حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَدْخَلَ رَجُلاً قَبْرَهُ لَيْلاً وَأَسْرَجَ فِي قَبْرِهِ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) placed a man in his grave at night, and he lit a lamp in his grave
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا، اور اس کی قبر کے پاس ( روشنی کے لیے ) چراغ جلایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَلَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said:“I rarely saw the Messenger of Allah (ﷺ) not fasting on a Friday.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن بہت ہی کم روزہ چھوڑتے ہوئے دیکھا ۱؎ ( جمعہ کے دن روزہ رکھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ، رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ . فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " .
It was narrated from 'Aishah:that the wife of Rifa'ah Al-Qurazi came to the Messenger of Allah and said: “I was married to Rifa'ah, and he divorced me and made it irrevocable. Then I married ' Abdur-Rahman bin Zubair, and what he has is like the fringe of a garment.” The Prophet smiled and said: “Do you want to go back to Rifa'ah? No, not until you taste his ('Abdur-Rahman's) sweetness and he tastes your sweetness.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی ( رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور فرمایا: کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں ۲؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِرَجُلٍ يَبِيِعُ طَعَامًا فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a man who was selling food. He put his hand in it and saw that there was something wrong with it. The Messenger of Allah (ﷺ) said, 'He is not one of us who cheats
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو گیہوں ( غلہ ) بیچ رہا تھا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو وہ«مغشوش» ( غیر خالص اور دھوکے والا گڑبڑ ) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دھوکہ فریب دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ هَوَازِنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَيْنَا مَاءً لِبَنِي فَزَارَةَ فَعَرَّسْنَا حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الصُّبْحُ شَنَنَّاهَا عَلَيْهِمْ غَارَةً فَأَتَيْنَا أَهْلَ مَاءٍ فَبَيَّتْنَاهُمْ فَقَتَلْنَاهُمْ تِسْعَةً أَوْ سَبْعَةَ أَبْيَاتٍ .
It was narrated from Iyas bin Salamah bin Awka’, that his father said:“We attacked Hawazin, with Abu Bakr, during the time of the Prophet (ﷺ), and we arrived at an oasis belonging to Bani Fazarah during the last part of the night. We attacked at dawn, raiding the people of the oasis, and killed them, nine or seven households.”
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قبیلہ ہوازن سے جہاد کیا، چنانچہ ہم بنی فزارہ کے چشمہ کے پاس آئے اور ہم نے وہیں پر پڑاؤ ڈالا، جب صبح کا وقت ہوا، تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا، پھر ہم چشمہ والوں کے پاس آئے ان پر بھی شبخون مارا، اور ان کے نو یا سات گھروں کے لوگوں کو قتل کیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ " .
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) said:“Labbaika bi-‘Umratin wa hajjatin [Here I am (O Allah), for ‘Umrah and Hajj].”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لبيك بعمرة وحجة» حاضر ہوں عمرہ اور حج کے ساتھ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ، عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ زَارَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَوْمَهُ بِيُبْنَا فَأَتَوْهُ بِرُقَاقٍ مِنْ رُقَاقِ الأُوَلِ فَبَكَى وَقَالَ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَذَا بِعَيْنِهِ قَطُّ .
It was narrated from Ibn ‘Ata that his father said:“Abu Hurairah visited his people, meaning, a village” – I (one of the narrators) think he said: “Yuna” – “And they brought him some of the first thin loaves of bread. He wept and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) never saw such a thing with his own eyes.’”
عطا کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے، تو وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی ( چہ جائے کہ کھاتے ) ۱؎۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ جِبْرَائِيلَ، أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ أَوْ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ .
It was narrated from Abu Sa’eed that Jibra’il came to the Prophet (ﷺ) and said:“O Muhammad, you are ill. He said: ‘Yes.’ He said: Bismillahi arqika, min kulli shay’in yu’dhika, min sharri kulli nafsin aw ‘aynin aw hasidin. Allahu yashfika, bismillahi arqika (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you, from the evil of every soul or envious eye, may Allah heal you. In the Name of Allah I perform Ruqyah for you)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: ہاں ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس أو عين أو حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك» اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار، نظر بند، اور حاسد کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ قَطُّ إِلاَّ مَسَّ مَاءً .
