بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
15 hadith
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَدْفِنُوا مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ إِلاَّ أَنْ تُضْطَرُّوا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Do not bury your dead at night unless you are forced to.”
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو، مگر یہ کہ تم مجبور کر دئیے جاؤ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لاَ تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلاَّ فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ. فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلاَّ عُودَ عِنَبٍ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ، فَلْيَمُصَّهُ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated from ‘Abdullah bin Busr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Do not fast on Saturdays apart from days when you are obliged to fast. If anyone of you cannot find anything other than grape stalks or the bark of a tree, let him suck on it.” Another chain from 'Abdullah bin Busr, from his sister who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said," and he mentioned similarly
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو، سوائے فرض روزہ کے، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے ( لیکن روزہ نہ رکھے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ فَيُطَلِّقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ قَالَ ‏ "‏ لاَ ‏.‏ حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn 'Umar,:from the Prophet, concerning a man who had a wife then divorced her, then another man married her but divorced her before consummating the marriage. Could she go back to the first man? He said: “No, not until he tastes her sweetness.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِجَنَبَاتِ رَجُلٍ عِنْدَهُ طَعَامٌ فِي وِعَاءٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَقَالَ ‏ "‏ لَعَلَّكَ غَشَشْتَهُ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hamra' said:"I saw the Messenger of Allah (ﷺ) pass by a man having food in a vessel. He put his hand in it and said: 'Perhaps you are cheating. Whoever cheats us is not one of us
ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) saw a woman who had been killed on the road, and he forbade killing women and children
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ الصُّبَىَّ بْنَ مَعْبَدٍ، يَقُولُ كُنْتُ رَجُلاً نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا بِالْقَادِسِيَّةِ فَقَالاَ لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِهِ فَكَأَنَّمَا حَمَلاَ عَلَىَّ جَبَلاً بِكَلِمَتِهِمَا فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَلاَمَهُمَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَىَّ فَقَالَ هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ شَقِيقٌ: فَكَثِيرًا مَا ذَهَبْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ نَسْأَلُهُ عَنْهُ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَخَالِي يَعْلَى قَالُوا حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الصُّبَىِّ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِنَصْرَانِيَّةٍ فَأَسْلَمْتُ فَلَمْ آلُ أَنْ أَجْتَهِدَ، فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
It was narrated that ‘Abdah bin Abu Lubabah said:“I heard Abu Wa’il, Shaqiq bin Salamah, say: ‘I heard Subai bin Ma’bad say: “I was a Christian man, then I became Muslim and I entered Ihram for Hajj and ‘Umrah. Salman bin Rabi’ah and Zaid bin Suhan heard me when I was entering Ihram for them both together at Qadisiyyah. They said: ‘This man is more lost than his camel!’ It was as if they had heaped a mountain on me with their words. I went to ‘Umar bin Khattab and told him about that. He turned to them and reproached them, then he turned to me and said: ‘You have been guided to the Sunnah of the Prophet (ﷺ), you have been guided to the Sunnah of the Prophet (ﷺ).’” Another chain reports a similar narration
صبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں نصرانی تھا، پھر اسلام لے آیا اور حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے قادسیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارتے ہوئے سنا، تو دونوں نے کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے، ان دونوں کے اس کہنے نے گویا میرے اوپر کوئی پہاڑ لاد دیا، میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ملامت کی، پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پایا، تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پایا ۱؎۔ ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ شقیق کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں صبی بن معبد کے پاس اس حدیث کے متعلق پوچھنے باربار گئے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - قَالَ إِسْحَاقُ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ وَقَالَ الدَّارِمِيُّ وَخِوَانُهُ مَوْضُوعٌ - فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا بِعَيْنِهِ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ وَلاَ شَاةً سَمِيطًا قَطُّ ‏.‏
Qatadah said:“We used to go to (visit) Anas bin Malik.” (One of the narrators) Ishaq said: “And his baker was standing there.” (In another narration) Darimi said: “And his table was set. He said one day: ‘(Come and) eat, for the Messenger of Allah (ﷺ) never saw any thin loaf of bread until he met Allah, nor any roasted sheep (with skin).’”
