفًا). حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ، عَنْ جَدِّهِ، رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ يُخْطِئُ الثَّوْرِيُّ فِيهِ.
It was narrated that Hanzalah Al-Katib said:“We went out to fight alongside the Messenger of Allah (ﷺ), and we passed by a slain woman whom the people had gathered around. They parted (to let the Prophet (ﷺ) through) and he said: ‘This (woman) was not one of those who were fighting.’ Then he said to a man: ‘Go to Khalid bin Walid and tell him that the Messenger of Allah (ﷺ) commands you: “Do not kill any children or women, or any (farm) laborer.’” Another chain reports a similar hadith
حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ ) میں شریک تھے، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا، وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے آپ کے لیے جگہ خالی کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی ( پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا ) اس کے بعد ایک شخص سے کہا: خالد بن ولید کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں، بچوں، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو طَلْحَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“Abu Talhah told me that the Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj and ‘Umrah together (Qiran).”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ملایا یعنی قران کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ السُّلَمِيُّ أَبُو الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَوَّلُ مَا سَمِعْنَا بِالْفَالُوذَجِ، أَنَّ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ تُفْتَحُ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ فَيُفَاضُ عَلَيْهِمْ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الْفَالُوذَجَ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَمَا الْفَالُوذَجُ " . قَالَ يَخْلِطُونَ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ جَمِيعًا . فَشَهَقَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِذَلِكَ شَهْقَةً .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The first we heard of Faludhaj* was when Jibril (as) came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘The world will be opened for your nation and they will conquer the world, until they eat Faludhaj.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘What is Faludhaj?’ He said: ‘They mix ghee and honey together.’ At that, the Prophet (ﷺ) sobbed.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم نے «فالوذج» کا نام اس وقت سنا جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا: تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی، اور اس پر دنیا کے مال و متاع کا ایسا فیضان ہو گا کہ وہ لوگ «فالوذج» کھائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: «فالوذج» کیا ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ هِشَامٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مِنْهَالٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ يَقُولُ " أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ " . قَالَ " وَكَانَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ يَعُوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ " . أَوْ قَالَ " إِسْمَاعِيلَ وَيَعْقُوبَ " . وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The Prophet (ﷺ) used to seek refuge for Hasan and Husain and say: A’udhu bi kalimatil-lahil- tammati, min kulli shaitanin wa hammah, wa min kulli ‘aynin lammah (I seek refuge for you both in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous reptile, and from every evil eye).’ And he would say: ‘Thus Ibrahim used to seek refuge with Allah for Isma’il and Ishaq,’ or he said: ‘for Isma’il and Ya’qub.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) پر دم فرماتے تو کہتے: «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ، بچھو وغیرہ ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے ، اور فرماتے: ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے یا کہا: اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَغْسِلُ مَقْعَدَتَهُ ثَلاَثًا . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً وَطُهُورًا . قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، نَحْوَهُ .
It was narrated from 'Aishah that:The Prophet used to wash his private parts three times. Ibn 'Umar said: "We did that and we found it to be healing and a means of purification
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرین کو تین بار دھوتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ایسے ہی کیا، تو اسے دوا اور پاکی دونوں پایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ " لاَ يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا " .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) wore a ring of silver, then he had engraved on it (the words) ‘Muhammad Rasul Allah’ (Muhammad the Messenger of Allah). And he said: ‘No one should have his ring engraved like this ring of mine.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اس میں «محمد رسول الله» نقش کرایا، اور فرمایا: میری انگوٹھی کا یہ نقش کوئی اور نہ کرائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " .
It was narrated from Abu Mas'ud that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"One who is consulted is entrusted
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے ( لہٰذا وہ دیانتداری سے مشورہ دے ) ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ، حَفْصُ بْنُ غَيْلاَنَ الرُّعَيْنِيُّ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى نَتْرُكُ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىَ عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ " إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي الأُمَمِ قَبْلَكُمْ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ظَهَرَ فِي الأُمَمِ قَبْلَنَا قَالَ " الْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ وَالْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ " . قَالَ زَيْدٌ تَفْسِيرُ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ " . إِذَا كَانَ الْعِلْمُ فِي الْفُسَّاقِ .
It was narrated that Anas bin Malik said:“It was said: ‘O Messenger of Allah, when should we stop enjoining what is good and forbidding what is evil?’ He said: ‘When there appears among you that which appeared among those who came before you.’ We said: ‘O Messenger of Allah, what appeared among those that came before us?’ He said: ‘Kingship given to your youth, immorality even among the old, and knowledge among the base and vile.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کس وقت ترک کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہو جائیں جو گذشتہ امتوں میں ظاہر ہوئی تھیں ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے گذشتہ امتوں میں کون سی باتیں ظاہر ہوئی تھیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکومت تمہارے کم عمروں میں چلی جائے گی، اور تمہارے بڑے آدمیوں میں فحش کاری آ جائے گی، اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں چلا جائے ۔ زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: «والعلم في رذالتكم» کا مطلب یہ ہے کہ علم ( دین ) فاسقوں میں چلا جائے گا۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَا مِنْ جُرْعَةٍ أَعْظَمُ أَجْرًا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ جُرْعَةِ غَيْظٍ كَظَمَهَا عَبْدٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ " .
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“There is no gulp that brings greater reward with Allah than a gulp of anger that a man swallows (suppresses), seeking thereby the Face of Allah.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی گھونٹ پینے کا ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے غصہ کا گھونٹ پینے کا ہے ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلاَ يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ " .
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) said:“Be balanced in prostration; none of you should prostrate with his arms spread out like a dog.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال کرو، اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلاَّ الْبِرُّ وَلاَ يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلاَّ الدُّعَاءُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ لِلْخَطِيئَةِ يَعْمَلُهَا " .
It was narrated that Thawban said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Nothing extends one's life span but righteousness, nothing averts the Divine Decree but supplication, and nothing deprives a man of provision but the sin that he commits
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی ۱؎، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ۲؎، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