It was narrated that 'Aishah said:"I never saw the Messenger of Allah come out of the toilet without first (cleansing himself) with water
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهُ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْقَزَعِ . قَالَ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ أَنْ يُحْلَقَ مِنْ رَأْسِ الصَّبِيِّ مَكَانٌ وَيُتْرَكَ مَكَانٌ .
It was narrated from Nafi’ that Ibn ‘Umar said:“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade Qaza’.” He (Nafi’) said: “What is Qaza’?” He said: “It means shaving part of a child’s head and leaving another part.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: «قزع» کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے «قزع» کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلاً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ " . مِرَارًا ثُمَّ قَالَ " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُهُ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا " .
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abu Bakrah that his father said:"A man praised another man in the presence of Messenger of Allah(ﷺ). The Messenger of Allah(ﷺ) said: 'Woe to you,you have cut the neck of your companion,'several times. Then he said: 'If anyone of you praises his brother, let him say: "I think he is lie this, but I do not sanctify anyone before Allah
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ " .
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:“Marwan brought out the pulpit on the day of ‘Eid, and he started with the sermon before the prayer. A man said: ‘O Marwan, you have gone against the Sunnah. You have brought out the pulpit on this day, and it was not brought out before, and you have started with the sermon before the prayer, and this was not done before.’ Abu Sa’eed said: ‘As for this man, he has done his duty. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever among you sees an evil action and can change it with his hand (by taking action), let him change it with his hand. If he cannot do that, then with his tongue (by speaking out); and if he cannot do that, then with his heart (by hating it and feeling that it is wrong), and that is the weakest of faith.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ الْعَبْدِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " أَتَتْكُمْ وُفُودُ عَبْدِ الْقَيْسِ " . وَمَا يَرَى أَحَدٌ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءُوا فَنَزَلُوا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَبَقِيَ الأَشَجُّ الْعَصَرِيُّ فَجَاءَ بَعْدُ فَنَزَلَ مَنْزِلاً فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ وَوَضَعَ ثِيَابَهُ جَانِبًا ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " يَا أَشَجُّ إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمَ وَالتُّؤَدَةَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشَىْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَمْ شَىْءٌ حَدَثَ لِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " بَلَ شَىْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ " .
Abu Sa’eed Al-Khudri said:“We were sitting with the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: ‘The delegations of ‘Abdul-Qais have come to you,’ and no one had seen anyone. While we were like that, they came and alighted. They came to the Messenger of Allah (ﷺ) and Ashajj ‘Ansari was left behind. He came afterwards, and halted at the halting-place, made his she-camel kneel down, and changed of his traveling clothes, then he came to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Ashajj, you have two characteristics that Allah likes: Forbearance and deliberation.’ He said: ‘O Messenger of Allah, was I born with them or are they acquired?’ He said: ‘No, rather it is something that you were born with.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آ پہنچے، اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، اشج عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے، وہ بعد میں آئے، ایک مقام پر اترے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: ایک تو حلم و بردباری، دوسری طمانینت و سہولت، اشج رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ پیدائشی ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّيشَةِ تُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ بِفَلاَةٍ " .
It was narrated that Abu Musa Al-Ash'ari said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The likeness of the heart is that of a feather blown about by the wind in the desert
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جسے ہوائیں میدان میں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ . ثَلاَثًا فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ وَإِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ثَلاَثًا. فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ " .
It was narrated that Ibn Mas’ud said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When anyone of you bows, let him say in his bowing: “Subhana Rabbiyal-‘Azim (Glory is to my Lord, the Most Great)” three times; if he does that his bowing will be complete. And when anyone of you prostrates, let him say in his prostration, ‘Subhana Rabbiyal-A’la (Glory if to my Lord, the Most High)” three times; if he does that, his prostration will be complete, and that is the minimum.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے رکوع میں تین بار «سبحان ربي العظيم» کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا رکوع مکمل ہو گیا، اور جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں تین بار «سبحان ربي الأعلى» کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا سجدہ مکمل ہو گیا، اور یہ کم سے کم تعداد ہے ۱؎۔