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے ( اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اس وقت ان کا نان بائی کھڑا ہوتا تھا، اور دارمی نے اس اضافے کے ساتھ روایت کی ہے کہ ان کا دستر خوان لگا ہوتا تھا یعنی تازہ روٹیوں کا کوئی اہتمام نہ ہوتا ) ، ایک دن انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے باریک چپاتی دیکھی بھی ہو، یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے، اور نہ ہی آپ نے کبھی مسلّم بھنی بکری دیکھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَعُودُنِي فَقَالَ لِي ‏"‏ أَلاَ أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ جَاءَنِي بِهَا جِبْرَائِيلُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Prophet (ﷺ) came to visit me (when I was sick), and said to me: ‘Shall I not recite for you a Ruqyah that Jibra’il brought to me?’ I said: ‘May my father and mother be ransomed for you! Yes, O Messenger of Allah!’ He said: Bismillah arqika, wallahu yashfika, min kulli da’in fika, min sharrin- naffathati fil-‘uqad, wa min sharri hasidin idha hasad (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from every disease that is in you, and from the evil of those who (practice witchcraft when they) blow in the knots, and from the evil of the envier when he envies), three times.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے؟ ، میں نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ پڑھا: «بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد» اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا، تمہارے ہر مرض سے، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ، نَزَلَتْ ‏{فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ}‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ فَمَا طُهُورُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هُوَ ذَلِكَ فَعَلَيْكُمُوهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sufyan said:"Abu Ayyub Al-Ansari, Jabir bin 'Abdullah, and Anas bin Malik told me that when this Verse: "In it (the mosque) are men who love to clean and to purify themselves. And Allah loves those who make themselves clean and pure." was revealed, the Messenger of Allah said: 'O Ansar! Allah has praised you for your cleanliness. What is the nature of your cleanliness?' They said: 'We perform ablution for prayer and we take bath to cleanse ourselves of impurity due to sexual activity, and we clean ourselves with water (after urinating). He said: 'This is what it is. So adhere to it
ابوایوب انصاری، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ( سورة التوبة: 108 ) ، اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے، تو وہ تمہاری کیسی طہارت ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہماری طہارت یہ ہے کہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، اور جنابت ہونے سے غسل کرتے ہیں، اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا ) یہی سبب ہے، لہٰذا تم لوگ اس طہارت پر کاربند رہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْقَزَعِ ‏.‏
It was narrated that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Qaza’.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah(ﷺ) said:"One who is consulted is entrusted
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے ( لہٰذا وہ ایمانداری سے مشورہ دے ) ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ تَصْنَعُ فِي هَذِهِ الآيَةِ قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ قُلْتُ ‏{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ}‏ قَالَ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْىٍ بِرَأْيِهِ وَرَأَيْتَ أَمْرًا لاَ يَدَانِ لَكَ بِهِ فَعَلَيْكَ خُوَيْصَّةَ نَفْسِكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلاً يَعْمَلُونَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Umayyah Sha’bani said:“I came to Abu Tha’labah Al-Khushani and said: ‘How do you understand this Verse?’ He said: ‘Which verse?’ I said: “O you who believe! Take care of your own selves. If you follow the (right) guidance, no hurt can come to you from those who are in error.”?[5:105] He said: ‘You have asked one who knows about it. I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it and he said: “Enjoin good upon one another and forbid one another to do evil, but if you see overwhelming stinginess, desires being followed, this world being preferred (to the Hereafter), every person with an opinion feeling proud of it, and you realize that you have no power to deal with it, then you have to mind your own business and leave the common folk to their own devices. After you will come days of patience, during which patience will be like grasping a burning ember, and one who does good deeds will have a reward like that of fifty men doing the same deed.”
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، جب تم ہدایت یاب ہو گے تو دوسروں کی گمراہی تمہیں ضرر نہیں پہنچائے گی ( سورة المائدة: 105 ) انہوں نے کہا: تم نے ایک جان کار شخص سے اس کے متعلق سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم دو، اور بری باتوں سے روکو یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخیل کی اطاعت کی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے چلا جاتا ہے، اور دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، ہر صاحب رائے اپنی رائے اور عقل پر نازاں ہے اور تمہیں ایسے کام ہوتے نظر آئیں جنہیں روکنے کی تم میں طاقت نہ ہو تو ایسے وقت میں تم خاص اپنے آپ سے کام رکھو۔ تمہارے پیچھے ایسے دن بھی آئیں گے کہ ان میں صبر کرنا مشکل ہو جائے گا، اور اس وقت دین پر صبر کرنا اتنا مشکل ہو جائے گا جتنا کہ انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا، اس زمانہ میں عمل کرنے والے کو اتنا ثواب ملے گا، جتنا اس جیسا عمل کرنے والے پچاس لوگوں کو ملے گا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لِلأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ ‏ "‏ إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمَ وَالْحَيَاءَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said to Ashajj ‘Ansari:“You have two characteristics that Allah likes: Forbearance and modesty.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عصری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں: ایک حلم اور دوسری حیاء ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي، يَعْلَى عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارِيَةً أَعْزِلُ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ قَدْ حَمَلَتِ الْجَارِيَةُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَا قُدِّرَ لِنَفْسٍ شَىْءٌ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:"A man from among the Ansar came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), I have a slave girl. Should I do 'Azl (coitus interruptus) with her?' He said 'Whatever is decreed for her shall come to her." He (the Ansari) came to him later on and said: "The slave girl has become pregnant." The Prophet (ﷺ) said: "Nothing is decreed for a person but it will surely come to pass
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا ، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ، وَلاَ يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When anyone of you prostrates let him be balanced in prostration, and not spread his arms as a dog does.”
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کا کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے ۱؎، اور اپنے دونوں بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