بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sunan Ibn Majah
6
14 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ لَهُ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever offers the funeral prayer in the mosque will have nothing (i.e., no reward).’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى. أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ، فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ. وَيَوْمُ الأَضْحَى تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ ‏.‏
It was narrated that Abu ‘Ubaid said:“I was present for ‘Eid with ‘Umar bin Khattab. He started with the prayer before the sermon, and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) forbade fasting on these two days, the Day of Fitr and the Day of Adha. As for the Day of Fitr, it is the day when you break your fast, and on the Day of Adha you eat the meat of your sacrifices.’”
ابوعبید (سعد بن عبید الزہری) کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید شروع کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو عید الفطر، دوسرے عید الاضحی، رہا عید الفطر کا دن تو وہ تمہارے روزے سے افطار کا دن ہے، اور رہا عید الاضحی کا دن تو اس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا أَبَا صَفْوَانَ بْنَ عُمَيْرَةَ، قَالَ بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رِجْلَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَوَزَنَ لِي فَأَرْجَحَ لِي ‏.‏
It was narrated that Simak bin Harb said:"I heard Malik Abu Safwan bin 'Umairah, say: 'I bought a pair of trousers from the Messenger of Allah (ﷺ) before the Hijrah, and he weighed it for me and allowed more
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مالک ابوصفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا، آپ نے مجھے قیمت تول کر دی، اور جھکا کر دی ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفَّلَهُ سَلَبَ قَتِيلٍ قَتَلَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ ‏.‏
It was narrated from Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatadah (from Abu Qatadah) that the Messenger of Allah (ﷺ) awarded him the spoils of a man whom he killed on the Day of Hunain
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقعہ پر ان کے ہاتھ سے قتل کیے گئے شخص کا سامان انہیں کو دے دیا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَفْرَدَ الْحَجَّ ‏.‏
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) performed Hajj Ifrad (Single Hajj)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ هَلْ رَأَيْتَ النَّقِيَّ قَالَ مَا رَأَيْتُ النَّقِيَّ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ فَقُلْتُ فَهَلْ كَانَ لَهُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ مَا رَأَيْتُ مُنْخُلاً حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ قُلْتُ فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ قَالَ نَعَمْ نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ ‏.‏
‘Abdul-‘Aziz bin Abu Hazim said:My father told me: I asked Sahl bin Sa’d: “Did you ever see dough made from well-sifted flour?” He said: “I never saw dough made from well-sifted flour until the Messenger of Allah (ﷺ) passed away.” I said: “Did they have sieves at the time of the Messenger of Allah (ﷺ)?” He said: “I never saw a sieve until the Messenger of Allah (ﷺ) passed away.” I said: “How did you eat barley that was not sifted?” He said: “We used to blow on it, and whatever flew away, flew away, and whatever was left we made dough with it.”
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَىٍّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ فَتَيَمَّمَ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ‏.‏
It was narrated that Abu Hurairah said:"A man passed by the Prophet while he was urinating, and greeted him with the Salam, but he did not return the greeting. While he finished, he struck the ground with his palms and did dry ablution (Tayammum), then he returned the greeting
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پہ ماریں، اور تیمم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ قَالَ ‏ "‏ أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that ‘Aishah said:“When the Messenger of Allah (ﷺ) came to a sick person, he would make supplication for him, and would say: Adhhibil-bas, Rabban-nas, washfi Antash-Shafi, la shifa’a illa shifa’uka shifa’an la yughadiru saqama (Take away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَعَرًا رَجِلاً بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ
It was narrated that Anas said:“The hair of the Messenger of Allah (ﷺ) was wavy, and (hung down) between his ears and his shoulders.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال دونوں کانوں اور مونڈھوں کے درمیان سیدھے تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ فِينَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ‏{وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ‏)‏ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالرَّجُلُ مِنَّا لَهُ الاِسْمَانِ وَالثَّلاَثَةُ فَكَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رُبَّمَا دَعَاهُمْ بِبَعْضِ تِلْكَ الأَسْمَاءِ فَيُقَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{وَلاَ تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ}‏ ‏.‏
It was narrated that Abu Jabirah bin Dahhak said:"(Allah's saying) "Nor insult one another by nicknames(Surah Al Hujarat 49:11)" was revealed concerning us, the Ansar. When the Prophet(ﷺ) came to us, a man among us would have two or three names, and the Prophet(ﷺ) might call him by one of those names, only to be told: "O Messenger of Allah(ﷺ), he does not like that name." Then:"Nor insult one another by nicknames." was revealed
ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ولا تنابزوا بالألقاب» ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے پاس ( مدینہ ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے دو دو، تین تین نام تھے، بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کا کوئی ایک نام لے کر پکارتے، تو آپ سے عرض کیا جاتا: اللہ کے رسول! فلاں شخص فلاں نام سے غصہ ہوتا ہے، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ولا تنابزوا بالألقاب» کسی کو برے القاب سے نہ پکارو ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا رَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُهَاجِرَةُ الْبَحْرِ قَالَ ‏"‏ أَلاَ تُحَدِّثُونِي بِأَعَاجِيبِ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَرَّتْ بِنَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِ رَهَابِينِهِمْ تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةً مِنْ مَاءٍ فَمَرَّتْ بِفَتًى مِنْهُمْ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ثُمَّ دَفَعَهَا فَخَرَّتْ عَلَى رُكْبَتَيْهَا فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ سَوْفَ تَعْلَمُ يَا غُدَرُ إِذَا وَضَعَ اللَّهُ الْكُرْسِيَّ وَجَمَعَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَتَكَلَّمَتِ الأَيْدِي وَالأَرْجُلُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ فَسَوْفَ تَعْلَمُ كَيْفَ أَمْرِي وَأَمْرُكَ عِنْدَهُ غَدًا ‏.‏ قَالَ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ صَدَقَتْ صَدَقَتْ كَيْفَ يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لاَ يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Jabir said:“When the emigrants who had crossed the sea came back to the Messenger of Allah (ﷺ), he said: ‘Why don’t you tell me of the strange things that you saw in the land of Abyssinia?’ Some young men among them said: ‘Yes, O Messenger of Allah. While we were sitting, one of their elderly nuns came past, carrying a vessel of water on her head. She passed by some of their youth, one of whom placed his hand between her shoulders and pushed her. She fell on her knees and her vessel broke. When she stood up, she turned to him and said: “You will come to know, O traitor, that when Allah sets up the Footstool and gathers the first and the last, and hands and feet speak of what they used to earn, you will come to know your case and my case in His presence soon.’” The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘She spoke the truth, she spoke the truth. How can Allah purify any people (of sin) when they do not support their weak from their strong?’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کے مہاجرین ( یعنی مہاجرین حبشہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے وہ عجیب باتیں کیوں نہیں بیان کرتے جو تم نے ملک حبشہ میں دیکھی ہیں؟ ، ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، ان راہباؤں میں سے ایک بوڑھی راہبہ ہمارے سامنے سر پر پانی کا مٹکا لیے ہوئے ایک حبشی نوجوان کے قریب سے ہو کر گزری، تو اس حبشی نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس بڑھیا کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اس کو دھکا دیا جس کے باعث وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑی، اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، جب وہ اٹھی تو اس حبشی نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی: غدار! ( دھوکا باز ) عنقریب تجھے پتہ چل جائے گا جب اللہ تعالیٰ کرسی رکھے ہو گا، اور اگلے پچھلے سارے لوگوں کو جمع کرے گا، اور ہاتھ پاؤں ہر اس کام کی گواہی دیں گے جو انہوں نے کیے ہیں، تو کل اس کے پاس تجھے اپنا اور میرا فیصلہ معلوم ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے: اس بڑھیا نے سچ کہا، اس بڑھیا نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ اس امت کو گناہوں سے کیسے پاک فرمائے گا، جس میں کمزور کا بدلہ طاقتور سے نہ لیا جا سکے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ وَالإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated from Abu Bakrah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Modesty is part of faith, and faith will be in Paradise. Obscenity in speech is part of harshness and harshness will be in Hell.’”
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی «جفا» ( ظلم و زیادتی ) ہے اور «جفا» ( ظلم زیادتی ) کا بدلہ جہنم ہے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَخْتَصِمُونَ فِي الْقَدَرِ فَكَأَنَّمَا يُفْقَأُ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ فَقَالَ ‏ "‏ بِهَذَا أُمِرْتُمْ أَوْ لِهَذَا خُلِقْتُمْ تَضْرِبُونَ الْقُرْآنَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ ‏.‏ بِهَذَا هَلَكَتِ الأُمَمُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ تَخَلَّفْتُ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَتَخَلُّفِي عَنْهُ.‏
Amr in Shu'aib narrated from his father that his grandfather said:"The Messenger of Allah (ﷺ) came out to his Companions when they were disputing about the Divine Decree, and it was as if pomegranate seeds had burst on his face (i.e. turned red) because of anger. He said: 'Have you been commanded to do this, or were you created for this purpose? You are using one part of the Qur'an against another part, and this is what led to the doom of the nations who came before you.'" 'Abdullah bin 'Amr said: "I was never happy to have missed a gathering with the Messenger of Allah (ﷺ) as I was to have missed that gathering
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے، وہ لوگ اس وقت تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سخت غصہ کی وجہ سے سرخ ہو گیا، گویا کہ آپ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو؟ تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض حصہ سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں ۱؎۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غیر حاضر ہونے کی ایسی خواہش اپنے جی میں نہیں کی جیسی اس مجلس سے غیر حاضر رہنے کی خواہش کی۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي، إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ}‏ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا نَزَلَتْ ‏{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى}‏ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani said:“When the following was revealed: ‘So glorify the Name of your Lord, the Most Great’,[69:52] the Messenger of Allah (ﷺ) said to us: ‘Say this in your Ruku’.’ And when the following was revealed: ‘Glorify the Name of your Lord, the Most High.’[87:1] the Messenger of Allah (ﷺ) said to us: ‘Say this in your prostrations.’”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کہا کرو ، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» نازل ہوئی تو ہم سے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کہا کرو ۱؎۔