حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ " أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ " . فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمْ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ " . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to put two or three of the slain of Uhud in one shroud. He would ask:“Which of them had memorized more Qur’an?” And if one of them was pointed out to him, he would put him in the niche-grave first. And he said: “I am a witness over them.” He commanded that they should be buried with their blood, and that the funeral prayer should not be offered for them and they should not be washed
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے: ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر ( قبلہ کی طرف ) میں آگے کرتے، اور فرماتے: میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں،، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَيَّامُ مِنًى، أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“The days of Mina (11th, 12th, and 13th of Dhul-Hijjah) are days of eating and drinking.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منیٰ کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ " أَوَتَفْعَلُونَ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ " .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Kudri said:“A man asked the Messenger of about coitus interruptus. He said: 'Do you do that? If you do not do so, it will not harm; for there is no soul that (SWT) has decreed will exist but it will come into being.' “
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی ۔ ۱؎
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that :the Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling for many years ahead
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے ( پھلوں کی ) بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُو يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ يَفْتَحِ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ " .
It was narrated from Umm Salamah that :the Prophet (ﷺ) entered upon her, and heard an effeminate man saying to Abdullah bin Abu Umayyah: “If Allah enable us to conquer Ta'if tomorrow, I will show you a woman who comes in on four (roll of fat) and goes out on eight” The Prophet (ﷺ) said: “Throw them out of your houses.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، تو ایک مخنث کو عبداللہ بن ابی امیہ سے یہ کہتے سنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کل طائف فتح کرا دے، تو میں تمہیں ایسی عورت کے بار ے میں بتاؤں گا جو آگے کی طرف مڑتی ہے تو چار سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، اور پیچھے کی جانب مڑتی ہے تو آٹھ سلوٹیں ہو جاتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان ( مخنثوں ) کو اپنے گھروں سے نکال دو ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَطَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) said:“War is deceit.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ سَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَالَكِ أَنَفِسْتِ " . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " . قَالَتْ وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ .
It was narrated that ‘Aishah said:“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ), intending only to perform Hajj. When we were in Sarif or close to Sarif, my menses came. The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me when I was weeping. He said: ‘What is the matter with you? Have your menses come?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘This is something that Allah has decreed for the daughters of Adam. Do all the rites, but do not circumambulate the House.’” She said: “And the Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed a cow on behalf of his wives.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں تھے یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے، تم حج کے سارے اعمال ادا کرو، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدٍ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ - وَكَانَ سَعْدٌ يَخْدُمُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ يُعْجِبُهُ حَدِيثُهُ - أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى عَنِ الإِقْرَانِ . يَعْنِي فِي التَّمْرِ .
It was narrated from Sa’d, the freed slave of Abu Bakr – and Sa’d used to serve the Messenger of Allah (ﷺ) and he liked this Hadith – that the Prophet (ﷺ) forbade eating two dates at once
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سعد رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، اور آپ کو ان کی گفتگو اچھی لگتی تھی) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا، یعنی کھجوروں کو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah said: 'Most of the torment of the grave is because of urine
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ .
It was narrated that ‘Aishah said:“The Messenger of Allah (ﷺ) allowed Ruqyah for snakebites and scorpion stings.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ اور بچھو کے ( کاٹے پر ) دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ . تَعْنِي ضَفَائِرَ .
It was narrated that Mujahid said:“Umm Hani said: ‘When the Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah he had four braids.’”
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے روز ) داخل ہوئے، تو آپ کے سر میں چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ لِصُهَيْبٍ مَا لَكَ تَكْتَنِي بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ . قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِأَبِي يَحْيَى .
It was narrated from Hamzah bin Suhaib that Umar said to Suhaib:"Why are you called Abu Yahya when you do not have a son?" He said: "The Messenger of Allah(ﷺ) gave me the Kunya of Abu Yahya
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابویحییٰ کیوں رکھتے ہو؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابویحییٰ رکھی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَامَ خَطِيبًا فَكَانَ فِيمَا قَالَ " أَلاَ لاَ يَمْنَعَنَّ رَجُلاً هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ " . قَالَ فَبَكَى أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ رَأَيْنَا أَشْيَاءَ فَهِبْنَا .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver a sermon, and one of the things he said was:“Indeed, fear of people should not prevent a man from speaking the truth, if he knows it.” Then Abu Sa'eed wept and said: "By Allah, we have seen things that made us scared (and we did not speak up)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو جو باتیں کہیں، ان میں یہ بات بھی تھی: آگاہ رہو! کسی شخص کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے، جب وہ حق کو جانتا ہو ، یہ حدیث بیان کر کے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت سی باتیں ( خلاف شرع ) دیکھیں، لیکن ہم ڈر اور ہیبت کا شکار ہو گئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا وَخُلُقُ الإِسْلاَمِ الْحَيَاءُ " .
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:“Every religion has its distinct characteristic, and the distinct characteristic of Islam is modesty.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى جِنَازَةِ غُلاَمٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ . قَالَ " أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلاً خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلاً خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ " .
It was narrated that 'Aishah the Mother of the Believers said:"The Messenger of Allah (ﷺ) was called to the funeral of a child from among the Ansar. I said: 'O Messenger of Allah, glad tidings for him! He is one of the little birds of Paradise, who never did evil or reached the age of doing evil (i.e, the age of accountability).' He said: 'It may not be so, O 'Aishah! For Allah created people for Paradise, He created them for it when they were still in their father's loins, And He has created people for Hell, He created them for it when they were still in their fathers' loins
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک بچے کے جنازے میں بلائے گئے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بچہ کے لیے مبارک باد ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برائی کی اور نہ ہی برائی کرنے کا وقت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ بات یوں نہیں ہے، بلکہ اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے ۱؎۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَلاَ أَكُفَّ شَعَرًا وَلاَ ثَوْبًا " . قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ فَكَانَ أَبِي يَقُولُ الْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ وَكَانَ يَعُدُّ الْجَبْهَةَ وَالأَنْفَ وَاحِدًا .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “I have been commanded to prostrate on seven, but not to tuck up my hair or my garment.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ( اعضاء ) پر سجدہ کروں، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ ( وہ سات اعضاء یہ ہیں ) : دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدم، اور وہ پیشانی و ناک کو ایک شمار کرتے تھے۔